
Dr M Shujat Rasool
@DrMShujat • 8,721 subscribers
🧑⚕️FCPS Internal Medicine(PG) 💡Evidence-Based Med IG: https://t.co/VGDVkl7Oqg TikTok: https://t.co/wbSO5YTEEd FB: https://t.co/HCupnYh1dA
Shorts
Videos

ڈاکٹر نے مریض کو معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ یہ دل کے دورے والا درد نہیں بلکہ عضلاتی (Muscular) درد ہے، اور صرف پرچی بنوا کر لانے کا کہا تاکہ دوا لکھی جا سکے۔ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس وقت دو ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھے اور دیگر مریضوں کو بھی دیکھ رہے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں ڈاکٹر کی غلطی کہاں ہے؟ نہ مریض کی جان کو کوئی خطرہ ہوا، نہ کسی قسم کا نقصان پہنچا۔ پھر ہر واقعے میں بغیر حقیقت جانے ڈاکٹروں کو قصوروار کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ معاشرے میں ڈاکٹروں کے خلاف نفرت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر کوئی موبائل اٹھا کر ہسپتال پہنچ جاتا ہے اور علاج کے عمل میں مداخلت شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہر فیصلہ ویڈیوز اور شور شرابے کی بنیاد پر ہونا ہے تو پھر پیشہ ورانہ رائے اور طبی مہارت کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟
Dr M Shujat Rasool160,116 просмотров • 3 месяцев назад

بہت ہی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ کوئٹہ سول ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک نامعلوم شخص نے تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں ان کا جسم تقریباً 70 فیصد جھلس گیا۔ وہ اس وقت آریا ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت، ہمارے معاشرتی رویوں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سنگین سوال ہے۔ ہم ڈاکٹرز ہر روز دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، لیکن جب زندگی بچانے والے خود غیر محفوظ ہو جائیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا تحفظ محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے، اور ایسے انسانیت سوز واقعات کے خلاف فوری، سخت اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور لیڈی ڈاکٹر کو بہترین اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں.
Dr M Shujat Rasool34,185 просмотров • 2 месяцев назад

کیا آپ اسی طرح کسی اور سرکاری دفتر یا ادارے میں جا کر کسی خاتون اسٹاف کی ویڈیو بنا سکتے ہیں؟ کیا آپ کو کسی کو ہراساں کرنے کا حق حاصل ہے؟ کیا ہسپتالوں میں کام کرنے والی خواتین، خواتین نہیں ہوتیں؟ کیا اُن کی کوئی عزتِ نفس، پرائیویسی اور خاندان نہیں ہوتا؟ کیا آپ اپنے گھر کی کسی خاتون کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال سکتے ہیں؟ پھر آخر ہسپتالوں میں ڈیوٹی کرنے والی لیڈی ڈاکٹرز اور طبی عملے کے ساتھ یہ رویہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ کیا آپ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کے پاس گئے؟ کیا آپ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچی کو وارڈ میں داخل کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا آپ نے انتظامیہ یا متعلقہ ڈاکٹر کا مؤقف لیا؟ آج کل معمول بن چکا ہے کہ ذرا سی بات پر جیب سے موبائل نکالا، ویڈیو بنائی اور بغیر حقیقت جانے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔ خود ہی جج بن جانا اور اگلے کا مؤقف سنے بغیر فیصلے سنا دینا آخر کہاں کا انصاف ہے؟ ڈاکٹرز اور طبی عملہ پہلے ہی شدید دباؤ اور اوور بوجھ کا شکار ہیں۔ وہ وہاں ملازم ہیں، ہسپتالوں کے مالک نہیں.
Dr M Shujat Rasool13,589 просмотров • 3 месяцев назад

یہ ویڈیو بنانے والے شخص کے رویے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ ہر کوئی موبائل نکال کر غیر ضروری ڈرامہ شروع کر دیتا ہے۔ ایمرجنسی میں علاج مریض کے کلینیکل معائنے کی بنیاد پر فوراً شروع کیا جاتا ہے، ٹیسٹس بعد میں کیے جا سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کروانے یا نہ کروانے کی مکمل ذمہ داری ڈاکٹر کی نہیں ہوتی، وہ صرف آپ کو advise کر سکتا ہے۔ ٹیسٹ ہوئے ہیں یا نہیں، اس کا جواب آپ کو administration سے لینا چاہیے نہ کہ اس ڈاکٹر سے جس نے آپ کا اچھی طرح معائنہ کر کے ضروری ٹیسٹس تجویز کیے۔ ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر کا مقصد فوری علاج دینا ہوتا ہے، نہ کہ ہر وقت ٹیسٹ کروانا۔ ایسے حالات میں ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی بالکل مناسب نہیں۔ اگر اسی طرح ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی مسلسل بےعزتی اور غیر ضروری ویڈیوز کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا نقصان آخرکار عوام کو ہی ہوگا۔ ایک وقت آ سکتا ہے جب ڈاکٹرز بھی حد سے زیادہ برداشت کرنا چھوڑ دیں گے
Dr M Shujat Rasool12,010 просмотров • 3 месяцев назад
Больше нет контента для загрузки