Загрузка видео...
Не удалось загрузить видео
2011 میں جب پروجیکٹ عمران خان پہ کام کیا جا رہا تھا تو تب میرا ایک دوست تھا جس کے ساتھ میں نے دو ٹی وی چینل پہ کام کیا اور باقی بھی بڑے بڑے تجزیہ نگار کالم لکھتے تھے احمدی نژاد اور عمران خان کا موازنہ کیا جاتا... show more
30,231 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)
Комментарии: 39

بہت جلد آ نیویارک ٹائمز پر ایک اور خبر بھی دیکھیں گے کہ دوسرا بھی کوئی خاص مختلف نہیں تھا بس یہ کہ اس کا سب کو پہلے سے ہی پتا تھا کیونکہ اس کی پہلی بیوی اور سسرال خود صیہونیت کا بانی تھا

یہ بات کی نا آپ نے ایسا ہی ہے

پوری دنیا گھوم کے آخر میں رشتہ عمران خان کو ہی دینا ہوتا ہے ٹاوٹوں نے۔ انکار ہے خان کی طرف سے

ٹاؤٹ تھا یہ بھی اس لئے

پٹواریوں نے اتے جاتے عمران خان کی شلوار میں اپنی بیٹی چیک کرنی ہوتی ہے

گا ف میں بازو دیتے ہیں

وہ تو عوام نے دیا تھا تم لوگوں کو اٹھ فروری 2024 کو

جی جی عجیب امریکی ایجینٹ ہے کہ جو خود تو جیل میں قید ہے لیکن ان کو جیل میں ڈالنے والے کھبی امریکہ کیلیے پیغام رسانی کا کردار ادا کر رہے کھبی پلیٹ میں بھرے معدنیات پیش کر رہے اور کھبی مسلمان ملکوں پر بارود گرانے والوں کو نوبل انعام کیلیے نامزد کر رہے۔

حیرت انگیز مماثلتیں

اس بھونکو کو بولو بات کرے اسکے بارے میں

پروجیکٹ عمران خان کا تو پتہ نہیں مگر نواز شریف خود جلسوں میں ضیاالحق کو باپ اور کمروں میں جیلانی کو باپ مان کر آیا تھا نواز شریف تو سکہ بند فوجی ٹاؤٹ ھے جس کو جتوانے کے لئے آئی ایس آئی نے پیسے دیئے اور اسکے مکمل ثبوت اور فیصلے موجود ہیں لہذا پٹواری بصار کی بجائے حقائق دیکھیں

نیازی بھی تو موساد کا ایجنٹ ہے

بالکل

کیا احمقانہ گفتگو کر رہا ہے یہ ابصار عالم نامی شخص۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے کہ اس کا دماغ چل چکا ہے!!!

ویسے تم سے بڑا ڈرامہ باز بھی کوی نہیں ابصار عاکم ۔ لوٹنے والوں میں تم بھی کسی سے پیچھے نہیں

ظلم کا عجیب ڈھب ہے دیکھو

جی بالکل

سب دیکھاوا ہے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے

Very genuine and true analysis.

نیویارک ٹائمز نہ ہوا اس کا اور تیری مان کا بھوسڑا ہو جیسے جسے سب آنکھ بند کر قبول کرلیں چوتئے پٹواری

یہ سب کچھ احمد نژاد نے ایرانی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر کیا ہو گا۔۔اکیلا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ابصار عالم صاحب

پروجیکٹ عمران خان پہ کام کرنے والے پروجیکٹ اقرار یا پروجیکٹ شہباز کیوں نہ کر سکے دلے، م چ جھٹے گندے شیطان

NYT to aur b bohat kuj kehta aaya hai kya sab such likhta hai?

کتے کی طرح بھونک لینا کوئی کمال نہیں یہ بھونکنا نسل کا پتہ دیتا ہے

Wow great discovery Ahmedinijad did win the world cup he wasn't a youth icon he was not even a philanthropist did even build a cancer hospital,nor a university ,he was not even a cricketer. !! Oh my God And he wasnt handsome too. so where does that leave Imran Khan. Incomparable

اپ اتنا پکا منہ بنا کے جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں یار اپ لوگوں کو شرم بھی نہیں اتی

اور نیویارک ٹائمز کا مالک کون ہے؟؟ اور کیا کسی بات کے درست ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہو

1983 میں پراجیکٹ نواجا چور شروع کیا گیا تھاپہلے اسے وزیرخزانہ بنایا پھر اسے وزیراعلی بنایا پھر قومی اتحاد کا چئیرمین بنایا پھر اسے وزیراعظم بنایا پھر اسے نکال دیا پھر اسے ن لیگ کا صدر بنایا پھر اسے وزیراعظم بنایاپھراسے نکالا ملک بدر کیا پھر اسےواپس لاے پھر وزیراعظم بنایاپھر نکالا

Ye Randi ka bacha Soor 🐷🐽🐗🐖 ki haraam nasal ka lifafa Patwari tout hay jo khud project chor dakoo Nawaz sharif ka nokar hay

Mr joker laffafi

نیویارک ٹایمز مطلب امریکہ خود اپنا ایجنٹ ایکسپوز کرے واہ جی واہ

اس شخص کی اپنی سکھ کیا ھے۔ اس کو پتہ بھی ھے 🤔🤔🤔🤔

ضیا الحق کے انڈروئر بدلنے والا کوئ نہیں مل رہا تھا پھر اس وقت کے بھنگیوں نےبولا کہ لاہور میں ایک بھنگی خاندان رہتا ہے جن کا کام ہی گندے کپڑے دھونا اور بدلنا ہے اس خاندان کی محنت کو دیکھ کر آج ابصار اور اس پٹواری بھنگی جیسے بھی معززبن کےاپنے مالکوں کے لئے دن رات بھونکتے رہتے ہیں۔

آپ لوگ بھی تو صحافی کم اور پراجیکٹ زیادہ ہیں

تو دوسرا کون سا محمد بن قاسم تھا۔ وہ بھی موساد کا ہی ایجنٹ تھا

چوتیے کو یہ نہیں پتہ کہ پراجیکٹ نواز شریف تو سن 1978 سے شروع ہوگیا تھا جو آج تک زبردستی چلایا جا رہا ہے۔ جس نے اس جیسے دلے کو بھی PTA کا چئیرمیں بنا دیا۔ اور ملک کو الگ لوٹ کر کھا گیا۔ اس پر بات نہین کرے گا یہ

شکل سے ہی بہروپیا لگتا ہیں تمہارے اندر ایمانداری دور دور تک نہیں

🤣😂🤡

اگر اس بات کو سچ مان بھی لیا جائے تو ایجنسیاں وقت پر یہ حقیقت کیوں آشکار نہیں کرتیں اور کاروائی نہیں کرتیں،ایک کونسلر کا الیکشن لڑنے والے کے پردادا تک کو ایجنسیاں کھنگال لیتی ہیں تو پھر اتنے بڑے عہدے کی حقیقت کو 30 سے 50 سال کیوں لگتے ہیں
