Zeeshan Baber's banner
Zeeshan Baber's profile picture

Zeeshan Baber

@malik_baber8,928 subscribers

Media Professional @ARYNEWSOFFICIAL- Producer Program:The Reporters (tweets are personal)

Videos

malik_baber's profile picture

سب سے بڑی بریکنگ نیوز 🚨 سٹیو وٹکاف کی زبانی ” جنگ سے پہلے مذاکرات کے دوران ہم نے ایران سے تقاضا کیا کہ اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کےحوالے کردو۔۔ ایران نے انکار کیا اور جواب دیا کہ جو جنگ میں نہیں جیتا جاسکتا وہ سفارتی ٹیبل پرکیسے ہار دیں ۔ “ ترجمہ : "مسٹر پریزیڈنٹ، میں اور میری ٹیم ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے آپ کو رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے مجھے اور جیرڈ کو ہدایت دی تھی کہ 'آپریشن ایپک فیوری' سے پہلے ایران کے ساتھ سفارتی حل کی کوشش کی جائے، جو ہم نے کی۔ تاہم، ان ملاقاتوں کے دوران ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے جو آپ کے درج ذیل مقاصد کو پورا کرتا ہو: • یورینیم کی افزودگی (enrichment) پر مکمل پابندی۔ • ہتھیار بنانے کے کسی بھی امکان کا مکمل خاتمہ۔ • فورڈو، نتنز اور اصفہان کی تنصیبات کو ختم کرنا، جنہیں آپ نے 'آپریشن مڈ نائٹ ہیمر' میں تباہ کیا تھا۔ • کسی بھی قسم کے مواد کا ذخیرہ نہ کرنا، جس کی انہوں نے کھلم کھلا خلاف ورزی کی تھی۔ • تمام افزودہ مواد ہمارے حوالے کرنا۔ • ایران کے میزائل پروگرام اور ان کی رینج کی صلاحیتوں میں کمی لانا۔ ایرانیوں کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران، ہم نے ان کی جانب سے یہ باتیں سنیں: ایرانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس افزودگی کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ پھر ہم نے سنا کہ ان کے پاس 60 فیصد افزودہ 460 کلوگرام مواد موجود ہے، جس سے 11 ایٹمی بم بنائے جا سکتے ہیں۔ آخر میں، ہم نے یہ بیان سنا: وہ سفارتی طور پر وہ سب کچھ نہیں دیں گے جو ہم فوجی طاقت سے حاصل نہیں کر سکے۔ ان کی حکومت نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو وہ معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جس کا آپ نے مطالبہ کیا تھا۔ میں آج آپ کو یہ رپورٹ دے سکتا ہوں کہ ہم نے آپ کی خارجہ پالیسی کی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکاتی ایکشن لسٹ تیار کی ہے جو امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بنے گی۔ اسے پاکستانی حکومت کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، جو ایک ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت مثبت پیغامات اور بات چیت سامنے آئی ہے، جیسا کہ آپ نے حال ہی میں پریس کو بتایا تھا۔ لیکن یہ حساس سفارتی بات چیت ہے، اور آپ نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ مخصوص شرائط پر رازداری برقرار رکھی جائے اور میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہ کیے جائیں۔"

Zeeshan Baber

170,900 Aufrufe • vor 2 Monaten

Keine weiteren Inhalte verfügbar