Sadia Syed's banner
Sadia Syed's profile picture

Sadia Syed

@sapisyed • 8,746 subscribers

Resisting injustice | Anti-dictatorship | Unconditional supporter of Imran Ahmad Khan Niazi

Videos

sapisyed's profile picture

میں جب بھی کینیڈا سے کراچی آتی ہوں تو ایسا لگتا ہے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے پہلو میں زندہ ہیں۔ اگر آپ کراچی ائیر پورٹ سے سیدھا کینٹونمنٹ کے اندر جائیں تو یہ اندازہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم کینیڈا سے کراچی پہنچ چکے ہیں یا پھر ابھی کینیڈا میں ہی ہیں۔ کشادہ صاف ستھری ہموار سڑکیں، گھنے سایہ دار درخت، جگہ جگہ اچھلتے فوارے، صاف ستھرا ماحول، خوبصورت دکانیں، بہترین سہولیات دیکھ کر یہ لگتا ہی نہیں کہ ہم پاکستان میں ہیں۔ اسی کینٹ کے گیٹ سے اگر باہر نکلیں تو یوں احساس ہوتا ہے کہ بالکل ایک دوسری دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ دھول مٹی کا طوفان، ٹوٹی پھوٹی صدیوں سے زیر تعمیر نا ہموار سڑکیں، سڑکوں پر بہتا سیوریج کا پانی، بے ہنگم بے ترتیب ٹریفک دیکھ کر دماغ پھٹنے لگتا ہے۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ پچھلے اٹھتر سال سے قبضہ تو اس گیٹ سے باہر والے پاکستان پر بھی اسی پاک فوج کا ہے تو کیا وجہ ہے کہ گیٹ کے ایک طرف تو انتہائی خوبصورت ہموار اور کشادہ سڑکیں ہیں اور دوسری طرف یہی فوج کئی دھائیوں میں چند سڑکیں مرمت کروانے سے قاصر رہتی ہے۔ گیٹ کے ایک طرف ریٹائرڈ اور حاضر سروس تمام فوجیوں کو شاندار ترین اور تقریباً مفت صحت کی سہولیات دستیاب ہیں اور گیٹ کی دوسری طرف لوگ دوائیوں اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بناء پر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہیں۔ وہی ادارہ آرمی پبلک اسکولز اور یونیورسٹییز جیسے شاندار اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے بناتا ہے اور دوسری طرف اسی ادارے کے مقبوضہ باقی ملک میں دو کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور جو اسکولوں میں ہیں وہ بھی بد ترین معیار کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مجھے یہ نہ کہئے گا کہ فوج کا کام گیٹ کے باہر سڑکوں تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ کیونکہ فوج کا کام تو کینٹونمنٹ کے گیٹ کے اندر بھی یہ تمام سہولیات فراہم کرنا نہیں۔ اس کا کام تو جنگ لڑنا ہے وہ جب بھی یہ لڑتی ہے تو پینٹیں اتروا کر بھاگ نکلتی ہے۔ تو اگر یہ گیٹ کے اندر یہ سب کچھ ہو سکتا ہے تو باہر یہ سب کچھ کرنے سے تمھیں کون روک رہا ہے؟ اور اگر باہر لوگوں کو یہ سب میسر نہیں ہے تو انہوں نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس کے بدلے میں یہ عوام کا حق مار کر عیاشی کر رہے ہیں ؟ مسئلہ صرف یہ ہے کہ فوج جانتی ہے کہ وہ اس ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم ان کے غلام ہیں۔ غلاموں کو سہولیات نہیں دی جاتیں۔ ان کا خون نچوڑا جاتا ہے ۔ ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہر شہر کے اندر بسی یہ دو دنیائیں محض اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس میں قابض اور غاصب حکمران جان بوجھ کر رعایا کو بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ وہ کبھی بغاوت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے تقسیم پاکستان سے پہلے ہندوستان پر قابض برطانوی سامراج راجے مہاراجے بنا کر رکھا کرتے تھے ان کے گلے میں موتیوں کے ہار پہنا کر انہیں مسند پر بٹھا دیا جاتا تھا اور انہیں کہا جاتا تھا کہ ہمارے لئے ان کمی کمین کالے پیلے لوگوں کا خون نچوڑ کر انہیں ہمارا غلام بنا کر رکھو ۔ انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھو ۔ بدلے میں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ تم بھی کچھ حصہ رکھ لو ۔ بس یہ وہی راجے مہاراجے ہیں جو گیٹ کے پرلی طرف آج بھی عوام کے سر پر مسلط ہیں ۔

Sadia Syed

31,044 görüntüleme • 4 ay önce

sapisyed's profile picture

عاصم منیر کیسا بے لگام، متکبر اور ظالم شخص ہے جو اپنے آپ کو خدا کے برابر لا کھڑا کر رہا ہے جو اللہ کی آیات کا سہارا لے کر اپنی گھناؤنی حرکتوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے جو لوگوں کو ریاست کے نام پر اپنی چوکھٹ پر سجدہ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ یہ شخص کہتا ہے کہ اللہ بڑا غفور الرحیم ہے، مگر معافی تبھی ملے گی جب ریاست – یعنی خود عاصم – معاف کرے! یہ جملہ صرف فرعونیت نہیں، بلکہ ربوبیت کا دعویٰ ہے! تاریخ میں ایسے کتنے ظالم گزرے جو اللہ کے نام پر اپنی خدائی جمانے کی کوشش کرتے رہے، مگر عبرت کا نشان بن گئے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے 26 نومبر کو نہتے پاکستانیوں کے سروں پر گولی مارنے کے احکامات دیے، جو اپنے ہی عوام کے خون سے ہاتھ رنگ چکا ہے، جو معصوموں کے قتل کو جائز سمجھ کر فخر سے کھڑا ہے، اور اب قرآنی آیات کو اپنی فرعونیت کے جواز کے طور پر پیش کر رہا ہے! یہ ایک ذہنی مریض ہے، ایک بیمار دماغ کا حامل شخص، جو طاقت کے نشے میں اللہ کی آیات کو اپنے اقتدار کے حق میں توڑ مروڑ رہا ہے۔ یہ وہی روش ہے جو ہر جابر حکمران نے اختیار کی، اور پھر تاریخ نے انہیں ذلت کے گڑھوں میں پھینک دیا۔ لیکن یاد رکھو! ہم اس لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں جو “اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَإِیَّاکَ نَسْتَعِینُ” پر ایمان رکھتا ہے، جو کسی جابر، کسی ظالم کے آگے سر نہیں جھکاتا، اور نہ ہی اپنی قوم کو کسی غیر کے غلامی کے طوق پہننے دیتا ہے۔ ہم کسی ایسے شخص کو اپنا حکمران تسلیم نہیں کر سکتے جو اللہ کے بجائے خود کو طاقت کا سرچشمہ سمجھنے لگا ہو۔

Sadia Syed

15,226 görüntüleme • 1 yıl önce

Daha fazla içerik yok.