Nadia Baloch's banner
Nadia Baloch's profile picture

Nadia Baloch

@NadiaBaloch9912,490 subscribers

Ambitious lawyer | fighting for the rule of law in a lawless land. Sister of forcibly detained leader, @MahrangBaloch_ | [email protected]

Shorts

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

32,268 просмотров

اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں پریس کلب کی طرف بڑھنے اور احتجاج کرنے کیلئے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس ہمارے ساتھ مجرموں اور دشمنوں جیسا برتاؤ رکھ رہی ہے۔ کیا بلوچستان سے اسلام آباد آنا اور پرامن احتجاج کرنا جرم ہے ؟ پاکستان کے ادارے ہمیں بتائیں کہ ہمارے شہری اور انسانی حقوق پر کیوں قدغن لگایا جا رہا ہے ؟ ہمیں کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ہمیں کسی بھی طرح کا نقصان پہنچا اس کی براہ راست زمہ داری اسلام آباد و ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔ بلوچ قوم و میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہمارے ساتھ ہونے والے جانوروں جیسے سلوک کے خلاف آواز اٹھائیں۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک مرتبہ پھر ہمیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہمیں پریس کلب کی طرف بڑھنے اور احتجاج کرنے کیلئے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس ہمارے ساتھ مجرموں اور دشمنوں جیسا برتاؤ رکھ رہی ہے۔ کیا بلوچستان سے اسلام آباد آنا اور پرامن احتجاج کرنا جرم ہے ؟ پاکستان کے ادارے ہمیں بتائیں کہ ہمارے شہری اور انسانی حقوق پر کیوں قدغن لگایا جا رہا ہے ؟ ہمیں کیوں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ہمیں کسی بھی طرح کا نقصان پہنچا اس کی براہ راست زمہ داری اسلام آباد و ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔ بلوچ قوم و میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ہمارے ساتھ ہونے والے جانوروں جیسے سلوک کے خلاف آواز اٹھائیں۔

38,840 просмотров

Videos

NadiaBaloch99's profile picture

END UNFAIR TRIAL OF BYC LEADERS! Rule of Law, fair trial and justice have become myths in Pakistan. More than 14 months have passed since Dr. Mahrang Baloch and her companions have been kept in jail under baseless accusations and unlawfully detained. Despite the absence of evidence, they have been detained, harassed and mentally tortured in jail. Against these injustices and violations of the rule of law, Dr. Mahrang Baloch and her companions are protesting inside the jail, where they have organised a “Dharna.” If their demands are not met, they will proceed with a “Token Hunger Strike” inside the jail. The trials have shifted from prison-based hearings to a virtual court system, where faceless trials are being conducted and the judge and other parties participate remotely, while the State seeks a speedy conclusion of the proceedings. Their demands are simple and clear: 1) End online and jail trials and restore hearings in open court so that judicial proceedings are transparent and accessible to the public. 2) Replace the current judge, Mobin, as he has been biased towards the state regarding the case from day one. The organisation's leaders have filed a court application for the judge's replacement, which should be heard soon and a new impartial judge should be assigned to hear this case. 3) Suspend the case until the judge's replacement and the commencement of open court proceedings. We once again request all human rights organisations, journalists, politicians, social and political unions, humanitarians and the Baloch nation to raise their voices against state barbarism and spread awareness about the ongoing injustice and online trial of BYC leaders. EUPakistan Raimundas Karoblis Human Rights Commission of Pakistan United Nations Pakistan - اقوام متحدہ پاکستان Amnesty International South Asia, Regional Office Munizae Jahangir TIME UN Human Rights BBC 100 Women Timothy Kane NLinPakistan 🇳🇱 🇵🇰 M. Jibran Nasir 🇵🇸 Asad Ali Toor #ReleaseBYCLeaders #EndUnfairTrialOfBYCLeaders

Nadia Baloch

29,836 просмотров • 1 месяц назад

NadiaBaloch99's profile picture

The sit-in of BYC leaders inside the jail is continuing. Today is the sixth day of it. It started against the faceless trials of their proceedings. The situation began when the Prosecutor General of Balochistan came to a trial, pressured the judge, and said that he was sent by the Home Department of Balochistan. After that, the judge converted the trials into faceless ones with day to day proceedings. In these faceless trials, the judge, prosecutor, witnesses, BYC leaders, and their lawyers are all will be in different rooms, connected only through a screen. No one will knows who the witness is or from where they are giving their testimony. We cannot even submit a single application in this process. Neither the judge nor the jail staff facilitating the faceless trials, accepts any application. My sister and other BYC Leaders are not even getting a chance for a fair trial. We will fight till the end, and the state must be clear that we will not back off and will continue to stand and resist this oppression. The families and lawyers are not allowed to meet them. We make it clear to the establishment that if we are not allowed to meet them, then we will stage a protest or a sit-in. Our next step will be announced later. #EndUnfairTrialOfBYCLeaders EUPakistan Raimundas Karoblis Human Rights Commission of Pakistan United Nations Pakistan - اقوام متحدہ پاکستان Amnesty International South Asia, Regional Office Munizae Jahangir TIME UN Human Rights BBC 100 Women Timothy Kane NLinPakistan 🇳🇱 🇵🇰

Nadia Baloch

13,210 просмотров • 1 месяц назад

NadiaBaloch99's profile picture

گزشتہ دنوں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان Sarfraz Bugti نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں اپنی چکنی چپڑی اردو اور بناوٹی شائستگی کے ساتھ بار کے اراکین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے بے بنیاد الزامات پر میرا جواب پیش ہے: 1- بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ جہاں بھی جاتی ہیں، پاکستان کا پرچم اتار کر ایک پرچم لہراتی ہیں جسے انہوں نے “آزاد بلوچستان کا پرچم” کہا۔ یہ ان کا پرانا جھوٹ ہے۔ اپریل میں بھی وہ یہ الزام لگا چکے تھے اور پھر ایک BYC رہنما پر جھوٹا الزام دھرنے کے بعد سرِعام معافی مانگنے پر مجبور ہوئے کہ اس نے پاکستان کا پرچم جلایا اور بلوچستان کا پرچم لہرایا۔ اب وہی الزام ماہ رنگ بلوچ پر دہرا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے: ثبوت کہاں ہے؟ وہ ویڈیوز کہاں ہیں؟ اور اگر الزام درست تھا تو پھر پہلے عوام کے سامنے معافی کیوں مانگنا پڑی؟ 2- انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بظاہر لاپتہ افراد کے لیے مہم چلاتی ہیں لیکن دھرنوں میں اس پر بات نہیں کرتیں۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ ماہ رنگ ہمیشہ لاپتہ افراد کے حق میں آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اس کا ثبوت ستمبر 2022 کا معاہدہ ہے جس پر اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ماہ رنگ بلوچ کے ساتھ دستخط کیے۔ دسمبر 2023 کا اسلام آباد لانگ مارچ اور جولائی 2024 میں بلوچستان حکومت اور ماہ رنگ بلوچ کے مابین ہونے والا معاہدہ بھی ان کی جدوجہد کا ثبوت ہے۔ ماہ رنگ کی تحریک کو ٹائم میگزین، بی بی سی 100 ویمن اور عالمی سول سوسائٹی نے تسلیم کیا ہے۔ انہیں کسی سرفراز بگٹی کی سند کی ضرورت نہیں۔ 3- بگٹی نے الزام لگایا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے اجتماعات میں بلوچستان کا قومی ترانہ بجاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قومی ترانہ نہیں بلکہ ایک قومی نغمہ ہے، جو بلوچ قوم کی بہادری اور پندھرویں صدی کے قومی ہیرو میر گہرام لاشاری اور چاکر رند کی یاد میں لکھا گیا۔ یہ نغمہ اُس وقت تخلیق کیا گیا جب بلوچستان میں نہ مسلح تحریک تھی نہ بغاوت۔ بگٹی دوسروں کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن خود بلوچ تاریخ کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔ اس خطے کی ہر قوم: بلوچ، سندھی، پشتون، پنجابی، کشمیری اور گلگتی اپنے گیت اور داستانیں رکھتی ہے جو ان کی تاریخ اور بہادری کو اجاگر کرتی ہیں۔ کسی نغمے کو بنیاد بنا کر الزام لگانا یا گرفتاری کو جواز دینا مضحکہ خیز اور سراسر ناانصافی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہی نغمہ سرکاری تقریبات میں بھی سنایا جاتا ہے۔ 4- بگٹی نے یہ بھی کہا کہ ماہ رنگ بلوچ اپنے احتجاجوں میں حلف لیتی اور دلواتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت اور تنظیم کا ایک منشور اور ڈھانچہ ہوتا ہے۔ خود بگٹی پیپلز پارٹی کے پرچم میں لپٹ کر اس کے منشور کا حلف لے چکے ہیں۔ پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں، پیپلز پارٹی، پی ایم ایل این، پی ٹی آئی، اپنے کارکنوں سے حلف لیتی ہیں۔ مگر بگٹی کا اپنا ماضی حلف شکنی سے بھرا ہے۔ نگران وزیر کے طور پر انہوں نے غیرجانبدار رہنے کا حلف اٹھایا لیکن پھر توڑ کر الیکشن میں حصہ لیا۔ بلوچستان چونکہ باقی ملک سے کٹا ہوا ہے اور ہماری سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر بلوچی زبان میں ہوتی ہیں، اس لیے بگٹی جیسے لوگ انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں۔ میری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے گزارش ہے کہ اگر وہ اس طرح کے لوگوں کو اپنے فورم پر بلاتے ہیں تو ہمیں بھی مدعو کریں تاکہ ہمارا مؤقف بھی سنا جائے۔ یک طرفہ بیانیہ بازی بند ہونی چاہیے۔ آخر میں بگٹی نے ہم پر “بیانیہ سازی” کا الزام لگایا۔ حقیقت یہ ہے کہ وسائل، میڈیا، بار ایسوسی ایشنز اور ریاستی مشینری سب ان کے پاس ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک چیز ہے: سچ۔ اور عوام سچ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حیرت ہے کہ بگٹی اب مذہب کو بھی سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہ ان کی گھبراہٹ اور کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہے۔ Matiullah Jan Sarfraz Bugti

Nadia Baloch

70,624 просмотров • 10 месяцев назад

NadiaBaloch99's profile picture

اسلام آباد جیسی شہر میں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں مسلسل ہمیں فالو کر رہی ہیں، ہراساں کر رہی ہیں اور ریاستی ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ بحث اب بےمعنی ہے کہ یہ گاڑیاں کس کی ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا اس ملک میں بلوچوں کیلیے کوئی قانون نہیں؟ کیا ہم دشمن ریاست کے شہری ہیں؟ ہم نے جو دوسرا گھر کرائے پر لیا تھا آج اس کے مالک کو بھی ریاستی دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا کہ ہمیں نکال دے۔ اب ضعیف مائیں، بہنیں، اور نوجوان کھلے آسمان تلے ہیں بے آسرا، بے سہارا، صرف اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کی امید لیے۔ ریاست جس طرح اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کر کے ہراساں کر کے، اور در بدر کر رہی ہے، شاید دشمن ملک بھی اپنے قیدیوں سے ایسا سلوک نہ کرے۔ اگر ہمیں دارالحکومت میں ایک کرائے کا گھر لینے کی اجازت نہیں تو کم از کم ہمیں نیشنل پریس کلب کے سامنے خیمہ لگا کر پرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے۔ یا ہمیں واضح طور پر بتا دیں کہ اس ریاست میں بلوچوں کے لیے نہ زمین ہے، نہ آواز، نہ سانس لینے کا حق۔ چند گھنٹے قبل ایک پی ٹی آئی رہنما صرف کھانا دینے آیا تھا، اس کے ڈرائیور اور گاڑی کو غائب کر دیا گیا۔ یہ ہراسانی نہیں، یہ بلوچوں کو سبق سکھانے کا ریاستی منصوبہ ہے۔ ریاست کو یہ یاد رکھنا چاہیے: جو قومیں انصاف مانگنے پر دھتکاری جائیں، وہ ایک دن خاموش نہیں رہتیں وہ چیختی بھی ہیں اور پھر لڑتی بھی ہیں۔ بلوچوں کو دیوار سے لگانا بند کریں کیونکہ دیوار گر گئی تو اس کے ملبے تلے ریاست خود دفن ہو سکتی ہے۔ #ReleaseByCLeaders

Nadia Baloch

74,308 просмотров • 1 год назад

NadiaBaloch99's profile picture

آج ہم کوئٹہ پریس کلب میں فیملیز کی جانب سے بی وائی سی کے رہنماؤں کے کیسز اور ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی صحت کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے۔ لیکن آج صبح سے ہمیں پریس کلب کے سامنے کھڑا رکھا گیا اور کہا گیا کہ پہلے ڈی سی سے این او سی لے کر آئیں۔ حالانکہ ہمارے سامنے کئی دیگر فیملیز کو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت دی گئی۔ جب ہم نے پوچھا کہ اُن سے این او سی کیوں نہیں مانگا جا رہا اور ہم سے کیوں، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ “اوپر سے آرڈر ہے” کہ یہاں صرف اُن فیملیز کو پریس کانفرنس کی اجازت ہے جن کے بچے پہاڑوں پر گئے ہیں یا جن کا تعلق منشیات کے کیسز سے ہے۔ اس کے علاوہ مسنگ پرسنز کی فیملیز یا دیگر سیاسی جماعتوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ مجبوراً ہم نے کوئٹہ پریس کلب کی سیڑھیوں کے سامنے بیٹھ کر اپنی پریس کانفرنس شروع کی۔ اسی دوران پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور صحافیوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ ہماری پریس کانفرنس کو ریکارڈ نہ کریں۔ بلوچستان میں نااہل حکومت کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب بولنے اور سوال کرنے کی بھی اجازت نہیں رہی #ReleaseBYCLeaderes

Nadia Baloch

32,268 просмотров • 4 месяцев назад

NadiaBaloch99's profile picture

غیرمقبول و غیر معروف وزیرِاعلیٰ دن دہاڑے ڈھٹائی سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ سے مذاکرات کیے ماہ رنگ نے آمادگی ظاہر کی بلکہ ہمیشہ ماہ رنگ اور بی وائی سی ہی تھے جو مذاکرات کی پیشکش کرتے رہے۔ لیکن حکومت نے کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ جی ایچ کیو کے نامزد وزیرِاعلیٰ ایک بھی مثال نہیں دے سکتے جہاں ماہ رنگ نے مذاکرات سے انکار کی ہو۔ گوادر راجی مُچی سے لے کر ستمبر 2022ء کے گورنر ہاؤس احتجاج تک، ہر وقت ماہ رنگ اور لاپتہ افراد کے خاندان ہی مذاکرات پر زور دیتے رہے مگر حکومت بھاگتی رہی۔ یہ شرمناک ہے کہ نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کا بلوچستان کا مصنوعی وزیراعلی ماہ رنگ بلوچ کا موازنہ تحریکِ طالبان پاکستان سے کررہے اور پینل پر بیٹھے ایک نام نہاد تحقیقاتی صحافی و کچھ تجزیہ کار خاموش تماشائی بنے رہے۔ ماہ رنگ نے کب اور کہاں تشدد کی بات کی؟ وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان نہ صرف شرمناک ہے بلکہ اس سے ان کی بوکھلاہٹ اور ذہنی انتشار بھی عیاں ہورہا۔ #ReleaseBycLeaders

Nadia Baloch

36,874 просмотров • 11 месяцев назад

NadiaBaloch99's profile picture

آصف بلوچ اور رشید بلوچ کی جبری گمشدگیوں کو سات سال مکمل ہوچکے ہیں سائرہ بلوچ نے اپنی بھائیوں کی بازیابی کے لیے اس ملک میں کوئی ایسا در نہیں چھوڑا جہاں اسے تھوڑی سی امید کی کرن نظر ائی ۔ عدالت ، کمیشن میڈیا کمیٹیوں کے سامنے وہ سات سالوں سے اپنا درد بیان کرتی آرہی ہے جنکے بھائیوں کی گرفتاری بھی ظاہر کی گئی تھی ۔ مگر ان تمام دروازوں پر سائرہ بلوچ کو خالی ہاتھ واپس کیا گیا اپنی بھائیوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کی پاداش میں اس پر کئی مقدمات درج کیے گئے احتجاج کے دوران لاٹھی جارچ آنسو گیس اور گرفتاری کا بھی سامنا رہا ہے آصف اور رشید کو عقوبت خانوں میں سات سال مکمل ہونے پر سوشل میڈیا پر کمپین چلائی جائے گی ہر انسانیت کا درد رکھنے والے فرد سے گزارش ہے کہ اس کمپین میں اپنا حصہ ڈالیں اور جبری گمشدگیوں جیسے انسانیت سوز عمل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں تاکہ سائرہ جیسی بہنوں کی زندگیاں احتجاجی دھرنوں پریس کلبز کے بجائے اسکول اور کالجوں میں گزرئے ۔۔ #ReleaseAsifAndRasheedBaloch #EndEnforcedDisapperances

Nadia Baloch

21,846 просмотров • 10 месяцев назад

NadiaBaloch99's profile picture

سائرہ بلوچ، پچھلے سات سالوں سے اپنے جبری گمشدہ بھائیوں کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ ان سات برسوں میں اس نے وہ تمام قانونی راستے اپنائے جن سے امید تھی کہ شاید انصاف ملے گا اور اس کے بھائی منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔ لیکن سائرہ کے صبر اور پرامن احتجاج کا جواب ریاست نے کیا دیا؟ مقدمات قائم کیے گئے، احتجاجی مظاہروں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ کتنی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ سات سال گزر جانے کے بعد بھی ایک بہن کو یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کے بھائیوں کا جرم کیا تھا، انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ جبری گمشدگیاں ایک “ڈرامہ” ہیں۔ جب ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے سائرہ جیسی بہنوں کے لیے آواز بلند کی تو انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ آواز اٹھانے والے مجرم بنا دیے جائیں، اور ظلم کرنے والے بااختیار رہیں؟ ریاست بلوچستان میں ایک ایسی بند گلی میں داخل ہو چکی ہے جس سے نکلنے کے امکانات روز بروز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں جیسے ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے، اور بلوچستان کو اس کی اصل نمائندگی عوام کے ذریعے دی جائے۔ بصورت دیگر، جو آتش فشاں برسوں سے سلگ رہا ہے، وہلہوا بن کر سب کچھ بھسم کر دے گا۔ ہم صحافیوں اور دانشوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بلوچستان جا کر خود دیکھیں کہ وہاں کی صورتحال کیا ہے۔ صرف سننے اور پڑھنے سے حقیقت آشکار نہیں ہوتی ۔۔ #ReleaseAsifAndRasheed

Nadia Baloch

15,868 просмотров • 10 месяцев назад