
Markhor 🇵🇰
@Markhorr313 • 45,778 subscribers
Shorts
Videos

بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔ شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔
Markhor 🇵🇰266,528 views • 21 days ago

حامد میر آپ کا یہ استدلال کہ "نئے صوبوں سے پاکستان کے نام کا مخفف (Acronym) متاثر ہوگا یا شناخت ختم ہو جائے گی"، تاریخی حقیقت اور جدید طرزِ حکومت دونوں لحاظ سے کمزور ہے۔ چوہدری رحمت علی نے 1933 میں اپنے پمفلٹ "اب یا کبھی نہیں" (Now or Never) میں "پاکِستان" کا نام تجویز کیا تھا۔ یہ محض ایک لسانی مخفف (Acronym) تھا، کوئی ایسی آئینی دستاویز نہیں تھی جس کے تحت مستقبل کی ریاست کی سرحدیں طے ہونی تھیں۔ اس وقت مسلم لیگ کی سب سے بڑی طاقت اور اکثریت بنگال میں تھی، جہاں پاکستان کی قرارداد پیش ہوئی۔ چوہدری رحمت علی کے فارمولے میں بنگال کا "ب" یا کوئی اور حرف شامل ہی نہیں تھا۔ اگر نام کو ہی صوبوں کی نمائندگی کا معیار مانا جائے، تو قیامِ پاکستان کے وقت اکثریتی صوبہ (مشرقی بنگال) اس نام سے بالکل باہر تھا۔ 1947 میں موجودہ بلوچستان نام کا کوئی صوبہ نہیں تھا، بلکہ قلات، خاران، لسبیلہ اور مکران جیسی آزاد ریاستیں تھیں، جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنیں۔ اسی طرح بہاولپور، خیرپور، سوات، دیر اور امب جیسی اہم ریاستیں بھی اس نام کے مخفف کا حصہ نہیں تھیں۔ ناموں کے مخفف وقت کے ساتھ صرف ایک پہچان بن جاتے ہیں، وہ جغرافیائی یا انتظامی تبدیلیوں کے پابند نہیں ہوتے۔ لفظ "پاکستان" کا مروجہ اور اصل مطلب "پاک لوگوں کی سرزمین" (Land of the Pure) ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کسی بھی ملک کے انتظامی یونٹس (صوبے یا اضلاع) اس کے نام کے حروف تہجی دیکھ کر نہیں بنائے جاتے۔ مثال کے طور پر، امریکہ (USA) کی 50 ریاستیں ہیں، لیکن اس کے نام میں 50 حروف شامل نہیں ہیں۔ گر پنجاب کو چار یا پانچ انتظامی صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے (جیسے جنوبی پنجاب یا پوٹھوہار)، تو وہاں کے رہنے والے پنجابی اور سرائیکی ہی رہیں گے۔ ان کی زبان، ثقافت اور تاریخ تبدیل نہیں ہوگی۔ پاکستان کی آبادی اب 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو صرف 4 صوبوں سے کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ نئے صوبے بننے کا مطلب یہ ہے کہ ہسپتال، عدالتیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر عوام کی دہلیز پر ہوں گے۔ میاں چنوں یا راجن پور کے شہری کو اپنے چھوٹے سے کام کے لیے لاہور یا کراچی نہیں جانا پڑے گا۔ اصل شناخت حروفِ تہجی کے ملاپ سے نہیں، بلکہ شہریوں کو ملنے والے حقوق سے بنتی ہے۔ جب کسی خطے کے عوام کو روزگار، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع ملیں گے، تو ان کا اپنی مٹی اور ملک سے تعلق مزید مضبوط ہوگا۔ انتظامی یونٹس کا مقصد کسی کی تاریخ کو مٹانا نہیں، بلکہ موجودہ نسلوں کی زندگیوں کو آسان بنانا ہے۔ لہٰذا، نام کے حروف کے پیچھے چھپ کر عوام کو ان کے انتظامی حقوق سے محروم رکھنا ایک بھونڈی اور کمزور دلیل ہے۔
Markhor 🇵🇰256,836 views • 26 days ago

بانی پی ٹی آئی مکمل صحت مند اور تندرست ہیں ۔ ان کو بلڈپریشر کا مسئلہ نہیں ہے۔ ان کی بہن عظمیٰ خان نے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا ہے ۔ ان کے الفاظ کچھ یوں ہیں ماشاء اللہ ماشاء اللہ " مکمل صحت مند اور فٹ الحمدللہ میں نے بلڈپریشر خود لیا بالکل نارمل 120/80 تھا ۔ وہ ایموشنل ہوکر مجھ سے باتیں کر رہے تھے تو ڈاکٹرز نے کہا بھی کہ آپ کا بلڈ پریشر ہائی ہوجائے گا۔ بانی نے جواب دیا کہ نہیں میرا بلڈپریشر ہائی نہیں ہوتا " دو مختلف طریقوں سے بی پی چیک کیا گیا ۔
Markhor 🇵🇰81,794 views • 19 days ago

Asim Munir is brave man, he's courageous and upright #NationHatesImranNiazi
Markhor 🇵🇰104,483 views • 9 months ago

ڈاکٹر میتھیو لوئس، جنہیں جمائمہ نے 2004 میں طلاق سے پہلے نفسیاتی مشیر کے طور پر رکھا تھا، ٹاک ٹی وی یو کے پر آ کر سب کچھ بتا دیا۔ "عمران ایک زہنی مریض ، شدید نرگسیت اور خود پسندی کا شکار ہے اور یہ شادی چل ہی نہیں سکتی تھی، میں نے پہلے ہی جمائمہ کو خبردار کر دیا تھا۔ اس نے ہر علاج سے انکار کر دیا۔"
Markhor 🇵🇰81,871 views • 9 months ago

جس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر (1970) میں پیدا ہوئے اس وقت ذہنی مریض عمران کیمبرج کا داخلہ ٹیسٹ فیل کررہا تھا. پھر آکسفورڈ کے کیبل کالج میں جنرل برکی کی سفارش اور ڈاکٹر پال ہائیز کی زاتی دلچسپی سے اسپورٹس کوٹہ پر داخلہ ہوا. موصوف نے کالج سے تھرڈ ڈویژن میں BA کیا. زہنی مریض عمران کو آکسفورڈ میں اسکے کلاس فیلوز Im The Dim کہتے تھے. یعنی پست دماغ اور کم صلاحیت رکھنے والا شخص جس وقت زہنی مریض عمران کی زندگی صرف لندن کے گراؤنڈ اور نائٹ کلب تھے اس وقت DGISPR کے والد پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لئے 20 20 گھنٹے کام کیا کرتے تھے وہیں دفتر، ریسرچ سینٹر یا لیبارٹری میں سلیپنگ بیگ بچھا کر سوجاتے تھے ڈاکٹر قدیر کو ہالینڈ سے پاکستان لارہے تھے جس وقت زہنی مریض عمران امریکن اور بھارتی دوشیزائیں اپنے بستر پر سلانے کیلیے اپنے آپ کو ایک دین بیزار ظاہر کرتا تھا اس وقت جنرل احمد شریف کے والد سائنس اور اسلام کے تعلق پر درجنوں کتابیں لکھ رہے تھے جنرل احمد شریف کے سسر بریگیڈیئر ٹی'ایم ملک گوریلوں کو سیز اینڈ ہولڈ آپریشنز اور چھاتہ'برداری کی مشقیں کروارہے تھے. لیفٹنٹ جنرل احمد شریف الیکٹریکل مکینیکل کالج اور ائیروناٹیکل کالج دو جگہ سے گریجویٹ ہیں. انہوں نے فوج میں ملٹری آپریشنز، ملٹری اینٹیلجنس، تزویراتی منصوبہ ڈویژن سے لیکر کشمیر، سیاچن اور پاک افغان بارڈر تک پر فرائض سرانجام دئیے. 2018 میں جس وقت ذہنی مریض عمران بھڑکیں مار رہا تھا کہ میں دوتہائی اکثریت سے آرہا ہوں اس وقت جنرل احمد شریف 24 24 گھنٹے جاگ کر سندھ کے الیکشن سیل اور سیکورٹی روم میں ذمہ داری سرانجام دے رہے (کسی نے کیا خوب کہا ذہنی مریض عمران کے شر کا شکار مخلص انسان ہی ہوتا ہے) ذہنی مریض عمران تم self-made انسان نہیں ہو تمہیں جی سی کالج میں تمہارے انکل جنرل جاوید برکی نے بھیجا کیمبرج میں تم داخلہ لے نہیں سکے تو آکسفورڈ تمہیں جنرل برکی، ماجد خان کی درخواست پر اسپورٹس کوٹے میں ڈاکٹر پاؤل ہائیز نے بھیجا تمہاری ڈگری 3rd ڈویژن میں سادہ بی اے ہے تمہیں تمہارے کلاس فیلو I'm The Dim یعنی پست دماغی صلاحیت والا کہتے تھے اور DGISPR الیکٹریکل اینڈ مکینکل کور سے ہوتے ہوئے وارکورس بھی کرچکے ہیں وہ اپنے مخصوص پیشہ ورانہ دائرے اور پھر فوج کے میرٹ میں نمایاں رہے ای ایم ای کالج میں داخلہ کیسے ہوتا ہے یہ وہ بچے جانتے ہیں جو ٹیسٹ دے چکے ہوں. عمران خان کے یوتھیو بات اتنی کرو جسکا وزن اٹھا سکو۔۔۔
Markhor 🇵🇰69,521 views • 9 months ago

Pakistan Navy Is Ready To Welcome The Uninvited Guest ⚓ 🇵🇰 The Mighty Tughril Class of Pakistan Navy.
Markhor 🇵🇰53,470 views • 11 months ago

کسی کو آگ لگتی ہے تو لگے ہماری محبت اور وفا پاکستان اور پاک فوج سے تھی ہے اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہے گی
Markhor 🇵🇰40,669 views • 11 months ago

گوادر کی سلطنتِ عمان سے خریداری 8 دسمبر 1958 کو پاکستان کے ساتویں وزیرِ اعظم جناب فیروز خان نون کا ایک نہایت دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ وزیرِ اعظم فیروز خان نون اور ان کی صاحبزادی اہلیہ محترمہ وقار النساء نون نے لندن میں بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔ وزیرِ اعظم اور ان کی اہلیہ نے عمان کے سلطان سعید بن تیمور کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کی، جبکہ 30 لاکھ ڈالر کی رقم محترم پرنس کریم آغا خان نے فراہم کی۔ یہ خریداری پاکستان کی تاریخ میں ایک “ماسٹر اسٹروک” قرار دی جاتی ہے۔ گوادر پورٹ کی تعمیر کا آغاز 2007 میں ہوا اور آج یہ پاکستان کا فخر بن چکا ہے۔ گوادر ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ان شاء اللہ مستقبل میں پاکستان کے تاج کا درخشاں نگینہ ثابت ہوگا۔
Markhor 🇵🇰22,017 views • 5 months ago
0:30
Sensitive content
This media may contain sensitive content.