Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

Gen Alpha Be afraid be very afraid یہ وڈیو دیکھ کر جزبات سے میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے آنکھیں نم ہوجاتیں۔۔

72,023 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

شمالی وزیرستان میر علی کی یہ فوٹیج دیکھ کر مجھے خدیجہ بی بی یاد آگئی جس سے میری ملاقات بکا خیل کے مقام پر اس وقت ہوئی جب ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد میں شمالی وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کی کوریج کر رہی تھی کہ سڑک پر چادر میں لپٹی ایک خاتون گائے کی رسی ہاتھ پکڑے وزیرستان سے بنوں کی طرف جانے والی روڈ پر جاتی نظر آئی ۔میں نے اس کے پاس جا کر اُس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہی ہیں اپ اور باقی گھر والے کہاں ہیں تو اُس نے بتایا کہ میں میر علی سے آرہی ہوں اور باقی گھر والے ٹرک پر بنوں چلے گئے لیکن ٹرک میں جگہ نہیں تھی تو میں اپنی گائے کو پیدل لے کر جا رہی ہوں ۔میں نے حیران ہو کر پوچھا گائے کے لئے آپ میر علی سے پیدل بنوں جا رہی ہیں تو اس نے کہا کہ جب یہ پیدا ہو ئی تو اس وقت سے اب تک میں نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اب بمباری میں مرنے کے لئے اسے کیسے چھوڑ دیتی ۔۔ (آئی ڈی پیز پر ایک پریزنٹیشن میں میں نے اسکی وڈیو استعمال کی تھی اس میں ایک تصویر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے) نوٹ : اس ملک کی اصل کہانیاں کچھ اور ہیں لیکن بدقسمتی سے میڈیا کو ایک طرف لگایا ہوا ہے

Farzana Ali

32,835 Aufrufe • vor 1 Jahr

بلوچستان کے معروف عالم دین، نور الدین آغا ! وڈیو ترجمہ ؛ اب ماننا پڑیگا یہ جو ہمارے فوج کبھی تیمور بناتے ہے کبھی کیا تو کبھی کیا ، اس فوج کے بغیر ہم ایک رات بھی نہیں گزار سکتے واللہ العظیم، ظالم ہمیں گریبانوں سے پکڑ کر اپنے گھروں سے گھسیٹتے ہوئے لیجائینگے ، یہاں ماننا پڑیگا کے فوج نے ہماری دفاع کیلئے بہت بڑا سلسلہ چلایا ہے، آج ہمارے پاس بہادر فوج ہے جسکا دنیا بھر میں رعب و دبدبہ قائم ہے ہمارے یہ بہادر کسی بھی حد تک جا سکتے ہے اور انہوں نے کر دکھایا ہے یہاں کہنا پڑیگا الحمدللہ ، آپ ہمیشہ اس پر الحمدللہ کہے اگر کوئ نہیں کہتا اسکے باپ کو بھی الحمدللہ کہنا پڑیگا چاہیے وو قبر میں ہو ، آج ہم اس قابل ہے کے کوئ قوت ہماری طرف بری نظر سے نہیں دیکھ سکتا کیونکہ ہمارے بہادر جوان ہمارے حفاظت کیلئے کھڑے ہے ، مجھے معلوم ہے میری باتیں کچھ لوگوں کو عجیب لگینگی لیکن یہی حقیقت ہے اور ہمیں کھلے دل سے یہ حقیقت ماننی پڑیگی ،،

Zarrar Marwat 🇵🇰

28,370 Aufrufe • vor 6 Monaten

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,720 Aufrufe • vor 5 Monaten

آپ میں سے یہاں موجود تمام خواتین و حضرات بغیر سفارش کے بھرتی ہوئے ہیں، میرٹ ہی ہمارا اصل سرمایہ ہے، اور انشاءاللہ تعالیٰ، اسی میرٹ کی بنیاد پر ہم نے خیبر پختونخوا کی تاریخ بدل دی ہے۔ جو تصویر آپ سامنے کرسی دیکھ رہے ہیں، یہ میرے پرنسپل رہ چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ میرے والد صاحب کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب یہ پرنسپل تھے، تو کینٹ نمبر ون گورنمنٹ اسکول میں انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے۔ انہوں نے اس اسکول کو اس معیار تک پہنچایا کہ لوگ سفارش سے بھی داخلہ لینے پر مجبور تھے۔ جب یہ ریٹائر ہوئے، تو ایک پرائیویٹ اسکول مسلم پبلک اسکول میں چلے گئے، جہاں میں بھی پڑھتا تھا۔ یہ مسلم اسکول میں میرے پرنسپل رہے، اور میری کردار سازی اور آج یہاں تک پہنچنے میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی استاد کے سامنے بدتمیزی نہیں کی، اور انشاءاللہ تعالیٰ آئندہ بھی نہیں کروں گا، کیونکہ معاشرے میں استاد کو روحانی باپ اور روحانی ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کی عزت اور احترام کریں۔ جب ہم میٹرک سے فارغ ہو رہے تھے تو سر ہمارے سامنے کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہم سے کہا آپ یہاں سے جا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ آپ میں سے کئی ڈاکٹر بنیں گے یا انجینیئر بنیں گے، لیکن ایسا ضروری نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کوئی بھی ڈاکٹر نہ بنے یا کوئی بھی انجینیئر نہ بنے۔ لیکن میری ایک نصیحت یاد رکھنا: جو بھی کام کرو، کمال کا کرو، کیونکہ معاشرے میں عزت ہمیشہ کمال کے انسان کی ہوتی ہے۔ #CMKP #SohailAfridi #TeacherTribute #KPEducation

Yar Muhammad Khan Niazi

14,010 Aufrufe • vor 8 Monaten

"میڈیکل ڈس انفارمیشن " (کوبلیشن مشین کیموتھراپی کا ہرگز متبادل نہیں) جب بھی صحت اور کینسر جیسی موذی بیماری پر سیاست کی جاتی ہے اور اس کو اپنی کیمپین کا حصہ بناتے ہویے بنیادی میڈیکل فیکٹس کو مسخ کیا جاتا ہے تب تب مجھے لکھنا پڑتا ہے کیوں کہ اس طرح میڈیکل ڈس انفارمیشن کو پھیلایا جاتا ہے جو ان کینسر مریضوں کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے جو پہلے ہی کینسر سے آدھے مرے ہویے ہوتے ہیں اور ایسے میں کوئی بھی چھوٹی سی ہی امید خواہ وہ جھوٹی ہی ہو ' ان کو اپنے علاج سے متعلق غلط فیصلہ کرنے کی طرف لے جاسکتی ہے جو ان کیلئے مہلک ثابت ہوسکتا ہے - اس وڈیو میں مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے جس "کوبلیشن مشین " کا ذکر کیا وہ کینسر ابلیشن کا ایک طریقہ ہے جو صرف سٹیج اول کے کینسر کے علاج کیلئےمنظور شدہ ہے اور کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہی ہے ایسے میں یہ کہنا کہ اس مشین کے بعد کیموتھراپی اور ریڈیشن کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے ایک میڈیکل ڈس انفارمیشن ہے - میں اس سے پہلے بھی اس بارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں جب ایک صحافی رضی دادا نے پی ٹی وی پر بیٹھ کر یہ کہا تھا کہ "مریم نواز چائنا سے کرایو تھراپی کا طریقہ لائی ہیں جس کے بعد کیموتھراپی کی ضرورت نہی پڑے گی اور یوں شوکت خانم میں کیمو کے نامہ پر ہو فراڈ ہوتا ہے وہ نہیں ہوگا "- کینسر کی جس سٹیج کیلئے کیموتھراپی کی ضرورت ہوتی ہے وہ سٹیج 2 سے 3 کاکینسر ہوتا ہے جو پہلے ہی لیمف نوڈ (lymph node) تک پھیل گیا ہوتا ہے - اس سٹیج پر کوئی کریوتھراپی کوئی کوبلیشن کا طریقہ اس کا علاج نہی کرسکتا اور اس کیلئے کیموتھراپی ہی درکار ہوتی ہے - کوبلیشن ایک minimal invasive surgery کا طریقہ ہے جو بہت شروع کے سٹیج اول کے کینسر میں ہی مفید ہوتا ہے اور یہ آج کا طریقہ نہیں ہے - یہ بہت سے ملکوں میں کافی عرصے سے زیر استعمال ہے - ایسے میں کچھ مریضوں کو سامنے بٹھا کر اور کچھ پروفیسرز کو پیچھے کھڑا کر کے آدھی بات بتانا میرے نزدیک "میڈیکل ڈس انفارمیشن " کے زمرے میں آتا ہے جو ایک جرم ہے کیوں کہ ایسی بات سن کر کوئی بھی سٹیج دوم یا سوم کا مریض جس کو اس کا ڈاکٹر کیموتھراپی کی سفارش کریگا ' وہ مریض یہ وڈیو دیکھ کر اس ڈاکٹر اور ہسپتال کو فراڈ کہ کر کوبلشن کی ڈمانڈ کریگا جو اس لیول پر کار آمد ہی نہیں تو اس طرح وہ جان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے- اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک Dr. Faizan Malik جو ایک اونکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اس وڈیو میں مجھے سب سے زیادہ دکھ مریم نواز کے پیچھے کھڑے پروفیسرز کو دیکھ کر ہوا جن میں سے دو میرے استاد بھی رہے ہیں اور کنگ ایڈورڈ کے وائس چانلسر بھی ہیں - اس میڈیکل ڈس انفارمیشن پر ان کی خاموشی اور سر دھننا دیکھ کر مجھے بس افسوس ہی ہوا کہ وہ سارا علم جو انہوں نے سیکھا اور سکھایا وہ آج سیاست کے سامنے یوں خاموش ہوگیا اور کسی کا کینسر محض ایک اشتہار بن گیا جس میں غلط فیکٹس اور آدھی انفارمیشن دے کر سادہ لوح مریضوں کے مرض کو استعمال کیا گیا - یہ ہماری پوری میڈیکل لوبی کیلئے لمحۂ فکریہ ہے - ----------------------------------------------------------------- Dr. Faizan Malik Moeed Pirzada

Dr Waqas Nawaz

24,621 Aufrufe • vor 10 Monaten