Muhammad Aslam Awan's banner
Muhammad Aslam Awan's profile picture

Muhammad Aslam Awan

@AwanAslamAwan15,949 subscribers

journalist/columnist(Roznama Duniya Lahore),Book Writer(War on terror),Researcher on culture and heritage.

Shorts

اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل سیال ضمیر ، آج رات اسرائیل کے شہر میں حزب اللہ کے حملوں میں ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی دفاعی افواج کے چیف آف اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل سیال ضمیر ، آج رات اسرائیل کے شہر میں حزب اللہ کے حملوں میں ہلاک ہو گئے۔

56,567 views

مغربی میڈیا کب تک تباہی کے مناظر روکے گا؟ ویڈیوز آتے رہیں گے، اور دنیا انہیں دیکھتی رہے گی۔

مغربی میڈیا کب تک تباہی کے مناظر روکے گا؟ ویڈیوز آتے رہیں گے، اور دنیا انہیں دیکھتی رہے گی۔

16,472 views

ڈیرہ اسماعیل خان کی جس بیساکھی گراؤنڈ کو علی امین گنڈہ پور بطور وزیر اعلیٰ نہ بھر سکا آج جمیعت نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اس گراؤنڈ کو لبریز کر دیا ، جتنے لوگ پنڈال میں اس سے زیادہ باہر سڑکوں پہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ جمیعت کے کارکنوں ، خاص کر ضیاء الرحمن اور کفیل نظامی کو سلام

ڈیرہ اسماعیل خان کی جس بیساکھی گراؤنڈ کو علی امین گنڈہ پور بطور وزیر اعلیٰ نہ بھر سکا آج جمیعت نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی اس گراؤنڈ کو لبریز کر دیا ، جتنے لوگ پنڈال میں اس سے زیادہ باہر سڑکوں پہ دیکھائی دیتے ہیں ۔ جمیعت کے کارکنوں ، خاص کر ضیاء الرحمن اور کفیل نظامی کو سلام

22,431 views

Videos

AwanAslamAwan1's profile picture

خزینہ بانڈہ حملے کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر، پولیس کی استعداد کار اور سیکیورٹی تیاریوں پر سوالات ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ اور بیک اپ پارٹی پر ہونے والے حملے سے منسوب ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں جدید ڈرونز، جدید اسلحہ اور حملہ آوروں کی مربوط جنگی حکمتِ عملی کا استعمال دیکھایا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکار محدود وسائل میں غیر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، جدید حفاظتی آلات اور ضروری جنگی سازوسامان کیوں میسر نہیں آ سکے۔ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر حملے کے دوران اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی رہائی کا منظر دکھایا گیا ۔ اس ویڈیو کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ دفاعی و سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس بنیادی طور پر سماجی جرائم کو کنٹرول اور معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سوشل فورس ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت سے لیس شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی فوجی تربیت، جدید سازوسامان اور مؤثر انٹیلی جنس اور فضائی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس کو درپیش خطرات کی نوعیت کے مطابق اگر وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر بھی دی جائے تو بھی پولیس فورس ایسے حملوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت نہیں پا سکتی۔ حالیہ ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آیا خیبرپختونخوا پولیس موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہے ؟ یا پھر خیبر پختون خوا پولیس مکمل انہدام کی طرف بڑھ رہی ہے ؟؟؟

Aslam Awan

18,570 views • 26 days ago

No more content to load