
Kiyya Baloch
@KiyyaBaloch • 85,325 subscribers
Researcher @PEN_Norway |Journalist by profession. Bylines| @AJEnglish, @guardian, @RFERL. Et al. Words for @BBCWorld. Most tweets are personal views.
Shorts
Videos

Islamabad Police have deployed water hoses and baton-charged peaceful Baloch demonstrators protesting extrajudicial killings and enforced disappearances in #Balochistan since November 23. This evening, the police prevented the demonstrators from entering the capital city.
Kiyya Baloch240,373 views • 2 years ago

تربت میں تعینات ISI کے کرنل شہباز پر جب نیشنل پارٹی کے ترجمان اور حلقہ PB25 کے امیدوار جان محمد بلیدی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تو بجاۓ ان تحفظات کو دور کرنے کے کرنل شہباز نے فون کرکے جان بلیدی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی، جان بلیدی کا دعویٰ۔ DG ISPR
Kiyya Baloch217,921 views • 2 years ago

زرا غور سے سنیں۔ Umar Cheema صاحب بتا رہے ہیں کہ ریاست کے کارندوں نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے پانچ افسران کو اٹھا کر غائب کر دیا ہے۔ ایک افسر کی اہلیہ نے جب عدالت میں درخواست دی تو اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ سب سرکاری لوگ دراصل ایجنسیوں کے لیے کام بھی کر رہے تھے۔ اب میں چیمہ صاحب سے پوچھتا ہوں: کیا یہ افسران بی ایل اے، ٹی ٹی پی یا کسی اور عسکری یا جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتے تھے یا یہ خود افغانستان یا بھارت کا بارڈر کراس کر کے غائب ہوۓ؟ آپ خود فرما رہے ہیں کہ انہیں غائب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگر انہوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا بھی تھا، تو ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی تھی۔ یہی تو ہمارا بھی شکوہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہے، تو اس سے تفتیش کریں، عدالت میں پیش کریں، مقدمہ چلائیں مگر اسے غائب نہ کریں۔ اور چیمہ صاحب، اب ذرا تصور کریں کہ یہی ادارے اگر اسلام آباد اور لاہور جیسے بڑے شہروں سے اہم سرکاری افسران کو غائب کر سکتے ہیں، تو سوچیں بلوچستان میں یہ عام بندے کے ساتھ کیا کچھ کرتے ہوں گے، جہاں نہ میڈیا ہے، نہ سول سوسائٹی، اور نہ ہی آپ جیسے بولنے والے لوگ۔ اسی لیے بلوچستان کے لوگ ان وردی والے افسران کو چاہے وہ پنجابی ہوں، پشتون، بلوچ یا سندھی، محافظ نہیں بلکہ قابض سمجھتے ہیں۔۔۔
Kiyya Baloch67,340 views • 7 months ago

۔ Azaz Syed بھائی وہ کیوں درست معلومات دے گا؟ پوسٹنگ آرڈر اور تعیناتیاں سب پیسے کا کھیل بن چکی ہیں۔ جو ڈی سی یا اے سی کسی ضلع میں تعینات ہوتا ہے، پہلے اسے کروڑوں روپے دے کر اپنی پوسٹنگ حاصل کرنا پڑتی ہے، پھر وہی رقم وصول بھی کرنی ہوتی ہے۔ بارڈر والے اضلاع میں تعیناتی کا ریٹ دس کروڑ سے بھی اوپر ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کیچ کا ڈی سی کس بااثر شخصیت کو کتنے کروڑ دے کر اس عہدے پر آیا۔ یہ باتیں ہم ہی نہیں کہتے، حکومت کے اپنے لوگ بھی کھل کر تسلیم کرتے ہیں۔ سن لیں۔۔۔
Kiyya Baloch31,024 views • 4 months ago

یہ احمقوں کے کام دیکھو۔ آج تربت میں منشیات کے عادی افراد کے ایک گروہ کو اکٹھا کیا گیا۔ انہیں کچھ پیسے دیکر ہاتھ میں بینرز تمادیے اور بلوچ لاپتہ افراد اور لانگ مارچ کے خلاف احتجاج کرایا گیا۔ یہ غریب نہیں بلکہ منشیات کے عادی افراد ہیں۔ نگران حکومت نے تو اسٹبلشمنٹ کی واٹ لگادی۔
Kiyya Baloch136,139 views • 2 years ago

دو پنجابی دانشوڑ جنہیں میرا نام تک ٹھیک سے لینا نہیں آتا، فوج اور ن لیگی فنڈڈ آرام دہ اسٹوڈیو میں براجمان ہیں۔ ایک مجھے ہندوستانی ایجنٹ کہتا ہے اور دوسرا اپنی ویب سائٹ پر یہ جھوٹ گھڑتا ہے کہ میں کوئی اسرائیلی فنڈڈ پروجیکٹ چلا رہا ہوں، ایسا پروجیکٹ جس کے بارے میں مجھے خود بھی خبر نہیں۔ احمقو! اگر مجھے واقعی ایجنٹ ہی بننا ہوتا تو کسی غیرملکی ایجنسی کا نہیں بلکہ پاکستان میں بیٹھ کر آئی ایس آئی کا ایجنٹ بنتا، جہاں سے تمہاری اوقات سے کئی گنا زیادہ عیاشیاں، پروٹوکول، عہدے اور پہچان ملتی۔ تم خود کو دانشور کہتے ہو مگر دراصل کرائے کے مہرے ہو، نہ علم ہے، نہ کردار، بس جھوٹ گھڑنے اور اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کی لت ہے۔
Kiyya Baloch24,051 views • 8 months ago

گزشتہ شب بظاہر بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے کچھ مسلح افراد نے تجابان تربت میں شادی کی تقریب میں گھس کر ایک شخص کو قتل کیا۔ یہ کونسی آزادی کی جنگ ہے؟ اگر فوج کرے تو بلوچ روایت پر حملہ آپ کریں تو ٹھیک۔ یہ اُن لوگوں کی طرف سے بلوچ روایات پر براہ راست حملہ ہے جو روایات کی تحفظ کے دعویدار ہیں
Kiyya Baloch59,925 views • 2 years ago

بلوچستان کے مسائل اور ان کے حل کے لیے کچھ چہرے، جو آپ دیکھ رہے ہیں،نئے نہیں ہیں۔ عوامی درد رکھنے والے ان چہروں کو کافی عرصے سے زحمت دی جارہی اور یہ بیچارے بڑوں کی رضا کیلیے آئیں بائیں شائیں کرکے چلے جاتے پر اب ان چہروں میں گلزار امام کا بھی اضافہ ہوا ہے۔ اب مسائل حل ہوکر رہینگے۔
Kiyya Baloch55,838 views • 2 years ago

یہ پیر کوہ کے لوگ ہیں جو تبدیلی کے نام نہاد چیمپئن، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے آبائی ضلع ڈیرہ بگٹی کے رہائشی ہیں۔ سرفراز میڈیا میں تبدیلی کے بلند و بانگ دعوٰی کرتے ہیں جبکہ ان کے حلقہ کے لوگ بنیادی ضرورت یعنی پینے کے پانی کے لیے تپتی دھوپ میں احتجاج کر رہے ہیں۔
Kiyya Baloch19,044 views • 11 months ago

یہ لوگ کسی سیاسی اجتماع یا حکومت مخالف احتجاج کا حصہ نہیں بلکہ صرف پینے کے پانی جیسی بنیادی ضرورت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں مقامی حکام کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہی۔ چونکہ ڈیرہ بگٹی نہ اسلام آباد ہے اور نہ لاہور اس لیے یہاں لوگوں کے بھوک یا پیاس سے مرنے کا کسی کو فرق نہیں پڑتا۔
Kiyya Baloch18,997 views • 11 months ago