Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

30 نومبر : دریائے سندھ کا رُخ دیامیربھاشا ڈیم کی سائٹ سے موڑ دیا جائے گا ۔ دریا ایک کلومیٹر لمبی سرنگ اور 800 میٹر لمبی نہر سے ہوتا ہوا نیچے اپنے روٹ سے دوبارہ ملے گا۔ ڈیم 8.1 ملئین ایکڑ فٹ سیلابی پانی ذخیرہ کرے گا بلکہ 4500...

134,053 views • 2 years ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اہم ، سیالکوٹ بجوات سیکٹر میں تباہی کی تفصیلات مجھے مستند ذرائع نے سینڈ کیں ہیں پنجاب حکومت انتظامیہ فوری توجہ دے ، سیالکوٹ سے تقریباً 21 کلومیٹر شمال کی جانب علاقہ بجوات جو 84 دیہات پر مشتمل ہے جس کی آبادی تقریباً چھ 7 لاکھ ہے کل کے سیلاب میں سب سے پہلے یہ علاقہ متاثر ہوا ہے چاول کی فیصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جو کھانے پینے کی اشیاء لوگوں نے گھروں میں رکھی ہوئی تھی جو پورا سال استعمال کرنی تھی جس میں گندم ، چاول وہ سب کچھ پانی بہا لے گیا ہے اور بہت زیادہ مال مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں سب سے اہم بات یہ کی ان سب 84 دیہات کا زمینی راستہ بھی سیالکوٹ اور دوسرے شہروں سے منقطع ہے انتظامیہ فوری طور پر بجوات سیکٹر کا واحد زمینی راستہ ، بجلی ، انٹرنیٹ بحال کرے اور امدادی کارروائیاں شروع کرے بجوات سیکٹر میں مشرق سے دریائے جموں توی اور شمال سے دریائے چناب پاکستان میں داخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا پل بجواں ، مرہال، پنڈی پتراڑہ ، چک کھوجہ ، گدپور و دیگر جگہوں سے گزرنے والا سیلابی ریلا میں بھی کافی نقصان پہنچا چکا ہے سات سے دس فٹ جو نچلے حصے تھے وہاں 10 فٹ تک بھی پانی تھا بجوات وہ سیکٹر جس میں پاکستان میں جب انڈیا کی طرف سے پانی آتا ہے تو سب سے پہلے متاثر ہوتا ہے اور اس علاقے کا سب سے بڑا گاؤں پل بجواں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے کیونکہ یہ بلکل دریائے جموں توی کے کنارے پر ہے NDMA PAKISTAN Government of Punjab Sialkot Police

Saqib Bashir

96,196 views • 11 months ago

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

657,594 views • 2 years ago

آپ واپڈا آفس جاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ میرا میٹر خراب ہے آپ کی مہربانی اسے ٹھیک کردو ۔ آگے سے واپڈا والے اٹھ کر آپ کی دھلائی شروع کردے اور کہے کہ ہر سال ہمارے درجنوں اہلکار کھمبے پہ چڑھ کر کرنٹ لگنے سے شہید ہوجاتے ہیں اور تمہیں میٹر کی پڑی ہوئی ہے غدار ۔ یا آپ بس کی ٹکٹ کرانے جاتے ہیں اور آپ دیکھتے ہیں کہ بس کے ایک ٹائر سے ٹیوب نکلا ہوا ہے آپ کمپنی سے کہتے یار اس ٹائر کو ٹھیک کردو ورنہ یہ پھٹ جائے گا اور ہم سب مر جائینگے آگے سے بس والا تمہیں اٹھا کر پٹخ دے کہ اکیلے تم نہیں مروگے ہمارے ڈرائیور بھی شہید ہورہے ہیں۔ تو آپ یہ نہیں کہو گے کہ حضور لائن مین اور ڈرائیور حضرات نے جانتے ہوئے بھی کہ اس پروفیشن میں جان کو خطرات ہوتے جوائن کیا ہوا ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اور اسی کی انھیں تنخواہ ملتی تو کیا اب وہ ہمارا میٹر بنانے سے انکار کرسکتے ؟ یا ہمیں پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ کوئٹہ سے کراچی لے جانا شروع کردینگے ؟ پاکستان کے سابق آرمی چیف مشرف کی ویڈیو ہے جس میں وہ فوجی جوانوں کی جان ضائع ہونے پہ کہتے کہ کیا ہوگیا ہے وردی پہنی ہے تو اس میں مر مرانا ہوجاتا اس میں احسان کی کیا بات ہے نہیں پسند تو گھر جاو فوج میں کیوں ہو ۔ سو بات مختصر یہ نہ ہی واپڈا اہلکار پیسوں کے لئے خود کو کرنٹ لگوانے جاتا نہ ہی ڈرائیور خود کو کھائی میں گرانے کے لئے ڈرائیونگ کرتا نہ ہی فوجی یا پولیس مرنے کے لئے فوج میں جاتے یہ سب انکا پروفیشن ہے ذرائع آمدنی ہے انکی ڈیوٹی ہے اور اس میں جان بھی جا سکتی اگر نہیں پسند تو گھر جائے احسان نہ کرے ۔ فوج سے زیادہ سویلین شہید ہورہے ہیں جنہیں مرنے کی نہ تنخواہ ملتی نہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنی سوچوں میں مگن ہوتا کہ کئی سے آکر راکٹ لگ جاتا ہے نہ مرنے پہ انھیں پنشن ملتی نہ کوئی اسکی تعریف کرتا ۔ البتہ کل سے ایک بات کی سمجھ آگئی اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن ابھی تک 90 کی دہائی میں پھنسی ہوئی ہے اچانک انکو مولانا صاحب کی کرپشن بھی یاد آگئی ہے اور تو اور ایک پٹوارن نے احسان جتلانے کے لئے ایک چارٹ بنایا ہوا کہ مولانا صاحب تین بار ایم این اے بنے ہیں یعنی اب عوام کے منتخب کرنے کا احسان بھی یہ ڈفر ہم پہ ڈالیں گے ؟ پارلیمنٹ نہ ہوا انکا فارم ہاوس ہوگیا ۔ فضل خان بڑیچ Fazal Barech #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Saeed Ullah Khan

67,887 views • 23 days ago

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 views • 4 months ago

پیش خدمت ہے جناب سہیل آفریدی کے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کا لنک👇🏼 "بے گناہ" سہیل آفریدی اپنے ہی فیس بک ویڈیو میں بتا رہا ہے کہ وہ کہاں موجود ہے اور ہیکل اور جیکل کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی وہاں موجود نہیں تھا۔ حد ہو گئ بھئ جی ہاں، 9 مئی کو سہیل آفریدی کور کمانڈر ہاؤس پشاور پر حملے کی قیادت کر رہا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کا پراپیگنڈہ نیٹ ورک سہیلُآفریدی کی اپنی جاری کردہ ویڈیوز کو جعلی قرار دے کر اصل جرم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ ہیکل اور جیکل سمیت جو جو بھی اچھل کود کر کے ویڈیو کو جعلی اور سہیل آفریدی کا نومئی سے تعلق ثابت نہ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے وہ یاد رکھیں یہ ثابت شدہ ہے اور سہیل آفریدی کی اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کردہ ویڈیو کا فرانزک ہونے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ریاستی اداروں پر حملے کے یہ ناقابل تردید شواہد سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے کافی ہیں ایک صوبے کا چیف ایگزیکٹو آئین کا محافظ ہوتا ہے، مجرم اس منصب اور مسندپر نہیں بیٹھ سکتا۔

Ikhtiar Wali

113,321 views • 9 months ago

Feedcoyote فری لانس کام سے $45 سے $55 فی گھنٹہ کمانا اگر آپ فری لانس کام کر کے اچھے پیسے کمانا چاہتے ہیں، تو Feedcoyote آپ کے لیے ایک بہترین آپشن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ویب سائٹ آپ کو ایک انتہائی منافع بخش موقع فراہم کرتی ہے جس کے تحت آپ $45 سے $55 فی گھنٹہ تک کما سکتے ہیں۔ Feedcoyote ایک مکمل فری لانسنگ پلیٹ فارم ہے، جہاں آپ کو نیٹ ورکنگ، ٹیم ورک، اور پروجیکٹس کے مؤثر انتظام کے لیے تمام ضروری ٹولز فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر آپ کو نہ صرف نئے پروجیکٹس ملیں گے بلکہ آپ کو دیگر پیشہ ور افراد کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملے گا، جس سے آپ اپنے تجربے اور مہارت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ Feedcoyote پر آپ مختلف شعبوں میں کام کر سکتے ہیں جیسے: مواد کی تحریر: آپ بلاگ، آرٹیکلز، ویب سائٹ کا مواد اور سوشل میڈیا پوسٹس لکھ کر کما سکتے ہیں۔ ویب ڈویلپمنٹ: ویب سائٹس کی ڈیزائننگ اور ڈویلپمنٹ کا کام بھی یہاں بہت زیادہ مانگ میں ہے۔ گرافک ڈیزائننگ: لوگو ڈیزائن، ویب ڈیزائن، اور دیگر گرافک ڈیزائننگ کاموں کے لیے بھی فری لانسرز کی طلب ہے۔ دوسرے فری لانس خدمات: ویڈیو ایڈیٹنگ، ترجمہ، سوشل میڈیا مارکیٹنگ، اور بہت کچھ۔ اس پلیٹ فارم کی مدد سے نہ صرف آپ اپنی مہارت کو بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ آپ کا کیریئر بھی ایک نئی سمت میں ترقی کر سکتا ہے۔ یہ موقع آپ کے لیے انمول ہو سکتا ہے اگر آپ اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے مالی حالات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔

Tanveer Awan

36,154 views • 1 year ago

یورپ کی طرح اب لاہور میں بھی پلاسٹک کی بوتلیں جمع کرائیں اور 1000 روپے فوری پائیں، پنجاب حکومت کا معاہدہ طے پا گیا* وزیراعلیٰ گرین کریڈٹس پروگرام کے تحت پنجاب حکومت کا نجی کمپنی کے ساتھ سنگل یوز پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا۔ نجی کمپنی چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی طور پر تیار کی گئی مشینیں آئندہ ماہ لاہور کی چار بڑی جامعات میں نصب کرے گی۔ شہر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں بھی ایسی مشینیں لگائی جائیں گی۔ یہ مشین دو خانوں پر مشتمل ہے، بٹن اے دبائیں اور پلاسٹک کی بوتل اس میں ڈالیں پھر اپنا فون نمبر درج کریں اور بٹن بی دبا دیں۔ مشین کی اسکرین پر گرین کریڈٹس ظاہر ہوں گے جسے ایپ کی مدد سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ نجی کمپنی کے چیئرمین گلفام عابد کے مطابق روزانہ 5 سو ٹن پلاسٹک بوتل کا کچرا ہوتا ہے، مشینری کی مدد سے پلاسٹک کی بوتلیں اور سنگل یوز پلاسٹک کے برتن ری سائیکل کیے جائیں گے اور ان سے فٹ پاتھ، سڑکوں کے پیچ ورک اور اینٹیں بنائی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھاکہ ڈیڑھ لیٹر کی 20 بوتلیں اور ہاف لیٹر کی 40 بوتلیں مشین میں ڈالنے پر ایک ہزار روپے فوری کیش ملے گا۔ گرین کریڈٹس میں صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ لاہور کے 18 ہزار کباڑیے بھی مستفید ہو سکیں گے۔ وہ ایپ کے ذریعے رابطہ کریں گے اور کمپنی ملازم خود جا کر انہیں رقم دے کر بوتلیں لیں گے۔

چوہدری شاہد محمود

28,973 views • 1 year ago

مینارِ پاکستان سے صدر پیپلز پارٹی لاہور فیصل میر اور مجید غوری کی میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلسے کی اجازت دینے پر ہم مشکور ہیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے آگاہ کیا ہے کہ اجازت دے دی گئی ہے، اب ہمیں انتظامات مکمل کرنے کے لیے صرف ایک دن درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کی اجازت دے کر مریم نواز نے جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے۔ ہم آج 23 جولائی سے ہی مینارِ پاکستان پہنچ گئے ہیں اور تمام رات یہیں موجود رہیں گے۔ پولیس کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اجازت مل چکی ہے۔ فیصل میر نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ گراؤنڈ سے پانی نہیں نکالتی تو پیپلز پارٹی کے کارکن خود پانی نکال کر جلسہ گاہ تیار کریں گے۔ جلسے کے لیے 100 فٹ لمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے، جہاں گلوکار انقلابی ترانے پیش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جولائی کو رات 8 بجے جلسہ شروع ہوگا جبکہ 26 جولائی کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر صدر آصف علی زرداری کی سالگرہ کے موقع پر 24 فٹ اونچا کیک کاٹا جائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے، جبکہ راجہ پرویز اشرف، حسن مرتضیٰ اور قمر زمان کائرہ بھی شرکاء سے خطاب کریں گے۔ لاہور کے ہر ٹاؤن سے کارکنوں کے قافلے جلسے میں شرکت کریں گے۔ فیصل میر نے واضح کیا کہ ہم نے کوئی گیٹ نہیں توڑا، گیٹ پہلے سے کھلا ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بھی اسی شہر کے شہری ہیں اور انہیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے جمہوری حق کے استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔ اس موقع پر مجید غوری نے کہا کہ جیالے اسٹیج کا سامان لے آئے ہیں۔ بارش ہو یا شدید گرمی، پیپلز پارٹی کے کارکن اپنے عزم پر قائم ہیں اور ہر صورت جلسہ کامیاب بنائیں گے۔ #PPP #PakistanPeoplesParty #Lahore #MinarEPakistan #AsifAliZardari #BilawalBhuttoZardari Bilawal Bhutto Zardari Faisal Mir

PPP LAHORE Official

16,429 views • 13 days ago

ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔ ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔ لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔ بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔ معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟ یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ ہے: سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟ کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔ سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔ یہ نظام کب بدلے گا؟ کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟ یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ @@KarachiPolice_@SouthDig

Fahmidah Yousfi

123,710 views • 1 year ago