Dr-Ahmad Mustafa's banner
Dr-Ahmad Mustafa's profile picture

Dr-Ahmad Mustafa

@DrAhmad_Mustafa3,437 subscribers

Ummati, Dental surgeon, Owner of Prestige Dental Associates-PDA attock (@PDA_attock), Member of JUI Pakistan (@juipakofficial). For appointment= 03455035750

Shorts

اعلانِ نمازِ جنازہ نہایت رنج و الم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ بروز پیر، 15 دسمبر، صبح 11:00 بجے جھنگ میں ادا کی جائے گی۔ اہلِ ایمان سے شرکت اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

اعلانِ نمازِ جنازہ نہایت رنج و الم کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ بروز پیر، 15 دسمبر، صبح 11:00 بجے جھنگ میں ادا کی جائے گی۔ اہلِ ایمان سے شرکت اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔

10,053 views

Videos

DrAhmad_Mustafa's profile picture

جامعہ فریدیہ اسلام آباد کا سات سالہ غیر معمولی نابغۂ روزگار بچہ کبھی کبھی قدرتِ الٰہی ایسے غیر معمولی ذہن اور نادر صلاحیتوں کے حامل بچوں کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ انسان بے اختیار حیرت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں گزشتہ شب ایسا ہی ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوا، جہاں ایک سات سالہ بچے کی عربی دانی، قوتِ حافظہ، فصاحتِ بیان اور علمی استعداد نے اہلِ مجلس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ گزشتہ شب جامع مسجد جامعہ فریدیہ میں تکرار کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا کہ حضرت مولانا اعجاز صاحب دامت برکاتہم ایک کم سن بچے کو اپنے ہمراہ لائے۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمایا: "یہ بچہ عربی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور مشکل سے مشکل عبارت بھی نہایت روانی سے پڑھ لیتا ہے۔" طبعاً اس بات نے تجسس پیدا کیا۔ میں نے بچے سے عربی میں پوچھا: «أين تعلَّمتَ اللغةَ العربية؟» اس نے بلا توقف، نہایت اعتماد اور بے ساختگی سے جواب دیا: «علَّمني الله هذه اللغة.» اس مختصر مگر معنی خیز جواب میں اس کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی لمحے اندازہ ہوگیا کہ اس ننھے طالبِ علم میں قدرت نے کوئی خاص صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔ اتفاق سے ہمارے سامنے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «الفقه الأكبر» کی شرح «أحسن الفوائد» موجود تھی۔ میں نے اس میں سے ایک نسبتاً دقیق اور مشکل مقام منتخب کرکے بچے کے سامنے رکھا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے عبارت نہ صرف صحت کے ساتھ پڑھی بلکہ ایسی روانی، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ قراءت کی کہ مجلس میں موجود اہلِ علم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ اسی دوران بچے کے والد محترم مفتی سلمان پشاوری، جو جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہمارے عزیز بھائی مفتی Furqan Rahmani کے ہم سبق اور ہمارے دوست ہیں، نے بتایا کہ یہ بچہ فلکیات، کائنات اور تخلیقِ عالم کے بارے میں نہایت دقیق اور غیر معمولی نوعیت کے سوالات کرتا ہے، جنہیں سن کر بڑے بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو سن کر تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب کا خیال آیا جہاں کم سنی ہی میں بعض نابغۂ روزگار شخصیات نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حافظے اور علمی شغف سے اہلِ علم کو حیران کردیا تھا۔ اسی موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے تجویز پیش کی کہ عربی شعبے کے طلبہ بھی اس بچے کی علمی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ چنانچہ طے ہوا کہ اسے مائیک پر بٹھا کر طلبہ کے سامنے گفتگو اور سوال و جواب کا موقع دیا جائے۔ جب یہ سات سالہ بچہ منبر پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے سب سے پہلے «مسند الإمام الأعظم» کی عبارت اس قدر سلاست، روانی اور فصیح لہجے میں پڑھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ طویل عرصے سے عربی متون اور کتبِ حدیث کا مطالعہ کر رہا ہو۔ اس کے بعد صحیح بخاری کی عبارت بھی اسی اعتماد اور روانی سے پڑھ کر سنائی۔ واقعی یہ منظر قابلِ حیرت تھا کہ ایک کم سن بچہ ایسی عبارتیں اس انداز میں پڑھ رہا تھا جس کے لیے عام طور پر باقاعدہ علمی مشق اور طویل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد حاضرین میں سے ایک صاحب نے سورۂ نمل کی آیت: ﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ﴾ کا مفہوم دریافت کیا۔ اس ننھے طالبِ علم نے نہایت سادہ، مربوط اور بلیغ انداز میں آیت کی تشریح بیان کی۔ اس کے اندازِ بیان میں صرف حفظ و تکرار نہیں بلکہ فہم، ربطِ کلام اور مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نمایاں تھی۔ پھر کسی نے سوال کیا: «تفقّد» کا کیا معنی ہے؟ اس نے فوراً ایک عملی مثال دیتے ہوئے جواب دیا: «إذا ضاع أحدُ الفلوسِ وبدأ يبحثُ عنها، فحينئذٍ نقول: تفقَّدَ الفلوسَ.» یعنی اس نے محض لغوی معنی بیان کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے لفظ کا مفہوم واضح کیا، جو اس کے فہم اور زبان پر گرفت کی ایک اور نمایاں علامت تھی۔ تقریباً ستائیس منٹ تک وہ طلبہ کے مختلف سوالات کا بلا جھجک جواب دیتا رہا۔ اس دوران اس کے اعتماد، حاضر جوابی اور علمی استعداد نے حاضرین کو مسلسل متوجہ رکھا۔ مجلس کے اختتام پر وہ ہمارے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے پوچھا: «هل أعجبتكَ الجامعة؟» اس نے فوراً جواب دیا: «أعجبتني في هذه الجامعة القراءةُ والكتبُ والأحاديث، أمّا البناءُ فلم يُعجبني؛ لأن هذا البناءَ يُذيبُ أعينَ الفقراء، وأرى الناسَ اليومَ يتفاخرون بالبناء، وهذا ليس شيئًا جيدًا.» اس جواب نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ سات برس کے بچے کی زبان سے کتب، مطالعہ اور احادیث سے محبت، دنیاوی نمود و نمائش، تفاخر اور اسراف سے بے زاری پر مبنی ایسی بامعنی گفتگو سننا یقیناً غیر معمولی تجربہ تھا۔ اس وقت اس بچے کی عمر محض سات سال ہے۔ وہ قرآنِ کریم کے سترہ پارے حفظ کر چکا ہے، اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین +

Dr-Ahmad Mustafa

39,034 views • 2 days ago

No more content to load