Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

2023 میں جو بیرونِ ملک سے یوکرین سے گندم درآمد کی گئی تھی وہ 6000 ارب روپے کا ایک اسکینڈل تھا۔ اس کے نتیجے میں حکومت نے دو سیکرٹریز کو فارغ کیا تھا اور پھر انہیں بیرونِ ملک بھیج کر ان کی ریپوٹیشن بحال کر دی تھی۔ پچھلے سال...

70,316 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

"پاکستان میں 2022 میں جب پی ڈی ایم ون کی حکومت آئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو پاکستان کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا۔ 30 جون 2026 تک یہ قرضہ بڑھ کر 99 ہزار 500 ارب روپے ہو چکا ہے۔ میرے خیال میں اب تک قرضے کی 100 ٹریلین روپے کی سینچری بھی مکمل ہو چکی ہوگی، کیونکہ یہ اعداد و شمار 30 جون 2026 کے ہیں۔ یعنی تقریباً چار سال میں مجموعی طور پر 56 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا۔ پاکستان کے قیام سے لے کر 2022 تک ملک کا مجموعی قرضہ 43 ہزار 500 ارب روپے تھا، جبکہ اس کے بعد اس میں مزید 56 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ جب خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو یہ پروپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ خیبرپختونخوا قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، صوبے پر 3 ہزار ارب روپے اور 2 ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔ یہ تمام باتیں ڈس انفارمیشن پر مبنی تھیں۔ 2024 میں خیبرپختونخوا کا مجموعی قرضہ 634 ارب روپے تھا، جو گزشتہ دو سال میں بڑھ کر تقریباً 800 ارب روپے ہوا ہے۔ لیکن اس میں ایک اہم اور خوش آئند بات یہ ہے کہ ہم نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک الگ اکاؤنٹ قائم کیا ہے، جس میں آج، جب ہم یہ بات کر رہے ہیں، تقریباً 250 ارب روپے موجود ہیں۔ اگر اس رقم کو بھی مدنظر رکھا جائے تو 2024 کے مقابلے میں ہم نے اپنے قرضے کو الٹا تقریباً 62 ارب روپے کم کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ یہ کہتے تھے کہ خیبرپختونخوا تاریخی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور صوبائی حکومت مسلسل قرضے لے رہی ہے، ان کے سامنے اصل صورتحال اور اعداد و شمار موجود ہیں" مشیر خزانہ مزمل اسلم Muzzammil Aslam

PTI

18,810 просмотров • 2 дней назад