Saeed Ullah Khan's banner
Saeed Ullah Khan's profile picture

Saeed Ullah Khan

@JUI_NW44,669 subscribers

Member of JUI Digital Media Cell FATA

Shorts

یہ ہمارا تعلیمی ماحول ہے اور یہ نوجوان آگے چل کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں گے ، انکی گفتگو سن کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ہم اخلاقی پستی کی اتہا گہرائیوں میں ہونگے

یہ ہمارا تعلیمی ماحول ہے اور یہ نوجوان آگے چل کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں گے ، انکی گفتگو سن کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ہم اخلاقی پستی کی اتہا گہرائیوں میں ہونگے

53,149 Aufrufe

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

67,924 Aufrufe

پہلی دفعہ ویڈیو کےذریعہ اپنی خوشی کا ظہار کر رہا ہو۔ #فتنےسےپاک_پاکستان

پہلی دفعہ ویڈیو کےذریعہ اپنی خوشی کا ظہار کر رہا ہو۔ #فتنےسےپاک_پاکستان

53,354 Aufrufe

Videos

JUI_NW's profile picture

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,602 Aufrufe • vor 9 Tagen

کریم ذات میرا، آپ کا اور ہر مسلمان کا خاتمہ ایمان کیساتھ کریں... 🤲
0:20

Sensitive content

This media may contain sensitive content.