Sensitive content

This media may contain sensitive content.

正在加载视频...

视频加载失败

Expose Media 🔥 اب ھم کیا کر سکتے ھیں جب بدنامی خد ان کا مقدر بن چکی ھو ویڈیو کا کچھ حصہ دکہانا محض ایک تبصرہ کی نیعت ھے تاکہ عام عوام خاص کر لڑکیوں کو اس عمل سے بچایا جا سکے

15,007 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بھیک مانگنا ایک پروفیشن بن چکا ھے۔ جو باقاعدہ آرگنائزڈ ھے۔ اسکے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ھیں جو بچوں عورتوں اور جعلی معذوروں کو بھرتی کرکے کروڑوں کما رہے ھیں۔ یہی مافیا انہی بھیک منگوں کو گلف کے ملکوں میں ھزاروں کی تعداد میں ایکسپورٹ کر رہے ھیں ۔ ان ملکوں نے زچ ھو کر ھمارے ویز ے بند کردیے ھیں۔ اس گھناؤنے کاروبار میں ائیر پورٹ پہ متعین مختلف محکموں کا عملہ برابر کا حصہ دار ھے اور مال بنا رہا ھے۔ سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سے آکر ھوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ھیں کچھ دیر سے انتظامیہ اور پولیس کی کاروائی سے اس کاروبار میں کمی آئ ھے مگر اب بھی انکی موجودگی نظر آتی ھے۔ سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے انکے ٹھیکیدار ھیں جب گداگروں پہ کریک ڈاؤن ھوتا ھے تو وہ انکے سفارشی بن کر اپروچ کرتے ھیں۔ یہ کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ "روزگار" میسر کر رہا ھے ۔ یہ کاروبار کسی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں ھو سکتا۔ اس کاروبار کے ساتھ اور بہت سے نہایت گھناؤنے دھندے منسلک ھیں۔

Khawaja M. Asif

64,514 次观看 • 7 个月前