
Balochistan Facts
@balochistanfact • 10,944 subscribers
• Uncovering the truth • Exposing disinformation and propaganda • verified facts • 📍#Balochistan
Shorts
Videos

بریکنگ نیوز ! مستونگ کے رہائشی کا کوہلو میں پنجابی لہجے کو شدید گلابی اڑدو میں بدل کر بہت بڑا انکشاف " ہمیں انڈیا والے پیسے دیکر BYC استعمال کرتی تھی" یہ ویڈیو " بلوچ وائیر " نامی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر جاری کیاگیا جسے یقیناً کوئی گوجرنوالہ کا بلوچ چلاتا ہوگا آواز میں قرب اتنا ہے کہ بلوچی لہجا نکالتے نکالتے ہلکا کوئٹہ ہوٹل کے وائیٹرز والا ٹچ آگیا البتہ ہم اسے اگنور کرکے بی وائی سی BYC سے گزارش کرتے ہیں کہ پنجابیوں کا استعمال بند کرے ، دیکھیں کس قدر ظلم ہے کہ ایک پتوکی کے نوجوان کو مستونگ کا بناکرکوئٹہ میں استعمال کیاگیا ، اب وہ اپنا بلوچی لہجا بھول کر پشتو میں کوہلو میں بیٹھا وڈے وڈے انکشافات کررہا ہے آواز سے تو ہمیں ڈی جی صاحب خود لگ رہے ہیں ، لیکن خیر کیسے ممکن ہے کہ ڈی جی صاحب لوگوں کو خود لاپتہ کر کے پھر بی وائی سی سے کڑورں لیں اور لاپتہ افراد کے دھرنوں میں شامل بھی ہوں ؟ اس لئے ہم کہتے ہیں شکر کریں ، صدقہ دیں ، دو چار انوں کاکڑ صدقے میں دیں کہ نوبل پرائز نہیں ملا ، اگر نوبل پرائز مل جاتا تو ایسی ویڈیوز DGISPR کے آفیشل اکاؤنٹس پر شائع ہوتیں #Balochistan #StopStatePropaganda #BalochistanFacts
Balochistan Facts68,999 Aufrufe • vor 10 Monaten

لاپتہ زرینہ مری کی بہن سمیں مری نے آج سے 13 سال قبل ڈان نیوز کی اینکر صوفیہ جمال کے پروگرام "کب تک" میں کراچی پریس کلب کے بھوک ہڑتال کیمپ میں انٹرویو : جس زرینہ مری کے وجود کو بلوچستان حکومت اور عسکری ترجمان "جھوٹ" قرار دیتے ہیں، اسی کے اہلخانہ نے مہینوں تک اسلام آباد ، کراچی پریس کلب اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج جاری رکھا۔ لاپتہ زرینہ مری کی بہن سمیں مری ، اپنی بہن اور بھانجے کی بازیابی خاطر پہلے بلوچ لانگ مارچ (2014) میں بھی شامل تھیں Hamid Mir حامد میر #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #BalochistanFacts
Balochistan Facts49,665 Aufrufe • vor 11 Monaten

" بلوچ طلباء، بلوچ نوجوان، وکلاء ، پروفیسر اور بلوچ خواتین سب "دہشت گردی" کا حامی ہیں ان سب کا ٹرائل ہونا چائے " (ٹرائل یعنی ؟؟ جبری گمشدگیاں بڑھاو ) پنجابی زونسٹ حمنہ ملک ولد بریگیڈیئر بلال اسلام آباد کے کسی بند اسٹوڈیو میں ایک سانس میں بلوچ طلباء، بلوچ وکلاء ، اسٹوڈنٹ کوٹہ سسٹم ، طلباء تنظیمیں اور بلوچ خواتین سب کو "ٹیرر اپولوجسٹ" قرار دینے والی یہ پنجابی خاتون، عاصم باجوہ اور انور کاکڑ کے ہاتھوں سامنے لائی جانے والی ، کویٹہ کینٹ حمنہ ملک ہے یہ چیخ چلا کر اس بلوچستان میں طلبہ کے بار بار ٹرائل (جبری گمشدگی ) پر زور دے رہی ہیں، جہاں پہلے فی شہر سے درجنوں نوجوان اور خواتین لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو اندھا درد ہے کہ بلوچ نوجوان نسل کی "چھان بین " کرو ، اس حقائق کے باوجود کہ کیا پنجاب، وفاقی اداروں یا یونیورسٹیوں سے بلوچستان کے طلبہ کو لاپتہ نہیں کیا گیا ؟ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور بلوچ طلبہ کے ماورائے عدالت قتل کی جو رفتار جاری ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے چند برسوں میں ہر خاندان کو جبری گمشدگی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پنجابی خاتون، جسے چند سال قبل بلوچستان یونیورسٹی کے ایک مخصوص وائس چانسلر کے علاوہ کوئی پہچانتا نہیں تھا، جس کے آشیرباد پر سردار بہادر خان یونیورسٹی میں گھسائی گئی ، پھر عاصم باجوہ کی کسی پروپگینڈا این جی او کے ذریعے منظر عام پر آئیں اور پھر "بلوچستان کا درد" کے عنوان سے جتنا کھا سکتی تھی کھایا اور پازٹو بلوچستان کا خواب لیکر اسلام آباد میں اعلیٰ عہدہ حاصل کر کے بلوچستان چھوڑ گئیں یہ پنجابی زونسٹ ، اگر مسلح تنظیموں کے نام پر بلوچ طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کی جبری گمشدگی کو جائز قرار دیتی ہیں اور بلوچ خواتین کے اغوا کو قابل قبول سمجھتی ہیں، تو کیا پنجاب سے آنے والا ایک سپاہی کا بلوچستان میں سب سے بڑا معاون پنجابی مانا جائے؟ کیا آپ جیسے تمام پنجابی، مرد و خواتین، جوابدہ ٹھہرائے جائیں ؟ کیا پھر ہر پنجابی مشکوک قرار پائے اور بلوچستان میں گروہی شکل میں موجود ہر پنجابی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے؟ کیا حمنہ ملک اور زینب آصف جیسی ہر پنجابی خاتون جوابدہ ہے، جو کینٹ میں رہ کر پھر بروری روڈ پر واقع CTD آفس میں دیکھائی دیتی رہتی ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگ اندھے ہیں کہ بروری روڈ پر رکشے بھر کر لائی جانیوالی نوجوان لڑکیاں کون ہیں؟ اگر بلوچ عورت کا ٹرائل ہوسکتا ہے تو کیا پنجابی عورت مستثنیٰ ہے؟ پھر عام پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھنا ٹھیک ہوا ؟ ہم تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ شہباز ٹاؤن فیز ٹو کی حمنہ ملک کی امی سمیت ہر ایسے پنجابی فرد پر خصوصی نظر رکھی جائے، کیونکہ وہ پنجاب فوج کی دہشتگردی کے خاص معاون ہوسکتے ہیں اس ٹرائل میں مرد و عورت کا امتیاز بند کیا جائے کیونکہ اس سائکو کیس کے مطابق تمام بلوچ مرد و خواتین سب ٹیرر اپالوجسٹ ہیں طلباء کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی یہ ذہنی مریضہ چونکہ خود اب بلوچستان چھوڑ کر اسلام آباد کی وزارتِ اطلاعات میں ملازمت حاصل کر چکی ہے۔ سینکڑوں بار بلوچی لباس پہن کر چینیوں کے سامنے خود کو بلوچ ظاہر کرنے والی اس عورت کے دل سے بلوچ عوام کے خلاف نفرت ختم نہیں ہوئی Stop Brig Bilal's Chicks propaganda #StopStatePropaganda #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearance #BalochistanFacts
Balochistan Facts43,878 Aufrufe • vor 10 Monaten

2/n سراج رئیسانی کے بیٹے اکمل کی ہلاکت کے بعد سراج رئیسانی نے بلوچ قوم پرستوں کے خلاف کھل کر کام شروع کیا اور "بلوچستان متحدہ محاذ" کے نام سے ایک سیاسی ونگ تشکیل دیا۔ اس کے نائبین میں فرید رئیسانی، عطاء اللہ بڑیچ، نورا گڑاری، مولا بخش راہیجو، شمس مینگل اور اسلحہ ماہر مجید رئیسانی شامل تھے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں سراج رئیسانی پاکستانی پرچم لہراتے اور مسلح افراد سے قرآن پر حلف لیتے نظر آتا ہے، جبکہ پسِ منظر میں جہادی نغمے سنائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب سراج کے لوگ بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف ایک آپریشن پر روانہ ہو رہے تھے۔ سراج پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ وہ نیٹو سپلائی ٹرکوں پر حملے کرکے مال لوٹتا تھا۔ بعد میں اسی نیٹو سپلائی کے بدلے میں اُس نے ایک خفیہ ڈیل کی اور بڑی رقم حاصل کی۔ اس کے شدت پسند تنظیموں جیسے لشکر جھنگوی اور اہل سنت والجماعت سے روابط کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں، جن میں رمضان مینگل اور اورنگزیب فاروقی کے ساتھ ملاقات دیکھی جا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سراج ان شدت پسندوں کو شیعہ ہزارہ برادری کے خلاف استعمال کرتا تھا تاکہ ان پر دباو ڈال کر ہزارہ ٹاؤن کی قیمتی زمینیں سستے داموں حاصل کر سکے۔ اس کے بدلے سراج نے لشکر جھنگوی کو کانک اور آس پاس کے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔ اگرچہ دونوں گروہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے تھے، لیکن جلد ہی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات 2011 میں اس وقت سامنے آئے جب لشکر جھنگوی نے مستونگ میں ایک بس پر حملہ کیا جس میں 26 شیعہ زائرین جاں بحق ہوئے۔ خبر : حملے کے بعد دہشت گرد کانک کے محفوظ ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد سراج پر شدید دباؤ آیا اور اس نے لشکر جھنگوی سے علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #Balochistan #StopBalochGenocide #BalochistanFacts
Balochistan Facts43,587 Aufrufe • vor 1 Jahr

فیکٹس | ✅ گزشتہ دنوں اچانک 6 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر تقریباً 80 جعلی بلوچ لڑکیوں کے نام سے بنائے گئے اکاؤنٹس نمودار ہوئے ، جن کا مقصد صرف "براق ڈیجٹل" نامی فوجی پروپیگنڈہ اکاؤنٹ کو ریچ دینا اور ریاستی بیانیے کو فروغ دینا تھا۔ ان اکاؤنٹس کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ کوئٹہ کینٹ کے سیکنڈ ہینڈ مواد کو اسلام آباد کے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر بلوچستان میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن درحقیقت ان تمام اکاؤنٹس مبینہ طور پر فوجی ٹاوٹس عبداللہ خان، تانیہ بازاری، پاکیزہ عدنان اور سلمہ عدالت سے منسلک ہیں بلوچستان فیکٹس کی ان تمام بے گھر و خاندان خواتین سے اپیل ہے کہ 70 ہزار کے پیچھے صرف ضمیر بیچیں ورنہ آپ سے پہلے جتنے ٹاوٹس اس ریاست میں آئے کور کمانڈر کے بدلتے ہی انکا انجام دیکھ لیں Stop State Propaganda #Balochistan #BalochistanFacts
Balochistan Facts23,174 Aufrufe • vor 10 Monaten

"بلوچستان فیکٹس یعنی میجر ارجن شکلا پر ایران نے دہلی میں حملہ کیا تھا اور یہ مرگیا تھا " 😭😭 -کوئٹہ میں گرلز ہوسٹل چلانے والی سابقہ درزانی سلمی خان کا اسلام آباد اسٹوڈیو میں بڑا انکشاف ذرا سوچیں یہ جن کے ٹاوٹس ہیں انکی ذہنی کفیت کیا ہوگی - اللہ بخشے عاصمہ جہانگیر کو جو سہی انہیں ڈفر کہتی تھی : دراصل یہ جھوٹ پنجاب کو بیچے جارہے ہیں تاکہ انہیں یہ باور کرایا جاسکے کہ بلوچستان کے اکاونٹس ، انکی جہدوجہد ، انکی تحریکیں ، عام عوام سب کچھ انڈیا چلا رہا ہے #Balochistan #StatePropagandaAgainstBalochistan #StopStatePropaganda #BalochistanFacts
Balochistan Facts26,657 Aufrufe • vor 1 Jahr

فیکٹس | 🚨 محترم ڈی جی صاحب ! لاپتہ افراد اور جبری لاپتہ افراد کے فرق کو سمجھنے کے لیے اس انسانیت سوز جرم سے لاتعلقی لازم ہے یا پھر جھوٹ کی اتنی عدت ہوچکی کہ حقائق کا سامنا کرنے کی جرت نہیں رہی ؟ دنیا کے جن ممالک کا آپ نے ذکر کیا، وہاں بے شک لاپتہ افراد موجود ہیں، لیکن وہ زیادہ تر خودساختہ، حادثاتی یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھوں اغوا ہوتے ہیں، یا کسی حادثے میں مارے جاتے ہیں اور آج تک ان کی لاشیں نہیں ملتیں۔ مگر بلوچستان کی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ یہاں لاپتہ افراد خودساختہ نہیں بلکہ آپ کے اداروں ، آپکی فوج نے انہیں کیمروں، عینی شاہدین اور گھروالوں کے سامنے اغوا کیا۔ اس جںر میں نہ بلوچوں کو بخشا گیا ، نہ پشتونوں کو بخشا گیا ہے نہ ہی ہزارہ برادری کو ، بلوچستان بھر سے اٹھائے گئے بلوچ نوجوانوں کو پھر بے رحمی سے، مذہبی پستی اور سفاکیت کے ساتھ اپنی مرضی کے شورش زدہ اور سنسان علاقوں میں قتل کرکے ڈھٹائی سے دہشتگرد بھی اپکے ادارے قرار دیتے ہیں بلوچستان کا ہر لاپتہ شخص آپ کے اداروں کی تحویل میں ہے۔ اس سچ کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ہمت، جرات اور غیرت درکار ہے — اتنی کہ مان لیا جائے کہ بلوچ لاپتہ افراد کو پاکستانی فوج نے اٹھایا۔ آپ نے امریکہ، بھارت اور جانے کن کن ممالک کی مثالیں دیں، مگر جان بوجھ کر سری لنکا کا ذکر نہیں کیا، جہاں تامل نسل کشی کے دوران آخری بچ جانے والے افراد کو اغوا کیا گیا۔ آپ نے فلسطین کا ذکر بھی نہیں کیا، جہاں "نو فلسطینی، نو ایشو" کی سوچ کے تحت اسرائیل نے ہزاروں افراد کو غائب کر دیا۔ حتیٰ کہ آپ نے کشمیر جیسے اپنے بیانیے کے جذباتی باب کو بھی نظرانداز کیا، کیونکہ وہاں بھی کشمیریوں کو ان کی قومی شناخت کی بنیاد پر بھارتی فوج لاپتہ کرتی ہے — بالکل ویسے ہی جیسے آپ کی فوج بلوچوں کو ان کے قومی سوال پر نشانہ بناتی ہے۔ بلوچستان تو ویسے ہی آپ کے گلے میں اٹکی وہ ہڈی ہے، جس کا ذکر صرف تب ہوتا ہے جب کوئی نیا قدرتی وسیلہ دریافت ہو۔ مگر اگر واقعی سچ بولنے کا دعویٰ ہے، تو اتنی جرات پیدا کریں کہ تسلیم کریں: ہم بلوچ نوجوانوں کے اغواکار ہیں، ہم ان کے قاتل ہیں۔ ورنہ کم از کم تصدیق کیلئے بلوچستان فیکٹس کو دیکھیں جو آپکی جھوٹی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #BalochistanFacts
Balochistan Facts14,449 Aufrufe • vor 1 Jahr

فیکٹ چیک | ✅ گزشتہ دنوں ڈیرہ مراد جمالی میں لین دین کے تنازعے پر ایک کاروباری شخصیت منیر لانگو صاحب کو سبزی منڈی ڈیرہ کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی CCTV ویڈیوز بھی موجود ہیں، جو واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ واقعہ خالصتاً کاروباری رنجش کا نتیجہ تھا تاہم، بعض پنجابی سوشل میڈیا ( پیو بدل نسل) والے بلوچی اکاؤنٹس نے اس واقعے کو توڑ مروڑ کر بلوچ مسلح گروہوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی اور وقتی پروپیگنڈا کیا۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران سبزی منڈی کے دیگر کاروباری افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ ذاتی اور تجارتی تنازعہ تھا، نہ کہ کسی مسلح گروہ کی کارروائی دوسری جانب، ریاستِ پاکستان کے جو بلوچ ناموں پر بنائے گئے پنجابی لابیاکاؤنٹس ایسے واقعات کو بلوچ مسلح تنظیموں سے جوڑ کر مردہ ریاستی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی ریاست ہے جو ایک طرف درجنوں بلوچوں کو لاپتہ کرتی ہے، مسخ شدہ لاشیں پھینکتی ہے، اور ان اندھے قتلوں کو بلوچ مسلح تنظیموں کے نام پر ڈال دیتی ہے۔ ایک جانب یہی ریاستی میڈیا ایک طرف بلوچ آزادی پسندوں پر بھارت، فرانس یا اسرائیل سے مالی مدد لینے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اور دوسری طرف بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کے عام تاجر کے قتل کو بھی انہی تنظیموں سے جوڑ دیا جاتا ہے، یہ کہہ کر کہ تاجر سے بھتہ لینے کے لیے حملہ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی کی ایک معمولی سبزی منڈی کا تاجر آخر کتنا بھتہ دے سکتا ہے؟ گزشتہ دنوں اسی ڈیرہ مراد جمالی سے بلوچ مسلح افراد پر ایک تین بینک لوٹنے سے کئی کروڑ لوٹنے کا الزام لگایا گیا، بالفرض جس نے ہفتہ قبل بینک لوٹی ہو وہ ایک کاروباری شخصیت سے 50 ہزار لینے آئے گا ؟ یا بلوچ مسلح افراد نے آج سے پہلے کتنے افراد سے بھتہ لیا ؟ البتہ بلوچستان میں کئی اہم کاروباری شخصیت کے ویڈیوز موجود ہیں جن سے ایف سی یا پاکستانی آرمی پروٹیکشن چارجز کے نام پر سالانہ کھربوں روپے وصول کرتی ہے جس کی تازہ مثال گزشتہ سال دکی میں کوئلہ کے بیانیات کے بعد ایک لاپتہ کرکے مسخ لاش پھینکی گئی تھی پیو بدل نسل سے گزارش ہے پہلے بلوچستان کے سات شہروں کے نام یاد کریں پھر بلوچستان پر پروپیگنڈہ کریں #StopStatePropaganda #StopPunjabiBeingBaloch #Balochistan #BalochistanFacts
Balochistan Facts10,635 Aufrufe • vor 9 Monaten

#Facts #FakePressConferences کوئٹہ : گزشتہ دِنوں پنجاب یونیورسٹی کے جس لاپتہ طالبعلم طلعت عزیز کو کمانڈر بناکر کوئٹہ میں صوبائی وزرا اور IG بلوچستان کی طرف سے جھوٹی پریس کانفرنس کرائی اسکا اگست میں جبری گمشدگی اور رہائی کے بعد کنگری لیویز کے اہلکار عصمت اللہ کو دیا گیا بیان منظر عام پر آیا ہے ▪️جس میں طلعت عزیز صاف الفاظ میں کہہ رہا ہے کہ "مجھے سریاب روڈ سے جبری لاپتہ کر کے موسیٰ خیل کے قریب چھوڑا گیا اور میں بھاگ کے کنگری لیویز کے پاس آیا ہوں" ▪️یہ ویڈیو 28 اگست 2024 کی ہے ، جب طلعت عزیز ولد پروفیسر عبدالعزیز کنگری ضلع موسیٰ خیل لیویز کے پاس موجود تھا ، سریاب روڈ سے اغوا ہوئے اور بعد میں کنگری تھانے کے حوالے کئے گئے بعد ازاں نومبر میں اسی نوجوان کو کمانڈر بناکر زبردستی پریس کانفرنس کرائی گئی ، #Balochistan #Quetta #EndEnforcedDisappearances #StopBalochistan
Balochistan Facts11,618 Aufrufe • vor 1 Jahr
Keine weiteren Inhalte verfügbar