Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

26 نومبر شہداء چوک۔😭 میرےسامنےمغرب سےپہلے4نوجوانوں کوگولیاں لگی۔ سابق ایم این اے نصرت واحد صاحبہ بھی موجود تھیں۔ مشکل سےموٹر سائیکل پرانکو ہسپتال پہنچایا گیا۔ اس وقت تک 5 ورکرز شہید ہو چکےتھے۔ پیچھےفائرنگ کی آوازیں صاف سنائی دےرہی ہے۔ ہم نہ بھولیں گے اور نہ قاتلوں کوبھولنےدیں گے۔ #گولی_کیوں_چلائی

15,966 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے

Khurram Zeeshan

55,134 Aufrufe • vor 4 Monaten

ناحق قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلأ سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو [انگریزی سب ٹائٹلز - اردو بیان] 16 دسمبر 2024 - سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!! میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔ - ڈی چوک میں دور حاضر کے جنرل ڈائیر نے قوم کو اپنا غلام گردانتے ہوئے نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلوائیں۔ ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہدأ کو انصاف دلائیں گے۔ - مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور باقی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ - ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔ - قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ #ہمت_و_استقامت_کے_500_دن #

PTI

20,924 Aufrufe • vor 1 Jahr

ہم پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔ تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ پارلیمنٹ کو تالے لگائے گئے ہیں اور ہم سب پارلیمنٹرینز کو محصور رکھا گیا ہے۔ میں اس ہاؤس کا کسٹوڈین تھا۔ پی ڈی ایم نے یہاں مظاہرے کیے، یہاں باہر اسمبلی لگاتے تھے، ہم نے کبھی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔ ہم سمجھتے تھے یہ ان کا جمہوری حق ہے۔ آج میں، سابق اسپیکر، اس پارلیمنٹ کے ایریا میں محصور ہوں۔دنیا نظام پر چلتی ہے، دنیا کچھ اصولوں پر چلتی ہے۔ اگر آپ ان اصولوں کو توڑیں گے، اگر آپ کے پاس اس وقت کوئی پوزیشن ہے تو وہ قانون نے آپ کو دی ہے، آپ خود کو معتبر نا سمجھیں۔ انہوں نے خوراک کی اشیاء بھی اندر لانا بند کر دی ہیں۔ ہم اپنے لیڈر عمران خان کے لیے یہ بھی برداشت کر لیں گے۔ ہم اپنا مطالبہ دہراتے ہیں کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے، جس طرح ان کی فیملی چاہتی ہے۔ ان کی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ان کا علاج کروایا جائے تاکہ کوئی ابہام نہ رہے ۔

Asad Qaiser

36,348 Aufrufe • vor 6 Monaten

جب تک سب مل کے نہیں بیٹھیں گے اور مسائل کا حل نہیں نکالیں گے ہم دائرے کا سفر کرتے رہیں گے دائرے کا سفر ختم ہونا چاہیے، پاکستان کو آگے جانا چاہیے پاکستانیوں کا مقدر بھوک اور غربت اور ناانصافی نہیں ہے مختلف مواقع پہ انصاف کے نام پہ یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا انصاف دیا ہی نہیں گیا لوگ حکومت میں بغیر تیاری کے آ جاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے چلانے کا میکنزم کیا ہے آپ بیٹیوں، بچیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی فیصلہ کریں جذبات میں آ کر نہ کریں، سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں وقت آنا چاہیے کہ ہمیں ائی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں جب آپ پیسے مانگنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چلے جائیں اپنے سے سو گنا چھوٹے ملکوں کے آگے جا کے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا پھر ہم کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں ہے، جب ہم پیسے مانگیں گے، خیرات مانگیں گے تو کون ہماری عزت کرے گا؟ یہ درسگاہ صرف ٹیکسٹ بک کے لیے نہیں ہے یہ آپ کی گرومنگ اور روحانی نشونما کی درس گاہ ہے آپ کے اساتذہ کے لیے ذمہ داریاں ہیں کہ وہ آپ کو اس طریقے سے تیار کریں کہ آپ جہاں رہیں میرٹ پر کام کریں میں نے بھی زندگی میں بہت قیمت ادا کی ہے لیکن ہر مشکل سے آپ نکل ہی آتے ہیں، اگر مشکل آتی ہے تو اس کے بعد آسانی بھی آ جائے گی ریل حادثہ ہمارے کم وسائل کا شاخسانہ ہے، ہم اس کو انویسٹیگیٹ کر رہے ہیں چائنیز کے ساتھ ایم ایل ون کا ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے فیصلہ تو ہم 2018 میں کر گئے تھے مگر پھر سب کچھ بی فریزر میں چلا گیا یہ میں نے ڈنکے کی چوٹ میں سب کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کو بدلنا پڑے گا اور ویسے ہی بدلنا پڑے گا جیسے دنیا میں باقی ایئر لائن کو بدلا گیا ہے آج پی آئی اے کی حالت بری ہو گئی ہے کیونکہ اس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کی بنیاد پر کام نہیں کیا گیا اسلام آباد کا ایئرپورٹ ہم 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کریں گے یہ اسلام آباد کا ایئرپورٹ جوخالی ایئرپورٹ نظر آتا ہے یہ بھرا ہوا ایئرپورٹ ہوگا، دنیا بھر کے برانڈز اس کے اند ر ہونگے اور اس کی کپیسٹی 90 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ پہ چلی جائے گی یہ چند چیزیں جو میری ذمہ داری تھی میں نے سمجھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کی بات ہے بہت سے کام ہیں جو ہو رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا

Khawaja Saad Rafique

40,146 Aufrufe • vor 3 Jahren

اس وقت ہم پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہیں۔ کل سے ہم نے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں، خاص طور پر قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی موجود ہیں، اور میں خود اس ہاؤس کا اسپیکر رہا ہوں۔ عمران خان کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہمارا مطالبہ بہت سادہ ہے کہ عمران خان کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے اور اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ یہ اس کا قانونی حق ہے اور جیل مینول اور رولز کے مطابق ہے۔عمران خان اس ملک کے سابق وزیرِ اعظم اور قومی ہیرو ہیں، اس سب کے باوجود ان کے ساتھ یہ رویہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے پُرامن طریقے سے یہاں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ پارلیمنٹ ہے، 25 کروڑ عوام کا نمائندہ ہاؤس ہے، اور اسے تالے لگائے گئے ہیں۔ یہاں کھانا پینا بند کیا گیا ہے، کربلا کا سماں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر ان کا خیال ہے کہ اس سے ہم ڈر جائیں گے تو ہم واضح کرتے ہیں کہ جب تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا اور ہمیں تسلی نہیں دی جاتی، ہم دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے۔ ہم سیاسی درجۂ حرارت کو کم کرنا چاہتے ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان اور ہمارے صوبے میں جو صورتِ حال ہے، اسلام آباد میں جو ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت ہوش کے ناخن نہیں لے رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے۔

Asad Qaiser

22,137 Aufrufe • vor 6 Monaten

آپ میں سے یہاں موجود تمام خواتین و حضرات بغیر سفارش کے بھرتی ہوئے ہیں، میرٹ ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور انشاءاللہ تعالیٰ، اسی میرٹ کی بنیاد پر ہم نے خیبر پختونخوا کی تاریخ بدل دی ہے۔ جو تصویر آپ سامنے کرسی دیکھ رہے ہیں، یہ میرے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ میرے والد صاحب کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب یہ پرنسپل تھے، تو کینٹ نمبر ون گورنمنٹ اسکول میں انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے۔ انہوں نے اس اسکول کو اس معیار تک پہنچایا کہ لوگ سفارش سے بھی داخلہ لینے پر مجبور تھے۔ جب یہ ریٹائر ہوئے، تو ایک پرائیویٹ اسکول مسلم پبلک اسکول میں چلے گئے، جہاں میں بھی پڑھتا تھا۔ یہ مسلم اسکول میں میرے پرنسپل رہے، اور میری کردار سازی اور آج یہاں تک پہنچنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی استاد کے سامنے بدتمیزی نہیں کی، اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی نہیں کروں گا، کیونکہ معاشرے میں استاد کو روحانی باپ اور روحانی ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت اور احترام کریں۔ جب ہم میٹرک سے فارغ ہو رہے تھے تو سر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم سے کہا آپ یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ آپ میں سے کئی ڈاکٹر بنیں گے یا انجینیئر بنیں گے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ بنے یا کوئی بھی انجینیئر نہ بنے۔ لیکن میری ایک نصیحت یاد رکھنا: جو بھی کام کرو، کمال کا کرو، کیونکہ معاشرے میں عزت ہمیشہ کمال کے انسان کی ہوتی ہے۔ #CMKP #SohailAfridi #TeacherTribute #KPEducation

Yar Muhammad Khan Niazi

14,010 Aufrufe • vor 9 Monaten

ہمارے پشاور کے کچھ یوٹیوبرز کو شاید بہت مسئلہ ہے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ فرمائشی یوٹیوب چلاتے ہیں، اسی لیے بار بار یہی سوال اٹھاتے ہیں۔ میں اس حوالے سے بات واضح کر دیتا ہوں۔ جب مجھے صوبائی صدر بنایا گیا تو عمران خان صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ صوبے میں تحریک کو دوبارہ فعال کروں۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 26 نومبر کے بعد حالات انتہائی خراب تھے، ہم نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی تھیں اور پارٹی احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارٹی دوبارہ کھڑی کے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک میری عمران خان صاحب سے نہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی رابطہ ہو سکا۔ اس دوران عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔ چند دن بعد جب علی امین گنڈاپور صاحب کی عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ذمہ داری دوبارہ انہیں دے دی گئی۔ علی امین صاحب نے اس حوالے سے باہر آ کر پریس کانفرنس بھی کی، اور میں نے بھی اس کی مکمل تائید کی۔ اس کے بعد سہیل آفریدی صاحب آئے، لیکن انہیں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ جو بھی سیاسی سرگرمی یا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے، وہ محمود خان اچکزئی صاحب کے مشورے سے کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صاحب نے اس حوالے سے انہیں ذمہ داری دی ہے۔ لہٰذا، جیسے ہی عمران خان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان شاء اللہ ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔ نہ ہم نے پہلے کبھی عمران خان صاحب کو مایوس کیا، نہ آئندہ کریں گے۔ میں آج بھی اپنے کی ایک ایک بات پر پہلے کی طرح قائم ہوں۔ صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی پشاور میں پریس کانفرنس۔

Junaid Akbar

26,741 Aufrufe • vor 2 Monaten

جو کچھ اسلام آباد میں ہوا گزشتہ روز مجھے کسی پارٹی کے فیصلے سے کوئی غرض نہیں ہے وہ اپنے فیصلے کے خود ذمہ دار ہیں صحیح فیصلہ کرتے ہیں غلط فیصلہ کرتے ہیں ہاں اگر ہم سے مشورہ لیں گے تو دیانت کے ساتھ مشورہ دیں گے، المُستَشارُ مؤتَمَن، لیکن جب پورے ایک صوبے سے قافلے آرہے ہیں اس وقت تو آپ ان کے لیے راستے چھوڑ رہے ہیں پیچھے ہٹ رہے ہیں پھر احسان جتلاتے ہیں کہ ہم گولی نہیں چلانا چاہتے تھے پھر جب وہ ڈی چوک پہنچ گئے پھر گولی کیوں چلائی؟ سیاسی کارکن تھے دو چار روز بیٹھے رہتے تو بیٹھے رہتے، ہم اس حوالے سے بھی حکمرانوں کے اس پر تشدد رویے کی مذمت کرتے ہیں ہر پارٹی کو جلسہ کرنے مظاہرہ کرنے کا حق حاصل ہے، مجھے بھی حاصل ہے میرے مخالف کو بھی حاصل ہے لیکن جس صوبے سے آپ کو شکایت ہے کہ وہاں سے یلغار ہوتی ہے کوئی کہے نہ کہے میں بڑے واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اس صوبے کی حکومت بھی تو تم نے بنوائی تھی وہ دھاندلی بھی تو آپ نے کرائی تھی جب نا اہلوں کو آپ حکمرانی دیں گے تو پھر یہی نتائج اس کے سامنے آئیں گے، تم نے جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ زیادتی کی تم نے جمیعۃ علماء کا مینڈیٹ چرایا اور اب حالات بھی قابو نہیں کر سکتے، کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، مسلح گروہ علاقوں پہ قابض ہوتے جا رہے ہیں حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں، بلوچستان کی یہی صورتحال ہے کہ وہاں پر امن و امان کی صورتحال وہ وہاں کے حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی، ہمارے امن قائم کرنے والے ادارے وہ کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ سیاسی لوگوں کے کارکن شہید ہوتے ہیں وہ بھی جنازے اٹھاتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمارے کارکن شہید ہو گئے اصول کے لیے شہید ہو گئے نظریے کے لیے شہید ہو گئے، آپ کی بھی دو چار شہداء آجاتے ہیں آپ بھی کندھوں پر اپنے شہداء اٹھائے پھرتے ہیں آپ بھی کہتے ہیں ہمارے جوان شہید ہو گئے بتاؤ عام لوگوں میں اور آپ کے فرائض میں کوئی فرق بھی ہے یا نہیں ہے! ملک کو سنبھالنا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ ہم سب کا ملک ہے ہم اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اور اس ملک کو مستحکم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے اس کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے، تو پاکستان زندہ باد پاکستان رہے گا ان شاءاللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا سکھر میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,239 Aufrufe • vor 1 Jahr