Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

26ویں ترمیم کے بعد ایک ایسے جج کو آئینی بینچ کا سربراہ لگایا گیا جس نے زندگی میں کبھی کوئی constitutional judgement نہیں لکھی۔ میں repeat کرتا ہوں کہ زندگی میں کبھی نہیں لکھی۔ ہمیں پتہ ہے اسے کیوں لگایا گیا ہے۔ پاکستان کے نظام انصاف کو demolish کیا...

23,894 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 görüntüleme • 7 ay önce

”آج جمعہ،6 فروری 2026 ہے۔ عمران خان صاحب کی فیملی کی جانب سے میرے ساتھ ایک رپورٹ شیئر کی گئی، جو آج ہی کی تاریخ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، اسلام آباد سے جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کی تکلیف کے لیے کون سے ٹیسٹس کیے گئے، لیکن ان ٹیسٹس کی رپورٹس یا رزلٹس کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ تشخیص کے مطابق عمران خان صاحب کو سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن ہوا ہے۔ یہ وہی تکلیف ہے جس کا ذکر پہلے بھی میڈیا میں آ چکا ہے، جس میں آنکھ سے خون واپس لے جانے والی شریان میں خون جم جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاج کے طور پر ایک آنکھ کے اندر ایک خاص دوا کا انجیکشن لگایا گیا، جو اس بیماری میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ ہمیں جو تشویش پہلے بھی تھی، اور جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا تھا، وہ یہ ہے کہ خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ انہیں ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ اس حوالے سے رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور لکھا گیا ہے کہ کوالیفائیڈ اور ایکسپیرینسڈ آف Ophthalmologists نے انہیں دیکھا، یعنی آنکھ کے ماہرین نے معائنہ کیا، لیکن ہر آنکھ کا ماہر اس بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ہمیشہ بہتر ہوتا ہے کہ ایسے مریض کو ریٹینل اسپیشلسٹ دیکھے۔ جبکہ ایسے ڈاکٹرز ہمارے ملک میں دستیاب ہیں اور ہر بڑے شہر میں موجود ہیں، اس لیے ہم دوبارہ امید کرتے ہیں کہ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بلایا جائے گا تاکہ وہ خان صاحب کا معائنہ، ایویلیوایشن اور علاج کر سکیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ فالو اپ کی ضرورت ہے، اور یقیناً وہ پلان بھی کیا گیا ہوگا، لیکن اس کی کوئی تفصیل موجود نہیں کہ فالو اپ کب ہوگا اور اس دوران کیا علاج کیا جائے گا۔ ایک اور نہایت اہم پہلو یہ ہے، جس کا پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، کہ اس بیماری کے پیچھے اکثر کوئی اور میڈیکل کنڈیشن ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی ذکر نہیں کہ آیا کسی میڈیکل اسپیشلسٹ نے خان صاحب کو دیکھا، کوئی متعلقہ ٹیسٹس کیے گئے، یا اگر کوئی ایسی میڈیکل کنڈیشن سامنے آئی ہے تو اس کا کوئی علاج شروع کیا گیا یا نہیں۔ میں دوبارہ زور دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بہت سنجیدہ بیماری ہے، اور اس سے آنکھ کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں آئے، اور مزید فالو اپ اور علاج کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں، میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ مجھے رسائی دی جائے۔ میں گزشتہ تقریباً پچیس سال سے عمران خان صاحب کا پرسنل فزیشن ہوں، اور میرے ساتھ ساتھ دستیاب اسپیشلائزڈ، کوالیفائیڈ اور ٹرینڈ ریٹینل اسپیشلسٹس کو بھی اجازت دی جائے تاکہ ہم خان صاحب کی دیکھ بھال میں شامل ہو سکیں اور یہ یقینی بنا سکیں کہ انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے “ ڈاکٹر عاصم یوسف #FreeTheSoulOfPakistan #AllowAccessToImranKhan

Jibran Ilyas

65,792 görüntüleme • 6 ay önce

" جہاں تک مجھے پتہ ہے عمران خان کی جس آنکھ کی بیماری کا بتایا جا رہا ہے اس کے علاج کے لیے (پمز میں) وہاں ڈاکٹر ہی موجود نہیں جہاں ان کا لایا گیا تھا " عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا معاملہ کھول دیا " اس کی وضاحت یا تصدیق نہیں ہو سکی کہ (عمران خان کی) بیماری کی نوعیت کیا تھی ہماری تشویش ہے کہ یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے اور یہ اس کے لئے ایکسپرٹ میڈیکل کیئر required ہے ہر آنکھوں کا ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کر سکتا بلکہ خاص آنکھوں کے ڈاکٹر جنہوں نے اسپیشل ٹریننگ یا اس قسم کی بیماری تجربہ لیا ہوا ہو وہ اس کا علاج کر سکتا ہے جہاں تک ہمیں پتہ ہے اسلام آباد کے جس ہسپتال میں خان صاحب لے جایا گیا اس میں اس طرح کے ڈاکٹرز نہیں ہیں اس بیماری کے پیچھے کوئی اور بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی بیماریوں کے بھی خان صاحب کے ٹیسٹ ہونے چاہییں اور (آنکھ کی ییماری) کے ایکسپرٹ کو ان کا علاج کرنا چاہیے اس لئے خان صاحب تک ہمیں رسائی دی جائے "

Saqib Bashir

155,986 görüntüleme • 7 ay önce