Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

Adil Raja کیا ہم قیدی کو انصاف دِلوا پائیں گے؟ 💔 #ظلم_کا_بدلہ_ووٹ_سے

96,308 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 11

Фото профиля Adil Raja
Adil Raja2 лет назад

آدھی رات کا وقت تھا۔ قدموں کی چاپ قیدی کو سنائی دی۔ قیدی فورا اٹھ کر بیٹھ گیا ۔ آنے والی آواز نے زمین پر تین دفعہ لاٹھی سے آواز پیدا کی۔ جوابا قیدی نے ایک دفعہ کھانسنے کی آواز نکالی۔ کوڈ ورڈز کا تبادلہ ہوچکا تھا۔ آنے والا شخص اپنے ہمراہ ایک سفید کاغذ لایا تھا۔ ساتھ میں ایک قلم تھا۔ اس شخص نے بغیر کوئی آواز پیدا کیے وہ کاغذ اور قلم جیل کی سلاخوں کے درمیان سے اندر رکھ دیا۔ نووارد واپس پلٹا اور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے بیرک سے باہر نکل گیا۔ اس شخص کے بعد قیدی اپنی جگہ سے اٹھا۔ کاغذ کا اٹھایا الٹا پلٹا کر دیکھا اور کمرے کی مشرقی دیوار کی جانب بڑھا۔ صرف اسی ایک کونے میں راہداری میں جلنے والے بلب کی روشنی آرہی تھی۔ قیدی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ آہستہ آہستہ سوچوں کے تانے بانے کاغذ پر منتقل کرنے لگا۔ لکھتے لکھتے کوئی آواز آتی تو قیدی رک جاتا ۔ کان لگا کر سنتا جب سب معمول کے مطابق ہوتا تو دوبارہ لکھنا شروع کردیتا۔ قیدی جو کچھ لکھ رہا تھا وہ بہت ضروری تھا۔ اسے لکھا جانا بھی لازم تھا اور حفاظت سے جیل سے نکالنا اس سے بھی زیادہ ضروری۔ آہستہ آہستہ قیدی نے سب کچھ کاغذ پر منتقل کیا۔ شروع سے لیکر آخر تک دوبارہ پڑھا۔ قیدی کے چہرے پر اطمینان کی کچھ لکیریں نمودار ہوئیں۔ لیکن ابھی ایک مرحلہ باقی تھا۔ قیدی کو ابھی قدموں کی اسی چاپ کا انتظار کرنا تھا۔ نیند کوسوں دور تھی۔ قیدی کو خیالات کے جھماکے آ اور جا رہے تھے۔ کوئی خیال آتا تو قیدی کا چہرہ سپاٹ ہوجاتا۔ نظریں سامنے والی دیوار پر جم جاتیں۔ تھوڑی دیر بعد کوئی اور خیال ذہن کے پردے پر ابھرتا تو قیدی زیرلب مسکرانے لگتا۔ بالوں کو ایک ہاتھ سے جھٹک کر پیچھے کرتا اور سر دیوار کیساتھ ٹکا دیتا۔ اسی دوران قیدی کو قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہی لاٹھی سے زمین پر تین دفعہ آواز پیدا ہوئی۔ قیدی نے کھانسنے کی آواز پیدا کی کاغذ کو سلاخوں کے قریب رکھا۔ اور اپنے بستر پر جا کر لیٹ گیا۔ آنے والے شخص نے ٹٹول کر سلاخوں کے پیچھے سے کاغذ اٹھایا اور چلا گیا۔ اب قیدی پوری طرح سے مطمئن تھا۔ اسکی آواز کو بند کرنے کی کوششیں پوری ریاست کررہی تھی۔ لیکن اس کاغذ کے ذریعے قیدی اپنی آواز پوری دنیا تک پہچانے والا تھا۔ وہ آواز جس کا بوجھ ریاست کا کوئی ٹی وی کوئی اخبار نہیں اٹھا سکتا تھا ۔ صبح ہوتے ہی وہ آواز دنیا کے سب سے مشہور اخبار اکانومسٹ تک پہنچ جانی تھی اور بے ضمیروں بے شرموں کے سروں پر ہتھوڑے کی طرح برسنے والی تھی۔

Фото профиля Jamil Ahmed Qureshi
Jamil Ahmed Qureshi2 лет назад

@soldierspeaks اس کے لیے بنگلہ دیش دوھرانا پڑے گا آگر ہندوستان یا چین ساتھ دے

Фото профиля Iffat khan
Iffat khan2 лет назад

@soldierspeaks انشاءالٌلہ۔

Фото профиля abbasi
abbasi2 лет назад

@soldierspeaks اللہ انصاف ضرور دے گا

Фото профиля Muhammed Zafran
Muhammed Zafran2 лет назад

@soldierspeaks آپ قیدی کو انصاف دلانے یا نہ دلانے وہ آپ کو ضرور انصاف دلانے گا

Фото профиля sanaullah
sanaullah2 лет назад

@soldierspeaks گھر میں بیٹھے انصاف نہیں ملتا پاکستان ہے انصاف چیننا پڑے گا

Фото профиля Ghazala Naqshbandi
Ghazala Naqshbandi2 лет назад

@soldierspeaks InshaALLAH

Фото профиля Aneeka Mazhar
Aneeka Mazhar2 лет назад

@soldierspeaks ان شاء اللہ اللہ تعالی کے کن کی دیر ھے سب کایا پلٹ ہو گی

Фото профиля S33-K1NG
S33-K1NG2 лет назад

@soldierspeaks In'Sha'Allah ALLAH de Ga.

Фото профиля کمینہ لاہوری
کمینہ لاہوری2 лет назад

@soldierspeaks تمھاری ماں کو کتے کا لن

Фото профиля Anya 🤍
Anya 🤍2 лет назад

@soldierspeaks Inshallah

Похожие видео