
Khurram Zeeshan
@khurramzeeshan • 65,447 subscribers
An independent citizen of an occupied country! Unless specifically attributed to my party PTI, all views/opinions expressed here are strictly my personal.
Shorts
Videos

ہم سوال اٹھانا کبھی بند نہیں کریں گے سوال ہوگا، جواب ہوگا یہ لازمی ہے جناب ہوگا
Khurram Zeeshan14,536 просмотров • 2 дней назад

‼️عبداللطیف چترالی سے متعلق سینیٹر فلک ناز چترالی کا لرزہ خیز انکشاف‼️ عبداللطیف جنہوں نے سزا ہونے کے بعد خود گرفتاری دی انہیں ایک پنجرے میں رکھا گیا ہے اور ملاقات کے لئے چار گھنٹے انتظار کے بعد پنجرے سے ملوایا گیا اور انٹر کام پر بات ہوئی، وہ انتہائی کمزور اور نحیف ہو چکے ہیں اور مسلسل دباؤ ڈالا جا رہے ہے کہ عمران خان کو چھوڑ دو۔ یہ وہ ہی بہادر شخص ہے جس نے 26ویں ترمیم میں ووٹ کے عوض ایک ارب روپے کی آفر کو لات ماری اور اپنے لیڈر کے ساتھ وفاداری اور اصول پہ کھڑے رہنے کی پاداش میں نہ صرف نا اہل کیا گیا بلکہ یہ انسانیت سوز سزا بھگت رہا ہے۔ ان کی آواز بنیں
Khurram Zeeshan57,519 просмотров • 1 месяц назад

زمینی حقائق بمقابلہ آئیڈیلزم (مندرجہ ذیل تحریر کو پڑھتے وقت یاد رکھئے گا کہ ابھی ہمارے شہیدوں کی قبروں کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی، ابھی ہمارے سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں جن کے زندہ مردہ ہونے کا ہمیں علم نہیں اور ابھی تک اس خون ناحق کے خلاف ابتدائی رپورٹ تک درج نہیں ہوئی) مذاکرات یا مزاحمت؟ ڈٹ جانا یا گھٹنے ٹیک کر خوف کے بت کے آگے سجدہ میں گر جانا؟ زمینی حقائق کا بھاشن پڑھانے والوں کو ضرور بتائیے گا! اس دنیا کا سب سے بلند آئیڈیل کیا ہے؟ یقینا" "لا الہ الاللہ " دوسرے الفاظ میں، اللہ کے علاوہ ہر جھوٹے خدا کو سجدے سے انکار، یعنی حقیقی آزادی - صرف اور صرف اللہ کے آگے سرنگوں ہونا، صرف اسی کی بندگی اور غلامی کرنا! زمینی حقائق تو ہمیشہ حق اور سچ کے راستے میں دیوار بن کر حائل رہتے ہی ہیں۔ تو کیا ان کے سامنے مجبور و لاچار ہو کر گھٹنے ٹیک دئیے جائیں؟ ہرگز ہرگز نہیں! لہذا زمینی حقائق سے سمجھوتا کرنے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے اپنے زمینی حقائق خود تخلیق کرنا سیکھو "وہی جہاں ہے تیرا جس کو تو کرے پیدا یہ سنگ و خشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہے" تاریخ کیا بتاتی ہے؟ آج سے تقریبا" چودہ سو سال پہلے زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف 313 مومنین کا لشکر جن کے پاس نہ اعلی جنگی ساز و سامان تھا اور نہ حربی مہارت۔ مقابلے پہ تین گنا بڑا جنگجووں کا لشکر تھا جو کیل کانٹے سے لیس تھا لیکن زمینی حقائق کو خاطر میں لائے بغیر بلند آئیدیلز لے کر یہ مومنین میدان میں اترے اور زمینی حقائق کے خلاف بلند آئیڈیلز کا جہاد شروع کیا۔ یہ زمینی حقائق، حسین کے راستے میں بھی تھے لیکن آئیڈیلز پہ سمجھوتہ نہیں کیا! اور دنیا نے دیکھا خاتم النبیین رسول خدا صلی علی علیہ وسلم کی رحلت کے 80 سال بعد یہی بلند آئیڈیلز پر یقین رکھنے والے، زمینی حقائق کو روندتے ہوئے، دنیا کے کونے کونے، مشرق میں ہندوستان، شمال میں آرمینیا اور مغرب میں اندلس میں داخل ہو چکے تھے اور وہاں پہ خود اپنے زمینی حقائق تخلیق کر رہے تھے۔ اسلام کے بلند آئیڈیلز کی فتح کے جھنڈے گاڑھ رہے تھے۔ لہذا آپ کو زمینی حقائق سے خوفزدہ کرنے والے لوگ درحقیقت آپ کے بلند آئیڈیلز سے گھبراتے ہیں کتراتے ہیں۔ زمینی حقائق کے آگے سرنگوں ہونے والے لوگ انجانے میں ہی سہی لیکن خوف اور دنیاوی طاقتوں کے بتوں کے آگے سجدوں میں گر پڑتے ہیں جبکہ کسی آزاد مسلمان اور مومن کا یہ شیوہ نہیں ہو سکتا سمجھوتہ نہیں، صرف اور صرف حق اور سچ کی بات۔ صرف اور صرف انصاف اصل منزل حقیقی آزادی ہے خان کی رہائی، مینڈیٹ کی واپسی، شہدا کا انصاف، بائیکاٹ، سول نافرمانی اور مسلسل حق کا پرچار فوری اہداف ہیں حوصلہ، ہمت اور استقامت سے کام لیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ گھبرانے کا وقت اب آپ کے مخالفین کا ہے یاد رکھیں جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے #گولی_کیوں_چلائی
Khurram Zeeshan483,185 просмотров • 1 год назад

5 اگست کے لئے بھرپور مومینٹم ابھی سے بنائیں۔ خان صاحب کے حکم کے مطابق 5 اگست 2025 تحریک کے نکتہ عروج کا دن ہونا چاہئیے تھا۔ آج پورا ایک سال گزرنے کے بعد بھی ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ اس 5 اگست کو کرنا کیا ہے۔ افسوس! لہذا اس 5 اگست کو پورے ملک میں مزاحمتی تحریک کے آغاز کا دن ہونا چاہئیے جو صرف ایک دن تک محدود نہ ہو بلکہ آنے والے ہر دن کے ساتھ اس احتجاج کی intensity اور frequency میں اضافہ ہونا چاہئیے اور اس کو تب تک چلتے رہنا چاہئیے جب تک خان صاحب رہا نہیں ہو جاتے۔ ورکرز میں پھیلتی مایوسی کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ ان کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے۔ پوری پارٹی بشمول ورکرز، عہدیداران، نمائندگان، خان کی رہائی کے ایک نکتے پر متحد ہو جائیں۔ عملی طور پر میدان میں اتریں۔ اس تاثر کو ختم کریں کہ لوگ نہیں نکلتے۔ محنت کریں، گلی گلی گاوں گاوں جائیں۔ لوگوں کو ان کے عوامی مسائل کے حل سے متعلق آگاہی دیں اور بتائیں کہ اشرافیہ کے مسلط کردہ اس بوسیدہ نظام سے کسی قسم کی بھلائی کی توقع رکھنا خود کو دھوکہ دینا ہے۔ پاکستان میں جو آگ لگی ہے، اسے بجھانے کا اللہ کی نصرت کے بعد صرف ایک وسیلہ ہے اور وہ ہےبعمران خان۔ ہمیں خود کو دھوکہ نہیں دینا چاہئیے۔ اس 5 اگست کو بھی اگر صرف پریس کلبز کے سامنے سیلفیاں ہی نکالنی ہیں تو بہتر ہے گھروں میں بیٹھے رہیں۔ اپنے اپنے comfort zone سے نکلیں۔ گرمی زیادہ ہے؟ تو یاد رکھیں کہ ایک بے گناہ 74 سالہ شخص جیل میں ہم سب کی خاطر تندور جیسی کوٹھڑی میں قوم کی خاطر ناحق قید ہے۔ سارے لوگ بھرپور محنت کریں۔
Khurram Zeeshan15,224 просмотров • 12 дней назад

ہمیں چلاس سے واپس کیا گیا اور واپس کرنے والوں کو باقاعدہ مخبری کی گئی تھی ذاتی تصاویر، گاڑیوں کی تصاویر اور تمام تفصیلات کے ساتھ جس سے بہت کم لوگ واقف تھے۔ تاہم گلگت بلتستان کے غیور لوگوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ یہ کوئی عام الیکشن نہیں بلکہ یہ ایک ریفرینڈم ہے کہ کیا ہم لوگ غلام ہی رہیں گے یا اللہ کے آزاد انسانوں کی طرح حق کے فیصلے کریں گے اور پھر نتائج کی حفاظت بھی کریں گے۔ پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے، پورا پاکستان خان کے ساتھ ہے۔ بے خوف ہو کر پی ٹی آئی امیدواروں کو نہ صرف ووٹ ڈالیں بلکہ نوجوان بالخصوص ووٹ ڈلوانے اور انتخابی نشانات لوگوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اللہ ہم سب کا مددگار ہو
Khurram Zeeshan50,864 просмотров • 1 месяц назад

لا الہ الاللہ بات سینیٹ الیکشن سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ جس فارم 47 کی ناجائز ٹٹوؤں سے خان صاحب بات تک نہیں کرنا چاہتے ان کے ساتھ گٹھ جوڑ نامنظور! اب سامنے وہ درواہا ہے جہاں ہمیں لازمی مزاحمت یا مفاہمت یعنی سیاسی مصلحتوں، گٹھ جوڑ، بند کمروں کی بندر بانٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ہمارا انتخاب سو میں سے سو مرتبہ مزاحمت ہی ہوگا۔ فارم 47 کی ناجائز حکومت اور ان سیاسی پارٹیوں سے اندرونی ساز باز کرنا جنہوں نے خان صاحب، بشری بی بی،، ہمارے بزرگ رہنماؤں اور ہزاروں ورکرز کو ناجائز قید میں رکھ کر اذیتیں دیں، ہمارے لوگوں کو گولیوں سے بھون ڈالا، ہماری خواتین کی بے حرمتی کی، ہمارے گھروں کے تقدس کو پامال کیا، کیا کسی باضمیر انسان کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟ کیا یہ میرے لیڈر کا نظریہ ہو سکتا ہے؟ نہیں لہذا انکار ہے، دستبردار سے انکار ہے، جھکنے سے انکار ہے، مصلحتوں سے انکار ہے۔ ہم سیاست نہیں جہاد کرتے ہیں۔ بھاڑ میں جائے سیاست اور نشستیں، ہم اصول پہ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ مجھ سے دستبردار ہونے کے نہنلالچیں دی جائیں اور نہ دھمکیاں۔ میرا اللہ مجھے ان چیزوں سے مرعوب ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
Khurram Zeeshan234,506 просмотров • 1 год назад

7 اور 9 اپریل کو ہر طرح سے ساتھ دیں گے۔ فرنٹ پہ ہوں گے اپنے لوگوں کے ساتھ۔ لیکن یاد رہے 9 ڈیڈ لائن ہے۔ واضح بتا دیا ہے کہ 9 کو اگر اسی مہینے کی تاریخ اور لائحہ عمل نہ دیا گیا تو ہمارا راستہ جدا ہو جائے گا۔ پھر چاہے پارٹی چھوڑنی پڑے یا سینیٹ، ہم اپنا راستہ خود اختیار کریں گے، ان شاء اللہ
Khurram Zeeshan81,868 просмотров • 3 месяцев назад

7 مئی، دن 11 بجے گانڈھی چوک بنوں، بھرپور احتجاج اور مکمل روڈ بلاک! یہ پارٹی کی نہیں، عوامی کال ہے، بھرپور شرکت کریں۔ جسے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے خاموشی سے گھر بیٹھ جائے اور لوگوں میں مایوسی پھیلانا بند کرے۔ ہم نہ ہارے ہیں اور نہ ہاریں گے ان شاءاللہ ہمت مرداں مدد خدا 💪💪💪
Khurram Zeeshan252,215 просмотров • 1 год назад

‼️انتہائی اہم اور ضروری پیغام‼️ غور سے سنیں اور زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ #ReleaseImranKhan
Khurram Zeeshan95,919 просмотров • 4 месяцев назад

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے
Khurram Zeeshan55,134 просмотров • 3 месяцев назад
2:19
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

بیلجئم کی سڑکوں پر عاصم منیر کے دورے پر ٹرک پر کلپس چلائے جا رہے ہیں
Khurram Zeeshan135,137 просмотров • 11 месяцев назад