
PTI
@PTIofficial • 10,256,533 subscribers
Official YouTube Channel - https://t.co/x4UX3MquIp
Shorts
Videos

یہ جو عمران خان کی AI تصویریں بنا بنا کر نکالی جاتی ہیں، لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی عمران خان کی یہ تصویر ہے؟ کبھی انہیں ویل چیئر پر دکھایا جاتا ہے، کبھی بستر پر لیٹا ہوا، سفید بالوں اور ایک انتہائی بوڑھے انسان کے روپ میں۔ جن لوگوں نے عمران خان سے جیل میں ملاقات کی ہے، وہ بھی آپ کو بتائیں گے، اور جن ڈاکٹروں نے انہیں دیکھا ہےوہ بھی گواہی دیں گے کہ ماشاءاللہ عمران خان جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ وہ روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے ورزش کرتے ہیں، ایسی ورزش جو شاید آپ میں سے بہت سے نوجوان بھی نہ کر سکیں۔ ان کا اپنا ایک ڈسپلن ہے اور وہ ماشاءاللہ جسمانی طور پر فٹ ہیں۔ اکتوبر تک عمران خان کوئی دوا استعمال نہیں کر رہے تھے، سوائے ایک معمولی دوا کے اس کے علاوہ آج تک انہوں نے کوئی باقاعدہ دوا استعمال نہیں کی۔ ہم یہی سوال حکومت سے کرنا چاہتے ہیں کہ ایک جسمانی طور پر فٹ انسان، جو ایمان رکھنے والا ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے اور قرآن پڑھتا ہے، جب آپ اسے ذہنی اور جسمانی طور پر توڑ نہیں سکے تو یہ حرکتیں کر رہے ہیں؟ کیا آپ انہیں قیدِ تنہائی میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں؟یہ سب کس لیے کیا جا رہا ہے؟کیا اس لیے کہ آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران خان ٹوٹ کیوں نہیں رہا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر سب کچھ چھپا کر کیوں کیا جا رہا ہے؟ آزاد اور غیر جانب دار ڈاکٹروں کو ان کا معائنہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟۔ علیمہ خان Aleema Khanum #عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
PTI77,341 次观看 • 21 小时前

الحمداللہ۔ عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی قید تنہائی کا فیصلہ جاری۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر ان کالز کو سیاسی مقاصد یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔ عمران خان صاحب کو فیملی اور اپنی اہلیہ سے ملاقات جیل قوانین اور فیملی میٹنگ کے قواعد کے مطابق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں روزانہ ایک گھنٹے ایسی واک کی اجازت ہوگی، جس کے دوران باقاعدہ انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا اور جن افراد سے ملاقات یا میل جول ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔ عدالت نے عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت تمام قابلِ اجازت مطالعے کا مواد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ممنوعہ کتب اس میں شامل نہیں ہوں گی۔ یہی سہولیات بشریٰ عمران خان کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی سہولت بھی قانون کے مطابق حاصل ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں موجود تمام افراد کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق و سہولیات فراہم کی جائیں۔ عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے جیل حکام کو 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیصلے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔ خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان Khalid Yousaf Chaudry
PTI107,097 次观看 • 1 天前

عمران خان کا دور حکومت بہترین تھا میں رکشہ چلاتا ہوں عمران خان کے دور میں عمر ہسپتال جیسے مہنگے پرائیویٹ ہسپتال سے ماں کے دل کا فری بائی پاس کروایا تھا،دس لاکھ میں جیب سے نہیں دے سکتا تھا مہنگے ترین ہسپتال میں علاج ہوا اور دس روپے نہیں لگے۔ آج میرے بیٹے کے گردے کا آپریشن ہے اور شیخ زید ہسپتال والوں نے ایک لاکھ دس ہزار روپے مانگے ہیں ،بولا ہے پیسے لاؤ گے تو آپریشن کریں گے،میں کہاں سے لاؤں گا؟ رکشہ ہی بیچنا پڑے گا،تم دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ میرے دل سے عمران خان کے لیے دعائیں نہیں نکلیں گی کیا؟ ایک رکشہ ڈرائیور کی عمران خان کے دور میں دی گئی صحت کارڈ سہولت بارے گفتگو جو موجودہ جعلی حکمرانوں نے بند کردی ہے۔ #فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
PTI63,431 次观看 • 23 小时前

حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔ یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔ جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔ سلمان اکرم راجہ
PTI135,982 次观看 • 2 天前

"مختلف تصویریں سوشل میڈیا پر چلائی جارہیں عمران خان بستر میں پڑے ہیں ایک تصویر وائرل کرائی گئی جس میں عمران خان وہیل چئیر پر ایمبولینس سے اتر رہے ہیں کسی تصویر میں بوڑھے ہو گئے ہیں ایسی تصاویر یں ایک سوچی سمجھی سازش ہے یہ کہتے تھے عمران خان جیل نہیں کاٹ سکیں گے لیکن عمران خان کو سب نے دیکھا جیل میں دو گھنٹے ورزش کرتے تھے اور مکمل فٹ تھے پھر انہوں نے جان بوجھ کے اس کی آنکھ خراب کی اور اب بلڈپریشر کا واویلا ، تین سال سے قید ہیں ہم نے پہلے بلڈپریشر کا نام تک نہیں سنا"۔ علیمہ خان
PTI75,292 次观看 • 1 天前

ہائی کورٹ سے ایک واضح آرڈر جاری کیا گیا انہوں نے اسے بالکل نظر انداز کر دیا، حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کو بھی رتی بھر اہمیت نہیں دی۔ واضح طور پر ہائی کورٹ کے آرڈر میں کہا گیا کہ عمران خان کی فیملی سے ملاقات ہونی چاہیے، ان سے ملاقاتوں کا حق بحال کیا جائے اور جیل میں ان کے دیگر حقوق اور سہولیات بھی بحال کی جائیں۔ یہ سارا کچھ آج آپ لوگوں نے دیکھا کہ ایک بہت واضح آرڈر دیا گیا۔ لیکن اڈیالہ جیل کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں عدالتوں کے آرڈرز، چاہے ہائی کورٹ کے ہوں یا سپریم کورٹ کے، سب کا انجام ایک جیسا ہوتا ہے۔ اڈیالہ جیل ان آرڈرز کا قبرستان بن چکا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہاں عدالتی احکامات دفن ہو جاتے ہیں۔
PTI41,329 次观看 • 1 天前

”جب مارشل لاء لگتا ہے تو ایک جنرل اعلان کرتا ہے کہ آج سے میں بادشاہ ہوں آج سے میں نے ایک ملک کا آئین اور قانون ختم کردیا اور جو کچھ میں کہوں گا وہی قانون ہوگا پھر وہ دور جبر ظلم اور فسطائیت کا دور ہوتا ہے مگر آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈیکٹیٹرشپ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اسطرح کبھی مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ہوا“ salman akram raja #عمران_خان_پر_ظلم_بند_کرو
PTI102,903 次观看 • 3 天前

"یہ پہلی بار نہیں ہوا سپریم کورٹ کے شفا انٹرنیشنل منتقلی کا فیصلہ بھی نہیں مانا، نوے دن کے اندر انتخابات کا فیصلہ بھی نہ مانا، مخصوص نشستوں کا بھی فیصلہ نہیں مانا، اس ملک میں اس وقت جنگل کا قانون نافذ ہے یہ خود کو آئین و قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں عمران خان کی جنگ اسی نظام کے خلاف ہے اگر پاکستانی چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آئین و قانون کی بحالی ہو وہ نکلیں اور ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ کو کامیاب کرائیں"۔ایم این اے Shahid Khattak
PTI28,199 次观看 • 1 天前

"ملاقات اور تو کسی کی نہیں ہونے دے رہے حالانکہ عدالتی احکامات موجود ہیں ،ملاقات کے لیے صرف نورین خان کو بھیجا ڈاکٹر عظمیٰ خان نے تو ہسپتال میں ساتھ رہنا تھا لیکن یہ روٹین کا چیک اپ کرواکے واپس لے گئے ۔ ان کو عوام کے غصے سے ڈرنا چاہئے میں خود سڑکوں پر نکل کر دیکھ چکی ہوں عوام بہت غصے میں ہے۔ یہ ظلم صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہورہا یہاں کسی کو انصاف نہیں ملے گا ہر پاکستانی کو اس ظلم کا سامنا کرنا پڑے گا، لوگ غصے میں ہیں کیونکہ عمران خان عوام کی آواز ہیں”۔علیمہ خان
PTI31,543 次观看 • 1 天前

”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
PTI328,674 次观看 • 12 天前

ایم این اے حاجی امتیاز صاحب، دو لاکھ سے زائد ووٹوں سے جیتے ہیں، انکی 100 سالہ بزرگ عورت کے سامنے انکو گرفتار کیا اور ان کو دھکیلتے ہوئے ڈالوں میں ڈال کرلے جایاگیا۔اپکے پاس47 ایبسلوٹ میجورٹی ہے آپ ایسے قانون پاس کرا لیں گے، وقت کا پہیا کب بدل جائے، اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔پہلے بھی ایک پولیٹیکل جماعت کو ختم کرنے کے لیے نیب آرڈیننس بنایا گیا اسکا رزلٹ یہ نکلا؟ کہ آپ لوگوں کو کسی کے پاؤں پکڑنے پڑے جب آپ کے اوپر کیسز بنے آپ جو سسٹم بنا رہے ہیں اس کے تیر آپ لوگوں پر بھی چلیں گے۔ اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی
PTI33,855 次观看 • 1 天前

"پاکستانی عدالتیں فیصلہ تو دے دیتی ہیں لیکن اس پر عمل نہ کروا پانا عدالتوں کی سب سے بڑی ناکامی ہے، عمران خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔ مسئلہ پاکستانی عدالتوں کے وقار کا ہے عمران خان کو قید تنہائی میں نہ رکھنے کا فیصلہ بھی آچکا لیکن آج بھی بہنیں اڈیالہ جیل کے باہر کھڑی ہیں لیکن ملاقات نہیں ہونے دی جارہی"۔ وکلاء
PTI24,004 次观看 • 1 天前