نواب عادل رندھاوا✍🏻's banner
نواب عادل رندھاوا✍🏻's profile picture

نواب عادل رندھاوا✍🏻

@DilKNawabR12,441 subscribers

•Writer&Director Pakistan Television •Content Creator •Activist •YouTuber Covering Politics, Support PMLN 🦁 حقیقت پسند ✒️(NAR News Channel)

Shorts

سرینڈرا مودی یوم آذادی پر پیچھے سے سلامی لیتے ہوئے 🥴

سرینڈرا مودی یوم آذادی پر پیچھے سے سلامی لیتے ہوئے 🥴

61,308 Aufrufe

بہت سارے یوتھیے سی سی ڈی پر تنقید کر رہے تھے اس وڈیو کو دیکھ کر بولیں کے وہ ان کاونٹر غلط ہو رہے ہیں، اس پولیس ٹیم کو ٹاکس ہی زنا غنڈہ گردی اور ڈیکیٹی کی فوری سزا دینے کے لیے بنایا گیا تھا،اور وہ یہ کام بخوبی کر رہی ہے ہوس کے پجاری اس معاشرے میں پیدا ہوتے رہنےہیں فوراََسزا ضروری

بہت سارے یوتھیے سی سی ڈی پر تنقید کر رہے تھے اس وڈیو کو دیکھ کر بولیں کے وہ ان کاونٹر غلط ہو رہے ہیں، اس پولیس ٹیم کو ٹاکس ہی زنا غنڈہ گردی اور ڈیکیٹی کی فوری سزا دینے کے لیے بنایا گیا تھا،اور وہ یہ کام بخوبی کر رہی ہے ہوس کے پجاری اس معاشرے میں پیدا ہوتے رہنےہیں فوراََسزا ضروری

13,688 Aufrufe

کچھ ایسا ضرور تھا کہ جس کی خبر ملتے ہی پاکستان نے ایفگندستان میں بگرام بیس سمیت تمام بیسز اڑا دیں اور اسلحہ کے ذخائر بھی اڑا دئیے

کچھ ایسا ضرور تھا کہ جس کی خبر ملتے ہی پاکستان نے ایفگندستان میں بگرام بیس سمیت تمام بیسز اڑا دیں اور اسلحہ کے ذخائر بھی اڑا دئیے

24,081 Aufrufe

Videos

DilKNawabR's profile picture

جب ایران کو ہماری ضرورت تھی، تب ہم نے ڈٹ کر اس کا ساتھ دیا اور بقول شاعر ۔ جو نہ کرنا تھا،وہ بھی کر ڈالا ۔ بےوفا تیری اک خوشی کے لئے ۔ مگر جب ایران نے ہمیں دھوتی اٹھا کر دکھا دی تو ہم نے بھی پیٹھ کر لی ۔ یاد رکھیں خلیج سے ہمیں سولہ تا بیس ارب ڈالر زر مبادلہ ملتا ہے جبکہ ہمارے یہاں سے پانچ ارب خمس ایران جاتا ہے ۔ ہندو رفع حاجت کے وقت منہ مسلمان کے کھیت کی طرف کرتا ہے اور پیٹھ اپنے کھیت کی طرف تا کہ کھاد اپنے کھیت میں جائے ۔ کھانا کمانا پاکستان میں اور خمس ایران کے بیت المال میں بھیجنا بھی غداری ہی ہے، پاکستان میں شیعیت صرف سڑکیں بلاک کرنے اور جلوسوں کی حفاظت کے لئے پولیس کے چوالیس ہزار نوجوان حفاظتی ڈیوٹی پر رکھنے کا نام ہے؟ کوئی مرجع یہاں کیوں نہیں بن سکتا؟ کیا یہاں کے شیعہ کمی کمین ہیں جن میں کوئی اپنے پاکستانی شیعوں کا مرجع بھی نہیں بن سکتا؟ ساری زندگی پنڈ چک ہی رہنا ہے ۔ خیر جب ان کے سارے آیت اللہ زیر زمین بیرکس بھی چھپے بیٹھے تھے، اس وقت ہمارا شیر خدا فیلڈ مارشل دندناتا پھر رہا تھا ایران کے فوجی اڈوں پر، پھر کیا ہوا؟ تجھ سے پاس وفا ذرا نہ ہوا ۔ ہم سے پھر بھی تیرا گلہ نہ ہوا ۔ ہم چپ کر کے بیٹھ گئے ۔ ہم نے گارنٹی دی تھی کہ ایران اپنے عہد کی پابندی کرے گا مگر ایران دیگر دو ممالک کی سمندری حدود میں جہازوں کو ٹارگٹ کر رہا تھا ۔ ہمارا منہ کالا کر دیا گیا ۔ ایران نے مراثی کے اس عقلمند لڑکے کی طرح جس نے دکاندار سے ایک روپے کا مٹی کا تیل لیا ۔ بوتل میں بارہ آنے کا تیل آیا تو عقلمند بچے نے بوتل الٹ کر کہا کہ باقی چار آنے کا ادھر ڈال دو۔ پاکستان نے بارہ آنے مطلب 75 فیصد معاہدہ ایران کے حق کے کروا دیا تھا، ایران نے بوتل الٹ کر اب چار آنے کا ڈلوانا شروع کر دیا ہے ۔ اب سلامتی کونسل سے جنگ بندی کی اپیلیں کرتا پھرتا ہے ۔

نواب عادل رندھاوا✍🏻

49,792 Aufrufe • vor 1 Monat

DilKNawabR's profile picture

رسول اللہ صل اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہاتھ سے کھاتے تھے کیونکہ چمچ نہیں تھے، آپ نے ساری زندگی چاول نہیں کھائے. اور روٹی سالن تو ظاہر ہے ہاتھ سے ہی کھایا جا سکتا ہے. رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے کیونکہ کرسی ٹیبل نہیں تھے، ایسا نہیں ہے کہ ابولہب ٹیبل پر کھاتا تھا اور رسول اللہ زمین پر.. رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کھجور کی چٹائی پر سوتے تھے تو ابوجہل مولٹی فوم پر نہیں سوتا تھا. وہ بھی اسی چٹائی پر سوتا تھا. رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسواک استعمال کرتے تھے تو باقی قریش مکہ کے پاس کولگیٹ نہیں تھی. رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پائنچے اوپر رکھتے تھے کیونکہ کپڑے ہی نہیں ہوتے تھے. زیادہ کپڑا امارت کی علامت تھا اور کپڑا لٹکانا تکبر کی.. آج اگر آپ نے چاول کھانے ہوں، نوڈلز کھانے ہوں یا آئس کریم کھانی ہو تو آپ ہاتھ سے اٹھا کر نہیں کھا سکتے. چمچ کانٹے سے کھانا بھی ہاتھ سے کھانے میں ہی شمار ہوتا ہے چمچ پاؤں میں نہیں پکڑا جاتا. اسی طرح ٹیبل کرسی پر کھانا بھی زمین کے مترادف ہے کرسی کوئی آسمان پر نہیں رکھی جاتی. اور آج کل تو طارق جمیل، الیاس قادری، طاہر القادری، طارق مسعود سمیت سبھی علمائے کرام کرسی پر بیٹھ کر کھاتے ہیں. اس زمانے میں کپڑا مہنگی اور نایاب چیز تھی اس لیے تکبر کی علامت تھا، آج کے دور میں کپڑے سے تکبر نکل کر برینڈڈ چیزوں میں آ گیا ہے. مہنگا ترین موبائل فون، لگژری گاڑیاں عالیشان بنگلے سکیورٹی پروٹوکول تکبر کی علامت بن چکے ہیں. علمائے کرام بھی شلواریں اوپر چڑھا لیتے ہیں اور پروٹوکول کے ساتھ بلٹ پروف مرسڈیز میں گھومتے ہیں. ڈالے میں چھے چھے اسلحہ بردار گارڈ اور ہاتھ میں بڑا موبائل فون. چار چار بیویاں اور بینک میں کروڑوں روپے کا بیلنس رکھ کر سمجھتے ہیں سنت پر عمل ہو گیا. رسول اللہ آج کے زمانے میں ہوتے تو ٹوتھ پیسٹ ہی استعمال کرتے، ہوائی جہاز میں ہی سفر کرتے، فوم پر سوتے اور کرسی پر بیٹھ کر چمچ سے کھاتے. اونٹوں پر تجارت کی بجائے کنٹینر سے سامان بھیجتے. تلوار لے کر لڑنے کی بجائے ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کرتے. آپ سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو پہلے سنت کی منشا کو سمجھیں، لازمی نہیں کہ جو کام رسول اللہ نے کیا آپ بھی ویسا ہی کریں گے اور سنت پوری ہو جائے گی. رسول اللہ نے گدھے پر سواری کی. آج اگر کوئی شخص موٹرسائیکل بیچ کر گدھا لے لے تو سب لوگ اسے گدھا ہی کہیں گے. رسول ﷺ نے اگر کسی چیز کو سختی سے منع کیا ہے تو وہ ہے غرور تکبر ہمارے ملاں اسی غرور تکبر کے قطب مینار ہیں یہاں کی جاہل زومبیز کو انہوں نے، گستاخی قادیانی یہودی کافر جہاد کے چورن پر لگا رکھا ہے بد امنی پھیلانے کے ایسے ماہر ہیں کہ انکا کوئی ثانی نہیں کوئی بس انکو فنڈ ریزنگ کرنے انکے اکاونٹ بھرنے والا کوئی باہر سے ہینڈلر چاہیے ہوتا ہے ابھی لیبک والے زومبیز کو کنٹرول کرنے کے لئے چند پولیس والوں کی شہادت کے بعد ایسا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا گیا ہے کہ نا تو کوئی سعد رضوی کا پوچھ رہا ناکسی کو کوئی فرق پڑ رہا ہے کہ وہ مر گیا یا زندہ ہے ایسے ہی مولانا کے زیبرے ہیں انکے لئے لبیک والے مثال ہیں ان زومبیز کو بولا جاۓ گا روڈ پر نکلو انقلاب کے لئے مرو ملاں فضلو کو بچانے کے لئے لڑو مگر ریاست کا کچھ نہیں جاتا نا کسی کا کام رکتا ہے نا کسی کے مرنے سے کسی کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ چند دن کی بد امنی کے بعد کچھ پولیس والے شہید ہو جاتے ہیں، اور بہت سارے زومبیز کتے کی موت مر جاتے ہیں، اگر کسی بچہ باز ملاں کے لئے مرنے کو سیدھا جنت کا ٹکٹ سمجھتے ہو تو تم سے بڑا کوئی جاہل نہیں اس دنیا میں، اس لئے جس مذہب کے پیروکار ہو جسکا مطلب ہی امن ہے اور کسی ریاست کے امن کو تباہ کرنے کے لیے مرنے والے کتے کی موت ہی مرتے ہیں جیسے باڈر پر طالبان اور بلوچ مر رہے ہیں مزہبی جنونیت سے باہر آئیں خود بھی سکون کے ساتھ زندگی گزاریں اور دوسروں کو بھی سکون سے جینے دیں۔ #PakistanPolitics #molanafazalurrhman #KPK #Peshawarnews #punjab #PakistanZindabad

نواب عادل رندھاوا✍🏻

10,557 Aufrufe • vor 1 Monat

DilKNawabR's profile picture

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 Aufrufe • vor 1 Monat

Keine weiteren Inhalte verfügbar