Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

Fact / Response 🚨 کوئٹہ کینٹ کے گماشتے اگر اپنے اصل اکاؤنٹ سے بھی بولیں تو بھی جعلی اکاؤنٹس کا لہجہ نہیں چھوڑتے ❗ محترمہ ! یہ صرف ایک فیکٹ چیک تھا جس کے جواب میں آپ " پشتون کارڈ " کھیلنے لگ گئیں اس فیکٹ چیک کا مقصد...

36,816 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 7

Фото профиля Maheen Baloch
Maheen Baloch1 год назад

اس نارووال کی چپکلی کو بولیں مجھے انبلاک تو کردیں تاکہ اس کو ٹھیک سے میں جواب دیا کروں اس کے غلیظ سوالات کا۔

Фото профиля Malarkey Roofing Products
Malarkey Roofing Products1 год назад

🌲 There's More Than One Way to Plant a Tree 🌳 Malarkey shingles with 3M™ Smog-Reducing Granules help reduce air pollution by trapping harmful gases like NOx, similar to planting ~2 trees per roof.* 🏡 Nature’s air filters at work! #CleanAirMatters #AsphaltShingles @Holcim

Фото профиля Baloch
Baloch1 год назад

بچاری حمی ملکی اس نے تمہاری ساب پول کول دییے، اچھا یہ سب پیسہ کے لئے کر رہے ہیں، یہ وقعی پیسہ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں،

Фото профиля Aslan Ali
Aslan Ali1 год назад

نسل پرستی کو ہوا دو گے۔ آج پنجابی کو کل پختون کو قتل کرو گے۔ کل کہو گے بلوچستان پر پختونوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ نسل پرستی سے نکلو، اپنے لیے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے۔ بلوچوں کا مستقبل مضبوط پاکستان ہے۔

Фото профиля ANB …..
ANB …..1 год назад

These are Hijabi Gashtiyan who worl for ISPR & Co.

Фото профиля Dhoolu Bhoolu
Dhoolu Bhoolu1 год назад

Jab se VOB bna mein usi din smjh gya ye q bnaya gya ha

Фото профиля ناسرپد
ناسرپد1 год назад

ایک بات سمجھ میں نہیں آتا کہ کینٹ والے صرف پنجابی چوزے کیوں رکھتے ہیں؟؟؟؟

Похожие видео

اسلام آباد کے کیمپ میں گزشتہ اٹھائیس دنوں سے لیکر آج تک کسی نے بھی ہم سے باضابطہ طور پر رابطہ نہیں کیا صرف ایک بار اسسٹنٹ کمشنر آئی تھیں، ہمارے مطالبات سنے اور واپس چلی گئیں، اس کے بعد کبھی پلٹ کر نہیں آئیں۔ یہ کیمپ کسی نے بھی سیاست چمکانے یا ذاتی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کیا۔ یہاں صرف جبری گمشدہ افراد کے لواحقین موجود ہیں، جو آپ کی حکومت سے انصاف کا مطالبہ کرنے آئے ہیں۔ روزِ اول سے یہ کیمپ دو بنیادی مطالبات پر قائم ہے جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے غیر قانونی طور پر گرفتار مظاہرین کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر آپ کی حکومت مذاکرات کرنے کی اہل یا مجاز نہیں، تو اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے اس کیمپ پر سیاست کرنے کے الزامات مت لگائیں۔ جن افراد کو آپ دہشتگرد کہہ رہے ہیں، وہ آپ کی جیلوں میں بند ہیں، اور گزشتہ چار ماہ میں آپ ایک بھی الزام ان پر ثابت نہیں کر سکے۔ بلوچستان میں روزانہ درجنوں جبری گمشدگیوں کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں صرف گزشتہ چھ مہینوں میں بلوچستان سے 752 جبری گمشدگیوں کے کیسسز رپورٹ ہوئے ہیں آپ کس بے حسی سے اس سنگین مسئلے کو محض دو ہزار کیسز کہہ کر جواز فراہم کرتے ہیں، حالانکہ جبری گمشدگی کا ایک بھی کیس غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلانے سے یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا یہ بلوچستان کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ ہم بلوچستان سے وفاقی دارالحکومت اس لیے آئے تھے کہ ہماری آواز سنی جائے اور ہمارے مسائل حل کیے جائیں، مگر حکومت بجائے بات چیت کے ایسے پروپیگنڈے پر اتر آئی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ حقیقت کو جھٹلانے سے آپ اپنی ناکامیوں اور غیر قانونی ریاستی جرائم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ Tallal Chaudhry

Sammi Deen Baloch

33,456 просмотров • 1 год назад

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,014 просмотров • 3 месяцев назад

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,622 просмотров • 6 месяцев назад

آپ کو تو آرام اور طریقے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ اب جس انداز میں وہ کہہ رہے تھے کہ جی فلانی ڈبل روڈ ہم نے دی ہے بلوچستان میں؛ بلوچستان کی سوئی گیس کے ٹریلینز آف ٹریلینز آف ڈالرز آپ لے گئے ہیں۔ اگر آپ پورے بلوچستان کی سڑکیں پکی کر دیں اور پورے بلوچستان کو سولر دے دیں، پھر بھی آپ بلوچستان کی گیس کے مقروض رہیں گے۔ ​آپ کے پاس وقت بہت تھوڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کے علاقے میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بہت بڑی بربادی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے، خدا کے لیے اپنے لوگوں پر بھروسہ کریں۔ لوگوں کو آپ سے کچھ نہیں چاہیے؛ جس طرح قیصر بھائی نے آپ سے کہا کہ پشتونخوا وطن اور بلوچستان کے لوگ سینٹرل ایشیا کے ذریعے اپنی تجارت کر کے خود کو پالتے تھے۔ وہ خود اپنا پیٹ پالتے تھے، لیکن آپ نے اس پر پابندی لگا دی اور اس چکر میں آپ نے پنجاب کے زمیندار کو بھی فارغ کر دیا۔ ​ہم پر آپ فوراً غدار کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔ میرے بھائی نے کہا تھا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں"، جی ہاں، شہباز بھائی یہ بات 100 فیصد درست ہے۔ لیکن پاکستان آسمان پر لٹکی ہوئی کوئی چیز نہیں ہے۔ پاکستان کا مطلب بلوچستان ہے، پاکستان کا مطلب خیبر پختونخوا ہے، پاکستان کا مطلب سرائیکی علاقہ ہے، پاکستان کا مطلب سندھ ہے اور پاکستان کا مطلب پنجاب ہے۔ جب یہاں خوشی ہوگی، جب یہاں امن و امان ہوگا، تب ہی پاکستان میں امن ہوگا۔ ​کشمیر کے لوگ آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ خدا کے لیے شہباز بھائی، میں شریف لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہاں کوئی وفد (ڈیلیگیشن) بھیجیں اور انہیں سمجھائیں۔ آپ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی Mehmood Khan Achakzai

PTI

33,080 просмотров • 1 месяц назад

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 просмотров • 2 месяцев назад

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 просмотров • 1 месяц назад

سرفراز بگٹی بلوچستان کا وہ بیٹا ہے جس نے اس وقت بلوچستان ڈیرہ بگٹی کی سرزمین پر پاکستان و امن کا جھنڈا لہرایا تھا جب یہ کچھ سیاست دان خوف کے مارے ڈیرہ بگٹی تو کیا بلوچستان تک میں قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔🇵🇰✌️ اسکے باوجود کیا اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس بلوچستان کے بیٹے پر یا خود بلوچستان پر بے جا تنقید کرنا جائز ہے، جو اس وقت پورے بلوچستان میں پاکستان، اپنے پاک وطن کا مقدمہ لڑ رہا ہے؟ سرفراز بگٹی اس وقت اکیلا دہشتگرد تنظیم بی ایل اے سمیت ان تمام عناصر سے لڑ رہا ہے جو بلوچستان کے امن اور استحکام کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں بلوچستان کی قیادت کر رہے ہیں جب دشمن طاقتیں یہاں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔ یہ وہی سرفراز بگٹی ہیں جنہوں نے ڈیرہ بگٹی میں دہائیوں سے جاری بدامنی کو امن میں بدل دیا۔ جی ہاں! وہی قسم کی بدامنی، جس کا آج مکران ڈویژن شکار ہے۔ یہ وہی ڈیرہ بگٹی ہے جہاں ایک وقت میں بی ایل اے اور بی آر اے کی دہشتگردی اپنے عروج پر تھی۔ ہر روز دھماکے ہوتے، ہر دن خوف کی فضا قائم رہتی، اور کوئی ایسا دن نہ گزرتا جب پہاڑوں سے کوئٹہ یا ڈیرہ بگٹی پر راکٹ لانچر فائر نہ کیے جاتے۔ لیکن آج، وہی بگٹی قوم بندوق کے بجائے قلم اٹھا چکی ہے! یہ سرفراز بگٹی کی قیادت اور محنت کا نتیجہ ہے کہ آج بگٹی قبیلے کے نوجوان ایف سی، فوج اور لیویز کا حصہ ہیں، اور 99.99% بگٹی قوم کے افراد کسی دہشتگرد تنظیم کا حصہ نہیں۔ ان سب کے باوجود، کیا اسی بلوچستان کے بیٹے پر یا خود اپنے ہی بلوچستان پر سیاست کے تیر برسانا ٹھیک ہے؟ آپ کی سیاست آنی جانی ہے، لیکن کیا اپنی سیاست کی خاطر پورے بلوچستان، اپنے ہی پاک وطن کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ٹھیک ہے؟ یہ وقت ہے حقیقت کو سمجھنے اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا، نہ کہ اسے کمزور کرنے کا! #Balochistan #DeraBugti

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

12,618 просмотров • 1 год назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 просмотров • 8 месяцев назад

" بلوچ طلباء، بلوچ نوجوان، وکلاء ، پروفیسر اور بلوچ خواتین سب "دہشت گردی" کا حامی ہیں ان سب کا ٹرائل ہونا چائے " (ٹرائل یعنی ؟؟ جبری گمشدگیاں بڑھاو ) پنجابی زونسٹ حمنہ ملک ولد بریگیڈیئر بلال اسلام آباد کے کسی بند اسٹوڈیو میں ایک سانس میں بلوچ طلباء، بلوچ وکلاء ، اسٹوڈنٹ کوٹہ سسٹم ، طلباء تنظیمیں اور بلوچ خواتین سب کو "ٹیرر اپولوجسٹ" قرار دینے والی یہ پنجابی خاتون، عاصم باجوہ اور انور کاکڑ کے ہاتھوں سامنے لائی جانے والی ، کویٹہ کینٹ حمنہ ملک ہے یہ چیخ چلا کر اس بلوچستان میں طلبہ کے بار بار ٹرائل (جبری گمشدگی ) پر زور دے رہی ہیں، جہاں پہلے فی شہر سے درجنوں نوجوان اور خواتین لاپتہ کیے جا رہے ہیں۔ ان کے لہجے میں جو اندھا درد ہے کہ بلوچ نوجوان نسل کی "چھان بین " کرو ، اس حقائق کے باوجود کہ کیا پنجاب، وفاقی اداروں یا یونیورسٹیوں سے بلوچستان کے طلبہ کو لاپتہ نہیں کیا گیا ؟ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور بلوچ طلبہ کے ماورائے عدالت قتل کی جو رفتار جاری ہے، اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے چند برسوں میں ہر خاندان کو جبری گمشدگی کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پنجابی خاتون، جسے چند سال قبل بلوچستان یونیورسٹی کے ایک مخصوص وائس چانسلر کے علاوہ کوئی پہچانتا نہیں تھا، جس کے آشیرباد پر سردار بہادر خان یونیورسٹی میں گھسائی گئی ، پھر عاصم باجوہ کی کسی پروپگینڈا این جی او کے ذریعے منظر عام پر آئیں اور پھر "بلوچستان کا درد" کے عنوان سے جتنا کھا سکتی تھی کھایا اور پازٹو بلوچستان کا خواب لیکر اسلام آباد میں اعلیٰ عہدہ حاصل کر کے بلوچستان چھوڑ گئیں یہ پنجابی زونسٹ ، اگر مسلح تنظیموں کے نام پر بلوچ طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کی جبری گمشدگی کو جائز قرار دیتی ہیں اور بلوچ خواتین کے اغوا کو قابل قبول سمجھتی ہیں، تو کیا پنجاب سے آنے والا ایک سپاہی کا بلوچستان میں سب سے بڑا معاون پنجابی مانا جائے؟ کیا آپ جیسے تمام پنجابی، مرد و خواتین، جوابدہ ٹھہرائے جائیں ؟ کیا پھر ہر پنجابی مشکوک قرار پائے اور بلوچستان میں گروہی شکل میں موجود ہر پنجابی کو جوابدہ ٹھہرایا جائے؟ کیا حمنہ ملک اور زینب آصف جیسی ہر پنجابی خاتون جوابدہ ہے، جو کینٹ میں رہ کر پھر بروری روڈ پر واقع CTD آفس میں دیکھائی دیتی رہتی ہیں؟ کیا بلوچستان کے لوگ اندھے ہیں کہ بروری روڈ پر رکشے بھر کر لائی جانیوالی نوجوان لڑکیاں کون ہیں؟ اگر بلوچ عورت کا ٹرائل ہوسکتا ہے تو کیا پنجابی عورت مستثنیٰ ہے؟ پھر عام پنجابی کا شناختی کارڈ دیکھنا ٹھیک ہوا ؟ ہم تنظیموں سے گزارش کرتے ہیں کہ شہباز ٹاؤن فیز ٹو کی حمنہ ملک کی امی سمیت ہر ایسے پنجابی فرد پر خصوصی نظر رکھی جائے، کیونکہ وہ پنجاب فوج کی دہشتگردی کے خاص معاون ہوسکتے ہیں اس ٹرائل میں مرد و عورت کا امتیاز بند کیا جائے کیونکہ اس سائکو کیس کے مطابق تمام بلوچ مرد و خواتین سب ٹیرر اپالوجسٹ ہیں طلباء کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی یہ ذہنی مریضہ چونکہ خود اب بلوچستان چھوڑ کر اسلام آباد کی وزارتِ اطلاعات میں ملازمت حاصل کر چکی ہے۔ سینکڑوں بار بلوچی لباس پہن کر چینیوں کے سامنے خود کو بلوچ ظاہر کرنے والی اس عورت کے دل سے بلوچ عوام کے خلاف نفرت ختم نہیں ہوئی Stop Brig Bilal's Chicks propaganda #StopStatePropaganda #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearance #BalochistanFacts

Balochistan Facts

43,878 просмотров • 10 месяцев назад

کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔

Asad Qaiser

48,217 просмотров • 1 месяц назад

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 7 месяцев назад

فیکٹس | 🚨 محترم ڈی جی صاحب ! لاپتہ افراد اور جبری لاپتہ افراد کے فرق کو سمجھنے کے لیے اس انسانیت سوز جرم سے لاتعلقی لازم ہے یا پھر جھوٹ کی اتنی عدت ہوچکی کہ حقائق کا سامنا کرنے کی جرت نہیں رہی ؟ دنیا کے جن ممالک کا آپ نے ذکر کیا، وہاں بے شک لاپتہ افراد موجود ہیں، لیکن وہ زیادہ تر خودساختہ، حادثاتی یا کسی جرائم پیشہ گروہ کے ہاتھوں اغوا ہوتے ہیں، یا کسی حادثے میں مارے جاتے ہیں اور آج تک ان کی لاشیں نہیں ملتیں۔ مگر بلوچستان کی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ یہاں لاپتہ افراد خودساختہ نہیں بلکہ آپ کے اداروں ، آپکی فوج نے انہیں کیمروں، عینی شاہدین اور گھروالوں کے سامنے اغوا کیا۔ اس جںر میں نہ بلوچوں کو بخشا گیا ، نہ پشتونوں کو بخشا گیا ہے نہ ہی ہزارہ برادری کو ، بلوچستان بھر سے اٹھائے گئے بلوچ نوجوانوں کو پھر بے رحمی سے، مذہبی پستی اور سفاکیت کے ساتھ اپنی مرضی کے شورش زدہ اور سنسان علاقوں میں قتل کرکے ڈھٹائی سے دہشتگرد بھی اپکے ادارے قرار دیتے ہیں بلوچستان کا ہر لاپتہ شخص آپ کے اداروں کی تحویل میں ہے۔ اس سچ کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ہمت، جرات اور غیرت درکار ہے — اتنی کہ مان لیا جائے کہ بلوچ لاپتہ افراد کو پاکستانی فوج نے اٹھایا۔ آپ نے امریکہ، بھارت اور جانے کن کن ممالک کی مثالیں دیں، مگر جان بوجھ کر سری لنکا کا ذکر نہیں کیا، جہاں تامل نسل کشی کے دوران آخری بچ جانے والے افراد کو اغوا کیا گیا۔ آپ نے فلسطین کا ذکر بھی نہیں کیا، جہاں "نو فلسطینی، نو ایشو" کی سوچ کے تحت اسرائیل نے ہزاروں افراد کو غائب کر دیا۔ حتیٰ کہ آپ نے کشمیر جیسے اپنے بیانیے کے جذباتی باب کو بھی نظرانداز کیا، کیونکہ وہاں بھی کشمیریوں کو ان کی قومی شناخت کی بنیاد پر بھارتی فوج لاپتہ کرتی ہے — بالکل ویسے ہی جیسے آپ کی فوج بلوچوں کو ان کے قومی سوال پر نشانہ بناتی ہے۔ بلوچستان تو ویسے ہی آپ کے گلے میں اٹکی وہ ہڈی ہے، جس کا ذکر صرف تب ہوتا ہے جب کوئی نیا قدرتی وسیلہ دریافت ہو۔ مگر اگر واقعی سچ بولنے کا دعویٰ ہے، تو اتنی جرات پیدا کریں کہ تسلیم کریں: ہم بلوچ نوجوانوں کے اغواکار ہیں، ہم ان کے قاتل ہیں۔ ورنہ کم از کم تصدیق کیلئے بلوچستان فیکٹس کو دیکھیں جو آپکی جھوٹی حرکتوں کو دیکھ رہا ہے #Balochistan #StopBalochGenocide #EndEnforcedDisappearances #BalochistanFacts

Balochistan Facts

14,449 просмотров • 1 год назад

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 просмотров • 1 месяц назад