Markhor 🇵🇰's banner
Markhor 🇵🇰's profile picture

Markhor 🇵🇰

@Markhorr31345,778 subscribers

Shorts

بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔ شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔

بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔ شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔

266,528 просмотров

مارخور پہلے ہی بتاچکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج کیلئے قیام شدید سیکیورٹی رسک ہے ۔سپریم کورٹ کے احکامات واضح تھے کہ شفا اسپتال کے باہر ہجوم اکھٹا نہیں ہوگا۔ لیکن پی ٹی آئی کے درجنوں ورکرز اکھٹے ہوئے۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ سیاسی نعرے لگائے گئے۔ سیکیورٹی کی گاڑیوں اور روٹ کی ویڈیوز اور تصاویربنائی گئیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ گزشتہ روز بھی پی ٹی آئی ورکرز یہ سب کرچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ہے لیکن عدالتوں کو زمینی حقائق دیکھنے چاہئیں۔ بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال میں موجودگی ناصرف اسپتال کے دیگر مریض بلکہ سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسلام آباد بھر کے لوگ متاثر ہوں گے۔ پھر اس طرح ہجوم کا جمع ہونا ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کیلئے آسان ہدف ہوسکتا ہے۔ ان ورکرز اور یوٹیوبرز میں ٹی ٹی پی اور انڈین حمایت یافتہ دیگر دہشتگرد گروہوں کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی پر عمل درآمد کرائے۔ بانی کی صحت پر سیاست سے گریز کیا جائے۔ پی ٹی آئی قیادت تنخواہ دار یوٹیوبرز اور پیڈ صحافیوں سے من گھڑت اور حقائق کے خلاف بیانیہ بنوانے سے باز رہیں۔

مارخور پہلے ہی بتاچکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا شفا اسپتال میں علاج کیلئے قیام شدید سیکیورٹی رسک ہے ۔سپریم کورٹ کے احکامات واضح تھے کہ شفا اسپتال کے باہر ہجوم اکھٹا نہیں ہوگا۔ لیکن پی ٹی آئی کے درجنوں ورکرز اکھٹے ہوئے۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ سیاسی نعرے لگائے گئے۔ سیکیورٹی کی گاڑیوں اور روٹ کی ویڈیوز اور تصاویربنائی گئیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ گزشتہ روز بھی پی ٹی آئی ورکرز یہ سب کرچکے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام ہے لیکن عدالتوں کو زمینی حقائق دیکھنے چاہئیں۔ بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال میں موجودگی ناصرف اسپتال کے دیگر مریض بلکہ سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسلام آباد بھر کے لوگ متاثر ہوں گے۔ پھر اس طرح ہجوم کا جمع ہونا ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کیلئے آسان ہدف ہوسکتا ہے۔ ان ورکرز اور یوٹیوبرز میں ٹی ٹی پی اور انڈین حمایت یافتہ دیگر دہشتگرد گروہوں کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی عدالت میں کرائی گئی یقین دہانی پر عمل درآمد کرائے۔ بانی کی صحت پر سیاست سے گریز کیا جائے۔ پی ٹی آئی قیادت تنخواہ دار یوٹیوبرز اور پیڈ صحافیوں سے من گھڑت اور حقائق کے خلاف بیانیہ بنوانے سے باز رہیں۔

102,715 просмотров

صبح تقریباً 11:15 بجے مال روڈ (فلیش مین ہوٹل کے قریب) پر سیکیورٹی فورسز کی ایک پیٹرولنگ ٹیم معمول کے مطابق گشت کر رہی تھی۔ اچانک ایک مسلح شخص نے ان پر پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ سے سیکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد حسین (والد کا نام محمد باز) کے طور پر ہوئی۔ وہ ضلع خیبر کا رہائشی تھا۔ ہلاک دہشتگرد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سرگرم کارکن/رکن تھا۔ اس کے قبضے سے پی ٹی آئی کا پارٹی پرچم اسلحہ اور گولیاں کچھ اہم دستاویزات برآمد ہوئے۔ اس کے موبائل فون اور دیگر سامان سے بھی مزید شواہد ملے ہیں، جن کے مطابق وہ پارٹی کی قیادت سے رابطے میں رہتا تھا۔ ماضی میں بھی احتجاجوں میں اشتعال انگیزی، پتھراؤ اور فائرنگ جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

صبح تقریباً 11:15 بجے مال روڈ (فلیش مین ہوٹل کے قریب) پر سیکیورٹی فورسز کی ایک پیٹرولنگ ٹیم معمول کے مطابق گشت کر رہی تھی۔ اچانک ایک مسلح شخص نے ان پر پستول سے فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ سے سیکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی اور حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد حسین (والد کا نام محمد باز) کے طور پر ہوئی۔ وہ ضلع خیبر کا رہائشی تھا۔ ہلاک دہشتگرد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا سرگرم کارکن/رکن تھا۔ اس کے قبضے سے پی ٹی آئی کا پارٹی پرچم اسلحہ اور گولیاں کچھ اہم دستاویزات برآمد ہوئے۔ اس کے موبائل فون اور دیگر سامان سے بھی مزید شواہد ملے ہیں، جن کے مطابق وہ پارٹی کی قیادت سے رابطے میں رہتا تھا۔ ماضی میں بھی احتجاجوں میں اشتعال انگیزی، پتھراؤ اور فائرنگ جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا تھا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

141,751 просмотров

پی ٹی آئی سے وابستہ ایک سرگرم کارکن کا انتہائی حساس علاقے میں پایا جانا اور وہاں سیکیورٹی فورسز پر براہِ راست فائرنگ کرنا، کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ 9 مئی کی طرز پر تیار کی گئی ایک باقاعدہ اور منظم سازش کا تسلسل ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور ان کے سوشل میڈیا ونگ کی سرکردہ خواتین کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز اس بھیانک حقیقت کی واضح تصدیق کرتی ہیں کہ یہ جماعت اب اپنے نوجوانوں کو سیاسی کارکن سے مسلح دہشت گرد بنانے کے راستے پر ڈال چکی ہے۔ یہ واقعہ ان مہم جوئیوں کا عملی مظاہرہ ہے جن کی دھمکیاں اس جماعت سے وابستہ عناصر پہلے ہی سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان اور اداروں کو مسلسل دیتے آئے ہیں، جو اب محض زبانی دعوے نہیں بلکہ ایک خطرناک مسلح فتنہ بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

پی ٹی آئی سے وابستہ ایک سرگرم کارکن کا انتہائی حساس علاقے میں پایا جانا اور وہاں سیکیورٹی فورسز پر براہِ راست فائرنگ کرنا، کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ 9 مئی کی طرز پر تیار کی گئی ایک باقاعدہ اور منظم سازش کا تسلسل ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور ان کے سوشل میڈیا ونگ کی سرکردہ خواتین کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز اس بھیانک حقیقت کی واضح تصدیق کرتی ہیں کہ یہ جماعت اب اپنے نوجوانوں کو سیاسی کارکن سے مسلح دہشت گرد بنانے کے راستے پر ڈال چکی ہے۔ یہ واقعہ ان مہم جوئیوں کا عملی مظاہرہ ہے جن کی دھمکیاں اس جماعت سے وابستہ عناصر پہلے ہی سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان اور اداروں کو مسلسل دیتے آئے ہیں، جو اب محض زبانی دعوے نہیں بلکہ ایک خطرناک مسلح فتنہ بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

11,436 просмотров

مارخور آپکے سامنے چار ایسی وڈیوز لا رہا ہے جو ان "مہذب" مغربی معاشروں کی ہے جہاں کی جمہوریت اور قانون کی مثالیں دی جاتی ہیں. یہ مظاہرین اصلاحات اور سہولتوں کے لئے احتجاج کررہے ہیں انکی حکومت نے مذاکرات کی بار بار دعوت دی نا مانے تو ریاست اسطرح رد عمل رہی ہے یاد رہے ان ہی چار ممالک کو انگریزی میں پوسٹس کرکے تحریک انتشار شکایات لگا رہی ہے کہ اڈیالہ کے باہر ہمارے اوپر پانی پھینکا گیا یے اور اڈیالہ کے باہر یہ احتجاج کسی عوامی سہولت یا عوام کے لئے نہیں بلکہ ایک مجرم، ملک کو دیوالیہ کرنے کے لئے خط لکھنے والا، 9 مئی کو ملک میں بغاوت کے لئے حملے کرنے والا اور دفاعی اداروں میں بغاوت پیدا کرنے کے لئے بار بار بیانیہ والے کو سیاسی سہولیات کے لئے ہورہا یے قیدی کے کمرے میں اس وقت بھی ہیٹر چل رہا یے آج بھی اس نے بکرے کا گوشت کھایا ہے ،رات کے کھانے کے بعد گاجر کا حلوہ کھایا ہے.

مارخور آپکے سامنے چار ایسی وڈیوز لا رہا ہے جو ان "مہذب" مغربی معاشروں کی ہے جہاں کی جمہوریت اور قانون کی مثالیں دی جاتی ہیں. یہ مظاہرین اصلاحات اور سہولتوں کے لئے احتجاج کررہے ہیں انکی حکومت نے مذاکرات کی بار بار دعوت دی نا مانے تو ریاست اسطرح رد عمل رہی ہے یاد رہے ان ہی چار ممالک کو انگریزی میں پوسٹس کرکے تحریک انتشار شکایات لگا رہی ہے کہ اڈیالہ کے باہر ہمارے اوپر پانی پھینکا گیا یے اور اڈیالہ کے باہر یہ احتجاج کسی عوامی سہولت یا عوام کے لئے نہیں بلکہ ایک مجرم، ملک کو دیوالیہ کرنے کے لئے خط لکھنے والا، 9 مئی کو ملک میں بغاوت کے لئے حملے کرنے والا اور دفاعی اداروں میں بغاوت پیدا کرنے کے لئے بار بار بیانیہ والے کو سیاسی سہولیات کے لئے ہورہا یے قیدی کے کمرے میں اس وقت بھی ہیٹر چل رہا یے آج بھی اس نے بکرے کا گوشت کھایا ہے ،رات کے کھانے کے بعد گاجر کا حلوہ کھایا ہے.

18,508 просмотров

جعلی بیانیہ سازی کی تمہاری فیکڑی اس شخص کو نہیں گراسکتی اللہ نے اسے ہر سازش سے بچایا ہے یہ اپنے ارادوں کا پختہ ہے اسکا یقین غیر متزلزل ہے

جعلی بیانیہ سازی کی تمہاری فیکڑی اس شخص کو نہیں گراسکتی اللہ نے اسے ہر سازش سے بچایا ہے یہ اپنے ارادوں کا پختہ ہے اسکا یقین غیر متزلزل ہے

16,139 просмотров

ویلڈن مریم نواز جس طرح آپ امیر غریب سب کا صفایا کر رہی ہیں آئندہ الیکشن میں اپنے گھر لاہور سے بھی آپ کا صفایا ہو گا ووٹ سے ناجائز تجاوزات کا چورن بیچ کر 50 سال پرانے باپ دادا کے وقت کے بیٹھے لوگوں کو اجاڑ دیں ابھی آپ اپنی طاقت لگائیں الیکشن میں غریب 👎 Maryam Nawaz Sharif

ویلڈن مریم نواز جس طرح آپ امیر غریب سب کا صفایا کر رہی ہیں آئندہ الیکشن میں اپنے گھر لاہور سے بھی آپ کا صفایا ہو گا ووٹ سے ناجائز تجاوزات کا چورن بیچ کر 50 سال پرانے باپ دادا کے وقت کے بیٹھے لوگوں کو اجاڑ دیں ابھی آپ اپنی طاقت لگائیں الیکشن میں غریب 👎 Maryam Nawaz Sharif

15,220 просмотров

تاحیات فیلڈ مارشل ♥️

تاحیات فیلڈ مارشل ♥️

10,716 просмотров

پاکستانی جھنڈے کے ساتھ محبت کرنے والا ہر فرد ہمارے لئے قابل احترام ہے💯 پاکستان زندہ باد🇵🇰💯

پاکستانی جھنڈے کے ساتھ محبت کرنے والا ہر فرد ہمارے لئے قابل احترام ہے💯 پاکستان زندہ باد🇵🇰💯

11,328 просмотров

Videos

Markhorr313's profile picture

بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔ شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔

Markhor 🇵🇰

266,528 просмотров • 21 дней назад

Markhorr313's profile picture

حامد میر آپ کا یہ استدلال کہ "نئے صوبوں سے پاکستان کے نام کا مخفف (Acronym) متاثر ہوگا یا شناخت ختم ہو جائے گی"، تاریخی حقیقت اور جدید طرزِ حکومت دونوں لحاظ سے کمزور ہے۔ چوہدری رحمت علی نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "اب یا کبھی نہیں" (Now or Never) میں "پاکِستان" کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ محض ایک لسانی مخفف (Acronym) تھا، کوئی ایسی آئینی دستاویز نہیں تھی جس کے تحت مستقبل کی ریاست کی سرحدیں طے ہونی تھیں۔ اس وقت مسلم لیگ کی سب سے بڑی طاقت اور اکثریت بنگال میں تھی، جہاں پاکستان کی قرارداد پیش ہوئی۔ چوہدری رحمت علی کے فارمولے میں بنگال کا "ب" یا کوئی اور حرف شامل ہی نہیں تھا۔ اگر نام کو ہی صوبوں کی نمائندگی کا معیار مانا جائے، تو قیامِ پاکستان کے وقت اکثریتی صوبہ (مشرقی بنگال) اس نام سے بالکل باہر تھا۔ 1947 میں موجودہ بلوچستان نام کا کوئی صوبہ نہیں تھا، بلکہ قلات، خاران، لسبیلہ اور مکران جیسی آزاد ریاستیں تھیں، جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنیں۔ اسی طرح بہاولپور، خیرپور، سوات، دیر اور امب جیسی اہم ریاستیں بھی اس نام کے مخفف کا حصہ نہیں تھیں۔ ناموں کے مخفف وقت کے ساتھ صرف ایک پہچان بن جاتے ہیں، وہ جغرافیائی یا انتظامی تبدیلیوں کے پابند نہیں ہوتے۔ لفظ "پاکستان" کا مروجہ اور اصل مطلب "پاک لوگوں کی سرزمین" (Land of the Pure) ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک کے انتظامی یونٹس (صوبے یا اضلاع) اس کے نام کے حروف تہجی دیکھ کر نہیں بنائے جاتے۔ مثال کے طور پر، امریکہ (USA) کی 50 ریاستیں ہیں، لیکن اس کے نام میں 50 حروف شامل نہیں ہیں۔ گر پنجاب کو چار یا پانچ انتظامی صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے (جیسے جنوبی پنجاب یا پوٹھوہار)، تو وہاں کے رہنے والے پنجابی اور سرائیکی ہی رہیں گے۔ ان کی زبان، ثقافت اور تاریخ تبدیل نہیں ہوگی۔ پاکستان کی آبادی اب 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو صرف 4 صوبوں سے کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ نئے صوبے بننے کا مطلب یہ ہے کہ ہسپتال، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر عوام کی دہلیز پر ہوں گے۔ میاں چنوں یا راجن پور کے شہری کو اپنے چھوٹے سے کام کے لیے لاہور یا کراچی نہیں جانا پڑے گا۔ اصل شناخت حروفِ تہجی کے ملاپ سے نہیں، بلکہ شہریوں کو ملنے والے حقوق سے بنتی ہے۔ جب کسی خطے کے عوام کو روزگار، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے، تو ان کا اپنی مٹی اور ملک سے تعلق مزید مضبوط ہوگا۔ انتظامی یونٹس کا مقصد کسی کی تاریخ کو مٹانا نہیں، بلکہ موجودہ نسلوں کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ لہٰذا، نام کے حروف کے پیچھے چھپ کر عوام کو ان کے انتظامی حقوق سے محروم رکھنا ایک بھونڈی اور کمزور دلیل ہے۔

Markhor 🇵🇰

256,836 просмотров • 26 дней назад

Markhorr313's profile picture

جس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر (1970) میں پیدا ہوئے اس وقت ذہنی مریض عمران کیمبرج کا داخلہ ٹیسٹ فیل کررہا تھا. پھر آکسفورڈ کے کیبل کالج میں جنرل برکی کی سفارش اور ڈاکٹر پال ہائیز کی زاتی دلچسپی سے اسپورٹس کوٹہ پر داخلہ ہوا. موصوف نے کالج سے تھرڈ ڈویژن میں BA کیا. زہنی مریض عمران کو آکسفورڈ میں اسکے کلاس فیلوز Im The Dim کہتے تھے. یعنی پست دماغ اور کم صلاحیت رکھنے والا شخص جس وقت زہنی مریض عمران کی زندگی صرف لندن کے گراؤنڈ اور نائٹ کلب تھے اس وقت DGISPR کے والد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے 20 20 گھنٹے کام کیا کرتے تھے وہیں دفتر، ریسرچ سینٹر یا لیبارٹری میں سلیپنگ بیگ بچھا کر سوجاتے تھے ڈاکٹر قدیر کو ہالینڈ سے پاکستان لارہے تھے جس وقت زہنی مریض عمران امریکن اور بھارتی دوشیزائیں اپنے بستر پر سلانے کیلیے اپنے آپ کو ایک دین بیزار ظاہر کرتا تھا اس وقت جنرل احمد شریف کے والد سائنس اور اسلام کے تعلق پر درجنوں کتابیں لکھ رہے تھے جنرل احمد شریف کے سسر بریگیڈیئر ٹی'ایم ملک گوریلوں کو سیز اینڈ ہولڈ آپریشنز اور چھاتہ'برداری کی مشقیں کروارہے تھے. لیفٹنٹ جنرل احمد شریف الیکٹریکل مکینیکل کالج اور ائیروناٹیکل کالج دو جگہ سے گریجویٹ ہیں. انہوں نے فوج میں ملٹری آپریشنز، ملٹری اینٹیلجنس، تزویراتی منصوبہ ڈویژن سے لیکر کشمیر، سیاچن اور پاک افغان بارڈر تک پر فرائض سرانجام دئیے. 2018 میں جس وقت ذہنی مریض عمران بھڑکیں مار رہا تھا کہ میں دوتہائی اکثریت سے آرہا ہوں اس وقت جنرل احمد شریف 24 24 گھنٹے جاگ کر سندھ کے الیکشن سیل اور سیکورٹی روم میں ذمہ داری سرانجام دے رہے (کسی نے کیا خوب کہا ذہنی مریض عمران کے شر کا شکار مخلص انسان ہی ہوتا ہے) ذہنی مریض عمران تم self-made انسان نہیں ہو تمہیں جی سی کالج میں تمہارے انکل جنرل جاوید برکی نے بھیجا کیمبرج میں تم داخلہ لے نہیں سکے تو آکسفورڈ تمہیں جنرل برکی، ماجد خان کی درخواست پر اسپورٹس کوٹے میں ڈاکٹر پاؤل ہائیز نے بھیجا تمہاری ڈگری 3rd ڈویژن میں سادہ بی اے ہے تمہیں تمہارے کلاس فیلو I'm The Dim یعنی پست دماغی صلاحیت والا کہتے تھے اور DGISPR الیکٹریکل اینڈ مکینکل کور سے ہوتے ہوئے وارکورس بھی کرچکے ہیں وہ اپنے مخصوص پیشہ ورانہ دائرے اور پھر فوج کے میرٹ میں نمایاں رہے ای ایم ای کالج میں داخلہ کیسے ہوتا ہے یہ وہ بچے جانتے ہیں جو ٹیسٹ دے چکے ہوں. عمران خان کے یوتھیو بات اتنی کرو جسکا وزن اٹھا سکو۔۔۔

Markhor 🇵🇰

69,521 просмотров • 9 месяцев назад

Markhorr313's profile picture

Ahmed Shrif Markhor is Proud Of You

Markhor 🇵🇰

46,435 просмотров • 8 месяцев назад