Dr M Shujat Rasool's banner
Dr M Shujat Rasool's profile picture

Dr M Shujat Rasool

@DrMShujat8,721 subscribers

🧑‍⚕️FCPS Internal Medicine(PG) 💡Evidence-Based Med IG: https://t.co/VGDVkl7Oqg TikTok: https://t.co/wbSO5YTEEd FB: https://t.co/HCupnYh1dA

Shorts

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

121,664 Aufrufe

Videos

DrMShujat's profile picture

بہت ہی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ کوئٹہ سول ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک نامعلوم شخص نے تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں ان کا جسم تقریباً 70 فیصد جھلس گیا۔ وہ اس وقت آریا ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت، ہمارے معاشرتی رویوں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سنگین سوال ہے۔ ہم ڈاکٹرز ہر روز دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، لیکن جب زندگی بچانے والے خود غیر محفوظ ہو جائیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا تحفظ محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے، اور ایسے انسانیت سوز واقعات کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور لیڈی ڈاکٹر کو بہترین اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں.

Dr M Shujat Rasool

34,185 Aufrufe • vor 2 Monaten

DrMShujat's profile picture

کیا آپ اسی طرح کسی اور سرکاری دفتر یا ادارے میں جا کر کسی خاتون اسٹاف کی ویڈیو بنا سکتے ہیں؟ کیا آپ کو کسی کو ہراساں کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا ہسپتالوں میں کام کرنے والی خواتین، خواتین نہیں ہوتیں؟ کیا اُن کی کوئی عزتِ نفس، پرائیویسی اور خاندان نہیں ہوتا؟ کیا آپ اپنے گھر کی کسی خاتون کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال سکتے ہیں؟ پھر آخر ہسپتالوں میں ڈیوٹی کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ساتھ یہ رویہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ کیا آپ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کے پاس گئے؟ کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچی کو وارڈ میں داخل کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا آپ نے انتظامیہ یا متعلقہ ڈاکٹر کا مؤقف لیا؟ آج کل معمول بن چکا ہے کہ ذرا سی بات پر جیب سے موبائل نکالا، ویڈیو بنائی اور بغیر حقیقت جانے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔ خود ہی جج بن جانا اور اگلے کا مؤقف سنے بغیر فیصلے سنا دینا آخر کہاں کا انصاف ہے؟ ڈاکٹرز اور طبی عملہ پہلے ہی شدید دباؤ اور اوور بوجھ کا شکار ہیں۔ وہ وہاں ملازم ہیں، ہسپتالوں کے مالک نہیں.

Dr M Shujat Rasool

13,589 Aufrufe • vor 3 Monaten

Keine weiteren Inhalte verfügbar