Shabbir Hussain Turi's banner
Shabbir Hussain Turi's profile picture

Shabbir Hussain Turi

@ShabbirTuri8,509 subscribers

Chief Editor @DailyUrduNet | Pakistan & Global Coverage on #Terrorism #Extremism #Conflicts #Militancy | #OSINT | Personal Views.

Shorts

کراچی میں امریکی قونصلیٹ کی جانب بڑھنے والے شیعہ مظاہرین کے حوالے سے مصدقہ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین میں شامل بعض افراد مسلح تھے اور انہوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق موقع پر فائرنگ اور جوابی فائرنگ کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ ابتک ملک بھر میں جھڑپوں کے دوران 25 مظاہرین ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی سرکاری اعداد و شمار جاری ہونا باقی ہیں۔ کراچی میں ایک بکتر بند گاڑی اور متعدد پولیس چیک پوسٹوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ شہر کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

Sensitive content

کراچی میں امریکی قونصلیٹ کی جانب بڑھنے والے شیعہ مظاہرین کے حوالے سے مصدقہ سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین میں شامل بعض افراد مسلح تھے اور انہوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق موقع پر فائرنگ اور جوابی فائرنگ کے مناظر بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ ابتک ملک بھر میں جھڑپوں کے دوران 25 مظاہرین ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی سرکاری اعداد و شمار جاری ہونا باقی ہیں۔ کراچی میں ایک بکتر بند گاڑی اور متعدد پولیس چیک پوسٹوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ شہر کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

29,692 просмотров

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبے میں میڈیا کوریج پر سخت پابندیاں اور سنسرشپ نافذ ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث خبریں تاخیر سے موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے وقت مسافر گاڑیاں صرف سکیورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرتی ہیں، اور شام کے بعد مختلف شاہراہوں پر بلوچ عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں عسکریت پسند فوجیوں کی وردی کو سڑک کے کنارے پھینکتے اور متعدد گاڑیوں کو تباہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز کو متعدد بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جانی و مالی نقصانات بھی شامل ہیں۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو میں ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ #Terrorism #Balochistan #Pakistan

Sensitive content

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبے میں میڈیا کوریج پر سخت پابندیاں اور سنسرشپ نافذ ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث خبریں تاخیر سے موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے وقت مسافر گاڑیاں صرف سکیورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرتی ہیں، اور شام کے بعد مختلف شاہراہوں پر بلوچ عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں عسکریت پسند فوجیوں کی وردی کو سڑک کے کنارے پھینکتے اور متعدد گاڑیوں کو تباہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز کو متعدد بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جانی و مالی نقصانات بھی شامل ہیں۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو میں ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ #Terrorism #Balochistan #Pakistan

16,967 просмотров

Videos

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبے میں میڈیا کوریج پر سخت پابندیاں اور سنسرشپ نافذ ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث خبریں تاخیر سے موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے وقت مسافر گاڑیاں صرف سکیورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرتی ہیں، اور شام کے بعد مختلف شاہراہوں پر بلوچ عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں عسکریت پسند فوجیوں کی وردی کو سڑک کے کنارے پھینکتے اور متعدد گاڑیوں کو تباہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز کو متعدد بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جانی و مالی نقصانات بھی شامل ہیں۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو میں ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ #Terrorism #Balochistan #Pakistan
0:34

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

ShabbirTuri's profile picture

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں گزشتہ تین ماہ کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صوبے میں میڈیا کوریج پر سخت پابندیاں اور سنسرشپ نافذ ہیں، جبکہ انٹرنیٹ کی بندش اور دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث خبریں تاخیر سے موصول ہو رہی ہیں۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ دن کے وقت مسافر گاڑیاں صرف سکیورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرتی ہیں، اور شام کے بعد مختلف شاہراہوں پر بلوچ عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے درجنوں ویڈیوز بھی وائرل ہیں جن میں عسکریت پسند فوجیوں کی وردی کو سڑک کے کنارے پھینکتے اور متعدد گاڑیوں کو تباہ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس دوران سکیورٹی فورسز کو متعدد بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں جانی و مالی نقصانات بھی شامل ہیں۔ تاہم حکومتی موقف یہ ہے کہ بلوچستان میں صورتحال قابو میں ہے اور حالات معمول کے مطابق ہیں۔ #Terrorism #Balochistan #Pakistan

Shabbir Hussain Turi

16,967 просмотров • 10 месяцев назад

پاکستان میں ایک نئے عسکریت پسند گروپ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ 7 منٹ کی اس ویڈیو میں، جس میں اردو اور پشتو زبانوں میں خطاب کیا گیا، گروپ نے پاکستان کو اپنے آپریشن کا مرکز قرار دیا اور پاکستانی فوجی دستوں کو بنیادی ہدف بنانے کا اعلان کیا۔ ویڈیو میں گروپ کے رہنما، جس کی شناخت امیر غازی شہاب الدین کے نام سے ہوئی، جدید ہتھیاروں سے لیس ایک درجن سے زائد نقاب پوش جنگجوؤں کے درمیان کھڑے ہو کر خطاب کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے گروپ کے مقاصد اور منشور کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ملک میں "اسلامی نظام" کا قیام ہے۔ غازی شہاب الدین نے مزید کہا کہ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" پاکستان میں دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا، تاہم ویڈیو میں کسی مخصوص حملے یا منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس نئے گروپ کا اعلان پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس گروپ کے پس منظر، اس کے رہنماؤں، مالی وسائل اور ممکنہ نیٹ ورکس کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ #Terrorism #Pakistan #Taliban #HarakatInqilabIslamiPakistan
7:39

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

ShabbirTuri's profile picture

پاکستان میں ایک نئے عسکریت پسند گروپ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ 7 منٹ کی اس ویڈیو میں، جس میں اردو اور پشتو زبانوں میں خطاب کیا گیا، گروپ نے پاکستان کو اپنے آپریشن کا مرکز قرار دیا اور پاکستانی فوجی دستوں کو بنیادی ہدف بنانے کا اعلان کیا۔ ویڈیو میں گروپ کے رہنما، جس کی شناخت امیر غازی شہاب الدین کے نام سے ہوئی، جدید ہتھیاروں سے لیس ایک درجن سے زائد نقاب پوش جنگجوؤں کے درمیان کھڑے ہو کر خطاب کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے گروپ کے مقاصد اور منشور کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ملک میں "اسلامی نظام" کا قیام ہے۔ غازی شہاب الدین نے مزید کہا کہ "حرکت انقلاب اسلامی پاکستان" پاکستان میں دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا، تاہم ویڈیو میں کسی مخصوص حملے یا منصوبے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس نئے گروپ کا اعلان پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال کے لیے ایک نیا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس گروپ کے پس منظر، اس کے رہنماؤں، مالی وسائل اور ممکنہ نیٹ ورکس کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔ #Terrorism #Pakistan #Taliban #HarakatInqilabIslamiPakistan

Shabbir Hussain Turi

12,089 просмотров • 1 год назад

Больше нет контента для загрузки