Muhammad Umar's banner
Muhammad Umar's profile picture

Muhammad Umar

@UmarFerozpuria11,149 subscribers

ڈاکٹر بونگا

Shorts

یہ واقعہ بلکل میرے سامنے ہوا ہے😒

یہ واقعہ بلکل میرے سامنے ہوا ہے😒

211,372 次观看

تحریکِ لبیک کے زہریلے اثرات! اب ہمارے معاشرے کی رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں — گوجرانوالہ کا تازہ واقعہ اس زہر کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتا ہے۔ ملتان کے رہائشی غلام مرسلین نے اپنی تیس سالہ پھوپھی فرح کو مبینہ طور پر “توہینِ مذہب” کے الزام میں بے دردی سے قتل کر دیا۔ بچوں کے اسکول جانے اور شوہر کے کام پر ہونے کے وقت وہ گھر آیا، تیز دھار چھری سے اس کا گلا کاٹ دیا اور پھر خون آلود چھری ہاتھ میں لیے نعرے لگاتے ہوئے باہر نکلا کہ اس نے “توہینِ مذہب” کرنے والی کو سزا دے دی ہے۔ یہ سانحہ محض ایک واحد واقعہ نہیں — یہ ایک ایسی ذہنیت کا ثبوت ہے جو مذہب کو تشدد کا جواز سمجھنے لگی ہے۔ تحریکِ لبیک نے جذباتیت، غیر ذمہ داری اور تشدد کی ترویج کے ذریعے ایک خطرناک ماحول جنم دیا ہے: بحث و تمحیص کی جگہ غصہ، دلیل کی جگہ خودسرانہ سزا قبول کر لی گئی ہے۔ یہ زہر گھر کے اندر تک پہنچ چکا ہے جہاں رشتے، رحم اور انسانی ہمدردی سب پامال ہو رہے ہیں۔ اگر ہم فوراً ہوش نہ کریں تو یہ آگ صرف “دوسروں” کو نہیں — بلکہ ہمیں بھی راکھ بنا دے گی۔ ساتھ ہی ایک اور تشویش بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی: کبھی کبھی ایسے الزامات جائیداد یا ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہتھیار بنائے جاتے ہیں — ایک عزیز کو راستے سے ہٹانے یا اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے “توہینِ مذہب” کا سہارا لیا جانا۔ یہ سوچ ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ محض انتہا پسندی نہیں، بلکہ قانون، انسانی ضمیر اور سماجی رویوں کا ایک وسیع بحران بن چکا ہے۔ ہمیں فوری، منتشر اور یکجہت ردعمل درکار ہے: قانون کا بلا امتیاز نفاذ، مذہبی حساسیت اور آزادی اظہار کے مابین دانشمندانہ توازن، تعلیمی و تربیتی پروگرام جو نفرت کی بیج کو ختم کریں، اور ایک مضبوط سماجی روایہ جو باہمی احترام، رواداری اور انصاف کو فروغ دے۔ بصورتِ دیگر یہ زہر ہمارے معاشرتی دھاگوں کو کتر کر رکھ دے گا — اور اس کے نتائج ناقابلِ واپسی ہوں گے۔ تحریر— میر احمد کامران مگسی

تحریکِ لبیک کے زہریلے اثرات! اب ہمارے معاشرے کی رگ و پے میں سرایت کر چکے ہیں — گوجرانوالہ کا تازہ واقعہ اس زہر کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتا ہے۔ ملتان کے رہائشی غلام مرسلین نے اپنی تیس سالہ پھوپھی فرح کو مبینہ طور پر “توہینِ مذہب” کے الزام میں بے دردی سے قتل کر دیا۔ بچوں کے اسکول جانے اور شوہر کے کام پر ہونے کے وقت وہ گھر آیا، تیز دھار چھری سے اس کا گلا کاٹ دیا اور پھر خون آلود چھری ہاتھ میں لیے نعرے لگاتے ہوئے باہر نکلا کہ اس نے “توہینِ مذہب” کرنے والی کو سزا دے دی ہے۔ یہ سانحہ محض ایک واحد واقعہ نہیں — یہ ایک ایسی ذہنیت کا ثبوت ہے جو مذہب کو تشدد کا جواز سمجھنے لگی ہے۔ تحریکِ لبیک نے جذباتیت، غیر ذمہ داری اور تشدد کی ترویج کے ذریعے ایک خطرناک ماحول جنم دیا ہے: بحث و تمحیص کی جگہ غصہ، دلیل کی جگہ خودسرانہ سزا قبول کر لی گئی ہے۔ یہ زہر گھر کے اندر تک پہنچ چکا ہے جہاں رشتے، رحم اور انسانی ہمدردی سب پامال ہو رہے ہیں۔ اگر ہم فوراً ہوش نہ کریں تو یہ آگ صرف “دوسروں” کو نہیں — بلکہ ہمیں بھی راکھ بنا دے گی۔ ساتھ ہی ایک اور تشویش بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی: کبھی کبھی ایسے الزامات جائیداد یا ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہتھیار بنائے جاتے ہیں — ایک عزیز کو راستے سے ہٹانے یا اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے “توہینِ مذہب” کا سہارا لیا جانا۔ یہ سوچ ہمیں بتاتی ہے کہ مسئلہ محض انتہا پسندی نہیں، بلکہ قانون، انسانی ضمیر اور سماجی رویوں کا ایک وسیع بحران بن چکا ہے۔ ہمیں فوری، منتشر اور یکجہت ردعمل درکار ہے: قانون کا بلا امتیاز نفاذ، مذہبی حساسیت اور آزادی اظہار کے مابین دانشمندانہ توازن، تعلیمی و تربیتی پروگرام جو نفرت کی بیج کو ختم کریں، اور ایک مضبوط سماجی روایہ جو باہمی احترام، رواداری اور انصاف کو فروغ دے۔ بصورتِ دیگر یہ زہر ہمارے معاشرتی دھاگوں کو کتر کر رکھ دے گا — اور اس کے نتائج ناقابلِ واپسی ہوں گے۔ تحریر— میر احمد کامران مگسی

128,905 次观看

تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا☹️

تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا☹️

132,127 次观看

Videos

کس کس نے یہ سونے جیسا دور دیکھا ہے؟؟🥹🥹
1:04

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

没有更多内容可加载