Saeed Ullah Khan's banner
Saeed Ullah Khan's profile picture

Saeed Ullah Khan

@JUI_NW45,272 subscribers

Member of JUI Digital Media Cell FATA

Shorts

میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور میدانِ جہاد میں اترے گا۔ مولانا فضل الرحمن #ختم_نبوت_کانفرنس_کراچی #JUIStandswithKSA #StopChildAbuse #خدمات_جمعیت_بونیر #ڈیجیٹل_میڈیا_کنونشن_مردان

میں علی الاعلان سعودی عرب کی قیادت سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور میدانِ جہاد میں اترے گا۔ مولانا فضل الرحمن #ختم_نبوت_کانفرنس_کراچی #JUIStandswithKSA #StopChildAbuse #خدمات_جمعیت_بونیر #ڈیجیٹل_میڈیا_کنونشن_مردان

64,217 görüntüleme

یہ ہمارا تعلیمی ماحول ہے اور یہ نوجوان آگے چل کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں گے ، انکی گفتگو سن کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ہم اخلاقی پستی کی اتہا گہرائیوں میں ہونگے

یہ ہمارا تعلیمی ماحول ہے اور یہ نوجوان آگے چل کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں گے ، انکی گفتگو سن کر تو یہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ہم اخلاقی پستی کی اتہا گہرائیوں میں ہونگے

53,149 görüntüleme

پہلی دفعہ ویڈیو کےذریعہ اپنی خوشی کا ظہار کر رہا ہو۔ #فتنےسےپاک_پاکستان

پہلی دفعہ ویڈیو کےذریعہ اپنی خوشی کا ظہار کر رہا ہو۔ #فتنےسےپاک_پاکستان

53,371 görüntüleme

Videos

JUI_NW's profile picture

امانت کی ادائیگی خاتون نے اسپتال میں ایک بچی کو جنم دیا، مگر نہ جانے کن مجبوریوں یا حالات کے باعث وہ اسے وہیں چھوڑ کر خاموشی سے نکل گئی۔ معصوم بچی کی صحت بھی خاصی ناگفتہ بہ تھی۔ چند روز تک اسپتال کا عملہ اس کی دیکھ بھال کرتا رہا۔ ڈاکٹر اس کا علاج کرتے اور ہر آنے والے دن یہ امید کی جاتی کہ شاید آج اس کے گھر والے آ جائیں گے۔ مگر دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور پھر پورے نو ماہ گزر گئے۔ اس ننھی جان کو لینے کوئی نہ آیا۔ یہ واقعہ سن 2001ء میں سعودی عرب کے جنوبی صوبۂ عسیر کے ضلع سراة عبیدہ میں واقع المستشفی العام یعنی جنرل اسپتال کا ہے۔ اس وقت اسپتال کے داخلی شعبے اور نرسنگ کے سربراہ سلطان القحطانی تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ایسے نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے خاندانوں سے محروم رہ جاتے تھے۔ ابتدا میں سلطان القحطانی بھی اسپتال کے دوسرے ملازمین کی طرح اس بچی کی نگہداشت کرتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ اس معصوم چہرے نے ان کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ روز اپنی ڈیوٹی کے اوقات سے پہلے اسپتال پہنچ جاتے، صرف اس لیے کہ کچھ دیر اس بچی کے ساتھ کھیل سکیں۔ اسے گود میں اٹھاتے، اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کی کوشش کرتے اور کبھی اسپتال کے صحن میں لے جاتے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کی گود میں آتے ہی بچی کا چہرہ کھل اٹھتا، مگر جیسے ہی اسے دوبارہ نرسری میں چھوڑا جاتا، وہ پھر بے چین اور اداس ہو جاتی۔ نو ماہ گزرنے کے بعد سلطان القحطانی نے محسوس کیا کہ مستقل تنہائی اس ننھی جان کی نفسیاتی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ اسے چند گھنٹوں کے لیے اپنے گھر لے جانے لگے۔ گھر میں پہنچتے ہی بچی کا رویہ یکسر بدل جاتا، وہ پرسکون ہو جاتی، کھیلتی، مسکراتی اور گویا اسے اپنا کھویا ہوا گھر مل گیا ہو۔ لیکن اسپتال واپس آتے ہی وہ پھر خاموش اور مضطرب ہو جاتی۔ یہ دیکھ کر سلطان القحطانی سوچنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے تمام قانونی مراحل مکمل کیے اور اس بچی کی کفالت اپنے ذمہ لے لی۔ اس کا نام سمیرہ رکھا اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ سلطان القحطانی کی اہلیہ اور ان کے بچوں نے بھی اسے اسی محبت سے گلے لگایا، جیسے خاندان کے دوسرے بچوں کو۔ رضاعت کا شرعی پروسیس مکمل کرکے اسے اپنا لیا گیا۔ گھر میں کبھی اس کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، نہ اسے یہ احساس ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان میں پیدا نہیں ہوئی۔ سلطان القحطانی کے بقول ان کی اہلیہ نے سمیرہ کی پرورش میں وہی محبت، شفقت اور قربانی دی جو ایک حقیقی ماں اپنی اولاد کے لیے دیتی ہے۔ برس گزرتے گئے۔ وہی بے سہارا بچی محبت بھرے ماحول میں پروان چڑھی، اسکول کی تعلیم مکمل کی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کنگ خالد یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ جس بچی کے لیے کبھی اسپتال کی نرسری ہی پوری دنیا تھی، اب وہ ایک دن یونیورسٹی کے اسٹیج پر ڈگری وصول کر رہی تھی۔ تقریب میں جب سمیرہ کا نام پکارا گیا اور وہ اسٹیج پر پہنچی تو سلطان القحطانی اپنی کیفیت پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا اور زار و قطار رونے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر تقریب میں موجود بہت سے لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں، جبکہ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لاکھوں افراد نے اسے باپ کی محبت کی لازوال مثال قرار دیا۔ بعد میں "صباح العربية" پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلطان القحطانی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کی۔ انہوں نے کہا: "میری خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میں صرف یہ سوچ کر رو پڑا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے نصیب میں نہ لکھا ہوتا تو آج شاید وہ اپنی گریجویشن کے دن بالکل تنہا کھڑی ہوتی، اس کی خوشی میں شریک ہونے والا کوئی نہ ہوتا۔ الحمدللہ، اللہ نے ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی سعادت عطا فرمائی۔" انہوں نے مزید کہا: "سمیرہ نے گزشتہ دو دہائیوں سے ہمارے گھر کو خوشیوں، سکون اور اطمینان سے بھر رکھا ہے۔ وہ میرے لیے اپنی دوسری اولاد ہی کی طرح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہماری زندگی میں ایک رحمت بنا کر بھیجا۔" سمیرہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس نے کہا کہ اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اس خاندان کا حصہ نہیں ہے۔ سلطان القحطانی اس کے لیے صرف ایک کفیل نہیں بلکہ حقیقی باپ ہیں، جنہوں نے اسے محبت، تعلیم، عزت اور ایک مکمل خاندان عطا کیا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا۔ گریجویشن کی تقریب کے بعد ضلع سراة عبیدہ کے گورنر مسفر بن حامد الوادعی نے سلطان القحطانی، ان کی اہلیہ اور سمیرہ کو اپنے دفتر مدعو کیا اور ان کی سرکاری سطح پر عزت افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثالی انسانی داستان ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ

Saeed Ullah Khan

44,758 görüntüleme • 1 ay önce