Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

Breaking🛑 24 نومبر کو پاکستان میں انقلاب ا رہا ہے۔ یہ باتیں کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ کے نیوز چینل پر ہو رہی ہیں۔ اسکا مطلب سمجھتے ہو سب؟ امریکی چینل پر یہ باتیں ہو رہی ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ اس سے بے خبر تو نہیں ہو سکتی۔ پاکستانیو...

209,067 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля Java1d
Java1d1 год назад

خان نے پھینکاھےاک جال بس آگئ اب فائنل کال بھاگ نہ پائیں یہ دجال آو ملاؤ تال سے تال ! عوام بچاری ھے کنگال شریف زرداری مال ومال بچنا ھوگیا اب محال ! کالی ھے یہ ساری دال ! ویگو ڈالے کی مثال کتُی مل گئی چوراناں نال ھم دیکھیں گے انکا زوال بس یہی ماہ اور یہی سال ! برا ھوگا ُاس کا حال ! جس نے کھایا غریب کا مال جاوید آگئ ھے فائنل کال !

Фото профиля Javeria
Javeria1 год назад

Thank you @ryangrim You’re a Champion, and we will certainly invite you when Imran Khan is sworn in as the Prime Minister of Pakistan. Your support through this process is greatly appreciated.

Фото профиля Abdul Saboor Abbasi
Abdul Saboor Abbasi1 год назад

اس وقت ساری دنیا کی میڈیا میں خان کا تذکرہ ہی ہو رہا ہے

Фото профиля techy2022
techy20221 год назад

this US channel is owned by the same dropsite folks Ryan Grim who floated conspiracy theories about Imran Khan’s detention&ur regular spaces speakers; good try though but as you know there are sensible people around too other than brainless youthias 😂😂

Фото профиля ABID SULEHRE
ABID SULEHRE1 год назад

جب آپ کو پورا یقین ہے کہ نیو ابو ٹرمپ لا علم نہیں ان کو علم ہے کہ انقلاب آ رہا ہے تو سارے یوتھیئے واپس کیوں نہیں آ رہے آ کے تاریخ میں اپنا نام لکھواو سوشل میڈیا پر باہر بیٹھ کر انقلاب نہیں آتے ویسے یہ وہی امریکہ پہ تم لوگ اعتبار کر رہے ہو جس سے آزادی دلوانی تھی ہم کوئی غلام ہیں

Фото профиля YASIR NISAR SYED
YASIR NISAR SYED1 год назад

اس بیچارے کو کیا پتا کہ یوتھی صرف بیرون ملک سے انقلاب نہی لا سکتے

Фото профиля Arslan Abbasi
Arslan Abbasi1 год назад

اسی لئے تو یہاں کانپیں ٹانگ رہئ ہیں چوہدری نظام الدین کی

Фото профиля Rimsha Insafian
Rimsha Insafian1 год назад

ہم 100فیصد والے تیار ہیں

Фото профиля Shehroz Jutt
Shehroz Jutt1 год назад

#FinalCall

Фото профиля J Malik
J Malik1 год назад

ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ نکلو باہر خان کی حاطر، پاکستان کی خاطر

Похожие видео

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 просмотров • 1 год назад