正在加载视频...

视频加载失败

Arrived in America—marking another decisive step forward in advancing Pakistan’s development agenda. This journey extends far beyond traditional diplomacy; it is a strategic pursuit of innovation, investment, and cutting-edge ideas. Over the coming days, I will be traveling across cities and institutions, sharing the story of Uraan Pakistan and...

28,432 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

حکومتِ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے ڈھاکہ آمد میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ بحیثیت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، میں وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں، اور اس اہم موقع پر دونوں برادر ممالک کے مابین خیرسگالی اور تعاون کے پیغام کو آگے بڑھانا میری ذمہ داری ہے۔ 🇵🇰🇧🇩 ڈھاکہ پہنچنے پر جس گرمجوشی اور وقار کے ساتھ استقبال کیا گیا، وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور تاریخی رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ یادگار لمحات ہمارے تعلقات کے مثبت رخ اور مستقبل کی وسعتوں کا اظہار ہیں۔ اس دورے کے دوران میری ملاقات چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس، نومنتخب وزیرِاعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف سے متوقع ہے، تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ مزید برآں، میں ایک جامعہ کے دورے کے دوران طلبہ سے ملاقات کروں گا، ڈھاکہ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان سے تبادلۂ خیال کروں گا، اور تاریخی عمارت احسن منزل کا بھی دورہ کروں گا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور سماجی روابط موجود ہیں۔ ہمارا رشتہ بھائی چارے، مشترکہ اقدار اور عوامی سطح پر مضبوط وابستگی پر مبنی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ سماجی و معاشی اشتراک، ترقیاتی شراکت داری اور سیاسی ہم آہنگی کے نئے امکانات کو فروغ دے گا، اور ایک ایسی پائیدار شراکت کی بنیاد رکھے گا جو ہماری خودمختاری کے تحفظ، عوامی خوشحالی اور خطے کے استحکام کو یقینی بنائے۔ ہم باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے پرعزم ہیں۔ #ڈھاکہ #حلف_برداری #سفارتکاری #پاکستان #بنگلہ_دیش #دوطرفہ_تعلقات #معاشی_شراکت #بھائی_چارگی

Ahsan Iqbal

19,986 次观看 • 6 个月前

Here are the latest highlights in the U.S.-Pakistan relationship. President Trump and Vice President Vance recognized Pakistan’s continued leadership, diplomacy, and statesmanship during U.S.-Iran negotiations. Here in Pakistan, Pakistan-U.S. Alumni Network hosted a masterclass on e-commerce and digital trade to spur innovation and we also highlighted entrepreneurship in the arts at our recent showcase – both part of our #Freedom250 celebration. And as the World Cup continues – GO TEAM USA! 🇺🇸 #USAinPakistan امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق تازہ ترین خبریں۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ-ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی مسلسل قائدانہ صلاحیت، مؤثر سفارت کاری اور دانشمندانہ کردار کو سراہا۔ پاکستان-امریکہ المنائی نیٹ ورک (پی یو اے این) نے ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت پر ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا تاکہ نوجوانوں اور کاروباری افراد کو نئے مواقع اور جدت کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں، ہماری فریڈم 250 تقریبات کے تحت فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ابھرتے ہوئے کاروباری اور تخلیقی افراد کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اور آخر میں، ورلڈ کپ کا جوش و خروش جاری ہے۔ امریکی ٹیم کے لیے نیک تمنائیں۔

U.S. Embassy Islamabad

11,537 次观看 • 1 个月前

روس نے ببانگ دہن الزام لگایا ہے کہ آج افغانستان دنیا بھر سے دہشت گردوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے اسی دوران پاکستان افغانستان سرحد پار خاموشی ٹوٹ گئی اب بات صرف وارننگ تک محدود نہیں رہی پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر TTP اور داعش خراسان کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی نے پورے خطے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ننگرہار، پکتیا اور خوست میں کیے گئے حملوں میں درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد کا پیغام غیر معمولی طور پر واضح ہے: اگر کابل نے عملی اقدامات نہ کیے تو فوجی آپشن برقرار رہے گا۔آج کے On My Radar میں ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز ملک—معروف سکیورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر—اور مشطاق یوسفزئی—پشاور کے سینئر صحافی اور افغان امور کے گہرے مبصر—اس صورتحال کا جامع تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔گفتگو میں یہ سوال مرکز میں ہے کہ کیا پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات Point of No Return تک پہنچ چکے ہیں، یا سفارت کاری کے لیے ابھی بھی کوئی راستہ باقی ہے؟ یہ پروگرام صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے دنوں کے ممکنہ علاقائی نتائج کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے مکمل معلومات کے لئے اس on my radar کو آخرت دیکھنے اس YouTube link پر کلک کریں

Kamran Khan

43,649 次观看 • 6 个月前

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان! افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔ آسیا یک پیکرِ آب و گل است ملتِ افغان در آں پیکر دل است از کشادِ او کشادِ آسیا از فسادِ او فسادِ آسیا علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔ ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔ آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

28,218 次观看 • 6 天前

میں نے باضابطہ طور پر 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) کے منٹس پر دستخط کیے، جو CPEC 2.0 کے پانچ سالہ ایکشن پلان (2025–2029) کے تحت ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ اس نئے مرحلے میں صنعتی ترقی، جدت، ماحول دوست اقدامات اور عوامی فلاح پر مبنی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی—جو ہمارے مضبوط اور جامع معیشت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ بعد ازاں، CPEC منصوبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانی اور چینی عملے کو ایوارڈز دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ وہ باصلاحیت اور محنتی افراد ہیں جو اس عظیم منصوبے کی حقیقی قوت ہیں۔ سفیر جیانگ زائیدونگ کے ساتھ مل کر ایوارڈز پیش کرنا میرے لیے نہایت فخر کا لمحہ تھا، جو پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط شراکت داری کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔ ہم مل کر CPEC 2.0 کو مزید آگے بڑھائیں گے، نئے مواقع پیدا کریں گے اور اپنے عوام کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا روشن مستقبل یقینی بنائیں گے۔ #CPEC #PakistanChinaFriendship #CPEC2 #UraanPakistan #Development #StrongerTogether In a landmark event, we formally signed the minutes of the 14th Joint Cooperation Committee (JCC), marking the commencement of a new phase under the CPEC 2.0 Five-Year Action Plan (2025–2029). This next phase focuses on industrialization, innovation, green development, and people-centric growth—aligned with our vision of a stronger, more inclusive economy. Later, I had the honor of giving awards to Outstanding Pakistani and Chinese Staff of CPEC Projects 2026, recognising the dedication and excellence of individuals from both nations who are the true driving force behind this transformative initiative. It was a proud moment to jointly present awards with Ambassador Jiang Zaidong, celebrating the spirit of partnership that defines Pakistan-China relations. Pakistan-China friendship remains higher than the mountains and deeper than the oceans. Together, we will continue to advance CPEC 2.0, unlock new opportunities, and build a future of shared growth and prosperity for our peoples. #CPEC #PakistanChinaFriendship #CPEC2 #UraanPakistan #Development #StrongerTogether

Ahsan Iqbal

10,919 次观看 • 4 个月前

The U.S.-Pakistan partnership continues to grow from strength to strength. Chargé d’Affaires Natalie Baker showcased the depth of U.S.-Pakistan ties in AI and emerging technologies during an exciting visit to Lahore. She also witnessed the National Institute of Technology’s groundbreaking partnership with Arizona State University firsthand. 🎓 We’ve also signed new agreements on exchange programs, supported emerging entrepreneurs, opened tasty new U.S. restaurants, and even managed to squeeze in a few rounds of bowling as part of our ongoing sports diplomacy initiatives. 🎳 Watch Spokesperson Cain Harrelson wrap up the latest highlights in the U.S.-Pakistan partnership – thriving in tech, education, and cultural connections! 🤝 #USAinPakistan #Freedom250 امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری دن بہ دن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ ناظم الامور نیٹلی بیکر نے لاہور کے ایک شاندار دورے کے دوران مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں امریکہ اور پاکستان کے گہرے تعلقات کو نمایاں کیا۔ اُنہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان اہم شراکت داری کا خود مشاہدہ بھی کیا۔ ہم نے ایکسچینج پروگرامز پر نئے معاہدے بھی کیے، نئے کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ کے مزیدار نئے ریستوران کھولے، اور اپنی جاری کھیلوں کی سفارت کاری کے سلسلے میں چند باؤلنگ کے کھیل بھی کھیلے۔ ترجمان کین ہیریلسن کو دیکھیے جو امریکہ اور پاکستان کی شراکت داری کی تازہ ترین جھلکیاں پیش کر رہے ہیں — ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافتی روابط میں تیزی سے پروان چڑھتی ہوئی شراکت داری!

U.S. Embassy Islamabad

34,831 次观看 • 2 天前

آج بائیس اپریل کو پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال گزر چکا۔ یہ کھوکھلی، بے منطقی، جھوٹی انا اور تکبر میں گھری سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں دہشتگردی کو بیرونی مسلہ بنایا جاتا ہے اورکشمیر جیسے بین الاقوامی ایشیو کو اندرونی مسلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی پوری قوم کے لیے فخر ہے۔ بھارتی میڈیا نے جھوٹی اور بے بنیاد خبروں سے پروپیگنڈا کیا مگر دنیا نے ان کا مکروہ چہرہ دیکھ لیا۔ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ بھارت دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ملوث پایا گیا ہے، کلبھوشن یادیو کیس میں بھی یہ بے نقاب ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، شواہد موجود ہیں، ہم مقابلہ کرتے رہیں گے۔ بھارت کو اِس دہشت گردی کی پالیسی میں مکمل نکامی ہو گی اور منہ کی کھانی پڑے گی جیسے آپریشن بنیان المرصوص میں کھانی پڑی۔ بھارتی عسکری قیادت کے بیانات ان کی شکست کا اعتراف ہیں، آپریشن سندور 2 ایک admission of defeat ہے۔ بھارت یاد رکھے کوئی بھی مس ایڈونچر ہوا تو it will be met with a firm, decisive and swift response۔ یہ بھارت کا آخری فالس فلیگ آپریشن تھا اور وہ دوبارہ ایسی جرات نہیں کر سکے گا۔ پاکستان ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جو ضروری ہے۔ آج بھارت آئسولیشن کا شکار ہے جبکہ پاکستان امن کی علامت بن کر ابھرا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت قابلِ تحسین ہے۔

Attaullah Tarar

47,004 次观看 • 4 个月前

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔
1:47

Sensitive content

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔

Daim Mubashar

243,416 次观看 • 4 个月前

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمعہ کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا جس پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور میں نے دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ نبھاتا رہا ہے، گزشتہ سال اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا. تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہے، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے عوام اور افواج کے لئے اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف قطعاً جارحیت نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے کے امن ترقی اور خوشحالی کیلئے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاہدہ امت مسلمہ کے لئے باعث تقویت ہے۔ وزیراعظم نے سہ فریقی معاہدے کے لئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کئی برسوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم نے وطن عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بعض علاقوں میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا. مختلف واقعات میں ہمارے پولیس اور افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوان شہید ہوئے ۔ ہنگو، سوات اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم، ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپوتوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انشاء اللہ وطن عزیز سے ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے دیرینہ رفیق اقبال چنڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال چنڑ مشکل وقت میں مسلم لیگ ن کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے، ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن کو واضح کامیابی ملی ہے، انتخابی نتائج قائد محمد نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ایک بار پھر ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کرے گی۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے عوام کی طرف سے اعتماد کے اظہار پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے آزاد کشمیر کے حالات جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی، واضح ثبوت موجود ہیں کہ وہ اغیار کے اشاروں پر کام کر رہے تھے۔ الیکشن سے قبل مظفر آباد میں آل پارٹیز کانفرنس جس میں ایک کے سوا تمام جماعتیں موجود تھیں، میں معاملات پر ہر پہلو سے گفتگو ہوئی۔ تجویز دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے انتخابات کے بعد نو منتخب اسمبلی میں اپنا مقدمہ لیکر آئیں، جو اکثریت سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا اسے قبول کیا جائے گا، تمام باتیں طے ہوگئیں لیکن وہ اڑے رہے، بے جا ضد سے معاملات خراب ہوگئے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا، جو لوگ تلے ہیں کہ صرف خرابی کرنی ہے ان کو انارکی و بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن جو امن ، تحمل اور برداشت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں نئی حکومت ان کیلئے موقع فراہم کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جشن آزادی کی آمد آمد ہے، قوم روایتی اور شایان شان طریقے سے جشن آزادی منانے کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہی ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر 14 اگست بھرپور شان و شوکت کے ساتھ منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور پاکستان کو صحیح معنوں میں قائد کا پاکستان بنائیں گے، امانت و دیانت کے ساتھ پاکستان کو دنیا میں اس کا باوقار مقام دلائیں گے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کابینہ اجلاس میں جام شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں اور اقبال چنڑ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرائی ۔

Prime Minister's Office

20,000 次观看 • 13 天前

"لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ انسان میں غیرت پیدا کر دیتا ہے. ایک غیرتمند مزدور کا تذکرہ" وزیراعظم عمران خان پہلے "ریاست" کی تعریف جاننا ضروری ہے. ریاست کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں.؟ سرزمین: ایک مخصوص علاقہ. دوسرا اُس علاقے میں مقیم عوام: جو اُس جغرافیائی علاقے کے باشندے ہوتے ہیں. تیسرا: وہ نظام، جو اُن کا متفقہ آئین یا دستور کہلاتا ہے. اُن جغرافیائی حدود میں مقیم باشندوں کے بنیادی حقوق، آزادی و خودمختاری، صحت، تعلیم، معاشی ترقی و استحکام، عوامی خدمت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مختلف ادارے اور شعبہ جات تشکیل دیئے جاتے ہیں. جنہیں چلانے کیلئے ماہرین کی مدد سے اصول، قواعد وضوابط، ذمہ داریوں کا تعین اور اُمور کی جُزئیات طے کرنے والی دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب کرتے ہیں. اُنہی عوامی نمائندوں کے بنائے ہوئے متفقہ آئینِ پاکستان کی حفاظت کرنے، اُس آئین کے تابع رہتے ہوئے اُسے نافذ کرنے کا افواج سمیت تمام ملازمین حَلف اٹھاتے ہیں. دنیا میں عموماً مشہور دو نظام جمہوریت اور آمریت رائج ہیں. پاکستان میں گزشتہ 77 سالوں سے اُنہی دو نظاموں میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانے کی کوشش میں گزر گئے. جبکہ براہ راست "قرآن وسنت" میں غور کیا جائے تو جمہوری نظام اور آمریت دونوں ہی اسلامی نظام سے یکسر مختلف ہیں. اگر ہم اسلام کا مغربی نظاموں کی بجائے کتاب وسنت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام میں نہ تو فرد کی حاکمیت جائز ہے اور نہ ہی اکثریت کی بلکہ اللہ تعالٰی صرف اور صرف اپنی حاکمیت منواتا ہے. یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اوپر ایک حاکم اعلیٰ ہے اور اُس کے نیچے کئی انسان اَدنیٰ حاکم ہیں، بلکہ حاکمیت ہے ہی صرف اللہ رب العزت کی ہے. ریاست کیا ہے اور اس کے وسائل کا اصل مالک کون ہے.؟ ریاست کے اجزائے ترکیبی سمجھ لینے اور زمین و آسمانوں کی ملکیت و حاکمیت جان لینے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی زمینوں اور قدرتی وسائل کا اصل مالک اور حقدار کون ہے.؟ اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق نظام چلانے کیلئے وفاقی اور صوبائی نمائندوں کو عوام منتخب کرتے ہیں لہٰذا وہ تو صرف منتظمین ہیں، ریاستی وسائل کے مالک نہیں. جبکہ جرنیل عوام کے ملازم ہیں، لہٰذا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ریاست کی زمینوں اور قدرتی وسائل کی ملکیت اُن کے پاس کہاں سے آ گئی ہے.؟ یہ ملکیت اُنہیں وراثت میں ملتی ہے یا جہیز میں.؟ آئینِ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمِیتِ اَعلیٰ تسلیم کی گئی اور ستورِ پاکستان میں اسلام کو ریاست کا دین مانا گیا ہے اور قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت کر دی گئی ہے. وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ (المائدۃ:18) آسمانوں اور زمین اور اُن کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالٰی کی ملکیت ہے. ! وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ(المنافقون:7) آسمانوں اور زمین کے کل خزانے اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں لیکن منافقین اس حقیقت کا فہم نہیں رکھتے. ! {ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا.} وہی تو وہ(اللہ) ہے جس نے پیدا کیا ہے تم سب لوگوں کیلئے زمین کے تمام ذخیروں کو.(سورة البقرة:29) He it is Who created for you all that is in the earth.(2:29) چونکہ زمین و آسمانوں کے تمام تر خزانوں اور معدنیات کا مالک اللہ تعالٰی ہے. لہٰذا اُن قدرتی وسائل کی تقسیم (جوکہ اللہ نے تمام لوگوں کیلئے پیدا کئے ہیں) اللہ کی منشاء اور حکم کے مطابق کرنی "اُسی طرح فرض ہے جیسا کہ نماز اور روزے". اگر سورةالبقرة کی آیت کے اِس ٹکڑے پر ہی عمل کر لیا جائے تو پاکستان سے ظلم، ظالمانہ نظام اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا. ان شاءاللہ Imran Khan Aleema Khanum

Afzal Khan Sherwani

12,948 次观看 • 1 年前

Touched down in Dubai for a power-packed day of high-impact meetings! Just wrapped up an inspiring session with my brother and H.E. Abdullah Lootah—a true leader in government excellence. UAE Governance Lessons: Studying UAE’s top practices in civil service reform. Their focus on efficiency, innovation, and accountability is reshaping public sectors worldwide. Adapting for Pakistan: Turning these best practices into actionable policies for Pakistan. Strong institutions are the bedrock of real economic growth. Building Tomorrow: Excited for partnerships that drive learning, reform, and delivery. #Dubai #GovernmentExcellence #CivilServiceReform #UAEBestPractices #PakistanPolicy #Efficiency #Innovation #Accountability #PublicSector #LootahMeeting دبئی میں ایک با معنی تعامل سے بھرپور دن کے لیے لینڈ کیا—اعلیٰ اثر رکھنے والی اہم ملاقاتوں کا سلسلہ! ابھی اپنے بھائی اور عزت مآب عبداللہ لوطاح کے ساتھ ایک نہایت متاثرکن نشست مکمل کی—حکومتی اعلیٰ کارکردگی میں ایک حقیقی رہنما۔ یو اے ای کی گورننس سے حاصل ہونے والے اسباق: یو اے ای میں سول سروس اصلاحات کے بہترین طریقۂ کار کا مطالعہ۔ کارکردگی، جدت اور جوابدہی پر ان کی توجہ دنیا بھر میں عوامی شعبے کو نئی شکل دے رہی ہے۔ پاکستان کے لیے تطبیق: ان بہترین عملی مثالوں کو پاکستان کے لیے قابلِ عمل پالیسیوں میں ڈھالنا۔ مضبوط ادارے ہی حقیقی معاشی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کل کی تعمیر: سیکھنے، اصلاحات اور مؤثر عمل درآمد کو فروغ دینے والی شراکت داریوں کے لیے پُرجوش۔ #Dubai #GovernmentExcellence #CivilServiceReform #UAEBestPractices #PakistanPolicy #Efficiency #Innovation

Ahsan Iqbal

26,108 次观看 • 6 个月前

اسپین کے شہر غرناطہ کے مسلم قبرستان میں اسلام کی ایک عظیم فکری شخصیت کو خراجِ عقیدت—محمد اسد کی آخری آرام گاہ، جو یورپ کی جانب سے اسلام کی ایک باوقار آواز تھے۔ ایک یورپی متلاشیِ حق جو اسلام کی عالمی آواز بن گیا۔ صحافت سے علم و تحقیق تک، سفارت کاری سے فکری پل سازی تک—یورپ سے قلبِ اسلام تک کا ایک غیر معمولی سفر۔ **دی روڈ ٹو مکہ** کے مصنف، جدید دور کے لیے قرآنِ مجید کے ممتاز مترجم۔ علامہ اقبال کے قریبی رفیق اور پاکستان کی فکری بنیادوں میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت۔ ایک ایسی زندگی جو عقل، ایمان اور بقائے باہمی کے لیے وقف رہی—ایک ایسا ورثہ جس کی آج بھی عالمِ اسلام کو شدید ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے افکار کو نسلوں تک زندہ رکھے۔ At the Muslim cemetery of Granada, Spain, paying tribute to a towering mind of Islam—the final resting place of Muhammad Asad, Europe’s proud voice of Islam. A European seeker who became a global voice of Islam. From journalist to scholar, diplomat, bridge-builder—a journey from Europe to the heart of Islam. Author of The Road to Mecca, translator of the Qur’an for the modern world. A close associate of Allama Iqbal and contributor to Pakistan’s intellectual foundations. A life devoted to reason, faith, and coexistence—a legacy the Muslim world still needs today. May Allah elevate his ranks and keep his ideas alive for generations to come. #Granada #Spain

Ahsan Iqbal

33,663 次观看 • 7 个月前

آخر تک پڑھیں۔ آخر میں آپ کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ 😉 آج کا موضوع ایسا ہے جس کے بارے میں پاکستان میں %99 لوگ اب تک نہیں جانتے۔ جیسے عمران خان اکثر کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی امریکہ، برطانیہ یا دبئی میں یہ نہیں سنا ہوگا کہ کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ ہو گیا، یا کوئی غلط NOC دے کر غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے سیلاب سے کوئی سوسائٹی ڈوب گئی۔ راوی کے کنارے رہائشی سوسائٹی بنانے کی بھی عمران خان نے اسی لیے ڈٹ کر مخالفت کی تاکہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈلیں۔ اور آج وہ درست ثابت ہوئے۔ امریکہ، برطانیہ، دبئی کی طرز پر شفاف نظام لیے اسلام آباد میں ایک ایسا زبردست پراجیکٹ آ گیا ہے جہاں آپ صرف 20 ہزار روپے میں اسلام آباد میں اپنی کمرشل پراپرٹی کے مالک بن سکتے ہیں۔ فائل کا جھنجھٹ ختم۔ آپ کا پیسہ کسی بلڈر کے پاس نہیں جاۓ گا۔ بلکہ CDC میں جاۓ گا۔ Central Depository Company وہ ہے جہاں پاکستان میں جتنے بھی لوگ اسٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگاتے ہیں تو وہ کسی فرد واحد کے پاس نہیں، بلکہ CDC کے پاس ہی جمع ہوتا ہے اور وہیں سے release ہوتا ہے جب کوئی شخص اسٹاک بیچتا ہے۔ ایک square فٹ کی قیمت 20 ہزار روپے ہے۔ اور دلچسپ بات یہ کہ آپ کو تین سال بعد پراجیکٹ مکمل ہونے پر اپنی خریدی ہوئی چیز بیچنے کیلئے کسی خریدار کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ اپنا پیسہ جو تین سال میں ظاہر ہے کئی گنا بڑھ چکا ہو گا انشاءﷲ، ایک سیکنڈ میں online بیچ سکتے ہیں۔ (یہ ترقی یافتہ ممالک میں اسی لیے فراڈ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں بھی یہی نظام ہے) اب آپ کے پاس پورا اپارٹمنٹ یا دوکان خریدنے کے پیسے نہ بھی ہوں تو آپ اپنی مرضی سے جتنے square فٹ خریدنا چاہتے ہیں، خرید کر منافع کمائیں۔ پراجیکٹ کے تمام NOC's ویڈیو میں موجود ہیں، جن میں RDA, SECP, CDC اور FBR کی طرف سے جاری کردہ Approvals اور NOCs شامل ہیں۔ آپ digital service program .com پر بھی یہ تمام NOCs دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان تمام متعلقہ اداروں سے ان NOCs کو چیک کریں۔ اب آپ کے لیے "اچھی خبر" پر آتے ہیں۔ آپ جب اس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے لگیں تو Maleeha کا ڈسکاؤنٹ کوڈ استعمال کر کے %5 ڈسکاؤنٹ حاصل کریں۔ "Taj Boulevard Towers REIT" is all set to make Real Estate transparent in Pakistan, Insha Allah! Launching in a few days in Islamabad! 🇵🇰 For Further Details & Booking: Contact: 0311-8122222

Maleeha Hashmey

179,783 次观看 • 1 年前