Noorulamin Danish's banner
Noorulamin Danish's profile picture

Noorulamin Danish

@Noorulamin0008,782 subscribers

Worked as Crime and investigative reporter @SAMAA TV Islamabad

Shorts

ماں کا سایہ پہلے ہی نہیں تھا ، مزدور باپ ان معصوم بچوں کیساتھ عید منانے آیا تو میانوالی پولیس کے گلوبٹوں نے ان معصوم بچوں کو چاند رات باپ کی لاش تحفے میں دی۔ عید کے دن کربلا کا منظر ہے۔ اوپر خدا کی ذات اور نیچے ان معصوموں کی بے بسی ہے۔ریاست پاکستان میں انکا کوئی ولی وارث نہیں ہے۔یقین مانیے یہ ویڈیو مکمل دیکھنے کے بعد اگر آپ کے آنسو نہیں نکلتے تو خدا سے نرم دل کی دعا کریں۔😭😭😭

ماں کا سایہ پہلے ہی نہیں تھا ، مزدور باپ ان معصوم بچوں کیساتھ عید منانے آیا تو میانوالی پولیس کے گلوبٹوں نے ان معصوم بچوں کو چاند رات باپ کی لاش تحفے میں دی۔ عید کے دن کربلا کا منظر ہے۔ اوپر خدا کی ذات اور نیچے ان معصوموں کی بے بسی ہے۔ریاست پاکستان میں انکا کوئی ولی وارث نہیں ہے۔یقین مانیے یہ ویڈیو مکمل دیکھنے کے بعد اگر آپ کے آنسو نہیں نکلتے تو خدا سے نرم دل کی دعا کریں۔😭😭😭

82,469 views

لاقانونیت کی پیداوار ریاستی فسطائیت کا عملی نمونہ اگر کسی نے نا دیکھا ہو تو میانوالی میں ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ ہونے کے باوجود گلوکار پر پولیس کے بیہمانہ تشدد کی فوٹیج ملاحظہ فرمائیں۔ بلاشبہ یہ قانون کی تذلیل ، یہ ریاستی ادارہ نہیں بلکہ طاقت کا نشہ اور کھلی غنڈا گردی ہےPunjab Police Official

لاقانونیت کی پیداوار ریاستی فسطائیت کا عملی نمونہ اگر کسی نے نا دیکھا ہو تو میانوالی میں ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ ہونے کے باوجود گلوکار پر پولیس کے بیہمانہ تشدد کی فوٹیج ملاحظہ فرمائیں۔ بلاشبہ یہ قانون کی تذلیل ، یہ ریاستی ادارہ نہیں بلکہ طاقت کا نشہ اور کھلی غنڈا گردی ہےPunjab Police Official

26,539 views

شیخ صاحب تسی چھا گئے او وقت وقت کی بات ہے کبھی کچھ لوگوں کا ناشتہ اور ٹی وی چینلز کی عید شیخ صاحب کے بغیر نا ممکن تھی بلکہ سما ٹی وی تو نیوز کاسٹر سے زیادہ شیخ صاحب کو جگہ دیتا تھا۔بہر حال یہ عروج تھا اور خوب عروج تھا اور اسی زمانہ عروج میں سیانے کہتے ہیں جو اچھے برے کو پہچان گیا وہی مرد قلندر۔ایک دفع شیخ صاحب کیساتھ منسٹر انکلیو بیٹھے تھے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا جس پر انہوں نے ناگواری کا خوب اظہار کیا۔ مجھے حیرانگی شیخ صاحب کے ری ایکشن سے زیادہ ان دوستوں سے ہوئی جو ساتھ بیٹھے تھے کیونکہ انکا کام روز صرف یہی بتانا ہوتا تھا شیخ صاحب تسی چھا گئے ہو اور ایسے ماحول کے عادی شخص کے لئیے ظاہر ہے کوئی بھی دوسری رائے کا سننا ناقابل قبول ہوتا ہے۔پھر وقت بدلتا ہے اور سب کچھ الٹ جاتا ہے حتیٰ کہ تھانہ آبپارہ کا ایس ایچ او وڑائچ ان کے لییے جلاد بنا ہوتا ہے وقت کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ وہی واہ واہ کرنے والے کہہ رہے تھے او چھوڑو یار اب رابطہ نہیں کرنا شیخ سے ایسے ہمارے لئیے کوئی مسلہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے اور دوسرا وہ بلا ہی نہ لے ملاقات کے لئیے اور پھر دنیا نے شیخ رشید کو تھانے اور کچہری میں اکیلا دیکھا۔شیخ صاحب جب ایک طاقتور وزیر تھے تو ہر ملاقات کیبعد ہمیشہ سوچتا تھا کئی بار اتنی اہم وزارتوں پر رہنے والے شخص میں کیا سامنے بیٹھے واہ واہ کرنے والے درباریوں کی شناخت نہیں ہے یا وہ بس اپنی واہ واہ ہی سننا چاہتے ہیں۔ بہر حال یہ ان تمام لوگوں کے لئے ایک سبق ہے کہ دنیا میں آپ کی ذات سے کسی کو کوئی پرواہ نہیں ، کوئی آپ کا بھلا نہیں چاہتا بس جب تک ان کے مفادات کے لیے آپ فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں تب تک آپ سے اچھا کوئی نہیں ہے اور جیسے ہی اقتدار طاقت گئی تو شیخ رشید صاحب کے آنسوؤں سے بڑی گواہی تاریخ میں کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ جو کہتے ہیں آپ چھا گئے ، آپ کمال کر رہے ہیں سب آپ کے وقت کو سلام ہوتا ہے۔

شیخ صاحب تسی چھا گئے او وقت وقت کی بات ہے کبھی کچھ لوگوں کا ناشتہ اور ٹی وی چینلز کی عید شیخ صاحب کے بغیر نا ممکن تھی بلکہ سما ٹی وی تو نیوز کاسٹر سے زیادہ شیخ صاحب کو جگہ دیتا تھا۔بہر حال یہ عروج تھا اور خوب عروج تھا اور اسی زمانہ عروج میں سیانے کہتے ہیں جو اچھے برے کو پہچان گیا وہی مرد قلندر۔ایک دفع شیخ صاحب کیساتھ منسٹر انکلیو بیٹھے تھے تو میں نے ان سے ایک سوال کیا جس پر انہوں نے ناگواری کا خوب اظہار کیا۔ مجھے حیرانگی شیخ صاحب کے ری ایکشن سے زیادہ ان دوستوں سے ہوئی جو ساتھ بیٹھے تھے کیونکہ انکا کام روز صرف یہی بتانا ہوتا تھا شیخ صاحب تسی چھا گئے ہو اور ایسے ماحول کے عادی شخص کے لئیے ظاہر ہے کوئی بھی دوسری رائے کا سننا ناقابل قبول ہوتا ہے۔پھر وقت بدلتا ہے اور سب کچھ الٹ جاتا ہے حتیٰ کہ تھانہ آبپارہ کا ایس ایچ او وڑائچ ان کے لییے جلاد بنا ہوتا ہے وقت کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ وہی واہ واہ کرنے والے کہہ رہے تھے او چھوڑو یار اب رابطہ نہیں کرنا شیخ سے ایسے ہمارے لئیے کوئی مسلہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے اور دوسرا وہ بلا ہی نہ لے ملاقات کے لئیے اور پھر دنیا نے شیخ رشید کو تھانے اور کچہری میں اکیلا دیکھا۔شیخ صاحب جب ایک طاقتور وزیر تھے تو ہر ملاقات کیبعد ہمیشہ سوچتا تھا کئی بار اتنی اہم وزارتوں پر رہنے والے شخص میں کیا سامنے بیٹھے واہ واہ کرنے والے درباریوں کی شناخت نہیں ہے یا وہ بس اپنی واہ واہ ہی سننا چاہتے ہیں۔ بہر حال یہ ان تمام لوگوں کے لئے ایک سبق ہے کہ دنیا میں آپ کی ذات سے کسی کو کوئی پرواہ نہیں ، کوئی آپ کا بھلا نہیں چاہتا بس جب تک ان کے مفادات کے لیے آپ فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں تب تک آپ سے اچھا کوئی نہیں ہے اور جیسے ہی اقتدار طاقت گئی تو شیخ رشید صاحب کے آنسوؤں سے بڑی گواہی تاریخ میں کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ جو کہتے ہیں آپ چھا گئے ، آپ کمال کر رہے ہیں سب آپ کے وقت کو سلام ہوتا ہے۔

16,580 views

Videos

No more content to load