FootballPakistan.com's banner
FootballPakistan.com's profile picture

FootballPakistan.com

@FootballPak28,268 subscribers

Independent online platform covering #PakistanFootball since 2003 ⚽️🇵🇰 Sometimes, we also tweet about other sports in Pakistan p.s. we are NOT the PFF!

Videos

FootballPak's profile picture

بہت ساروں کو شاید 17 اکتوبر 2023 کو ہارون حامد کے اس ایک گول کی پوری اہمیت نہ معلوم ہو۔ یہ گول پاکستانی فٹبال کی تاریخ کا سب سے ضروری گول سمجھنا چاہئے۔ اس نے پاکستان کو پہلی مرطبہ ایک ورلڈ کپ کوالیفیکیشن میچ تو جتوایا لیکن اس کی اصل اہمیت اسٹیڈیم سے باہر محسوس ہوئی. جب پاکستان کمبوڈیا کا ورلڈ کپ کوالیفائرز فرسٹ راؤنڈ کا دوسرا میچ جناح اسٹیڈیم اسلام آباد میں 17 اکتوبر 2023 کو ہونا تھا تو ماحول کافی گرم تھا۔ پہلے میچ میں پاکستان نے کمبوڈیا میں 0-0 ڈرا نکال لیا تھا تو کافی لوگوں میں امید تھی کہ پاکستان ہوم گراؤنڈ میں کچھ نکال سکتا ہے۔ کچھ لوگوں میں بےتابی بھی تھی کہ پاکستان نے اتنے سالوں سے لگاتار میچ ہار ہار کے اور پی ایف ایف کے سیاسی بحران میں نقصان اٹھانے سے شاید وہ قسمت کو اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے۔ کچھ لوگ تو بلکہ یہ چاہ رہے تھے کہ پاکستان یہ میچ ہار ہی جائے کیونکہ ان کو اس ٹیم سے ہی نفرت تھی کہ اس میں اوورسیز پاکستانی کا ہونا ان کے اپنے مخصوص علاقے یا برادری کے فٹبالر کے خلاف “سازش” ہے۔ یہ حال ہے ہمارے لوکل فٹبال کے نام نہاد اسٹیک ہولڈرز کا۔ کئی کو لگا کہ چونکہ میچ منگل کی دوپہر شروع ہونا تھا تو شاید اسلام آباد کی عوام میچ دیکھنے آ ہی نہ سکے۔ نہ اس میچ کی کوئی خاص مارکیٹنگ ہوئی اور نہ ہمارے میڈیا نے اس اہم میچ کو پورا کوور کرنا چاہا۔ پورا پی ایف ایف اس میچ کے لئے اسلام آباد پہنچا ہو تھا۔ اللہ اللہ کرکے جناح اسٹیڈیم کو فیفأ اور اے ایف سی کی ریگولیشنز پر اس قابل کیا کہ وہ کم از کم پاکستان کا ہوم میچ ہوسٹ کرسکے۔ اس وقت کی پی ایف ایف فیفأ کی قائم کردہ نارملائزیشن کمیٹی چلا رہی تھی لیکن تب بھی فیڈریشن کی مشکلات بڑھتی ہی جارہیں تھی۔ کبھی پی ایف ایف پر اقتدار چاہنے والے اوپر سے حکومتی دباؤ لا کر جلدی فیڈریشن کے الیکشن انہی کے حق میں کروائیں تو کبھی فیڈریشن میں انہی ڈھڑوں کی سیاسی مداخلت کی وجہ سے فیفأ کی پاکستان فٹبال پر ۱۵ ماہ کا بین ہوا۔ اور کچھ نہیں تو پنجاب حکومت کو اچانک پی ایف ایف لاہور کی لیز اگریمنٹ پر سوال اٹھا کر اسی بلڈنگ پر خود قبضہ کرنے کی خواہش۔ بیچ میں ہماری فٹبال ٹیم کئی سالوں سے سرکاری مسئلوں کا شکار۔ اسی 17 اکتوبر کی صبح اطلاع ملی کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی نے پی ایف ایف کی غیر موجودگی میں پی ایف ایف ہاؤس کو پھر سے لیز اگریمنٹ کی مبینہ خلاف ورزی پر سیل کردیا۔ ہمارے بابو بھی بابو گردی سے بعض تو آتے نہیں۔ فیڈریشن کے اراکین کو چار چار کام ایک ساتھ کرنے پڑے۔ کمبوڈیا والے میچ کو ہونے دیں اور پنجاب حکومت سے منتیں کریں کہ خدارا وقت کی اہمیت تو دیکھیں۔ اس سب مسئلے سے پتہ چلا کہ اگر پنجاب حکومت نے پے ایف ایف ہاؤس واپس نہیں کیا تو شاید فیفأ پھر سے پاکستان پر بین لگوا دے, نارملائزیشن کمیٹی کو دباؤ میں آکر مستفی ہونا پڑے, اور شاید پاکستانی فٹبال اور بربادی کی راہ پکڑے. اب اس سب پریشان حالت میں یہ کمبوڈیا والا میچ اسلام آباد میں ہوا۔ تنگ ماحول تھا اور پاکستانی ٹیم پہلے ہاف میں کسی طریقے سے اسکور بغیر کسی گول کے برابر رکھا۔ دوسرے ہاف میں جب ہیڈ کوچ اسٹیفن کانسٹنٹائن نے ہارون حامد اور عبدالصمد ارشد کو بینچ سے اٹھا کر فیلڈ میں ڈالا تو لگا جیسے یہ کوئی اور ہی پاکستان ٹیم تھی۔ اٹیک پر اٹیک ہوئے اور بال آخر ہارون حامد نے وہ گول کرکے اسٹیڈیم میں 13 ہزار شائقین کی آوازیں بلند کیں۔ کمبوڈیا کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور فائنل وسل پر پاکستان نے تاریغ رقم کی اور تمام پلیئرز اور آفیشلز اور فینز جزبات میں آکے آب دیدہ ہوئے۔ اس گول کی وجہ سے فیڈریشن کی جان میں جان آئی۔ اب ورلڈ کپ کوالیفائرز کے سیکنڈ راؤنڈ میں پاکستان نے اپنی جگہ پکی کی۔ اس کی بدولت پی ایف ایف نے اب حکومت پر دباؤ ڈالا کہ پی ایف ایف ہاؤس واپس کریں۔ پاکستان فٹبال کی نئی جنریشن کے فینز نے بھی آواز بلند کی کہ خبردار اگر ہماری فٹبال ٹیم کو اور نقصان پہنچایا۔ میڈیا نے بھی اس اسٹوری پر کووریج شروع کی اور پنجاب ریونیو اتھارٹی نے کچھ دن بعد پی ایف ایف کو پوری بلڈنگ واپس دے دی۔ اب سوچیں۔ اگر ہارون حامد یہ گول نہ کرتا اور پاکستان یہ میچ ہی ہار کر آؤٹ ہوجاتا تو کیا کیا ہوسکتا تھا۔ حکومت کو اور دھڑوں کو تو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ پاکستان پر بین لگے۔ فٹبال چلانا تو ویسے بھی کسی کو آتا نہیں لیکن سیاست کرنے میں ہر کوئی ماہر ہے۔ لیکن وہ گول ہوا۔ فینز نے پاکستان ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو اپنا سمجھا چاہے وہ جس مرزی نسل یا علاقے یا بیرون ملک سے ہوں۔ سیکنڈ راؤنڈ میں پاکستان نے ایشیا کی بڑی ٹیموں کا سامنا ہوا جب سعودی عرب، اردن، اور تاجکستان نے ہمیں ہماری اوقات ضرور دکھائی لیکن ایسے معاملات میں ان ٹیموں کے ساتھ صرف میچ ہی کھیلنا پاکستان فٹبال کے لئے بڑی بات تھی۔ اسی کے بعد ایشین کپ کوالیفائرز بھی کھیلے جب سیریا، میانمار اور افغانستان سے بھی مقابلہ ہوا۔ رزلٹ پھر بھی ہمارے حق میں نہیں آئے لیکن اگر وہ گول نہ ہوتا تو شاید کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ لیکن اس ایک گول کی وجہ سے کئی سالوں اور کئی دہائوں سے دھکے کھانے کے بعد اسی سال جون میں پاکستان ٹیم نے ایک انٹنیشنل ٹرافی اپنے نام کی جب مالدیپ میں چار ملکی ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ جیتا۔ اس ٹورنمنٹ کا ٹاپ اسکورر؟ ہارون حامد۔ اب آپ لوگوں کو اس 17 اکتوبر 2023 والے گول کی اہمیت ظاہر ہوئی ہوگی۔ جشن آزادی مبارک۔ پاکستان زندہ باد۔ تحریر علی احسن، ایڈیٹر فٹبال پاکستان داٹ کوم

FootballPakistan.com

22,135 görüntüleme • 1 ay önce

Daha fazla içerik yok.