Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

CAT کیٹ ماہیا مینوں ہنڑ فون نہ کریں میری پھڑی گئی اے چیٹ ماہیا😂😂

18,374 views • 2 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ہمیں ایسا بزدل اور کم ظرف دشمن ملا ہے جو معصوم بچوں کو بھی اپنی دہشت کا نشانہ بنا ڈالتا ہے💔 آج مستونگ دھماکے میں تین معصوم اسکول کی طالبات، جن کی عمر مشکل سے سات سال ہوگی، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی ہیں۔ دہشت گردوں کی سہولت کار کچھ خواتین کے رچائے ہوئے ڈرامے پر پورے پاکستان کے صحافی اور نام نہاد لوگ جاگ جاتے ہیں، مگر بلوچ قوم کے ان ننھے فرشتوں کے خون آلود جسم کسی کو نظر نہیں آتے؟ یہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہی لوگ ہیں جو اللہ نذر اور بشیر زیب اور انکے گٹھ جوڑ ٹی ٹی پی اور باقی دہشتگرد تنظیموں کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو ان کے خاندان کی خواتین کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ آخر ہم کب بلوچستان میں ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جامع آپریشن کریں گے؟ آخر کب تک یوں ہی معصوم شہری دہشت گرد تنظیم بی ایل اے، بی ایل ایف، اور ٹی ٹی پی کی دہشت کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ #Balochistan #Mastung

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

24,760 views • 1 year ago

میری ماں جی میری کل کائنات کا آخری سفر بھلامائیں ایسےبچوں کوچھوڑجاتی ہیں،ماں اتنی سخت دل کیسےہوسکتی ہے، مائیں اتنی بےوفا کیسے ہوسکتی ہیں پیرکوطبیعت خراب ہوئ،پوتاہسپتال لےگیاڈاکٹرنے الٹراساؤنڈ ،LFT,RFT کیااورکہاجگرکاکوئ سیریزمسلہ ہےآپCT سکین کرواؤپوتےنےCTسکین کروایاڈاکٹر نےکہاکہ بظاہرجگرٹرانسپلانٹ کاکیس ہےلیکنCTسکین کی رپورٹ آنےپرہی حتمی فیصلہ ہوگا دو دن منگل،بدھ ہرطرف سےلیورٹرانسپلانٹ بارےمعلومات لیں جمعرات کوCTاسکین رپورٹ آئ ڈاکٹر نےکہاجگرکاکینسر لاسٹ اسٹیج پرہےٹرانسپلانٹ ناممکن ہے ERCP+ Studڈالنےکی کوشش کرتے ہیں اگرکامیاب ہوگئی توان کےپاس15ماہ کاوقت ورنہ 4ماہ سےزیادہ وقت نہیں آپ انہیں گھرلےجائیں اورایک دو دن میں فیصلہ کرکے بتائیں لیکن یادرکھیں کہ بہتری کا1%بھی چانس نہیں پیروں تلےزمین نکل گئی والدہ کوہسپتال سےنکالا اس دوران بہت سےڈاکٹرزکوساری رپورٹ بھیج چکاتھاسب کی یہی رائےتھی کچھ دوستوں نےہومیو پیتھک کی امید دلوائ ،انہوں نےکہا کینسر لاسٹ اسٹیج پرہےلیکن کوشش کی جاسکتی ہے اللہ کانام لےکرہومیوسےدوائ لی اوروالدہ کوگھرلےگئے ساری رات والدہ بھی جاگتی رہیں بہنیں بھی اورادھر میں بھی فون پررابطےمیں رہاایک پل نہیں سویا،آسٹریلیا،انگلینڈ، شوکت خانم،پمز،نوری،پولی کلینک اپنےتعلقات کےبندوں سےریکویسٹ کر کےآج کادن سیکنڈ اوپینئین لیتارہا،تقریباہر گھنٹےبعدوالدہ سےفون پربات بھی کرتارہا تکلیف میں تھیں لیکن قابل برداشت تھی یاپھربتاتی نہیں تھیں پتا ہے نا یہ مائیں جھوٹی بھی ہوتی ہیں آپنا درد آورتکلیف ا ولادسےچھپاتی ہیں دن 12بجےبہن اور بیوی کاروتےہؤےفون آیا والدہ کاجسم نیلاپڑگیاہے،بیہوش ہوگئی ہیں فوراہسپتال لےگئےمیں بھی قریب پنڈی ہی شفٹ ہوچکا تھا،اورپھر بعدنمازجمعتہ2:30بجےوفات پاگئیُں گھر لائےغسل دےکرکفن پہناکرقریبی سودوسو احباب کے ساتھ جنازہ پڑھااورنکل آیا 5بجےاطلاع دینی شروع کی رات10:00کادوسرا جنازہ رکھاصرف4گھنٹےمیں کتنی اطلاع دےسکتے تھےپھربھی ہزاروں لوگوں نےمیری ماں کاجنازہ پڑھامیں آپ سب کااحسان بھول نہیں سکتا بھلامائیں اتنی جلدی کیسےجا سکتی ہیں،ابھی توخدمت بھی نہیں کی،ڈاکٹر نےکل ہی تو یہ کہ گھر بھیجا تھا چار ماہ کم از کم آپ کےپاس ہیں پھر ایکدم سے ایک دم سے میری ماں جی آپ کیسے چلی گئیں مائیں ہوتی ہی بےوفاہیں پورے7ماہ بعد4اپریل کوماں سےچھپ کرعیدملنے آیابیٹھنےہی نہیں دیاملیں پیارکیااورپیچھے پڑگئیں چلوواپس جاؤ،وہ ظالم آجائیں گےتم پربہت تشدد کریں گے،بس میں نےدیکھ لیاہےبس نکلوجاؤفون پربات ہوگی 2009اگست میں چھوٹا اسٹیکرچھپوایا،دیکھا تواسے تہہ کرکے پرس میں ڈال رہی ہیں پوچھا توکہنےلگی بیٹا چوہڑ تیری بہن کودکھاؤں گی میرے بیٹے کی تصویر کےپوسٹر لگے ہیں بیچاری مائیں کتنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پرپاگل ہوجاتی ہیں عام نارمل حالات میں بھی میری تصویر پرس میں یا موبائل میں رکھتی تھیں کہتی تھی تجھے دیکھ کرخوش ہوتی ہوں ویسے میری نانو بھی میری تصویر اپنے پاس رکھتی تھیں کہتی تھیں ہروقت تمھیں دیکھنے کو دل کرتاہے دونوں ماں بیٹی جھوٹ بولتی تھیں ،دونوں نے جاتے ہؤے ڈھنگ سے سلام بھی نہیں کیا اور دعوے اتنے بڑے بڑے پیارکے یہ مائیں ہوتی ہی شائئیدئئجھوٹی ہیں میرے باپ جیسے شفیق بڑے بھائ حاجی عمر مغل نے، میری بہنوں نے، پوتوں، پوتیوں ،نواسوں نواسیوں میری بیوی بھابھی نے گنتی کے چار دن ماں جی کو دیکھ تولیانا، میں نے پھر بھی مری ماں کا چہرہ دیکھ لیا، پاؤں چوم لئیے،جنازہ پڑھ لیا،4اپریل کو ماں جی کو عید بھی مل آیا، مرشد کی زیارت بھی کرلی میرا چھوٹا بھائ ڈاکٹر آفتاب مغل میری ماں جی کا لاڈلا پتر کل سارا دن آسٹریلیا میں مچھلی کی طرح تڑپتا رہا لیکن فلائٹ نہ ملی نومبر 2024 اسلام آباد قتل عام کے مہینے میں میری اکلوتی خالہ اور چھوٹے بھائ کی ساس زیادہ بیمار ہوںئ ، بیوی بچے بھیج دئیے، بھائ تڑپتا رہا میں نے آنے نہیں دیا میں نےکہا میں نے ماں جی کو کہیں چھپارکھا ہے بیوی بچوں کو کہیں چھپارکھا ہے تجھے کہاں چھپاؤں گا میری ماں اور میری خالہ کا لاڈلہ پتر ان ظالموں یذیدوں کی وجہ سے اپنی دونوں ماؤں کے آخری وقت دیدار سےمحروم رہ گیا یااللہ تو ان ظالموں یذیدوں کو دنیا و آخرت میں تباہ و برباد کر جن کی وجہ سے بچے اپنی ماؤں کے آخری دیدار سے بھی محروم رہ جاتے ہیں لیکن مجھے پتاہے ہم دونوں بھائیوں سے زیادہ ان دونوں ماؤں کو چھوٹے بھائ سے پیارتھا وہ آسٹریلیا بیٹھ کر بھی ہم سے زیادہ سب کا خیال رکھتاتھا

Aamir Mughal 🇵🇰

217,403 views • 1 year ago

بیشک عزت و ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے ! زیر نظر یہ دو تصاویر رہائی کے سال بعد مجھے جیل کے اندر کام کرنے والے محکمہ جیل خانہ جات کے میرے اک ہمدرد بھائی نے جو خان صاحب سے بے حد پیار کرتاہے نے نام نہ بتانے کے شرط پہ بھیجیں کہ جب آپ کو گرفتار کرکے لائے تو آپ کے علم میں لائے بغیر یہ تصاویر ”کسی“ نے بنا کر ”اُوپر“ کسی کو بھجوائی تاکہ ”ان“ کی انا کو تسکین پہنچ سکے۔ میں اس بھائی کا نام اور متعلقہ جیل کا نام اسکی خود کی حفاظت کی خاطر آج بھی لینے سے گریز کرونگا اور صیغئہ راز میں رکھنے کو ترجیح دونگا ۔ لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کر کے آپ نہ میرا حوصلہ توڑ سکے اور نہ ہی میرے لیڈر Imran Khan اورمیری جماعت PTI سے میری کمٹمنٹ و وابستگی کوتوڑ سکے۔ اسیری کے زمانے میں ہمیشہ میں اپنا وکیل کا کالا کورٹ زیب تن رکھتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ جیل کے اندر اور جیل کے باہر گرفتاریوں کے وقت اور عدالتوں میں پیشیوں کے وقت کبھی بھی میرے چہرے پہ ان کو پریشانی نظر نہ آئے۔ کیونکہ یہی وہ چاہتے تھے۔ میرے چہرے کی مسکراہٹ چھیننا چاہتے تھے۔ (زیر نظر جہلم جیل کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے) میرا پیغام ان کو ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ آپ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی تو پہنا سکتے ہیں لیکن آپ میرے چہرے کی مسکراہٹ نہیں چھین سکتے کیونکہ میرا رب آپ سے بہت بڑا ہے۔ آپ کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اور میرے پاس میرے ایمان کی طاقت۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرا سر نہ ملے گا لیکن میری آنکھوں میں تمہیں ڈر نہ ملے گا زندگی کا اک تکلیف دہ دن اپنے ہی آبائی شہر مردان کی آبائی بار مردان بار جہاں میرے دادا پیر محمد خان صاحب نے بھی 1947 میں آزادی کے بعد سے وکالت کی اور میں نے بھی وہیں سے اپنی وکالت کی ابتداء کی وہاں وکیل کے یونیفارم میں دو مرتبہ ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر لایا گیا اور عدالت کے اندر بھی ہتھکڑی نہ کھولی گئی۔ (زیر نظر ویڈیو موجود ہے) لیکن یہ شاید بھول گئے تھے کہ عزت و ذلت ان زمینی خداؤں کے ظالم ہاتھوں میں نہیں بلکہ میرے رب کے ہاتھوں میں ہے۔ میں شکر گزار ہوں اللّٰہ تعالیٰ کا اور مجھے فخر ہے اپنے مردان کے عوام پہ جنہوں نے دوبارہ منتخب کر کے عزت کیساتھ تیسری بار واپس ایوان میں بھیجا۔ بیشک عزت و ذلت زمینی خداؤں کے نہیں میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سلسہ آج بھی جاری ہے جس طرح ہمارے کارکنان کےساتھ کیا جارہا ہے لیکن کوئی ایک کارکن بتا دیں جو باوجود اس طرح کی فسطائیت کے راہ حق سے ہٹایا جا سکا ہو۔ جتنی جلد طاقت عوام کے اصل نمائندوں کے حوالہ کریں گے اور قوم کے لیڈر عمران خان کی رہائی کریں گے تاکہ وہ اپنی قوم کی قیادت کر سکے اتنا ہی جلد یہ ملک واپس ترقی کی راہ پہ گامزن ہوگا۔ نصر من اللّٰہ و فتح قریب پاکستان زندہ باد 🇵🇰 تا قیامت پائیندہ باد

Ali Muhammad Khan

794,445 views • 1 year ago

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

652,967 views • 2 years ago