Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

Arrived in America—marking another decisive step forward in advancing Pakistan’s development agenda. This journey extends far beyond traditional diplomacy; it is a strategic pursuit of innovation, investment, and cutting-edge ideas. Over the coming days, I will be traveling across cities and institutions, sharing the story of Uraan Pakistan and...

28,432 Aufrufe • vor 1 Monat •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

حکومتِ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے ڈھاکہ آمد میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ بحیثیت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، میں وزیرِاعظم پاکستان کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں، اور اس اہم موقع پر دونوں برادر ممالک کے مابین خیرسگالی اور تعاون کے پیغام کو آگے بڑھانا میری ذمہ داری ہے۔ 🇵🇰🇧🇩 ڈھاکہ پہنچنے پر جس گرمجوشی اور وقار کے ساتھ استقبال کیا گیا، وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور تاریخی رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ یادگار لمحات ہمارے تعلقات کے مثبت رخ اور مستقبل کی وسعتوں کا اظہار ہیں۔ اس دورے کے دوران میری ملاقات چیف ایڈوائزر ڈاکٹر یونس، نومنتخب وزیرِاعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف سے متوقع ہے، تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ مزید برآں، میں ایک جامعہ کے دورے کے دوران طلبہ سے ملاقات کروں گا، ڈھاکہ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان سے تبادلۂ خیال کروں گا، اور تاریخی عمارت احسن منزل کا بھی دورہ کروں گا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور سماجی روابط موجود ہیں۔ ہمارا رشتہ بھائی چارے، مشترکہ اقدار اور عوامی سطح پر مضبوط وابستگی پر مبنی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ دورہ سماجی و معاشی اشتراک، ترقیاتی شراکت داری اور سیاسی ہم آہنگی کے نئے امکانات کو فروغ دے گا، اور ایک ایسی پائیدار شراکت کی بنیاد رکھے گا جو ہماری خودمختاری کے تحفظ، عوامی خوشحالی اور خطے کے استحکام کو یقینی بنائے۔ ہم باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی جانب پیش قدمی کے لیے پرعزم ہیں۔ #ڈھاکہ #حلف_برداری #سفارتکاری #پاکستان #بنگلہ_دیش #دوطرفہ_تعلقات #معاشی_شراکت #بھائی_چارگی

Ahsan Iqbal

19,986 Aufrufe • vor 5 Monaten

Here are the latest highlights in the U.S.-Pakistan relationship. President Trump and Vice President Vance recognized Pakistan’s continued leadership, diplomacy, and statesmanship during U.S.-Iran negotiations. Here in Pakistan, Pakistan-U.S. Alumni Network hosted a masterclass on e-commerce and digital trade to spur innovation and we also highlighted entrepreneurship in the arts at our recent showcase – both part of our #Freedom250 celebration. And as the World Cup continues – GO TEAM USA! 🇺🇸 #USAinPakistan امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق تازہ ترین خبریں۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ-ایران مذاکرات کے دوران پاکستان کی مسلسل قائدانہ صلاحیت، مؤثر سفارت کاری اور دانشمندانہ کردار کو سراہا۔ پاکستان-امریکہ المنائی نیٹ ورک (پی یو اے این) نے ای کامرس اور ڈیجیٹل تجارت پر ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا تاکہ نوجوانوں اور کاروباری افراد کو نئے مواقع اور جدت کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں، ہماری فریڈم 250 تقریبات کے تحت فنونِ لطیفہ کے شعبے میں ابھرتے ہوئے کاروباری اور تخلیقی افراد کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اور آخر میں، ورلڈ کپ کا جوش و خروش جاری ہے۔ امریکی ٹیم کے لیے نیک تمنائیں۔

U.S. Embassy Islamabad

11,537 Aufrufe • vor 1 Monat

روس نے ببانگ دہن الزام لگایا ہے کہ آج افغانستان دنیا بھر سے دہشت گردوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے اسی دوران پاکستان افغانستان سرحد پار خاموشی ٹوٹ گئی اب بات صرف وارننگ تک محدود نہیں رہی پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر TTP اور داعش خراسان کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی نے پورے خطے کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ ننگرہار، پکتیا اور خوست میں کیے گئے حملوں میں درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد کا پیغام غیر معمولی طور پر واضح ہے: اگر کابل نے عملی اقدامات نہ کیے تو فوجی آپشن برقرار رہے گا۔آج کے On My Radar میں ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز ملک—معروف سکیورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر—اور مشطاق یوسفزئی—پشاور کے سینئر صحافی اور افغان امور کے گہرے مبصر—اس صورتحال کا جامع تجزیہ پیش کر رہے ہیں۔گفتگو میں یہ سوال مرکز میں ہے کہ کیا پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات Point of No Return تک پہنچ چکے ہیں، یا سفارت کاری کے لیے ابھی بھی کوئی راستہ باقی ہے؟ یہ پروگرام صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے دنوں کے ممکنہ علاقائی نتائج کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے مکمل معلومات کے لئے اس on my radar کو آخرت دیکھنے اس YouTube link پر کلک کریں

Kamran Khan

43,649 Aufrufe • vor 5 Monaten

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں منعقدہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔ وزیراعظم نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے، معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے۔محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔ تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ بھی دی گئی اور تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

Prime Minister's Office

23,895 Aufrufe • vor 19 Tagen

میں نے باضابطہ طور پر 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (JCC) کے منٹس پر دستخط کیے، جو CPEC 2.0 کے پانچ سالہ ایکشن پلان (2025–2029) کے تحت ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ اس نئے مرحلے میں صنعتی ترقی، جدت، ماحول دوست اقدامات اور عوامی فلاح پر مبنی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی—جو ہمارے مضبوط اور جامع معیشت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ بعد ازاں، CPEC منصوبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانی اور چینی عملے کو ایوارڈز دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ وہ باصلاحیت اور محنتی افراد ہیں جو اس عظیم منصوبے کی حقیقی قوت ہیں۔ سفیر جیانگ زائیدونگ کے ساتھ مل کر ایوارڈز پیش کرنا میرے لیے نہایت فخر کا لمحہ تھا، جو پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط شراکت داری کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی پہاڑوں سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔ ہم مل کر CPEC 2.0 کو مزید آگے بڑھائیں گے، نئے مواقع پیدا کریں گے اور اپنے عوام کے لیے مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا روشن مستقبل یقینی بنائیں گے۔ #CPEC #PakistanChinaFriendship #CPEC2 #UraanPakistan #Development #StrongerTogether In a landmark event, we formally signed the minutes of the 14th Joint Cooperation Committee (JCC), marking the commencement of a new phase under the CPEC 2.0 Five-Year Action Plan (2025–2029). This next phase focuses on industrialization, innovation, green development, and people-centric growth—aligned with our vision of a stronger, more inclusive economy. Later, I had the honor of giving awards to Outstanding Pakistani and Chinese Staff of CPEC Projects 2026, recognising the dedication and excellence of individuals from both nations who are the true driving force behind this transformative initiative. It was a proud moment to jointly present awards with Ambassador Jiang Zaidong, celebrating the spirit of partnership that defines Pakistan-China relations. Pakistan-China friendship remains higher than the mountains and deeper than the oceans. Together, we will continue to advance CPEC 2.0, unlock new opportunities, and build a future of shared growth and prosperity for our peoples. #CPEC #PakistanChinaFriendship #CPEC2 #UraanPakistan #Development #StrongerTogether

Ahsan Iqbal

10,919 Aufrufe • vor 4 Monaten

آج بائیس اپریل کو پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کو ایک سال گزر چکا۔ یہ کھوکھلی، بے منطقی، جھوٹی انا اور تکبر میں گھری سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں دہشتگردی کو بیرونی مسلہ بنایا جاتا ہے اورکشمیر جیسے بین الاقوامی ایشیو کو اندرونی مسلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی پوری قوم کے لیے فخر ہے۔ بھارتی میڈیا نے جھوٹی اور بے بنیاد خبروں سے پروپیگنڈا کیا مگر دنیا نے ان کا مکروہ چہرہ دیکھ لیا۔ بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ بھارت دہشتگردی کو بطور پالیسی استعمال کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی ملوث پایا گیا ہے، کلبھوشن یادیو کیس میں بھی یہ بے نقاب ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، شواہد موجود ہیں، ہم مقابلہ کرتے رہیں گے۔ بھارت کو اِس دہشت گردی کی پالیسی میں مکمل نکامی ہو گی اور منہ کی کھانی پڑے گی جیسے آپریشن بنیان المرصوص میں کھانی پڑی۔ بھارتی عسکری قیادت کے بیانات ان کی شکست کا اعتراف ہیں، آپریشن سندور 2 ایک admission of defeat ہے۔ بھارت یاد رکھے کوئی بھی مس ایڈونچر ہوا تو it will be met with a firm, decisive and swift response۔ یہ بھارت کا آخری فالس فلیگ آپریشن تھا اور وہ دوبارہ ایسی جرات نہیں کر سکے گا۔ پاکستان ہمیشہ اپنے دفاع کے لیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جو ضروری ہے۔ آج بھارت آئسولیشن کا شکار ہے جبکہ پاکستان امن کی علامت بن کر ابھرا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک محنت قابلِ تحسین ہے۔

Attaullah Tarar

47,004 Aufrufe • vor 3 Monaten

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔
1:47

Sensitive content

نئے پاکستان کے بانی جناب اخیر الکوکین نے اس محترمہ کی گردن پر تل دیکھا اور سرکاری خزانے سے پچیس سو کروڑ اس پر وار دئیے، مختصر تھا مگر جنسی بے راہ روی کا دور تھا....!!😎 ماہ جبینوں سے اللہ بچائے : 6 شادیاں اور اربوں کے ڈالر و ریال ادھر سے ادھر کرنے والی ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حوالے سے کچھ اور حقائق سامنے آگئے ۔۔۔ فضیلہ عباسی نے پہلی شادی نشتر میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرتے وقت اپنے ایک کالج فیلو سے کی ۔ لیکن چند ماہ بعد ہی طلاق لے لی ، پھر انہوں نے چند ماہ گزارے اور شہزاد لطیف نامی ایک کاروباری شخص سے کی لیکن ایک سال کے اندر اندر اس شادی میں بھی طلاق ہو گئی اس طلاق کی وجہ یہ تھی کہ کالج دور کی شادی کو فضیلہ عباسی اور انکی فیملی نے چھپایا تھا ۔ اہم بات یہ ہے کہ شہزاد لطیف سے انکا بیٹا بھی ہے جو فضیلہ عباسی کے پاس ہی رہتا ہے ۔ سننے میں آیا ہے کہ جب فضیلہ اور شہزاد لطیف کے درمیان طلاق کا معاملہ چل رہا تھا تو ڈاکٹر فضیلہ کی والدہ اپنے داماد کو ڈرانے کے لیے اپنے بیگ میں ایک پستو۔ل بھی رکھا کرتی تھیں ، خیر دوسری شادی ختم ہونے کے بعد فضیلہ عباسی نے ڈاکٹر اکرام اللہ نامی ایک شخص سے شادی رچا لی ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کا بھی ڈراپ سین ہوا اور فضیلہ نے اگلی شادی ایک بریگیڈئیر صاحب کے بیٹے سے کی ۔ افسوس کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے معیار کے مطابق شوہر اب بھی نہ ملا تو یہاں بھی طلاق ہو گئی مگر اب حیران کن طور پر فضیلہ عباسی نے دوبارہ ڈاکٹر اکرام اللہ سے شادی کر لی ۔ چند ماہ گزارے اور ڈاکٹر اکرام اللہ سے پھر طلاق لے کر ان دنوں ایک ایسے شخص سے شادی کا پلان بنا رہی ہیں جو ملک کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہے اور اسکے پاس دنیا کی بہترین کاروں کا فلیٹ موجود ہے ۔ اس وقت ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی مقدار میں ڈالرز اور ریالوں کی بیرون ملک بنکوں میں منتقلی کی ہے انہوں نے غیر قانونی طور پر بھاری رقوم بیرون ملک اکاؤنٹس میں منتقل کیں اور انکے پاس ذرائع آمدن کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ، یہ چیز البتہ سامنے آئی ہے کہ فضیلہ عباسی کو بڑی رقوم فیکٹری اونرز ، پولٹری فارم مالکان اور کپڑے کے تاجروں نے انکے اکاؤنٹ میں بھیجی ہیں ان کاروباری شخصیات کے ساتھ فضیلہ عباسی کا بظاہر کوئی کاروباری تعلق بھی نہیں تو پھر وہ انہیں اتنی بڑی رقوم کیوں بھیجتے رہے ۔ تفتیش میں اہم سوالات یہ ہیں کہ فضیلہ عباسی کے پاس اتنی رقم کیسے آئی انکا ذریعہ آمدن کیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے جو کاروبار شو کررکھے ہیں وہ محض لاکھوں روپے کی آمدن دیتے ہیں ، فضیلہ عباسی اور انکی والدہ کے حوالے سے ایک حیران کن بات اور سامنے آئی ہے کہ کچھ سال قبل امریکہ میں ایک سٹور سے چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں اور انہیں ہتھکڑی بھی لگی دوسری بار بھی امریکہ مین قانون نافذکرنے والے اداروں کے ساتھ تفتیش میں تعاون نہ کرنے پر ڈاکٹر فضیلہ کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ اس کیس میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فضیلہ عباسی کی گرفتاری کے لیے کوشاں ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل فضیلہ عباسی کو بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا گیا تھا جب وہ ضمانت قبل از گرفتاری پر تھیں ۔۔۔ the Team Sultan کی وال سے اقتباس ۔۔

Daim Mubashar

243,416 Aufrufe • vor 4 Monaten

"لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ انسان میں غیرت پیدا کر دیتا ہے. ایک غیرتمند مزدور کا تذکرہ" وزیراعظم عمران خان پہلے "ریاست" کی تعریف جاننا ضروری ہے. ریاست کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں.؟ سرزمین: ایک مخصوص علاقہ. دوسرا اُس علاقے میں مقیم عوام: جو اُس جغرافیائی علاقے کے باشندے ہوتے ہیں. تیسرا: وہ نظام، جو اُن کا متفقہ آئین یا دستور کہلاتا ہے. اُن جغرافیائی حدود میں مقیم باشندوں کے بنیادی حقوق، آزادی و خودمختاری، صحت، تعلیم، معاشی ترقی و استحکام، عوامی خدمت اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مختلف ادارے اور شعبہ جات تشکیل دیئے جاتے ہیں. جنہیں چلانے کیلئے ماہرین کی مدد سے اصول، قواعد وضوابط، ذمہ داریوں کا تعین اور اُمور کی جُزئیات طے کرنے والی دستور ساز اسمبلی کے ارکان کو عوام منتخب کرتے ہیں. اُنہی عوامی نمائندوں کے بنائے ہوئے متفقہ آئینِ پاکستان کی حفاظت کرنے، اُس آئین کے تابع رہتے ہوئے اُسے نافذ کرنے کا افواج سمیت تمام ملازمین حَلف اٹھاتے ہیں. دنیا میں عموماً مشہور دو نظام جمہوریت اور آمریت رائج ہیں. پاکستان میں گزشتہ 77 سالوں سے اُنہی دو نظاموں میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانے کی کوشش میں گزر گئے. جبکہ براہ راست "قرآن وسنت" میں غور کیا جائے تو جمہوری نظام اور آمریت دونوں ہی اسلامی نظام سے یکسر مختلف ہیں. اگر ہم اسلام کا مغربی نظاموں کی بجائے کتاب وسنت کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام میں نہ تو فرد کی حاکمیت جائز ہے اور نہ ہی اکثریت کی بلکہ اللہ تعالٰی صرف اور صرف اپنی حاکمیت منواتا ہے. یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اوپر ایک حاکم اعلیٰ ہے اور اُس کے نیچے کئی انسان اَدنیٰ حاکم ہیں، بلکہ حاکمیت ہے ہی صرف اللہ رب العزت کی ہے. ریاست کیا ہے اور اس کے وسائل کا اصل مالک کون ہے.؟ ریاست کے اجزائے ترکیبی سمجھ لینے اور زمین و آسمانوں کی ملکیت و حاکمیت جان لینے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ پاکستانی زمینوں اور قدرتی وسائل کا اصل مالک اور حقدار کون ہے.؟ اللہ تعالٰی کے احکامات کے مطابق نظام چلانے کیلئے وفاقی اور صوبائی نمائندوں کو عوام منتخب کرتے ہیں لہٰذا وہ تو صرف منتظمین ہیں، ریاستی وسائل کے مالک نہیں. جبکہ جرنیل عوام کے ملازم ہیں، لہٰذا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ریاست کی زمینوں اور قدرتی وسائل کی ملکیت اُن کے پاس کہاں سے آ گئی ہے.؟ یہ ملکیت اُنہیں وراثت میں ملتی ہے یا جہیز میں.؟ آئینِ پاکستان میں اللہ تعالیٰ کی حاکمِیتِ اَعلیٰ تسلیم کی گئی اور ستورِ پاکستان میں اسلام کو ریاست کا دین مانا گیا ہے اور قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت کر دی گئی ہے. وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ (المائدۃ:18) آسمانوں اور زمین اور اُن کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالٰی کی ملکیت ہے. ! وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ(المنافقون:7) آسمانوں اور زمین کے کل خزانے اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں لیکن منافقین اس حقیقت کا فہم نہیں رکھتے. ! {ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا.} وہی تو وہ(اللہ) ہے جس نے پیدا کیا ہے تم سب لوگوں کیلئے زمین کے تمام ذخیروں کو.(سورة البقرة:29) He it is Who created for you all that is in the earth.(2:29) چونکہ زمین و آسمانوں کے تمام تر خزانوں اور معدنیات کا مالک اللہ تعالٰی ہے. لہٰذا اُن قدرتی وسائل کی تقسیم (جوکہ اللہ نے تمام لوگوں کیلئے پیدا کئے ہیں) اللہ کی منشاء اور حکم کے مطابق کرنی "اُسی طرح فرض ہے جیسا کہ نماز اور روزے". اگر سورةالبقرة کی آیت کے اِس ٹکڑے پر ہی عمل کر لیا جائے تو پاکستان سے ظلم، ظالمانہ نظام اور غربت کا خاتمہ ہو جائے گا. ان شاءاللہ Imran Khan Aleema Khanum

Afzal Khan Sherwani

12,948 Aufrufe • vor 1 Jahr

Touched down in Dubai for a power-packed day of high-impact meetings! Just wrapped up an inspiring session with my brother and H.E. Abdullah Lootah—a true leader in government excellence. UAE Governance Lessons: Studying UAE’s top practices in civil service reform. Their focus on efficiency, innovation, and accountability is reshaping public sectors worldwide. Adapting for Pakistan: Turning these best practices into actionable policies for Pakistan. Strong institutions are the bedrock of real economic growth. Building Tomorrow: Excited for partnerships that drive learning, reform, and delivery. #Dubai #GovernmentExcellence #CivilServiceReform #UAEBestPractices #PakistanPolicy #Efficiency #Innovation #Accountability #PublicSector #LootahMeeting دبئی میں ایک با معنی تعامل سے بھرپور دن کے لیے لینڈ کیا—اعلیٰ اثر رکھنے والی اہم ملاقاتوں کا سلسلہ! ابھی اپنے بھائی اور عزت مآب عبداللہ لوطاح کے ساتھ ایک نہایت متاثرکن نشست مکمل کی—حکومتی اعلیٰ کارکردگی میں ایک حقیقی رہنما۔ یو اے ای کی گورننس سے حاصل ہونے والے اسباق: یو اے ای میں سول سروس اصلاحات کے بہترین طریقۂ کار کا مطالعہ۔ کارکردگی، جدت اور جوابدہی پر ان کی توجہ دنیا بھر میں عوامی شعبے کو نئی شکل دے رہی ہے۔ پاکستان کے لیے تطبیق: ان بہترین عملی مثالوں کو پاکستان کے لیے قابلِ عمل پالیسیوں میں ڈھالنا۔ مضبوط ادارے ہی حقیقی معاشی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ کل کی تعمیر: سیکھنے، اصلاحات اور مؤثر عمل درآمد کو فروغ دینے والی شراکت داریوں کے لیے پُرجوش۔ #Dubai #GovernmentExcellence #CivilServiceReform #UAEBestPractices #PakistanPolicy #Efficiency #Innovation

Ahsan Iqbal

26,108 Aufrufe • vor 6 Monaten

اسپین کے شہر غرناطہ کے مسلم قبرستان میں اسلام کی ایک عظیم فکری شخصیت کو خراجِ عقیدت—محمد اسد کی آخری آرام گاہ، جو یورپ کی جانب سے اسلام کی ایک باوقار آواز تھے۔ ایک یورپی متلاشیِ حق جو اسلام کی عالمی آواز بن گیا۔ صحافت سے علم و تحقیق تک، سفارت کاری سے فکری پل سازی تک—یورپ سے قلبِ اسلام تک کا ایک غیر معمولی سفر۔ **دی روڈ ٹو مکہ** کے مصنف، جدید دور کے لیے قرآنِ مجید کے ممتاز مترجم۔ علامہ اقبال کے قریبی رفیق اور پاکستان کی فکری بنیادوں میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت۔ ایک ایسی زندگی جو عقل، ایمان اور بقائے باہمی کے لیے وقف رہی—ایک ایسا ورثہ جس کی آج بھی عالمِ اسلام کو شدید ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے افکار کو نسلوں تک زندہ رکھے۔ At the Muslim cemetery of Granada, Spain, paying tribute to a towering mind of Islam—the final resting place of Muhammad Asad, Europe’s proud voice of Islam. A European seeker who became a global voice of Islam. From journalist to scholar, diplomat, bridge-builder—a journey from Europe to the heart of Islam. Author of The Road to Mecca, translator of the Qur’an for the modern world. A close associate of Allama Iqbal and contributor to Pakistan’s intellectual foundations. A life devoted to reason, faith, and coexistence—a legacy the Muslim world still needs today. May Allah elevate his ranks and keep his ideas alive for generations to come. #Granada #Spain

Ahsan Iqbal

33,663 Aufrufe • vor 6 Monaten

آخر تک پڑھیں۔ آخر میں آپ کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔ 😉 آج کا موضوع ایسا ہے جس کے بارے میں پاکستان میں %99 لوگ اب تک نہیں جانتے۔ جیسے عمران خان اکثر کہتے ہیں کہ آپ نے کبھی امریکہ، برطانیہ یا دبئی میں یہ نہیں سنا ہوگا کہ کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ ہو گیا، یا کوئی غلط NOC دے کر غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے سیلاب سے کوئی سوسائٹی ڈوب گئی۔ راوی کے کنارے رہائشی سوسائٹی بنانے کی بھی عمران خان نے اسی لیے ڈٹ کر مخالفت کی تاکہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈلیں۔ اور آج وہ درست ثابت ہوئے۔ امریکہ، برطانیہ، دبئی کی طرز پر شفاف نظام لیے اسلام آباد میں ایک ایسا زبردست پراجیکٹ آ گیا ہے جہاں آپ صرف 20 ہزار روپے میں اسلام آباد میں اپنی کمرشل پراپرٹی کے مالک بن سکتے ہیں۔ فائل کا جھنجھٹ ختم۔ آپ کا پیسہ کسی بلڈر کے پاس نہیں جاۓ گا۔ بلکہ CDC میں جاۓ گا۔ Central Depository Company وہ ہے جہاں پاکستان میں جتنے بھی لوگ اسٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگاتے ہیں تو وہ کسی فرد واحد کے پاس نہیں، بلکہ CDC کے پاس ہی جمع ہوتا ہے اور وہیں سے release ہوتا ہے جب کوئی شخص اسٹاک بیچتا ہے۔ ایک square فٹ کی قیمت 20 ہزار روپے ہے۔ اور دلچسپ بات یہ کہ آپ کو تین سال بعد پراجیکٹ مکمل ہونے پر اپنی خریدی ہوئی چیز بیچنے کیلئے کسی خریدار کی ضرورت نہیں، بلکہ آپ اپنا پیسہ جو تین سال میں ظاہر ہے کئی گنا بڑھ چکا ہو گا انشاءﷲ، ایک سیکنڈ میں online بیچ سکتے ہیں۔ (یہ ترقی یافتہ ممالک میں اسی لیے فراڈ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں بھی یہی نظام ہے) اب آپ کے پاس پورا اپارٹمنٹ یا دوکان خریدنے کے پیسے نہ بھی ہوں تو آپ اپنی مرضی سے جتنے square فٹ خریدنا چاہتے ہیں، خرید کر منافع کمائیں۔ پراجیکٹ کے تمام NOC's ویڈیو میں موجود ہیں، جن میں RDA, SECP, CDC اور FBR کی طرف سے جاری کردہ Approvals اور NOCs شامل ہیں۔ آپ digital service program .com پر بھی یہ تمام NOCs دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان تمام متعلقہ اداروں سے ان NOCs کو چیک کریں۔ اب آپ کے لیے "اچھی خبر" پر آتے ہیں۔ آپ جب اس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے لگیں تو Maleeha کا ڈسکاؤنٹ کوڈ استعمال کر کے %5 ڈسکاؤنٹ حاصل کریں۔ "Taj Boulevard Towers REIT" is all set to make Real Estate transparent in Pakistan, Insha Allah! Launching in a few days in Islamabad! 🇵🇰 For Further Details & Booking: Contact: 0311-8122222

Maleeha Hashmey

179,783 Aufrufe • vor 11 Monaten

گلف فوڈ میں پاکستان کا راج! 🇵🇰 دنیا کے سب سے بڑے فوڈ اسٹیج پر عالمی توجہ حاصل کرتے ہوئے۔ دبئی کا سفر، رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (REAP) کی دعوت پر۔ یہ محض حوصلہ افزائی نہیں—یہ ایک قومی عہد ہے۔ پاکستان پویلین کے اندر ہمارے مصنوعات نعروں سے زیادہ بلند آواز میں بولتی ہیں: اناج سے برانڈ تک—ایسی پیکیجنگ، معیار اور تسلسل کے ساتھ جو عالمی سطح پر مقابلہ کر سکے۔ ہماری برآمدات ترقی کی شہ رگ ہیں۔ نہ کوئی شارٹ کٹ۔ نہ کوئی تاخیر۔ برآمدات کو دوگنا کرنا غیر قابلِ مذاکرات ہے۔ نجی شعبہ قیادت کر رہا ہے؛ حکومت مکمل طور پر پالیسی سپورٹ، سہولت کاری اور اصلاحات کے ساتھ پشت پر کھڑی ہے۔ اسٹالز سے شیلفس تک، اور دنیا بھر کی سپرمارکیٹس تک۔ اسی طرح مارکیٹس جیتی جاتی ہیں—وسعت، رفتار اور معیارات کے ساتھ۔ MADE IN PAKISTAN۔ دنیا کے لیے تیار۔ PAKISTAN ROCKS AT GULF FOOD! 🇵🇰 Stealing the global spotlight on the world’s biggest food stage. Traveled to Dubai, invited by the Rice Exporters Association of Pakistan (REAP). This isn’t motivation—it’s a national promise. Inside the Pakistan Pavilion, our products speak louder than slogans: from grain to brand, with packaging, quality, and consistency that compete globally. Our exports are the lifeline of growth. No shortcuts. No delays. Doubling exports is non-negotiable. Private sector leads the charge; government stands fully behind with policy support, facilitation, and reform. From stalls to shelves to supermarkets worldwide. This is how markets are won—with scale, speed, and standards. MADE IN PAKISTAN. Ready for the world. #Dubai #GulfFood2026

Ahsan Iqbal

14,527 Aufrufe • vor 6 Monaten

"میں ٹانگیں توڑ دوں گا!” - کیا بھٹو ایسا ہی کہا تھا؟ اعزاز سید Azaz Syed ایک سنجیدہ اور غیر جانبدار صحافی سمجھے جاتے ہیں، مگر افسوس کہ “مغالطۂ پاکستان” کی مسخ شدہ تاریخ ان کے حافظے سے بھی ابھی تک محو نہیں ہو سکی۔ بنگلہ دیش کے انتخابات کے حوالے سے ان کے حالیہ ولاگ میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو سے منسوب وہی معروف جملہ دہرایا: "میں ٹانگیں توڑ دوں گا۔” حالانکہ اس بیان کی حقیقت متعدد بار واضح کی جا چکی ہے، اور خود بھٹو صاحب نے اپنے عدالتی بیان میں بھی اس کی وضاحت کی تھی۔ آئیے ایک بار پھر اس متنازعہ جملے کا تناظر اور اصل الفاظ دیکھتے ہیں: چند برس قبل محقق ڈاکٹر مریم خان Dr. Maryam S. Khan نے اپنے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں اس معاملے کی مدلل اور دستاویزی وضاحت پیش کی تھی۔ میں ان کا تھریڈ اپنے اس ٹوئٹ کے ساتھ بھی شیئر کر رہا ہوں۔ پس منظر یہ تھا کہ جب شیخ مجیب الرحمن سے مستقبل کے آئینی ڈھانچے پر بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی تھی اور وہ اپنے چھ نکات پر قائم تھے، تو اس صورتحال میں بھٹو صاحب نے پیپلز پارٹی کے نو منتخب اراکینِ قومی اسمبلی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: “… if they go there and merely rubber-stamp the Awami League’s draft constitution, they will have no leg to stand upon on their return.” “…اگر وہ وہاں جائیں اور محض عوامی لیگ کے مسودۂ دستور پر مہرِ تصدیق ثبت کر دیں، تو واپسی پر ان کے پاس کھڑے ہونے کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہوگی۔" یہ بیان عوامی لیگ کے حق میں فیصلہ کرنے کے سیاسی نتائج پر زور دیتا ہے، نہ کہ کسی جسمانی تشدد یا ملک توڑنے کی دھمکی۔ جیسا کہ بدیانتی سے اردو ترجمہ کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔

Asjad Bukhari

31,469 Aufrufe • vor 6 Monaten

ایک نہیں دو میڈیا کا پاکستان: کل جب خیبر پختونخواہ میں نیشنل سکیوریٹی وار کورس کے شرکاء سے خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی خطاب کیا تو میڈیا میں کور تو چھوڑیں خبر بھی نہیں دیتا اور آج پنجاب کی وزیر اعلی کو براہراست دکھا رہا ہے۰ فرق یہ ایک تو پی ٹی آئ کی حکومت ہے اور دوسرا عوام کا پیسہ اشتہاروں پر نہیں ضائع کرتے۰ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے تحت 26 ویں نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے شرکاء کا دورہ وزیر اعلیٰ ہاؤس شرکاء کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ قائم مقام آئی جی پی خیبر پختونخوا کے علاوہ محکمہ منصوبہ بندی اور خزانہ کے حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ متعلقہ حکام کی طرف سےکورس کے شرکاء کو صوبائی حکومت کے مختلف امور پر بریفنگ۔ ان امور میں انتظامی امور، مالی معاملات، ترقیاتی پروگرام، امن و امان وغیرہ شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی شرکاء کے ساتھ گفتگو۔ صوبہ خیبر پختونخوا وسائل سے مالامال ہے لیکن ان وسائل کے مؤثر استعمال پر توجہ نہیں دی گئی، علی امین گنڈاپور ہم جب اقتدار میں آئے تو صوبے کو مالی مشکلات اور امن و امان کے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا، وزیر اعلی ہم نے شروع دن سے صوبے کی آمدن بڑھانے کے لئے معاشی خود کفالت کا ماڈل اپنایا، علی امین گنڈاپور ہم نے استعداد کے حامل شعبوں پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کی، وزیر اعلی ہم نے بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے گذشتہ 19 مہینوں میں اربوں روپے اضافی آمدن پیدا کی، علی امین گنڈاپور صوبے میں پن بجلی پیدا کرنے کی بہت ذیادہ استعداد موجود ہے ، وزیر اعلی ہم پن بجلی کی پیداوار کو صنعتوں کی ترقی کے لئے استعمال کرنے پر کام کر رہے ہیں، علی امین گنڈاپور اس مقصد کے لئے ہم اپنی ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے پر کام کررہے ہیں، وزیر اعلی صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرکے صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے، علی امین گنڈاپور اسی طرح صوبے میں گیس اور تیل کے وسائل کو بھی صنعتی ترقی کے لئے استعمال کرنے پر کام ہو رہا ہے، وزیر اعلی سیاحت خیبر پختونخوا کا ایک اور اہم شعبہ ہے جسے ترقی دے کر صوبے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے، علی امین گنڈاپور صوبائی حکومت بین الاقوامی معیار کے اینٹگریٹڈ ٹورازم زونز کے قیام پر کام کر رہی ہے، وزیر اعلی دیہی علاقوں کے لوگوں کو مقامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لئے لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبوں کی ترقی پر کام جاری ہے، علی امین گنڈاپور پہاڑی علاقوں میں زراعت کے فروغ کے لئے پہلی دفعہ ماؤنٹین ایگریکلچر پالیسی متعارف کرائی گئی ہے، وزیر اعلی گورننس اور سروس ڈیلیوری کی بہتری، نظام میں اصلاحات اور شفافیت ہمارے اہم ترجیحی شعبے ہیں، علی امین گنڈاپور ہم اس مقصد کے لئے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کر رہے ہیں، وزیر اعلی اب تک 29 سیکٹرز کی ڈیجیٹائزیشن کی گئی ہے مزید پر کام جاری ہے، علی امین گنڈاپور پڑوسی ملک افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے صوبے میں امن و امان کے مسائل درپیش ہیں، وزیر اعلی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہماری مسلح افواج، پولیس اور عوام نے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں، علی امین گنڈاپور ملک میں امن کے قیام کے لئے شہید ہونے والوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں، وزیر اعلی دہشتگردی کے مسئلے کے پائیدار حل کے لئے افغانستان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں، علی امین گنڈاپور خوش آئند ہے کہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں میری تجویز سے اتفاق کر لیا ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے افغان مہاجرین کی ایک طویل عرصے تک میزبانی کی ہے، علی امین گنڈاپور افعان مہاجرین کی وطن واپسی وفاقی حکومت کی پالیسی ہے لیکن یہ عمل باعزت طریقے سے ہونا چاہیے، علی امین گنڈاپور سابقہ قبائلی اضلاع کا صوبے کے ساتھ انضمام ہوا لیکن انضمام کے وقت کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے، وزیر اعلی این ایف سی میں صوبے کو ضم اضلاع کا شیئر دینے کے لئے نئے این ایف سی ایوارڈ کی ضرورت ہے، علی امین گنڈاپور صوبے کے سو فیصد عوام کو مفت علاج معالجے کے لئے صحت کارڈ دیا گیا ہے، وزیر اعلی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کے لئے بلاسود قرضے دیئے جا رہے ہیں، علی امین گنڈاپور اسی طرح نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور تکنیکی تربیت حاصل کرنے کے لئے 14 ارب روپے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، علی امین گنڈاپور

Muzzammil Aslam

64,485 Aufrufe • vor 10 Monaten