
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
@juipakofficial • 299,707 subscribers
Official twitter account of #JUI Jamiat Ulam-e-Islam Pakistan. Any feedback email us: [email protected]
Shorts
Videos

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا مانسہرہ میں خطاب ملک وحید سابق ڈویژنل صدر پاکستان پیپلز پارٹی ہزارہ کی جمعیت علماء اسلام میں شمولیت خوش آئند ہے، مولانا فضل الرحمان ملک وحید صاحب کو قافلہ شیخ الہند میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے، لیکن پاکستان کا مستقبل ہمارا انتظار کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان ہم جس محاذ پر کھڑے ہیں وہ پاکستان کی تاریخ کا اہم محاذ ہے، مولانا فضل الرحمان ملک میں قوم کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمان قوم کے سیاسی، سماجی اور معدنی حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا تو ہم ضرور آواز اٹھائیں گے، مولانا فضل الرحمان ناجائز قوتوں کی ناجائز پالیسیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان ہماری زمین پر عالمی قوتوں کو سانپ کی طرح بٹھانا کسی صورت قبول نہیں، مولانا فضل الرحمان دہشت گردی کی آڑ میں قومی وسائل پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مولانا فضل الرحمان 2010 سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، مولانا فضل الرحمان ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی بیرونی ایجنڈا ہے، مولانا فضل الرحمان حکمرانوں اور طاقتوروں کا فرض ہے کہ ہمارے شکوک و شبہات دور کرکے ہمیں مطمئن کریں، مولانا فضل الرحمان ہمارے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ہماری کردار کشی کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمان اب دوسری جماعتوں کی طرح چھپنے کے بجائے آپ کو میدان میں آنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان پاکستانی قوم ہمارے ساتھ ہے،مولانا فضل الرحمان دھاندلی کے ذریعے حکومتیں مسلط کریں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان 2018 اور 2024 کے انتخابات کو ہم نے تسلیم نہیں کیا، مولانا فضل الرحمان ہمارا سفر جرات و ہمت کے ساتھ جاری رہے گا، ان شاء اللہ، مولانا فضل الرحمان یہ جدوجہد بے خوف و خطر جاری رہے گی، مولانا فضل الرحمان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan17,673 просмотров • 2 дней назад

میں موقف پر قائم ہوں اور ان شاء اللہ اس موقف کو عوام کے سامنے بھی لے کر جاؤں گا۔ جب میری جماعت کے جلسے کا وقت آئے گا اور ہمیں روکا جائے گا، تو پھر اُس وقت دیکھا جائے گا کہ دما دم مست قلندر کیا ہوتا ہے اور کیا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت ہمارے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار ہے تو ہم بھی اُس کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں۔ میں آپ کی وساطت سے حکومت کے بینچوں پر بیٹھے ہوئے ارکان سے کہنا چاہتا ہوں، ادب کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دن یاد رکھیں جب آپ پر سخت وقت تھا اور فرنٹ لائن پر فضل الرحمٰن لڑ رہا تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے، مریم نواز کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے اور شہباز شریف کو بھی یہ بات یاد رکھنی چاہیے۔ میں اپنے تمام دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس حد تک نہ جائیں کہ کل دوست آپ کے ساتھ بیٹھنے کے قابل بھی نہ رہیں۔ اگر آپ ہر قیمت پر حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، ہر قیمت پر ہمیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں اور ہر قیمت پر ہمیں رسوا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم مرنے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہم لڑیں گے۔ عزت بھی عزت ہوتی ہے، غیرت بھی غیرت ہوتی ہے اور حمیت بھی حمیت ہوتی ہے۔ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ یہ ملک نہ کسی فوجی کی جاگیر ہے اور نہ کسی جرنیل کی جاگیر ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم کا ہے، عوام کا ہے۔ اس ملک کے لیے ہم نے جنگ لڑی ہے۔ یہ جنگ میں نے آپ کے شانہ بشانہ بھی لڑی تھی اور آج بھی لڑ رہا ہوں۔ اگرچہ آپ وہاں چلے گئے، پی ڈی ایم کا سر اِدھر ہے اور دھڑ اُدھر ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan36,101 просмотров • 7 дней назад

کوئٹہ ( )جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے زیراہتمام ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق کی صدارت میں قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے فضائی فوٹیج بنانے اور اسے سوشل میڈیا پر نشر کرنے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور قائد جمعیت کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی سے صوبائی امیر سنیٹر مولانا عبدالواسع، ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ، حاجی بشیراحمد کاکڑ، حاجی رحمت اللہ، سید عبدالواحد آغا اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے خلاف غیر اخلاقی سازشوں کے پیجھے ذہنیت قابل شرم ہے ۔ قائد کی حفاظت کے لیے جانوں کی قربانیوں سے کریں گے ۔ ان سے بڑھ کر کوئی محب وطن نہیں ہوسکتا ۔ ان کی رہائش گاہ کی ڈرون کے ذریعے نگرانی اور فوٹیج بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کرنا نہ صرف چادر و چار دیواری کے تقدس کی صریح خلاف ورزی ہے آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے ۔بلکہ بنیادی انسانی اخلاقی اور جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کی نجی زندگی میں اس طرح مداخلت اور نگرانی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مقتدرہ کی سرپرستی میں سوشل میڈیا کے کرائے کے باکوؤں کے ذریعے منظم میڈیا ٹرائل، منفی پروپیگنڈے، کردار کشی اور دشنام طرازی کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد سیاسی قیادت کو مرعوب کرنا اور اس کے اصولی مؤقف کو دبانا ہے۔ سیاسی اختلاف اور تنقید جمہوریت کا حسن ہیں لیکن الزام تراشیطتضحیک اور بازاری زبان کا استعمال کسی صورت آزادیِ اظہار کے زمرے میں نہیں آتا۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت عوامی اعتماد اور تعمیری تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اپنی ناکامیوں اور نااہلیوں کا جواب دینے کے بجائے سیاسی قیادت کی کردار کشی اور اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات حکومتی بوکھلاہٹ اور سیاسی کمزوری کا واضح ثبوت ہیں۔ جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنا ان کی نجی زندگی میں مداخلت اور غیر جمہوری حربوں کے ذریعے دباؤ ڈالنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی عزت وقار دفاع اور تحفظ جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے لیے اولین ترجیح ہے۔ قیادت کے دفاع اور تحفظ کے لیے جمعیت کا ہر کارکن تن، من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ قیادت کو مرعوب کرنے یا اس کے سیاسی کردار کو متنازع بنانے کی کوئی بھی کوشش کارکنوں کے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے قائد جمعیت کی رہائش گاہ کی ڈرون نگرانی اور فوٹیج کی تشہیر کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی قرار دیا۔ قراردادوں میں قائد جمعیت کے خلاف منظم میڈیا ٹرائل منفی پروپیگنڈے کردار کشی اور دشنام طرازی کو مسترد کرتے ہوئے جماعت کی مرکزی قیادت اور اہم شخصیات کو ہراساں کرنے اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کے غیر جمہوری اقدامات کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اپنی قیادت کے دفاع آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ اور سیاسی و اخلاقی اقدار کی پاسداری کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ جاری کردہ عبد الغنی شہزاد
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan10,816 просмотров • 2 дней назад

کشمیر جل رہا ہے، پروا نہیں اس بات کی۔ لوگ دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہاں سوئی ہوئی ہے، حکومت کو پتہ ہی نہیں ان چیزوں کا۔ بیٹھے رہے ہیں، اور بیٹھے رہے ہیں۔ کہاں جائے گی یہ بات؟ بالآخر بات یہاں تک جائے گی کہ کشمیر آپ کا حصہ نہیں رہے گا۔ یہ جو باہر آپ نے بیرئیر لگائے ہوئے ہیں، یہ یہی رہ جائیں گے۔ آپ کو قوم کو مطمئن کرنا ہوگا، آپ کو نئی نسل کو مطمئن کرنا ہوگا، ان کے مستقبل کو مطمئن ہوگا۔ اگر آپ اس طرح کسی تشدد کی طرف جائیں گے تو پھر تشدد کا راستہ فرعون نے اختیار کیا تھا۔ إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا اور اس نے زمین کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ آج یہی کام ہم کر رہے ہیں۔ مذہبی لوگوں کو تقسیم کرو، سیاسی لوگوں کو تقسیم کرو، قوموں کو تقسیم کرو، زبانوں کو تقسیم کرو، آپس میں لڑاؤ، اور ریاست کو ماں بھی کہو۔ کیا ماں کا یہ کردار ہے کہ وہ اپنی اولاد کو لڑاتی ہے، تقسیم کرتی ہے، تشدد میں مبتلا کرتی ہے، یا ان کو یکجا کرتی ہے؟ ایسی ماں پر تھو! جو قوم کو آپس میں لڑاتی ہے۔ آپ ماں کا کردار ادا نہیں کر رہے۔ آپ قوم کو اپنی اولاد نہیں سمجھ رہے۔ آپ تسلط کی بنیاد پر قوم کو ایک مفتوح قوم سمجھ رہے ہیں، قوم کو غلام بنا رہے ہیں، اور پھر ردِعمل آئے گا۔ میں آپ جیسی ماں کو سلام کرتا ہوں، جو اپنی اولاد کو گھر میں اکٹھا دیکھتی ہے اور خوش ہوتی ہے۔ میں ریاست کی بات کر رہا ہوں۔ خدا نہ کرے، میری بھی ماں تھی، ہم نے ماں کو دیکھا ہے۔ میری اولاد کی بھی ماں ہے، میری بھی بہنیں ہیں، میری بھی بیٹیاں ہیں۔ ہم اس حرمت کو، اس کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہیں۔ ہم یہی تو توجہ دلا رہے ہیں کہ ریاست کو بھی اسی طرح کی ماں ہونا چاہیے، جس طرح آپ ایک ماں کی طرح تڑپ رہی ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی اسمبلی میں خطاب #مولاناکی_للکار #عوام_کاسامناکرو #سنسرڈ_پارلیمنٹ_نامنظور #حلف_سےوفاداری_نبھاؤ #جمھوریت_میں_زباں_بندی_کیوں
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan38,252 просмотров • 8 дней назад

سنیٹر کامران مرتضٰی کا سینیٹ میں خطاب، محسن نقوی کو جواب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan29,104 просмотров • 7 дней назад

جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء اسلام مولانا عبدالغفور حیدری کا قومی اسمبلی میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan24,835 просмотров • 7 дней назад

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan281,323 просмотров • 3 месяцев назад

پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے گھر کی لونڈی ہے جس کی اہمیت ختم ہوچکی ہے،ایوان نہیں اب اس میدان کی حیثیت ہے، اس لئے ایوان میں ہماری پانچ سیٹیں ہوں یا دس اس کی پرواہ کئے بغیر جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں وہ آئین و اسلام کی علمبردار اور عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، ہم قرآن و سنت اور اسلام کی سربلندی کے قائل ہیں،اگر وہاں اعلاء کلمۃ اللہ نہیں ہے تو پھر وہاں غلامی ہے، ٹرمپ اور امریکہ کی غلامی ہے،ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan248,548 просмотров • 3 месяцев назад

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری کی پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو وزراء نے صرف الزام تراشی کی ثابت کچھ بھی نہ کرسکے ۔ مولانا عبدالغفورحیدری نہ ہم جذباتی ہوتے ہیں اور نہ صبر وتحمل کا دامن چھوڑتے ہیں ۔مولانا عبدالغفورحیدری مولانا فضل الرحمان کے اوپر لگانے والے الزامات کا آغاز 97 سے پہلے کی بات ہے ۔مولانا عبدالغفورحیدری ہم اس وقت سے ان سوالات کا سنجیدہ جوابات دے رہے ہیں ۔مولانا عبدالغفورحیدری سب کچھ آپ کے پاس ہے ریکارڈ نکالیں اور کرپشن ثابت کرے ۔مولانا عبدالغفورحیدری پروپیگنڈہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑیگی ۔ مولانا عبدالغفورحیدری ہم نے ان کو آئنیہ دکھایا ہے ریاست ہم سب کا ہے ۔مولانا عبدالغفورحیدری خان آف قلات اغواء کیئے گئے ۔مولانا عبدالغفورحیدری ریاست ان کو رہا کروائے یا پھر ریاست کی سرپرستی میں سب کچھ ہورہا ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری آئے روز قرضے بڑھ رہے ہیں امن وامان پورے ملک میں خراب ہوچکا ہے ۔مولانا عبدالغفورحیدری ہم نے نازیبا جملہ کہا لیکن ہماری مقتدرہ نے ریاست کو بنگلہ دیش ، کشمیر کی صورت میں بیچا ہے۔ مولانا عبدالغفورحیدری اگر ماں کے فرائض ریاست کو یاد دلائیں تو اس سے سیخ پا ہوتے ہیں۔ مولانا عبدالغفورحیدری ہمیں کسی سے حب الوطنی کی سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت نہیں ۔مولانا عبدالغفورحیدری ان کی پوری دولت دبئی اور سوئزر لینڈ میں ہے ۔مولانا عبدالغفورحیدری آصف زرداری دوست ہے سیاسی تعلقات رہے ہیں لیکن یہ برخوردار محسن نقوی زرداری کا بھی نہیں ہے بلکہ انکا منہ بولا ہے ۔مولانا عبدالغفورحیدری
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan15,871 просмотров • 6 дней назад

ایک شخص ہمارے لئے محترم ہیں لیکن اس وقت وہ پاکستان میں ایک پیناڈول کی گولی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ آپ پنجاب کی نگران وزارت اعلیٰ کی طرف دیکھ لیجیے تو وہ صاحب وہاں براجمان نظر آئیں گے۔ کرکٹ بورڈ کی طرف دیکھ لیجیے تو وہ صاحب وہاں براجمان نظر آئیں گے۔ پھر وزارتِ داخلہ کی طرف دیکھ لیجیے تو مسلم لیگ کی حکومت کی خواہش کے باوجود وہ وہاں براجمان نظر آئیں گے۔ ایران کے ساتھ سفارت کاری کو دیکھ لیجیے تو وہ وہاں بھی براجمان نظر آئیں گے۔ پی آئی اے کے سودے کو دیکھ لیجیے تو وہی صاحب وہاں بھی براجمان نظر آئیں گے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے پاکستان کے لیے کس طرح کا محسنِ پاکستان ڈھونڈا ہے؟ یہ محسنِ پاکستان ہیں یا پیناڈول کی گولی، جو ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں؟ اور پھر وہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ انہوں نے فلاں مطالبہ کیا، فلاں مطالبہ کیا۔ نام نہیں لیتے، لیکن پوری دنیا کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ شاید مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ آپ حکومت میں ہیں، آپ کارروائی کیجیے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خلاف کارروائی کیجیے۔ الزامات لگانے کا کیا فائدہ؟ الزامات تو عام لوگ لگاتے ہیں، اپوزیشن حکومت پر الزامات لگاتی ہے۔ حکومت خود الزامات کیوں لگا رہی ہے؟ حکومت اپنے پیڈ اور کالے چینلز کے ذریعے مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی کردار کشی کیوں کر رہی ہے؟ اگر آپ نے کارروائی کرنی ہے تو کیجیے، الزامات مت لگائیے۔ انجنئیر ضیاء الرحمٰن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan21,195 просмотров • 12 дней назад

سنیٹر مولانا عطاء الرحمان کا سینیٹ اجلاس سے خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan12,506 просмотров • 7 дней назад

کامران مرتضٰی کی شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں مدلل گفتگو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan11,566 просмотров • 7 дней назад

جب ہم نے کہا تھا کہ عالمی قوتیں اور ہماری طاقتور قوتیں ہمارے پہاڑوں میں معدنی ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور دہشت گردی کو اس کا ذریعہ بنا رہی ہیں، یہ دہشت گردی کے پیچھے چھپ کر اپ اس قسم کے مقاصد کب تک حاصل کرتے رہیں گے؟ افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے امریکہ نے دہشت گردی کا ڈھونگ رچایا۔ پورا یورپ اور نیٹو آپ کے خلاف حرکت میں آیا، اسلامی دنیا کے خلاف حرکت میں آیا، افغانستان کے خلاف حرکت میں آیا، عراق کے خلاف حرکت میں آیا، لیبیا کے خلاف حرکت میں آیا، سارے ملک میں ہنگامے کھڑے کر دیے تاکہ مسلمان بحیثیتِ مذہب اور ایک امت کے، مشتعل ہو جائیں، اور ریاستوں کی حد تک ان کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اب ہماری بات تو غلط تھی، ہم نے تو الزام لگایا، ہم نے تو ریاست کو بدنام کیا۔ اصل چیز تو دہشت گردی ہے، ہم تو دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، یہ تو دہشت گردی کے خلاف ہمارا ساتھ نہیں دے رہے! آج جب وہاں راج لگ گیا، آج جب وہاں ایمرجنسی لگ گئی، تو پھر معدنیات کی بحث تم نے چھیڑی ہے یا ہم نے چھیڑی ہے؟ گورنر صاحب نے چھیڑی ہے یا ہم نے چھیڑی ہے؟ آج وہ ساری باتیں کس لیے ہو رہی ہیں؟ اور امریکہ کی طرف سے بھی یہ باتیں آئی ہیں کہ ہم وہاں دلچسپی رکھتے تھے اور رکھتے ہیں۔ امریکی سفیر انٹرویو دے کر کہہ رہی ہیں کہ کس کس کو آپ روئیں گے، کون کون سی چیزیں ہم یہاں لائیں؟ کچھ باتیں اتنی پبلک میں لانے کی نہیں ہوتیں، لیکن ہم جو بات کرتے ہیں، جو مؤقف لیتے ہیں، پورے اطمینان کے ساتھ لیتے ہیں۔ میں کبھی تردد میں رہ کر مؤقف نہیں دیا کرتا، میں کبھی تحفظ میں کوئی مؤقف نہیں دیا کرتا، جب تک مجھے اطمینان نہ ہو۔ آئین کہتا ہے کہ اگر صدرِ مملکت مطمئن ہو کہ اس صوبے میں امن و امان خراب ہے اور حکومت نہیں چل رہی تو پھر وہاں گورنر راج لگایا جائے۔ جن الفاظ کے اوپر صدرِ مملکت نے دستخط کیے ہیں، اس میں یہ لفظ نہیں ہے کہ میں مطمئن ہوں۔ آئینی پروسیجر پورا نہیں کیا گیا۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قومی اسمبلی میں خطاب #مولاناکی_للکار
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan11,417 просмотров • 8 дней назад

لاہور: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو لاہور: اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان لاہور: قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے، مولانا فضل الرحمان جاری کردہ : میڈیا سیل جے یوآئی پاکستان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan224,755 просмотров • 7 месяцев назад

جےیوآئی کے سینیٹر عبدالشکور چین کے سرکاری دورے پر جا رہے تھے تو انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا گیا۔ ایئرپورٹ پر انہیں بتایا گیا کہ آپ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل ہے۔ بھائی! پہلے بتانا چاہیے تھا۔ دورہ سرکاری ہے، سارے دستاویزات سامنے ہیں۔ جب تفصیلات سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ کیا معاملہ ہے۔ تو کہا گیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ کیونکہ ایک اور آدمی، شکور، کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا تھا، لیکن شناختی کارڈ نمبر آپ کا تھا! کس طرح ہو سکتا ہے کہ نمبر اور نام جب غلط ہوں تو یہ کمپیوٹر کیسے ایکسیپٹ کرتا ہے؟ یہ کیسا اندھیرے کا نظام ہے؟ کل آپ لوگوں نے اسمبلی کے اندر بھی دیکھ لیا کہ ہمارے زابد خان ریکی کے عمرے پر جانے کے دوران بھی انہیں ایئرپورٹ پر روکا گیا۔ انہیں کہا گیا کہ آپ کا نام ای سی ایل میں شامل ہے۔ پھر جب تحقیق کی گئی تو اسی طرح انہوں نے کہا کہ، یہ ہم سے غلطی ہوئی تھی۔ یہ زبیر تھا، ان کے علاقے کا تھا، لیکن شناختی کارڈ کا نمبر آپ کا لگا دیا گیا ہے۔ یہ کس طرح اندھیرے کا نظام ہے؟یہ جو لوگ بات کرتے ہیں کہ نظام کولیپس کر گیا ہے، تو یہ کیا ہے؟ یہ تو ٹیکنالوجی کا دور ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شناختی کارڈ نمبر کسی اور کا ہو اور نام کسی اور کا ہو؟ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ کیسے ممکن ہے؟ لہٰذا جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ جان بوجھ کر ہو رہا ہے۔ اور پھر اس طرح معافیاں مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ سی ایم صاحب، وزیر اعلی صاحب تو اتنی معافیاں مانگتے ہیں کہ ابھی معافی نے بھی ان کو بدنام کیا ہے۔ کہ معافی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ہمارے پشین کے 300 ساتھیوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا۔ امیر جےیوآئی بلوچستان سنیٹر مولانا عبدالواسع کی کوئٹہ میں نیوز کانفرنس
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan32,106 просмотров • 29 дней назад

مولانا سینیٹر عطاء الحق درویش کا ایوان میں اظہارِ خیال مدارس کو لاوارث نہ سمجھا جائے، سینیٹر عطاء الحق درویش میں صرف جمعیت علماء اسلام نہیں، پاکستان کے 27 ہزار مدارس کا نمائندہ ہوں، عطاء الحق درویش مدارس کے ساتھ تبلیغی مراکز اور خانقاہی نظام کا بھی نمائندہ ہوں، سینیٹر عطاء الحق درویش مدارس کے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کریں گے، عطاء الحق درویش مدارس کے خلاف اقدامات کیے گئے تو 27 ہزار مدارس کے لوگ ڈی چوک آئیں گے، عطاء الحق درویش مدارس کے معاملات پر پروپیگنڈا کرکے قوم کو گمراہ کرنا برداشت نہیں کریں گے، عطاء الحق درویش مدارس میں دہشت گردی نہیں، وہاں قال اللہ و قال الرسول پڑھایا جاتا ہے، سینیٹر عطاء الحق درویش مدارس کے مسائل 26ویں آئینی ترمیم میں طے ہو چکے ہیں، عطاء الحق درویش گورنر خیبر پختونخوا کا عوام سے رویہ آقا اور غلام جیسا ہے، سینیٹر عطاء الحق درویش گورنر خیبر پختونخوا کا لب و لہجہ ناقابل قبول ہے، عطاء الحق درویش بغیر نوٹس کے تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، عطاء الحق درویش عوامی زمینوں کے حوالے سے ملکیت کے ثبوت پیش کیے جائیں، سینیٹر عطاء الحق درویش بغیر نوٹس آپریشن اور عوام کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، عطاء الحق درویش مدارس اور عوام کے خلاف اقدامات کیے گئے تو آئینی و پارلیمانی احتجاج کریں گے، عطاء الحق درویش گورنر خیبر پختونخوا کو اپنے غیر مناسب ارادوں سے باز رکھیں گے، سینیٹر عطاء الحق درویش
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan12,230 просмотров • 10 дней назад

مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ملتان کے جلسے میں ایسی کیا بات کی کہ لوگ اتنے سیخ پا ہو گئے اور انہیں ایک بار پھر کردار کشی کی مہم چلانی، دشنام طرازی کرنی اور سوشل میڈیا و میڈیا مہم کا سہارا لینا پڑا؟ پھر جس طرح پیڈ چینلز اور پیڈ لوگوں کو ان کے مقابلے میں اتارا گیا، سیاسی لوگوں سے لے کر صحافیوں تک، اور کالے چینلز کو استعمال کیا جا رہا ہے، وہ سب آج بھی مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے خلاف سرگرمِ عمل ہیں۔ 2024ء کے انتخابات ہی ہیں، جب فارم 47 کے ذریعے پاکستان کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ اس ڈاکے کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے فارم 47 کے ذریعے بننے والی حکومتوں کو پورے پاکستان میں چیلنج کیا۔ آپ نے کیا کیا آفرز نہیں کیں؟ میاں شہباز شریف صاحب، جو میرے محترم ہیں، سے لے کر مختلف حلقوں تک، مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو حکومت میں شمولیت کی دعوتیں دی گئیں۔ مختلف عہدوں کی پیشکش کی گئی اور ایک ایک عہدے کا نام لے کر انہیں حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی، لیکن مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے تمام پیشکشیں مسترد کر دیں۔ میرے محترم بلاول بھٹو زرداری صاحب خود ان کے گھر تشریف لائے اور انہوں نے بلوچستان اور سندھ کی حکومتوں میں شمولیت کی دعوت دی۔ میاں شہباز شریف صاحب بھی کئی مرتبہ گھر تشریف لائے۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں، لیکن انہوں نے اپنی حکومت میں شمولیت کی دعوت بھی دی، جسے مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے قبول نہیں کیا۔ 2024ء کے آغاز ہی سے میاں شہباز شریف صاحب، بلاول بھٹو زرداری صاحب اور ان کے پسِ پردہ موجود لوگوں کی طرف سے جتنی بھی پیشکشیں آئیں، مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے انہیں نہایت احترام کے ساتھ مسترد کیا۔ اس کی وجہ اصولی تھی۔ اگر ہم نے 2018ء کے ہائبرڈ نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کو قبول نہیں کیا تھا تو پھر 2024ء کے ہائبرڈ نظام کے تحت ہونے والے انتخابات کو، خواہ ان کے بینیفشری ہمارے پرانے اتحادی ہی کیوں نہ ہوں، ہم کیوں قبول کرتے؟ یہیں سے اس پورے قضیے اور مسئلے کی ابتدا ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال پر سوال اٹھایا۔ کیا یہ جرم ہے؟ انہوں نے معیشت پر سوال اٹھایا۔ کیا یہ جرم ہے؟ آزادیِ اظہارِ رائے پر سوال اٹھایا۔ کیا یہ جرم ہے؟ مذہبی آزادی پر سوال اٹھایا۔ کیا یہ جرم ہے؟ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے صرف سیاسی بنیادوں پر پوری قوم کے سامنے اپنا بیانیہ رکھا اور کہا کہ پاکستان میں خیبر پختونخوا میں امن و امان نہیں ہے، بلوچستان میں امن و امان نہیں ہے، سندھ کے کچے کے علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہے اور سندھ میں کرپشن ہے، بلوچستان میں کرپشن ہے۔ سابقہ فاٹا میں لوگ جا نہیں سکتے۔ وہاں کے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے اور اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسری جگہوں پر جا کر آباد ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے معیشت کا سوال بھی اٹھایا اور امن و امان کا مسئلہ بھی سامنے رکھا۔ انجینئر ضیاء الرحمٰن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan10,650 просмотров • 12 дней назад

اسلام آباد: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش موجود تھے۔ #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan71,096 просмотров • 3 месяцев назад