Balochistan Facts's banner
Balochistan Facts's profile picture

Balochistan Facts

@balochistanfact10,944 subscribers

• Uncovering the truth • Exposing disinformation and propaganda • verified facts • 📍#Balochistan

Shorts

"بشیر زیب کا گھر بلوچ عوام نے گرا دیا" پکستانی میڈیا دھماکہ کے بعد "یاڑڑ کمال ہوگیا" نوشکی کی عوام کی سلیس لاہوڑی اڑدو میں آواز نکل گئی یہ شودے اتنے بزدل کیوں ہیں اپنی کاروائی تسلیم کرنے سے ڈرتے؟ حالانکہ سنا ہے ہفتہ بعد شہروں میں بکتر بند اور ٹینکوں پر بھی آئے تھے #Balochistan

"بشیر زیب کا گھر بلوچ عوام نے گرا دیا" پکستانی میڈیا دھماکہ کے بعد "یاڑڑ کمال ہوگیا" نوشکی کی عوام کی سلیس لاہوڑی اڑدو میں آواز نکل گئی یہ شودے اتنے بزدل کیوں ہیں اپنی کاروائی تسلیم کرنے سے ڈرتے؟ حالانکہ سنا ہے ہفتہ بعد شہروں میں بکتر بند اور ٹینکوں پر بھی آئے تھے #Balochistan

47,212 görüntüleme

پہلے کہا گیا: “زہری پر BLA کا کنٹرول ہے ہی نہیں ” (اگست) پھر عام آبادی پر ڈرون کرکے کہا گیا: “کنٹرول تھا، مگر آدھا” (28 اگست) پھر بیان آیا: “کنٹرول بالکل نہیں ہے” (10 ستمبر) اور اب “مبارک ہو، 11 اگست کو تحصیل زہری، ضلع خضدار پر بی ایل اے کا مکمل کنٹرول واپس لے لیا گیا” تو آخر یہ کنفیوژ ہیں یا فتنہ الپنڈ کا اسکرئپٹ رائٹر؟ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں اُدھر بلوچ آزادی پسند ، دور دراز پہاڑی چوٹیوں سے لیکر آئے اور نوشکی اور پنجگور جیسے مرکزی شہروں پر گھنٹوں کنٹرول شروع ہوئی کہانی پھر مچھ شہر پر تین دن کی موجودگی، جعفر ایکسپریس پر 500 فوجیوں کو یرغمال رکھنے سے بلوچستان کی ہر شاہراہ پر اجارہ داری، اور اب ایک بڑی تحصیل پر مہینوں قابض رہنا — یہ سب بلوچ مسلح گروہوں کی بڑھتی طاقت اور عوامی حمایت کی نشانی ہے۔ ادھر ریاست ایسی بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ روزانہ کسی لاپتہ شخص کو مار کر اُسے "بی ایل اے کا کمانڈر" قرار کے علاوہ بے بس نظر آرہی ہے۔ یہاں تک کہ اب ریاست کو فرید رئیسانی جیسے نشہ آور شخص کی "تصدیق" کی ضرورت پڑ رہی ہے، اور فرید کو ریاست کی تصدیق کی۔ شفیق کو فرید کی فرید کو جمال کی جمال کو سرفراز مسوری کے اہلخانہ کی، کیا ریاست بلوچستان میں 7 گھروں تک محدود ہوچکی ہے ؟ آخر کنفیوژ کون ہے ؟ زہری کس کے پاس ہے؟ #Balochistan #BalochistanFacts

پہلے کہا گیا: “زہری پر BLA کا کنٹرول ہے ہی نہیں ” (اگست) پھر عام آبادی پر ڈرون کرکے کہا گیا: “کنٹرول تھا، مگر آدھا” (28 اگست) پھر بیان آیا: “کنٹرول بالکل نہیں ہے” (10 ستمبر) اور اب “مبارک ہو، 11 اگست کو تحصیل زہری، ضلع خضدار پر بی ایل اے کا مکمل کنٹرول واپس لے لیا گیا” تو آخر یہ کنفیوژ ہیں یا فتنہ الپنڈ کا اسکرئپٹ رائٹر؟ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں اُدھر بلوچ آزادی پسند ، دور دراز پہاڑی چوٹیوں سے لیکر آئے اور نوشکی اور پنجگور جیسے مرکزی شہروں پر گھنٹوں کنٹرول شروع ہوئی کہانی پھر مچھ شہر پر تین دن کی موجودگی، جعفر ایکسپریس پر 500 فوجیوں کو یرغمال رکھنے سے بلوچستان کی ہر شاہراہ پر اجارہ داری، اور اب ایک بڑی تحصیل پر مہینوں قابض رہنا — یہ سب بلوچ مسلح گروہوں کی بڑھتی طاقت اور عوامی حمایت کی نشانی ہے۔ ادھر ریاست ایسی بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ روزانہ کسی لاپتہ شخص کو مار کر اُسے "بی ایل اے کا کمانڈر" قرار کے علاوہ بے بس نظر آرہی ہے۔ یہاں تک کہ اب ریاست کو فرید رئیسانی جیسے نشہ آور شخص کی "تصدیق" کی ضرورت پڑ رہی ہے، اور فرید کو ریاست کی تصدیق کی۔ شفیق کو فرید کی فرید کو جمال کی جمال کو سرفراز مسوری کے اہلخانہ کی، کیا ریاست بلوچستان میں 7 گھروں تک محدود ہوچکی ہے ؟ آخر کنفیوژ کون ہے ؟ زہری کس کے پاس ہے؟ #Balochistan #BalochistanFacts

58,003 görüntüleme

ماشاءاللہ ! 4 دسمبر کو ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر نور علی خان چاکرانی اور کمانڈر میر بیگ خان چاکرانی صاحب ایک ماہ قبل 12 نومبر کو ڈیرہ غازیخان کی گلبرک کالونی میں نیاز چاکرانی کے بھتیجے ثاقب چاکرانی کی کی ایک شادی کی تقریب کی فوٹیج 😁 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہتھیار پھینکنے والے سو میں سے تقریباً چالیس کمانڈر تو اس شادی کا ولیمہ کھانے پنجاب گئے ہوئے تھے اپنے ہی گن مین اور باڈی گارڈ کو کمانڈر بنا کر پیش کرکے چوہدریوں کو بیوقوف بنانے کی روایت نئی نہیں یہ پرانی چلی آ رہی ہے۔ ثنا اللہ زہری صاحب بھی اسی طرح کے طریقے استعمال کیا کرتے تھے۔ #Balochistan #BalochistanFacts

ماشاءاللہ ! 4 دسمبر کو ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر نور علی خان چاکرانی اور کمانڈر میر بیگ خان چاکرانی صاحب ایک ماہ قبل 12 نومبر کو ڈیرہ غازیخان کی گلبرک کالونی میں نیاز چاکرانی کے بھتیجے ثاقب چاکرانی کی کی ایک شادی کی تقریب کی فوٹیج 😁 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہتھیار پھینکنے والے سو میں سے تقریباً چالیس کمانڈر تو اس شادی کا ولیمہ کھانے پنجاب گئے ہوئے تھے اپنے ہی گن مین اور باڈی گارڈ کو کمانڈر بنا کر پیش کرکے چوہدریوں کو بیوقوف بنانے کی روایت نئی نہیں یہ پرانی چلی آ رہی ہے۔ ثنا اللہ زہری صاحب بھی اسی طرح کے طریقے استعمال کیا کرتے تھے۔ #Balochistan #BalochistanFacts

34,759 görüntüleme

3/n اس کے بعد لشکر جھنگوی نے اپنا کیمپ مستونگ کے قریب کندھاوا میں ایک مدرسے کے قریب قائم کیا۔ کچھ وقت بعد فوج نے اس ٹھکانے پر حملہ کیا اور اس حملے میں لشکر جھنگوی کے سات کارندے مارے گئے۔ لشکر جھنگوی نے اس کا ذمہ دار سراج رئیسانی کو ٹہرایا۔ خبر : یہ تعلقات مزید اس وقت بگڑے جب فرنٹیئر کور نے لشکر جھنگوی کے ایک اور ممبر کو کوشکک کے مقام پر مار دیا، اطلاعات کے مطابق سراج رئیسانی کے دستِ راست منیر رئیسانی نے مقتول کی لاش کو اپنے گاڑی کے پیچھے باندھ کر پورے شہر کے گلیوں میں گھسیٹا۔ بعد ازاں منیر رئیسانی لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارا گیا۔ منیر رئیسانی خبر : سراج رئیسانی کے ایک اور قریبی ساتھی ماسٹر قدوس کو بھی لشکری جھنگوی نے کندھاوا میں مار دیا۔ اسی طرح سراج رئیسانی گروپ کے بہت سے کارندے بلوچ آزادی پسند مسلح جماعتوں کے ہاتھوں بھی قتل ہوئے، جن میں قابلِ ذکر انکے قریبی ساتھی عطاء اللہ بڑیچ ہیں، جو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ہاتھوں مارے گئے۔ ایک ایسے وقت میں جب بہت سے مذہبی شدت پسند تنظیموں کو یا تو ختم کیا گیا یا پھر وہ فوجی حکام کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے، سراج رئیسانی گروپ وفاداری کے ساتھ فوج کی سرپرستی میں تابعداری کے ساتھ کام کرتا رہا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی وجہ تھی کہ وہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اتنے قریب آگئے تھے۔ جب داعش کا اس خطے میں ظہور ہوا، تو لشکر جھنگوی کے بہت سے ارکان نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی، داعش نے بلوچستان میں بہت سے حملے کیئے۔ ایسے ہی ایک خود کش حملے میں 13 جولائی 2018 کو سراج رئیسانی درینگڑھ کے علاقے میں مارے گئے۔ ان کے علاوہ اس حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سراج کے آخری رسومات سرکاری سطح پر ادا کیئے گئے، جس میں سینئر فوج و سول افسران بشمول گورنر اور چیف آف آرمی اسٹاف شامل تھے۔ علاقائی سیاسی کارکنان اور تجزیہ نگار اس صورتحال کو بہت ہی عجیب اور خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ” اگر ایک ایسا شخص جو اتنے زیادہ جرائم میں ملوث ہو، صرف فوج کا گندہ کام کرکے صاف ستھرا ہوسکتا ہے، تو پھر اس سے ایک انتہائی خطرناک روایت کا آغاز ہوگا۔ اس پاگل پن کے اثرات سالوں تک زائل نہیں ہونگے۔” ایک سینئر تجزیہ نگار نے نام ظاھر نا کرنے کے شرط پر دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا سراج رئیسانی کی زندگی کو سمجھنے کیلئے ، بلوچستان پوسٹ کی ایک مکمل تحقیقاتی رپورٹ کو پڑھیں جو 2018 میں شائع ہوئی تھی Link : [ بشکریہ بلوچستان پوسٹ بلوچستان فیکٹس| فیچر پوسٹ #Balochistan #StopBalochGenocide #BalochistanFacts

3/n اس کے بعد لشکر جھنگوی نے اپنا کیمپ مستونگ کے قریب کندھاوا میں ایک مدرسے کے قریب قائم کیا۔ کچھ وقت بعد فوج نے اس ٹھکانے پر حملہ کیا اور اس حملے میں لشکر جھنگوی کے سات کارندے مارے گئے۔ لشکر جھنگوی نے اس کا ذمہ دار سراج رئیسانی کو ٹہرایا۔ خبر : یہ تعلقات مزید اس وقت بگڑے جب فرنٹیئر کور نے لشکر جھنگوی کے ایک اور ممبر کو کوشکک کے مقام پر مار دیا، اطلاعات کے مطابق سراج رئیسانی کے دستِ راست منیر رئیسانی نے مقتول کی لاش کو اپنے گاڑی کے پیچھے باندھ کر پورے شہر کے گلیوں میں گھسیٹا۔ بعد ازاں منیر رئیسانی لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارا گیا۔ منیر رئیسانی خبر : سراج رئیسانی کے ایک اور قریبی ساتھی ماسٹر قدوس کو بھی لشکری جھنگوی نے کندھاوا میں مار دیا۔ اسی طرح سراج رئیسانی گروپ کے بہت سے کارندے بلوچ آزادی پسند مسلح جماعتوں کے ہاتھوں بھی قتل ہوئے، جن میں قابلِ ذکر انکے قریبی ساتھی عطاء اللہ بڑیچ ہیں، جو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ہاتھوں مارے گئے۔ ایک ایسے وقت میں جب بہت سے مذہبی شدت پسند تنظیموں کو یا تو ختم کیا گیا یا پھر وہ فوجی حکام کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے، سراج رئیسانی گروپ وفاداری کے ساتھ فوج کی سرپرستی میں تابعداری کے ساتھ کام کرتا رہا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق یہی وجہ تھی کہ وہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اتنے قریب آگئے تھے۔ جب داعش کا اس خطے میں ظہور ہوا، تو لشکر جھنگوی کے بہت سے ارکان نے داعش میں شمولیت اختیار کرلی، داعش نے بلوچستان میں بہت سے حملے کیئے۔ ایسے ہی ایک خود کش حملے میں 13 جولائی 2018 کو سراج رئیسانی درینگڑھ کے علاقے میں مارے گئے۔ ان کے علاوہ اس حملے میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سراج کے آخری رسومات سرکاری سطح پر ادا کیئے گئے، جس میں سینئر فوج و سول افسران بشمول گورنر اور چیف آف آرمی اسٹاف شامل تھے۔ علاقائی سیاسی کارکنان اور تجزیہ نگار اس صورتحال کو بہت ہی عجیب اور خطرناک قرار دیتے ہیں۔ ” اگر ایک ایسا شخص جو اتنے زیادہ جرائم میں ملوث ہو، صرف فوج کا گندہ کام کرکے صاف ستھرا ہوسکتا ہے، تو پھر اس سے ایک انتہائی خطرناک روایت کا آغاز ہوگا۔ اس پاگل پن کے اثرات سالوں تک زائل نہیں ہونگے۔” ایک سینئر تجزیہ نگار نے نام ظاھر نا کرنے کے شرط پر دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا سراج رئیسانی کی زندگی کو سمجھنے کیلئے ، بلوچستان پوسٹ کی ایک مکمل تحقیقاتی رپورٹ کو پڑھیں جو 2018 میں شائع ہوئی تھی Link : [ بشکریہ بلوچستان پوسٹ بلوچستان فیکٹس| فیچر پوسٹ #Balochistan #StopBalochGenocide #BalochistanFacts

44,172 görüntüleme

💥 A strict message from Balochistan Facts to fake Balochi accounts operating from Punjab #StopStatePropaganda #Balochistan #BalochistanFacts

💥 A strict message from Balochistan Facts to fake Balochi accounts operating from Punjab #StopStatePropaganda #Balochistan #BalochistanFacts

22,971 görüntüleme

Videos

balochistanfact's profile picture

بریکنگ نیوز ! مستونگ کے رہائشی کا کوہلو میں پنجابی لہجے کو شدید گلابی اڑدو میں بدل کر بہت بڑا انکشاف " ہمیں انڈیا والے پیسے دیکر BYC استعمال کرتی تھی" یہ ویڈیو " بلوچ وائیر " نامی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر جاری کیاگیا جسے یقیناً کوئی گوجرنوالہ کا بلوچ چلاتا ہوگا آواز میں قرب اتنا ہے کہ بلوچی لہجا نکالتے نکالتے ہلکا کوئٹہ ہوٹل کے وائیٹرز والا ٹچ آگیا البتہ ہم اسے اگنور کرکے بی وائی سی BYC سے گزارش کرتے ہیں کہ پنجابیوں کا استعمال بند کرے ، دیکھیں کس قدر ظلم ہے کہ ایک پتوکی کے نوجوان کو مستونگ کا بناکرکوئٹہ میں استعمال کیاگیا ، اب وہ اپنا بلوچی لہجا بھول کر پشتو میں کوہلو میں بیٹھا وڈے وڈے انکشافات کررہا ہے آواز سے تو ہمیں ڈی جی صاحب خود لگ رہے ہیں ، لیکن خیر کیسے ممکن ہے کہ ڈی جی صاحب لوگوں کو خود لاپتہ کر کے پھر بی وائی سی سے کڑورں لیں اور لاپتہ افراد کے دھرنوں میں شامل بھی ہوں ؟ اس لئے ہم کہتے ہیں شکر کریں ، صدقہ دیں ، دو چار انوں کاکڑ صدقے میں دیں کہ نوبل پرائز نہیں ملا ، اگر نوبل پرائز مل جاتا تو ایسی ویڈیوز DGISPR کے آفیشل اکاؤنٹس پر شائع ہوتیں #Balochistan #StopStatePropaganda #BalochistanFacts

Balochistan Facts

68,999 görüntüleme • 8 ay önce

balochistanfact's profile picture

" بلوچ طلباء، بلوچ نوجوان، وکلاء ، پروفیسر اور بلوچ خواتین سب "دہشت گردی" کا حامی ہیں ان سب کا ٹرائل ہونا چائے " (ٹرائل یعنی ؟؟ جبری گمشدگیاں بڑھاو ) پنجابی زونسٹ حمنہ ملک ولد بریگیڈیئر بلال اسلام آباد کے کسی بند اسٹوڈیو میں ایک سانس میں بلوچ طلباء، بلوچ وکلاء ، اسٹوڈنٹ کوٹہ سسٹم ، طلباء تنظیمیں اور بلوچ خواتین سب کو "ٹیرر اپولوجسٹ" قرار دینے والی یہ پنجابی خاتون، عاصم باجوہ اور انور کاکڑ کے ہاتھوں سامنے لائی جانے والی ، کویٹہ کینٹ حمنہ ملک ہے یہ چیخ چلا کر اس بلوچستان میں طلبہ کے بار بار ٹرائل (جبری گمشدگی ) پر زور دے رہی ہیں، جہاں پہلے فی شہر سے درجنوں نوجوان اور خواتین لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو اندھا درد ہے کہ بلوچ نوجوان نسل کی "چھان بین " کرو ، اس حقائق کے باوجود کہ کیا پنجاب، وفاقی اداروں یا یونیورسٹیوں سے بلوچستان کے طلبہ کو لاپتہ نہیں کیا گیا ؟ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور بلوچ طلبہ کے ماورائے عدالت قتل کی جو رفتار جاری ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے چند برسوں میں ہر خاندان کو جبری گمشدگی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پنجابی خاتون، جسے چند سال قبل بلوچستان یونیورسٹی کے ایک مخصوص وائس چانسلر کے علاوہ کوئی پہچانتا نہیں تھا، جس کے آشیرباد پر سردار بہادر خان یونیورسٹی میں گھسائی گئی ، پھر عاصم باجوہ کی کسی پروپگینڈا این جی او کے ذریعے منظر عام پر آئیں اور پھر "بلوچستان کا درد" کے عنوان سے جتنا کھا سکتی تھی کھایا اور پازٹو بلوچستان کا خواب لیکر اسلام آباد میں اعلیٰ عہدہ حاصل کر کے بلوچستان چھوڑ گئیں یہ پنجابی زونسٹ ، اگر مسلح تنظیموں کے نام پر بلوچ طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کی جبری گمشدگی کو جائز قرار دیتی ہیں اور بلوچ خواتین کے اغوا کو قابل قبول سمجھتی ہیں، تو کیا پنجاب سے آنے والا ایک سپاہی کا بلوچستان میں سب سے بڑا معاون پنجابی مانا جائے؟ کیا آپ جیسے تمام پنجابی، مرد و خواتین، جوابدہ ٹھہرائے جائیں ؟ کیا پھر ہر پنجابی مشکوک قرار پائے اور بلوچستان میں گروہی شکل میں موجود ہر پنجابی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے؟ کیا حمنہ ملک اور زینب آصف جیسی ہر پنجابی خاتون جوابدہ ہے، جو کینٹ میں رہ کر پھر بروری روڈ پر واقع CTD آفس میں دیکھائی دیتی رہتی ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگ اندھے ہیں کہ بروری روڈ پر رکشے بھر کر لائی جانیوالی نوجوان لڑکیاں کون ہیں؟ اگر بلوچ عورت کا ٹرائل ہوسکتا ہے تو کیا پنجابی عورت مستثنیٰ ہے؟ پھر عام پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھنا ٹھیک ہوا ؟ ہم تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ شہباز ٹاؤن فیز ٹو کی حمنہ ملک کی امی سمیت ہر ایسے پنجابی فرد پر خصوصی نظر رکھی جائے، کیونکہ وہ پنجاب فوج کی دہشتگردی کے خاص معاون ہوسکتے ہیں اس ٹرائل میں مرد و عورت کا امتیاز بند کیا جائے کیونکہ اس سائکو کیس کے مطابق تمام بلوچ مرد و خواتین سب ٹیرر اپالوجسٹ ہیں طلباء کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی یہ ذہنی مریضہ چونکہ خود اب بلوچستان چھوڑ کر اسلام آباد کی وزارتِ اطلاعات میں ملازمت حاصل کر چکی ہے۔ سینکڑوں بار بلوچی لباس پہن کر چینیوں کے سامنے خود کو بلوچ ظاہر کرنے والی اس عورت کے دل سے بلوچ عوام کے خلاف نفرت ختم نہیں ہوئی Stop Brig Bilal's Chicks propaganda #StopStatePropaganda #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearance #BalochistanFacts

Balochistan Facts

43,878 görüntüleme • 8 ay önce

balochistanfact's profile picture

2/n سراج رئیسانی کے بیٹے اکمل کی ہلاکت کے بعد سراج رئیسانی نے بلوچ قوم پرستوں کے خلاف کھل کر کام شروع کیا اور "بلوچستان متحدہ محاذ" کے نام سے ایک سیاسی ونگ تشکیل دیا۔ اس کے نائبین میں فرید رئیسانی، عطاء اللہ بڑیچ، نورا گڑاری، مولا بخش راہیجو، شمس مینگل اور اسلحہ ماہر مجید رئیسانی شامل تھے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں سراج رئیسانی پاکستانی پرچم لہراتے اور مسلح افراد سے قرآن پر حلف لیتے نظر آتا ہے، جبکہ پسِ منظر میں جہادی نغمے سنائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب سراج کے لوگ بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف ایک آپریشن پر روانہ ہو رہے تھے۔ سراج پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا کہ وہ نیٹو سپلائی ٹرکوں پر حملے کرکے مال لوٹتا تھا۔ بعد میں اسی نیٹو سپلائی کے بدلے میں اُس نے ایک خفیہ ڈیل کی اور بڑی رقم حاصل کی۔ اس کے شدت پسند تنظیموں جیسے لشکر جھنگوی اور اہل سنت والجماعت سے روابط کی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں، جن میں رمضان مینگل اور اورنگزیب فاروقی کے ساتھ ملاقات دیکھی جا سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سراج ان شدت پسندوں کو شیعہ ہزارہ برادری کے خلاف استعمال کرتا تھا تاکہ ان پر دباو ڈال کر ہزارہ ٹاؤن کی قیمتی زمینیں سستے داموں حاصل کر سکے۔ اس کے بدلے سراج نے لشکر جھنگوی کو کانک اور آس پاس کے علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں۔ اگرچہ دونوں گروہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے تھے، لیکن جلد ہی ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات 2011 میں اس وقت سامنے آئے جب لشکر جھنگوی نے مستونگ میں ایک بس پر حملہ کیا جس میں 26 شیعہ زائرین جاں بحق ہوئے۔ خبر : حملے کے بعد دہشت گرد کانک کے محفوظ ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد سراج پر شدید دباؤ آیا اور اس نے لشکر جھنگوی سے علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #Balochistan #StopBalochGenocide #BalochistanFacts

Balochistan Facts

43,587 görüntüleme • 11 ay önce

balochistanfact's profile picture

Fact / Response 🚨 کوئٹہ کینٹ کے گماشتے اگر اپنے اصل اکاؤنٹ سے بھی بولیں تو بھی جعلی اکاؤنٹس کا لہجہ نہیں چھوڑتے ❗ محترمہ ! یہ صرف ایک فیکٹ چیک تھا جس کے جواب میں آپ " پشتون کارڈ " کھیلنے لگ گئیں اس فیکٹ چیک کا مقصد تمہارے(حمنہ ملک) کے بعد ISPR کی نئی بھرتی ایمن بابیی جیسے 3 سے 4 خواتین کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو بے نقاب کرنا تھا۔ جعلی خبریں پھیلانے کا حق کسی کو نہیں ہے، چاہے وہ پنجابی سیٹلر ہو، پشتون ہو یا بلوچ خاتون مینا مجید یا فرح عظیم شاہ۔ پنجابی یا پشتون کارڈ کھیلنے کی بجائے، آپ دلیر ہو کر ان سوالات کا جواب دیں: 1. کیا ایمن بابئی اور اس کا خاندان جس " بلوچستان بیٹھک " سے جڑا ہوا ہے، وزارت دفاع کا پروجیکٹ نہیں ہے؟ کیا وہ پنڈی چھاونی کے شعیب ہارون کا پروجیکٹ نہیں ؟ 2. آپ اور آپ کی بہن زینب سمیت سات دیگر خواتین جنہیں "وائس آف بلوچستان" کے پلیٹ فارم پر متعارف کروایا گیا، کیا وہ CSCR نامی وزارت دفاع کی NGO کا پروجیکٹ نہیں تھا ؟ 3. کیا آپ اور دیگر پنجابی سیٹلر خواتین کو بیرون ملک حکومت بلوچستان کے خرچ پر نہیں بھیجا جاتا؟ 4. کیا مذکورہ عورت ایمن بابئی، جو یوٹیوب چینل "بلوچستان وائس" پر جعلی معلومات پھیلاتی نظر آ رہی ہے، کیا وزارت دفاع کی میڈیا ٹیم کا تیار شدہ نہیں ؟ 5. کیا آپ اور آپ سمیت باسط سے حمزہ تک ایک درجن سے کم افراد بلوچستان حکومت سے ڈس انفارمیشن کی تنخواہ وصول نہیں کرتے؟ --- محترمہ، کوئٹہ کینٹ کے کسی کمرے میں بیٹھ کر، ISPR کے تیار کردہ اسٹیج پر حکومتِ بلوچستان کے پیسوں سے ہاتھ ہلانا اور اصلی بلوچستان میں اپنے لوگوں کے درمیان رہنا، ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کبھی کوئٹہ کینٹونمنٹ کے چند کمروں سے باہر نکل کر، اصلی بلوچستان کے لوگوں میں اپنا تعارف کروا کے دیکھئے گا۔ فیکٹ نوٹ: چونکہ آپ گزشتہ سات ماہ سے بلوچستان اور وزارت دفاع کے "وائس آف بلوچستان" پروجیکٹ سے لاتعلق ہو کر اپنے آبائی خطے پنجاب/اسلام آباد جا چکی ہیں، اس لیے اخلاقی طور پر بہتر ہے کہ آپ بلوچستان کے بجائے پنجاب یا اسلام آباد پر توجہ مرکوز کریں، جو آپ کے آباؤ اجداد کی سرزمین ہے۔ شکریہ۔ #Balochistan #NoToIsprDisinformation #Quetta #DHA

Balochistan Facts

36,816 görüntüleme • 1 yıl önce

balochistanfact's profile picture

#FactCheck 🚨 بلوچوں کے بعد اب پشتونوں پر پروپیگنڈا شروع ⁉️ پاکستانی وزارتِ دفاع کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بلوچ اور بلوچستان پر جھوٹے بیانیے پھیلانے کے بعد اب پشتون لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے بلوچستان کے نامور صحافی لالہ عثمان جنھیں کل انکی دکان سے لاپتہ کیاگیا ، وہ پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی جبکہ موبائل دکان انکا کاروبار تھا ، (صحافت کاروبار نہیں ہوتی ہے ⚠️ ) لالہ عثمان خاں نے اپنی دکان کا آغاز 8 فروری 2025 کو کوئٹہ کی بسم اللہ مارکیٹ میں کیا ۔ اس سے پہلے اور اس کے باوجود بھی ان کا پیشہ صحافت ہی رہا وہ زوا نامی ایک نیوز چینل چلاتے تھے News channel link ⬇️ صحافی عثمان خان نے موبائل دکان کب اور کیوں شروع کی ؟ ⬇️ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں اسلام آباد سے صحافیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے، وہاں بلوچستان میں صحافت کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کیا کوئی عام شہری آزادانہ طور پر صحافت کر سکتا ہے، یا یہ پیشہ صرف ان افراد کے لیے مخصوص ہے جو غریدہ فاروقی کی طرح بے پناہ دولت اکٹھی کر سکیں؟ عثمان نہ غریدہ فاروقی ہیں اور نہ ہی انہیں کسی جنرل فیصل نصیر کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ماہ قبل اپنی روزی روٹی کا ذریعہ خود قائم کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ اپنے گھر کا چولہا جلا سکیں۔ عثمان خان کی گرفتاری پر بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے والے پنجابی سوشل میڈیا صارفین سے گزارش ہے کہ اگر آپ بلوچستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو محض وزارتِ دفاع کے ہفتہ وار بیانیوں کا حصہ بن کر اپنا اور اپنے ضمیر کا سودا نہ کریں۔ جھوٹی خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔ منفی پروپیگنڈا سے گریز کریں فیکٹ بلوچستان سب دیکھ رہا ہے 🫵🏻 #Balochistan #Quetta #BalochistanIsBleeding #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances

Balochistan Facts 🔎

37,215 görüntüleme • 1 yıl önce

balochistanfact's profile picture

فیکٹ چیک | ✅ گزشتہ دنوں ڈیرہ مراد جمالی میں لین دین کے تنازعے پر ایک کاروباری شخصیت منیر لانگو صاحب کو سبزی منڈی ڈیرہ کے اندر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کی CCTV ویڈیوز بھی موجود ہیں، جو واضح طور پر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ واقعہ خالصتاً کاروباری رنجش کا نتیجہ تھا تاہم، بعض پنجابی سوشل میڈیا ( پیو بدل نسل) والے بلوچی اکاؤنٹس نے اس واقعے کو توڑ مروڑ کر بلوچ مسلح گروہوں کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی اور وقتی پروپیگنڈا کیا۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران سبزی منڈی کے دیگر کاروباری افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ ذاتی اور تجارتی تنازعہ تھا، نہ کہ کسی مسلح گروہ کی کارروائی دوسری جانب، ریاستِ پاکستان کے جو بلوچ ناموں پر بنائے گئے پنجابی لابیاکاؤنٹس ایسے واقعات کو بلوچ مسلح تنظیموں سے جوڑ کر مردہ ریاستی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی ریاست ہے جو ایک طرف درجنوں بلوچوں کو لاپتہ کرتی ہے، مسخ شدہ لاشیں پھینکتی ہے، اور ان اندھے قتلوں کو بلوچ مسلح تنظیموں کے نام پر ڈال دیتی ہے۔ ایک جانب یہی ریاستی میڈیا ایک طرف بلوچ آزادی پسندوں پر بھارت، فرانس یا اسرائیل سے مالی مدد لینے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اور دوسری طرف بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کے عام تاجر کے قتل کو بھی انہی تنظیموں سے جوڑ دیا جاتا ہے، یہ کہہ کر کہ تاجر سے بھتہ لینے کے لیے حملہ کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی کی ایک معمولی سبزی منڈی کا تاجر آخر کتنا بھتہ دے سکتا ہے؟ گزشتہ دنوں اسی ڈیرہ مراد جمالی سے بلوچ مسلح افراد پر ایک تین بینک لوٹنے سے کئی کروڑ لوٹنے کا الزام لگایا گیا، بالفرض جس نے ہفتہ قبل بینک لوٹی ہو وہ ایک کاروباری شخصیت سے 50 ہزار لینے آئے گا ؟ یا بلوچ مسلح افراد نے آج سے پہلے کتنے افراد سے بھتہ لیا ؟ البتہ بلوچستان میں کئی اہم کاروباری شخصیت کے ویڈیوز موجود ہیں جن سے ایف سی یا پاکستانی آرمی پروٹیکشن چارجز کے نام پر سالانہ کھربوں روپے وصول کرتی ہے جس کی تازہ مثال گزشتہ سال دکی میں کوئلہ کے بیانیات کے بعد ایک لاپتہ کرکے مسخ لاش پھینکی گئی تھی پیو بدل نسل سے گزارش ہے پہلے بلوچستان کے سات شہروں کے نام یاد کریں پھر بلوچستان پر پروپیگنڈہ کریں #StopStatePropaganda #StopPunjabiBeingBaloch #Balochistan #BalochistanFacts

Balochistan Facts

10,635 görüntüleme • 7 ay önce

balochistanfact's profile picture

فیکٹس | 🚨 محترم ڈی جی صاحب ! لاپتہ افراد اور جبری لاپتہ افراد کے فرق کو سمجھنے کے لیے اس انسانیت سوز جرم سے لاتعلقی لازم ہے یا پھر جھوٹ کی اتنی عدت ہوچکی کہ حقائق کا سامنا کرنے کی جرت نہیں رہی ؟ دنیا کے جن ممالک کا آپ نے ذکر کیا، وہاں بے شک لاپتہ افراد موجود ہیں، لیکن وہ زیادہ تر خودساختہ، حادثاتی یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھوں اغوا ہوتے ہیں، یا کسی حادثے میں مارے جاتے ہیں اور آج تک ان کی لاشیں نہیں ملتیں۔ مگر بلوچستان کی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ یہاں لاپتہ افراد خودساختہ نہیں بلکہ آپ کے اداروں ، آپکی فوج نے انہیں کیمروں، عینی شاہدین اور گھروالوں کے سامنے اغوا کیا۔ اس جںر میں نہ بلوچوں کو بخشا گیا ، نہ پشتونوں کو بخشا گیا ہے نہ ہی ہزارہ برادری کو ، بلوچستان بھر سے اٹھائے گئے بلوچ نوجوانوں کو پھر بے رحمی سے، مذہبی پستی اور سفاکیت کے ساتھ اپنی مرضی کے شورش زدہ اور سنسان علاقوں میں قتل کرکے ڈھٹائی سے دہشتگرد بھی اپکے ادارے قرار دیتے ہیں بلوچستان کا ہر لاپتہ شخص آپ کے اداروں کی تحویل میں ہے۔ اس سچ کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ہمت، جرات اور غیرت درکار ہے — اتنی کہ مان لیا جائے کہ بلوچ لاپتہ افراد کو پاکستانی فوج نے اٹھایا۔ آپ نے امریکہ، بھارت اور جانے کن کن ممالک کی مثالیں دیں، مگر جان بوجھ کر سری لنکا کا ذکر نہیں کیا، جہاں تامل نسل کشی کے دوران آخری بچ جانے والے افراد کو اغوا کیا گیا۔ آپ نے فلسطین کا ذکر بھی نہیں کیا، جہاں "نو فلسطینی، نو ایشو" کی سوچ کے تحت اسرائیل نے ہزاروں افراد کو غائب کر دیا۔ حتیٰ کہ آپ نے کشمیر جیسے اپنے بیانیے کے جذباتی باب کو بھی نظرانداز کیا، کیونکہ وہاں بھی کشمیریوں کو ان کی قومی شناخت کی بنیاد پر بھارتی فوج لاپتہ کرتی ہے — بالکل ویسے ہی جیسے آپ کی فوج بلوچوں کو ان کے قومی سوال پر نشانہ بناتی ہے۔ بلوچستان تو ویسے ہی آپ کے گلے میں اٹکی وہ ہڈی ہے، جس کا ذکر صرف تب ہوتا ہے جب کوئی نیا قدرتی وسیلہ دریافت ہو۔ مگر اگر واقعی سچ بولنے کا دعویٰ ہے، تو اتنی جرات پیدا کریں کہ تسلیم کریں: ہم بلوچ نوجوانوں کے اغواکار ہیں، ہم ان کے قاتل ہیں۔ ورنہ کم از کم تصدیق کیلئے بلوچستان فیکٹس کو دیکھیں جو آپکی جھوٹی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #BalochistanFacts

Balochistan Facts

14,449 görüntüleme • 11 ay önce

Daha fazla içerik yok.