
Nadia Baloch
@NadiaBaloch99 • 12,490 subscribers
Ambitious lawyer | fighting for the rule of law in a lawless land. Sister of forcibly detained leader, @MahrangBaloch_ | [email protected]
Shorts
Videos

For the past 8 days, my sister Dr. Mahrang Baloch and other BYC leaders have been holding a sit-in inside jail against unfair faceless trials and demanding fair and transparent proceedings. Today, the families of detained BYC leaders staged a sit-in outside Hudda Jail against this injustice and faceless trials. Our demands are clear: end faceless trials, convert proceedings into open court hearings, and replace the biased judge. We will continue our struggle until this oppression ends. We request people from all walks of life to join this sit-in and be the voice of those who once were your voice. #EndUnfairTrailOfBYCLeaders
Nadia Baloch35,435 Aufrufe • vor 1 Monat

END UNFAIR TRIAL OF BYC LEADERS! Rule of Law, fair trial and justice have become myths in Pakistan. More than 14 months have passed since Dr. Mahrang Baloch and her companions have been kept in jail under baseless accusations and unlawfully detained. Despite the absence of evidence, they have been detained, harassed and mentally tortured in jail. Against these injustices and violations of the rule of law, Dr. Mahrang Baloch and her companions are protesting inside the jail, where they have organised a “Dharna.” If their demands are not met, they will proceed with a “Token Hunger Strike” inside the jail. The trials have shifted from prison-based hearings to a virtual court system, where faceless trials are being conducted and the judge and other parties participate remotely, while the State seeks a speedy conclusion of the proceedings. Their demands are simple and clear: 1) End online and jail trials and restore hearings in open court so that judicial proceedings are transparent and accessible to the public. 2) Replace the current judge, Mobin, as he has been biased towards the state regarding the case from day one. The organisation's leaders have filed a court application for the judge's replacement, which should be heard soon and a new impartial judge should be assigned to hear this case. 3) Suspend the case until the judge's replacement and the commencement of open court proceedings. We once again request all human rights organisations, journalists, politicians, social and political unions, humanitarians and the Baloch nation to raise their voices against state barbarism and spread awareness about the ongoing injustice and online trial of BYC leaders. EUPakistan Raimundas Karoblis Human Rights Commission of Pakistan United Nations Pakistan - اقوام متحدہ پاکستان Amnesty International South Asia, Regional Office Munizae Jahangir TIME UN Human Rights BBC 100 Women Timothy Kane NLinPakistan 🇳🇱 🇵🇰 M. Jibran Nasir 🇵🇸 Asad Ali Toor #ReleaseBYCLeaders #EndUnfairTrialOfBYCLeaders
Nadia Baloch29,836 Aufrufe • vor 1 Monat

ہدہ جیل کے سامنے جاری پُرامن احتجاج میں شریک اسیر رہنماؤں کے لواحقین کو پولیس کی جانب سے ہراساں اور گرفتار کرنے کی کوششوں کی جارہی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ پُرامن احتجاج کے حق کے بھی منافی ہے۔ اہلِ خانہ اپنے پیاروں سے ملاقات اور ان کی خیریت سے آگاہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر ان کے جائز مطالبات سننے کے بجائے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لواحقین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی ناقابلِ قبول ہوگی۔
Nadia Baloch23,953 Aufrufe • vor 1 Monat

جرمنی نشریاتی ادارہ ڈی ڈبلیو کی میری بہن، ماہ رنگ بلوچ، پر یہ رپورٹ ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ دنیا انہیں جبری گمشدگیوں کے خلاف پرامن جدوجہد کرنے والی ایک باوقار انسانی حقوق کی کارکن کے طور پر تسلیم کر رہی ہے جبکہ اپنے ہی ملک میں وہ گزشتہ 15 ماہ سے قید ہیں اور بے بنیاد دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔ قید و بند اور جھوٹے پروپیگنڈہ سے حق اور انصاف کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا #ReleaseMahrangBaloch #ReleaseBYCLeaders
Nadia Baloch12,640 Aufrufe • vor 28 Tagen

The sit-in of BYC leaders inside the jail is continuing. Today is the sixth day of it. It started against the faceless trials of their proceedings. The situation began when the Prosecutor General of Balochistan came to a trial, pressured the judge, and said that he was sent by the Home Department of Balochistan. After that, the judge converted the trials into faceless ones with day to day proceedings. In these faceless trials, the judge, prosecutor, witnesses, BYC leaders, and their lawyers are all will be in different rooms, connected only through a screen. No one will knows who the witness is or from where they are giving their testimony. We cannot even submit a single application in this process. Neither the judge nor the jail staff facilitating the faceless trials, accepts any application. My sister and other BYC Leaders are not even getting a chance for a fair trial. We will fight till the end, and the state must be clear that we will not back off and will continue to stand and resist this oppression. The families and lawyers are not allowed to meet them. We make it clear to the establishment that if we are not allowed to meet them, then we will stage a protest or a sit-in. Our next step will be announced later. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders EUPakistan Raimundas Karoblis Human Rights Commission of Pakistan United Nations Pakistan - اقوام متحدہ پاکستان Amnesty International South Asia, Regional Office Munizae Jahangir TIME UN Human Rights BBC 100 Women Timothy Kane NLinPakistan 🇳🇱 🇵🇰
Nadia Baloch13,210 Aufrufe • vor 1 Monat

گزشتہ دنوں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان Sarfraz Bugti نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں اپنی چکنی چپڑی اردو اور بناوٹی شائستگی کے ساتھ بار کے اراکین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بے بنیاد الزامات پر میرا جواب پیش ہے: 1- بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ جہاں بھی جاتی ہیں، پاکستان کا پرچم اتار کر ایک پرچم لہراتی ہیں جسے انہوں نے “آزاد بلوچستان کا پرچم” کہا۔ یہ ان کا پرانا جھوٹ ہے۔ اپریل میں بھی وہ یہ الزام لگا چکے تھے اور پھر ایک BYC رہنما پر جھوٹا الزام دھرنے کے بعد سرِعام معافی مانگنے پر مجبور ہوئے کہ اس نے پاکستان کا پرچم جلایا اور بلوچستان کا پرچم لہرایا۔ اب وہی الزام ماہ رنگ بلوچ پر دہرا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے: ثبوت کہاں ہے؟ وہ ویڈیوز کہاں ہیں؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر پہلے عوام کے سامنے معافی کیوں مانگنا پڑی؟ 2- انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بظاہر لاپتہ افراد کے لیے مہم چلاتی ہیں لیکن دھرنوں میں اس پر بات نہیں کرتیں۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ ماہ رنگ ہمیشہ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اس کا ثبوت ستمبر 2022 کا معاہدہ ہے جس پر اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ دستخط کیے۔ دسمبر 2023 کا اسلام آباد لانگ مارچ اور جولائی 2024 میں بلوچستان حکومت اور ماہ رنگ بلوچ کے مابین ہونے والا معاہدہ بھی ان کی جدوجہد کا ثبوت ہے۔ ماہ رنگ کی تحریک کو ٹائم میگزین، بی بی سی 100 ویمن اور عالمی سول سوسائٹی نے تسلیم کیا ہے۔ انہیں کسی سرفراز بگٹی کی سند کی ضرورت نہیں۔ 3- بگٹی نے الزام لگایا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے اجتماعات میں بلوچستان کا قومی ترانہ بجاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قومی ترانہ نہیں بلکہ ایک قومی نغمہ ہے، جو بلوچ قوم کی بہادری اور پندھرویں صدی کے قومی ہیرو میر گہرام لاشاری اور چاکر رند کی یاد میں لکھا گیا۔ یہ نغمہ اُس وقت تخلیق کیا گیا جب بلوچستان میں نہ مسلح تحریک تھی نہ بغاوت۔ بگٹی دوسروں کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن خود بلوچ تاریخ کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔ اس خطے کی ہر قوم: بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی، کشمیری اور گلگتی اپنے گیت اور داستانیں رکھتی ہے جو ان کی تاریخ اور بہادری کو اجاگر کرتی ہیں۔ کسی نغمے کو بنیاد بنا کر الزام لگانا یا گرفتاری کو جواز دینا مضحکہ خیز اور سراسر ناانصافی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی نغمہ سرکاری تقریبات میں بھی سنایا جاتا ہے۔ 4- بگٹی نے یہ بھی کہا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے احتجاجوں میں حلف لیتی اور دلواتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت اور تنظیم کا ایک منشور اور ڈھانچہ ہوتا ہے۔ خود بگٹی پیپلز پارٹی کے پرچم میں لپٹ کر اس کے منشور کا حلف لے چکے ہیں۔ پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں، پیپلز پارٹی، پی ایم ایل این، پی ٹی آئی، اپنے کارکنوں سے حلف لیتی ہیں۔ مگر بگٹی کا اپنا ماضی حلف شکنی سے بھرا ہے۔ نگران وزیر کے طور پر انہوں نے غیرجانبدار رہنے کا حلف اٹھایا لیکن پھر توڑ کر الیکشن میں حصہ لیا۔ بلوچستان چونکہ باقی ملک سے کٹا ہوا ہے اور ہماری سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر بلوچی زبان میں ہوتی ہیں، اس لیے بگٹی جیسے لوگ انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ میری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ اگر وہ اس طرح کے لوگوں کو اپنے فورم پر بلاتے ہیں تو ہمیں بھی مدعو کریں تاکہ ہمارا مؤقف بھی سنا جائے۔ یک طرفہ بیانیہ بازی بند ہونی چاہیے۔ آخر میں بگٹی نے ہم پر “بیانیہ سازی” کا الزام لگایا۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل، میڈیا، بار ایسوسی ایشنز اور ریاستی مشینری سب ان کے پاس ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے: سچ۔ اور عوام سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حیرت ہے کہ بگٹی اب مذہب کو بھی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ ان کی گھبراہٹ اور کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہے۔ Matiullah Jan Sarfraz Bugti
Nadia Baloch70,624 Aufrufe • vor 10 Monaten

اسلام آباد جیسی شہر میں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں مسلسل ہمیں فالو کر رہی ہیں، ہراساں کر رہی ہیں اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ بحث اب بےمعنی ہے کہ یہ گاڑیاں کس کی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا اس ملک میں بلوچوں کیلیے کوئی قانون نہیں؟ کیا ہم دشمن ریاست کے شہری ہیں؟ ہم نے جو دوسرا گھر کرائے پر لیا تھا آج اس کے مالک کو بھی ریاستی دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا کہ ہمیں نکال دے۔ اب ضعیف مائیں، بہنیں، اور نوجوان کھلے آسمان تلے ہیں بے آسرا، بے سہارا، صرف اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کی امید لیے۔ ریاست جس طرح اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کر کے ہراساں کر کے، اور در بدر کر رہی ہے، شاید دشمن ملک بھی اپنے قیدیوں سے ایسا سلوک نہ کرے۔ اگر ہمیں دارالحکومت میں ایک کرائے کا گھر لینے کی اجازت نہیں تو کم از کم ہمیں نیشنل پریس کلب کے سامنے خیمہ لگا کر پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔ یا ہمیں واضح طور پر بتا دیں کہ اس ریاست میں بلوچوں کے لیے نہ زمین ہے، نہ آواز، نہ سانس لینے کا حق۔ چند گھنٹے قبل ایک پی ٹی آئی رہنما صرف کھانا دینے آیا تھا، اس کے ڈرائیور اور گاڑی کو غائب کر دیا گیا۔ یہ ہراسانی نہیں، یہ بلوچوں کو سبق سکھانے کا ریاستی منصوبہ ہے۔ ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے: جو قومیں انصاف مانگنے پر دھتکاری جائیں، وہ ایک دن خاموش نہیں رہتیں وہ چیختی بھی ہیں اور پھر لڑتی بھی ہیں۔ بلوچوں کو دیوار سے لگانا بند کریں کیونکہ دیوار گر گئی تو اس کے ملبے تلے ریاست خود دفن ہو سکتی ہے۔ #ReleaseByCLeaders
Nadia Baloch74,308 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes
Nadia Baloch32,268 Aufrufe • vor 4 Monaten

غیرمقبول و غیر معروف وزیرِاعلیٰ دن دہاڑے ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ سے مذاکرات کیے ماہ رنگ نے آمادگی ظاہر کی بلکہ ہمیشہ ماہ رنگ اور بی وائی سی ہی تھے جو مذاکرات کی پیشکش کرتے رہے۔ لیکن حکومت نے کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ جی ایچ کیو کے نامزد وزیرِاعلیٰ ایک بھی مثال نہیں دے سکتے جہاں ماہ رنگ نے مذاکرات سے انکار کی ہو۔ گوادر راجی مُچی سے لے کر ستمبر 2022ء کے گورنر ہاؤس احتجاج تک، ہر وقت ماہ رنگ اور لاپتہ افراد کے خاندان ہی مذاکرات پر زور دیتے رہے مگر حکومت بھاگتی رہی۔ یہ شرمناک ہے کہ نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کا بلوچستان کا مصنوعی وزیراعلی ماہ رنگ بلوچ کا موازنہ تحریکِ طالبان پاکستان سے کررہے اور پینل پر بیٹھے ایک نام نہاد تحقیقاتی صحافی و کچھ تجزیہ کار خاموش تماشائی بنے رہے۔ ماہ رنگ نے کب اور کہاں تشدد کی بات کی؟ وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان نہ صرف شرمناک ہے بلکہ اس سے ان کی بوکھلاہٹ اور ذہنی انتشار بھی عیاں ہورہا۔ #ReleaseBycLeaders
Nadia Baloch36,874 Aufrufe • vor 11 Monaten

آج جب ہم ہدہ جیل کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے وکالت نامہ پر دستخط کرانے کے لیے گئے، تو جیل سپریٹنڈنٹ حمید اللہ پیچہی نے نہ صرف دستخط کرانے سے انکار کیا بلکہ ہمارے ساتھ غیر مناسب اور دھمکی آمیزانہ رویہ اختیار کیا۔ اس دوران ہمیں سنجیدہ نوعیت کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ موجودہ جیل سپریٹنڈنٹ ریاستی خفیہ اداروں کی خوشنودی کی خاطر جیل میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کی قیادت کو ہراساں کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی لواحقین کے ساتھ بھی نہایت غیر اخلاقی رویہ اختیار کرتے ہوئے ہمیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔
Nadia Baloch40,748 Aufrufe • vor 1 Jahr

My video message in response to the ongoing propaganda campaign against Dr Mahrang Baloch. The state has recently become more active and is engaging various actors, including its media, diplomats, and journalists, to discredit Dr. Mahrang Baloch’s peaceful struggle both nationally and internationally. Watch my video message in response to this. #ReleaseBycLeaders #ReleaseMahrangBaloch
Nadia Baloch34,434 Aufrufe • vor 11 Monaten

Urgent Update on BYC Leaders Dr. Mahrang Baloch and other leaders of the Baloch Yekjehti Committee (BYC) were supposed to be presented in court yesterday. They were not produced. Instead, they were quietly presented today without informing their families or lawyers. An additional five day remand was granted. At the same time, internet services were suspended to block information. This is a blatant violation of Pakistan’s Constitution: Article 10-A – Right to a fair trial Article 10 – Safeguards against arbitrary arrest and detention Shockingly, this hearing was held on September 6th (Defense Day), a national holiday in Pakistan, and when no lawyers were present in court. We are deeply concerned about the safety of BYC leaders who are being detained on false charges. We demand a clear, impartial, and fair trial. We urge the Supreme Court of Pakistan to take immediate notice of this matter, and we call on international human rights organizations to monitor and raise their voices against this unfair trial. Amnesty International South Asia, Regional Office Human Rights Commission of Pakistan Mary Lawlor Front Line Defenders M. Jibran Nasir 🇵🇸 Imaan Zainab Mazari-Hazir EUPakistan #ReleaseMahrangBaloch #ReleaseBYCLeaders
Nadia Baloch30,818 Aufrufe • vor 10 Monaten

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور اُن کی دوستوں کو پچھلے پانچ مہینوں سے بوگس ایف آئی آرز کے ذریعے جیل میں پھنسایا گیا ہے تاکہ بلوچ قوم پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دبایا جا سکے۔ ہم پچھلے 36 دنوں سے ریاستی جبر و ستم کے باوجود اپنا دھرنا اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلی سماعت کے بعد بی وائی سی کے رہنماؤں کو عدالت کی جانب سے 20 دن کے لیے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا جس کی مدت ختم ہونے کو ہے۔ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ اگر اس بار بھی عدالت جانبدار ہوئی اور رہنماؤں کو غیر قانونی طریقے سے ایسے ہی جیل میں قید و بند رکھا گیا تو ہم اپنے احتجاج کو اور زیادہ وسعت دیں گے۔ ہم یہاں تب تک بیٹھے رہیں گے جب تک ہمارے رہنماء صحیح سلامت رہا نہیں کیے جاتے #ReleaseBYCLeaders #EndEnforcedDisappearances
Nadia Baloch25,301 Aufrufe • vor 11 Monaten

ڈاکٹر ماہ رنگ، بیبو، گلزادی، بیبرگ بلوچ، صبغت اللہ اور ماما غفار کو گزشتہ روز دس روزہ ریمانڈ پر تھانہ منتقل کیا گیا، تاہم اس کے بعد سے 36 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے اور انہیں نہ لواحقین سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی قانونی ٹیم کو رسائی دی گئی ہے۔ آج پورا دن لواحقین جیل کے باہر منتظر رہے، مگر جیل انتظامیہ نے ملاقات کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ ہمیں ان کی خیریت اور زندگیوں کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔ اس غیر انسانی رویے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف، ہم لواحقین کل بروز 10 جولائی کو دوپہر 1 بجے سول لائن تھانے کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر اپنے پیاروں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ وقت: دوپہر 1 بجے تاریخ: 10 جولائی مقام: سول لائن تھانہ
Nadia Baloch25,707 Aufrufe • vor 1 Jahr
2:11
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی جبری گمشدگیوں کو سات سال مکمل ہوچکے ہیں سائرہ بلوچ نے اپنی بھائیوں کی بازیابی کے لیے اس ملک میں کوئی ایسا در نہیں چھوڑا جہاں اسے تھوڑی سی امید کی کرن نظر ائی ۔ عدالت ، کمیشن میڈیا کمیٹیوں کے سامنے وہ سات سالوں سے اپنا درد بیان کرتی آرہی ہے جنکے بھائیوں کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی تھی ۔ مگر ان تمام دروازوں پر سائرہ بلوچ کو خالی ہاتھ واپس کیا گیا اپنی بھائیوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کی پاداش میں اس پر کئی مقدمات درج کیے گئے احتجاج کے دوران لاٹھی جارچ آنسو گیس اور گرفتاری کا بھی سامنا رہا ہے آصف اور رشید کو عقوبت خانوں میں سات سال مکمل ہونے پر سوشل میڈیا پر کمپین چلائی جائے گی ہر انسانیت کا درد رکھنے والے فرد سے گزارش ہے کہ اس کمپین میں اپنا حصہ ڈالیں اور جبری گمشدگیوں جیسے انسانیت سوز عمل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں تاکہ سائرہ جیسی بہنوں کی زندگیاں احتجاجی دھرنوں پریس کلبز کے بجائے اسکول اور کالجوں میں گزرئے ۔۔ #ReleaseAsifAndRasheedBaloch #EndEnforcedDisapperances
Nadia Baloch21,846 Aufrufe • vor 10 Monaten

بی وائی سی کی گرفتار قیادت کے اہلخانہ کی جانب سے آج سوشل میڈیا پر ایک کمپین چلایا جائے گا جس میں اس غیر قانونی حراست کے خلاف آواز اٹھائیں جائے گی جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ مین اسٹریم میڈیا پر ہمارے لیے قندغن لگائی گئیں ہے جہاں ہمیں دیکھ کر میڈیا مائیک اور کیمروں کے شٹر بند ہوجاتے ہیں ہمارے لیے اپنی آواز پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا واحد پلیٹ فارم ہے اس لیے اس کمیپن میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی جاتی ہے خاموشی جرم ہے #ReleaseBycLeaders #EndEnForcedDisapperances
Nadia Baloch21,604 Aufrufe • vor 11 Monaten

اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر ہمارے طے شدہ سیمینار سے محض چند گھنٹے قبل، اسلام آباد پولیس نے نہتی خواتین اور بچوں پر دھاوا بول دیا اور ہمیں ہراساں کیا۔ یہ حرکت نہ صرف شرمناک بلکہ ناقابلِ برداشت ہے۔ میں اسلام آباد کی سول سوسائٹی اور عوام سے مطالبہ کرتی ہوں کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور اس پولیس درندگی کے خلاف آواز بلند کریں۔ اسلام آباد کو ایک قید خانے میں بدل دیا گیا ہےآج ہم نشانے پر ہیں، کل آپ ہوں گے۔ #ReleaseBycLeaders
Nadia Baloch19,778 Aufrufe • vor 11 Monaten

سائرہ بلوچ، پچھلے سات سالوں سے اپنے جبری گمشدہ بھائیوں کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ ان سات برسوں میں اس نے وہ تمام قانونی راستے اپنائے جن سے امید تھی کہ شاید انصاف ملے گا اور اس کے بھائی منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔ لیکن سائرہ کے صبر اور پرامن احتجاج کا جواب ریاست نے کیا دیا؟ مقدمات قائم کیے گئے، احتجاجی مظاہروں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ کتنی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ سات سال گزر جانے کے بعد بھی ایک بہن کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے بھائیوں کا جرم کیا تھا، انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ایک “ڈرامہ” ہیں۔ جب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے سائرہ جیسی بہنوں کے لیے آواز بلند کی تو انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ آواز اٹھانے والے مجرم بنا دیے جائیں، اور ظلم کرنے والے بااختیار رہیں؟ ریاست بلوچستان میں ایک ایسی بند گلی میں داخل ہو چکی ہے جس سے نکلنے کے امکانات روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں جیسے ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، اور بلوچستان کو اس کی اصل نمائندگی عوام کے ذریعے دی جائے۔ بصورت دیگر، جو آتش فشاں برسوں سے سلگ رہا ہے، وہلہوا بن کر سب کچھ بھسم کر دے گا۔ ہم صحافیوں اور دانشوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بلوچستان جا کر خود دیکھیں کہ وہاں کی صورتحال کیا ہے۔ صرف سننے اور پڑھنے سے حقیقت آشکار نہیں ہوتی ۔۔ #ReleaseAsifAndRasheed
Nadia Baloch15,868 Aufrufe • vor 10 Monaten