Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

baba kodda 18Plus ۔۔نیڑے تیرے آواں گی تے کی دیویں گا۔

13,692 views • 1 year ago •via X (Twitter)

1 Comments

Baba Kodda's profile picture
Baba Kodda1 year ago

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ امارات کے شیخ تلور کا شکار کھیلنے بہاولپور آئے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ فالکن، فروٹ، سبزیاں، سیکیورٹی کا عملہ، یہاں تک کہ فرنیچر اور گاڑیاں تک لاتے ہیں تاکہ وہ اپنے لگژری شکار کے دوران اپنے شایان شان سہولیات بھی حاصل کرتے رہیں۔ یہ دورہ سرکاری نہیں ہوتا، سرکاری دورہ تو شیخ محمد نے پچھلے ایک سال کے دوران دو دفعہ ملتوی کردیا تھا۔ یہ خالص نجی اور شکاری دورہ ہے۔ اللہ بخشے، شیخ محمد کے والد شیخ زائد بن سلطان نے اسی علاقے کے آس پاس ایک پورا شہر بسا رکھا تھا جہاں وہ بھی ہر سال دن کے وقت تلور کا شکار کرتے تھے اور رات کو 14 سالہ کنواری بچیوں کے ساتھ گزارتے تھے کیونکہ ان کے کسی مصری معالج نے کہہ رکھا تھا کہ اگر وہ 14 سالہ لڑکیوں کے ساتھ تعلقات زن و شو قائم کرتے رہیں تو وہ لمبی عمر پائیں گے اور "جوان" بھی رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مرحوم شیخ زائد نے 90 سے زائد شادیاں بھی کیں جن میں سے اکثر شادیاں محض چند راتوں کیلئے ہی ہوتی تھیں، البتہ ان لڑکیوں کے خاندان کی آنے والی نسلوں کیلئے گزربسر کا وافر انتظام ہوجاتا۔ شیخ محمد بن زائد کا کوئی مصری معالج نہیں، سنا ہے شیخ صاحب اپنے والد کے برعکس ایلوپیتھک اصولوں پر یقین رکھتے ہیں اور اس مقصد کیلئے ان کے خاص معالجین میں جرمنی اور برطانوی میڈیکل ایکسپرٹس شامل ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں اماراتیوں کیلئے شکار کا سیزن دسمبر میں مخصوص کیا جاتا ہے کیونکہ فروری میں سعودی شہزادے یہاں پدھارتے ہیں، اس بار لیکن شیخ محمد تھوڑا لیٹ ہوگئے اور جنوری میں تشریف رنجہ فرمایا۔ ان کے بڑے بھائی اور مرحوم صدر شیخ خلیفہ جب دسمبر میں آتے تو پورا ایک مہینہ یہاں کی "خاک" چھانتے۔ شیخ محمد شاید ہفتہ دس دن ہی گزار پائیں، وجہ وہی ہے، جرمن معالج۔ اماراتی شیخ ہوں یا سعودی شیخ، جب بھی وہ علاقے میں آتے ہیں تو پورے پاکستان سے " چمڑی " کا کاروبار کرنے والے لوگ اپنا اپنا " مال" لے کر وہاں پڑاؤ ڈال دیتے ہیں۔ سب کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا مال چند گھنٹوں کیلئے ہی سہی، شیخ کے خیمے کی زینت بن جائے۔ یہ چند گھنٹے ان کے خاندان کی آنے والی نسلوں کی بھوک مٹا دیتے ہیں۔ اس دفعہ خاص بات یہ ہوئی کہ ان چمڑی کا کاروبار کرنے والوں کو سخت مسابقت کا سامنا ہے کیونکہ اس دفعہ مقابلے میں اشرافیہ بھی اپنی چمڑیاں لے کر وارد ہوچکی ہے۔ پتہ نہیں شیخ صاحب کے جرمن معالج 55 سالہ چمڑی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، بہرحال کچھ بھی ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ جاناں پانڈی اور شریف ٹنڈاں کا خاندان کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا!!!

Related Videos