Naureen Ruftaj Khan's banner
Naureen Ruftaj Khan's profile picture

Naureen Ruftaj Khan

@Ruftaj119,774 subscribers

Tigress of Khan| A fearless voice for Justice & Haqeeqi Azadi | Standing firm with IK till the last breath | Anti-Mullah | Retweets ≠ Endorsements.

Shorts

صبح کے 5:48am بجے۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں احتجاج مؤخر ہو گیا یہ ویڈیو ان کے لیے۔۔

صبح کے 5:48am بجے۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں احتجاج مؤخر ہو گیا یہ ویڈیو ان کے لیے۔۔

309,301 Aufrufe

اصل غلام تو تم لوگ ہو۔ بھول جاتے ہو۔

اصل غلام تو تم لوگ ہو۔ بھول جاتے ہو۔

126,601 Aufrufe

عوام کی پھٹتی ہے تو پھٹے 🤣

عوام کی پھٹتی ہے تو پھٹے 🤣

47,339 Aufrufe

اللہ میرے ساتھ ہے، اللہ عمران خان کے ساتھ ہے اعجاز چوہدری کی انسداددہشت گردی عدالت پیشی پر مختصر گفتگو #IamWithKhan #PTIWillWin

اللہ میرے ساتھ ہے، اللہ عمران خان کے ساتھ ہے اعجاز چوہدری کی انسداددہشت گردی عدالت پیشی پر مختصر گفتگو #IamWithKhan #PTIWillWin

10,717 Aufrufe

Videos

Ruftaj's profile picture

شوہد کے مطابق، سہیل آفریدی ملٹری جرنلز کو دیے جانے والے بجٹ اور صوبوں سے نکالے جانے والے اربوں روپے کے معاملے پر عمران خان سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ مزمل اسلم نے انہیں مشورہ دیا کہ وفاقی حکومت ہر صورت یہ پیسے لے گی، اس لیے ہاں کرنے میں ہی عافیت ہے۔ سہیل آفریدی نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہیں غلط گائیڈ کیا گیا، ورنہ وہ یہ سودا نہ کرتے۔ خیبر پختونخوا (KP) میں عمران خان کی پہلی پسند تیمور سلیم جھگڑا تھے، جو کہ ایک انتہائی قابل اور تجربہ کار شخصیت ہیں۔ علی امین گنڈاپور کو لانے کا فیصلہ اس وقت کی احتجاجی تحریک کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔ کابینہ کی تشکیل کے وقت گنڈاپور نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے تیمور جھگڑا کو وزیرِ خزانہ بنانے سے انکار کیا۔ عمران خان کی مرضی کے برعکس، مزمل اسلم کو کے پی کے کے فنانس کے معاملات سونپے گئے جو کہ گنڈاپور کی پسند تھے۔ یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ پسِ پردہ کس طرح کے سیاسی فیصلے اور سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔

Naureen Ruftaj Khan

64,507 Aufrufe • vor 9 Tagen

Ruftaj's profile picture

• زرداری صاحب کمال کے فنکار ہیں، وہ عمران خان کی قید کو کم اور اپنی 14 سالہ قید کو بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں۔ • زرداری صاحب پہلی بار اکتوبر 1990 میں گرفتار ہوئے اور محض دو سال بعد رہا ہو گئے۔ • ان پر اغوا، بھتہ خوری اور بینک فراڈ جیسے سنگین مقدمات قائم تھے۔ • 1998 میں نیویارک ٹائمز نے ان کے اور بینظیر بھٹو کے بین الاقوامی گھپلوں پر ایک انکشافاتی کہانی شائع کی۔ • نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے خلاف زرداری صاحب نے آج تک کوئی قانونی دعویٰ نہیں کیا۔ • ان کی کرپشن کی تاریخ ایسی ہے کہ 1999 میں امریکی سینٹ میں ان کے کیس کو بطور "کیس اسٹڈی" پڑھایا گیا۔ • امریکی سینٹ میں زرداری صاحب کا ذکر بینکنگ سسٹم کی خامیوں اور مالی بدعنوانی کو سمجھنے کے لیے کیا گیا۔ • 1998 میں سوئس حکومت نے پاکستان کو زرداری صاحب کی منی لانڈرنگ کے ٹھوس ثبوت فراہم کیے۔ • سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے واضح کیا کہ انہوں نے پاکستان کا پیسہ غیر قانونی طور پر وہاں منتقل کیا ہے۔ • 1997 میں دوبارہ گرفتاری کے بعد وہ ڈیڑھ سال بھی جیل برداشت نہ کر سکے اور مئی 1999 میں ہسپتال منتقل ہو گئے۔ عمران ریاض خان

Naureen Ruftaj Khan

21,008 Aufrufe • vor 4 Monaten

Keine weiteren Inhalte verfügbar