
mohsin zaid
@mohsin__zaid • 37,777 subscribers
Art and Book lover, CEO Bymz Tech E-commerce Agency، Our Service OR Online One to One Consultancy Paid, Whatsapp+92-300-4408560
Shorts
Videos

آپکی بیٹی پڑھ لکھ کر تو آپکو بیچ کھائے گی، جواب آئیں بائیں شائیں۔ ارشاد بھٹی نے بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے لاکھوں زومبیز کے آگے بیٹھ کر تقاریر کرنے سے کہی زیادہ مشکل ہے ایک باشعور دلیلی انسان کیساتھ بات کرنا، آپکے ویوز یا فالورز کہی بھی آپکے باشعور اور عقلمند ہونے کی دلیل نہیں ہے
mohsin zaid192,333 просмотров • 1 год назад

بہتر ہو گیا ڈاکٹر صاحب کو پاکستان بلوا لیا ورنہ پلوشہ اور ان جیسے لاکھوں بچوں کو یہ وہمہ ہمیشہ کیلئے رہ جانا تھا کہ شائد انکے سوالات کے جوابات صرف ہمارے علماء کے پاس ہی نہیں ہیں بچوں کو سمجھنا ہوگا کہ نارمل دماغوں کے جواب صرف نارمل لوگوں کے پاس ہی ہوتے ہیں، یہ انکے بس کی بات نہیں
mohsin zaid178,129 просмотров • 1 год назад

پاکستانی شوہر domestic violence bill 2025 پاس ہونے کے بعد 😷😉
mohsin zaid34,578 просмотров • 6 месяцев назад
0:54
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

اس میں کوئی شک نہیں، پاک و ہند کا مائنڈ سیٹ پیسے کمانا ہے نہ کہ بزنس بنانا ہمارے ہاں لوگ بزنس کرکے بھی "سلف ایمپلائے" رہتے ہیں یہی وجہ ہے وہ ایک حد سے آگے نہیں جا پاتے مغربی مائنڈ سیٹ آپکو سیکھاتا ہے کہ آپ نے ایمپلائےنہیں رہنا بزنس مین بننا ہے آپ نے کام نہیں کرنا بلکہ سوچنا ہے
mohsin zaid26,057 просмотров • 10 месяцев назад

دو آرٹسٹس کے درمیان محبت، مارینا ابراموچ کی 1975 میں ایک جرمن آرٹسٹ اُلے سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مل کر بہت سارے قابل داد آرٹ پیس پیش کئے، 1983 میں دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ دیوار چین کے دو الگ الگ کونوں سے چل کر آئیں گے، اور جہان انکی ملاقات ہوگی وہی پر شادی کرلیں گے، چائنہ گورنمنٹ کو درخواست دی گئی لیکن انہوں نے اجازت دیتے ہوئے پانچ سال لگا دیئے، لیکن تب تک کافی کچھ بدل چکا تھا تو دونوں آرٹسٹوں نے محبت سے ہی فیصلہ کیا کہ 2 ہزار کلومیٹر اور تین ماہ کا سفر کر کے مختلف سمتوں سے چلنے کے بعد جہاں ملیں گے وہی بریک اپ کر لیں گے، اور دونوں اپنی اپنی اچھی یادوں کے ساتھ اپنے اپنے راستے زندگی گزاریں گے، سو انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر بہت سالوں بعد 2010 میں مارینا نیویارک میں ایک آرٹ پیس پیش کر رہی تھی جسکا نام تھا A minute of silence مارینا کئی ماہ تک کئی لوگوں کے سامنے بغیر ہنسے، بغیر روئے، بغیر بولے بغیر چھوئے کامیابی سے اپنا آرٹ پیس پیش کرتی رہیں، پھر ایک دن اچانک مارینا نے اوپر دیکھا تو سامنے اُلے بیٹھا تھا ، یہ سامنا 22 سال کے بعد ہو رہا تھا، مارینا سے اپنے قانون ٹوٹ گئے، وہ رو دی اس نے اُلے کو چھو کر محسوس کیا، کہ کیا یہ حقیقت ہے، میرا اس محبت کی داستان کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے، کہ محبت کے رشتے کبھی مرتے نہیں، چند لمحوں کیلئے آنکھیں بند کریں اور اپنے محبت کرنے والے انسان کو اُلے اور مارینا کی جگہ رکھئے اور محسوس کیجئے، ہائےےےے زندگی میں ایک اچھے محبت کرنے والے انسان کی تلاش کبھی ختم نہ کریں۔
mohsin zaid46,454 просмотров • 2 лет назад
Больше нет контента для загрузки