正在加载视频...

视频加载失败

19 جنوری کو دو مشینیں پمز سے اڈیالہ منتقل کی گئیں Slit Lamp Machine اور OCT Macgine ان دونوں مشینوں کے ذریعے عمران خان کے ٹیسٹ کیے گئے اور پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ عمران خانCRVOنامی بیماری میں مبتلا ہیں۔اس سے پہلے صرف اندازے سے ڈراپس دے کر آنکھ...

70,598 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🚨بڑی خبر صحافی اسد اللہ خان نے اہم خبر بریک کر دی ہے عمران خان کی بینائی آنکھ چھینی گئی خبر یہ ہے کہ دو مشینیں 19 تاریخ کے چیک اپ سے پہلے جیل منتقل کی گئی اڈیالہ دو مشین ایک کا نام تھا سلٹ لیم اور دوسری او سی ٹی مشین اپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی یہ ایک ٹیسٹ ہوتا ہے اوسی ٹی ٹیسٹ تو یہ او سی ٹی مشین منتقل کی گئی یہ دو مشینیں اڈیالہ لے جائی گئیں اور 19 تاریخ کو پہلی مرتبہ یہ تشخیص ہوئی کہ عمران عمران خان سی ار وی نامی بیماری میں مبتلا ہیں یہ تشخیص پہلی مرتبہ سی ار وی او نامی تشخیص 19 جنوری کو ہوئی جو رانا ثنا اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ عمران خان نے شکایت جنوری کے پہلے ہفتے میں کی تھی نہیں صاحب جنوری کے پہلے ہفتے میں یہ شکایت کی تھی کہ بھائی میری بالکل نظر بند ہو گئی ہے بینائی چلی گئی ہیں یہ انہوں نے جنوری کے پہلے ہفتے میں کہا تھا اور تب ان سب کو ہوش ایا اور انہوں نے ڈاکٹرز اور مشینیں منگوانا شروع کی اس سے پہلے عمران خان اپنی انکھ کی تکلیف کا مسلسل بتا رہے تھے لیکن کسی نے اتنی زحمت گوارا نہیں کی کہ ان کے ڈیٹیل ٹیسٹ کی جائے یہ کسی نے گوارا نہیں گیا بلکہ اگست میں یہ معاملا شروع ہوا تھا عمران خان کی آنکھ چھین لی گئی ہیں آنکھ کا بدلہ آنکھیں ۔۔🔥🔥

Dr.Rabbia Bibi

36,715 次观看 • 5 个月前

بریکنگ نیوز 🚨 علیمہ خان کا ایمرجنسی پیغام 🛑 یہ انتہائی اہم اور فوری ہے کہ عمران خان کا مناسب طبی سہولیات والے ہسپتال میں معائنہ اور علاج کیا جائے۔ ہم نے چیف جسٹس کو اپنی سفارشات میں واضح طور پر مطالبہ کیا تھا کہ ان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے **شفا انٹرنیشنل ہسپتال** میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں، ان کے ذاتی معالجین کی موجودگی میں اور خاندان کے افراد کی موجودگی میں کیا جائے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اڈیالہ جیل میں ڈاکٹروں کے دورے پر اطمینان کا اظہار کیا اور خاندان کے جائز اور قانونی مطالبات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ **وہ کیا چھپا رہے ہیں؟** حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے عمران خان کو مناسب معائنہ، ٹیسٹ اور علاج سے روکنے کی غیر معمولی کوششیں — یعنی کسی معتبر ٹرشیری کیئر ہسپتال میں ان کے اپنے ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور خاندان کی موجودگی میں — سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔ حکومتی وزراء نے غلط طور پر دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کی موجودگی اور ذاتی ڈاکٹروں کی شرط کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوئی۔ یہ کوئی تاخیری حربہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ شفافیت، مناسب علاج اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری حفاظتی اقدام تھا۔ پمز کے ڈاکٹر کے ساتھ جو اضافی ڈاکٹر اڈیالہ جیل بھیجا گیا تھا، وہ صرف معائنہ کے لیے تھا، علاج کے لیے نہیں۔ جیل کی سہولیات میں مناسب آلات، ماحول اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی میں کون سے جامع معائنات کیے جا سکتے ہیں؟ پمز کے ڈاکٹروں کے ساتھ الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ایک ماہر کو پیر، 16 فروری کو اڈیالہ جیل بھیجا گیا تھا تاکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے مقررہ ڈیڈ لائن کی تعمیل دکھائی جا سکے۔ تاہم، منگل، 17 فروری کو عمران خان نے بشریٰ بی بی کے ذریعے ان کی بیٹی کو پیغام پہنچایا کہ وہ ڈاکٹروں کے دورے یا فراہم کیے جانے والے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، اور انہوں نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ ان کے خون کے ٹیسٹ ان کے ذاتی ڈاکٹروں ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کی موجودگی میں کیے جائیں۔ ہم ان معائنات کی بنیاد پر تیار کی گئی کسی بھی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں جو عمران خان کے ذاتی معالجین اور خاندان کے فرد کی غیر موجودگی میں کیے گئے ہوں۔ **فوریت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔**

ZEShan ⚫

31,085 次观看 • 5 个月前