Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

This #DayOfTheGirl, my message is that Malala Fund continues standing with every girl in Pakistan to ensure your voice is heard, you can learn freely and choose your own future. Together, we will recover from the devastating floods, build safer schools and fight for policies that put girls first....

72,072 views • 10 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

"ان حالات میں ایسے مواقع کو ضائع کرنا اس ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، پاکستان کی مقبول ترین جماعت عمران خان کی ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اس وقت ضمیر کے قیدی ہیں، جو اپنے اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان ٹوٹا نہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قیدِ تنہائی (Isolation) میں رکھ کر اذیت دی جا رہی ہے۔ ہماری کسی سے کوئی ذاتی مخاصمت نہیں؛ نہ کسی فوجی سے، نہ شہباز شریف سے اور نہ ہی نواز شریف سے۔ ہمارا اختلاف صرف ان قوتوں سے ہے جو پاکستان میں آئین کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کو تسلیم نہیں کرتیں، اور جو غریب عوام کے لیے روٹی پانی کا بندوبست نہیں کرتیں۔ ہم اس کے خلاف نہ تو گالیاں دیں گے اور نہ ہی پتھر اٹھائیں گے، بلکہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا جس میں ہم جلسے اور جلوس نکالیں گے۔ کل کے واقعے کے حوالے سے تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت یہاں موجود ہے، جو آپ کو مزید تفصیلات بتائے گی۔ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان اور ہماری تمام اتحادی جماعتیں ان کے ساتھ سو فیصد یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب ایک 'متحدہ اپوزیشن' بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہو رہی ہے جس کے لیے ہم سب کوشاں ہیں۔ خدا اس اتحاد کو نظرِ بد سے بچائے، تاکہ ہم اس بحران سے نکل کر عوام اور فوج دونوں کی جان چھڑا سکیں اور ایک حقیقی جمہوری پاکستان کی تشکیل کی جانب قدم بڑھا سکیں۔ " قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

52,529 views • 8 days ago

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 views • 2 years ago

میری اپیل ہے تمام مخلص اور نظریاتی گراؤنڈ ورکرز سے، جو عمران احمد خان نیازی سے حقیقی محبت کرتے ہیں، کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود MNA اور MPA کے گھروں یا دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی طور پر کھڑے ہوں۔ آپ کو ان سے کسی قسم کی بحث یا جھگڑے کی ضرورت نہیں — بس اپنے ضمیر کی آواز کو ویڈیو پیغام کی صورت میں ریکارڈ کریں۔ ویڈیو پیغام میں صرف اتنا کہنا ہے: "میں اپنے علاقے کے MNA/MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا تھا، ہمیں امید تھی کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن اس نے ہمیں مایوس کیا۔ یا تو یہ بزدل ہے، یا غدار ہے، یا پھر کسی مجبوری کا شکار ہے — جو بھی وجہ ہو، عمران خان آج جیل میں ہے تو اس کا ذمہ دار یہی MNA/MPA ہے۔" یہ ویڈیو پیغام پرامن ہو، باوقار ہو، اور سچ پر مبنی ہو۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائیں، تاکہ ہر پاکستانی کو معلوم ہو کہ عوام جاگ چکی ہے، اور اب کسی بے وفا نمائندے کو خاموشی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر آپ میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے علاقے کے MNA یا MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے جا کر ایک پرامن ویڈیو پیغام ریکارڈ کر سکیں… تو معذرت کے ساتھ، آپ حقیقی آزادی کی جنگ، عمران خان کی رہائی، یا پاکستان کی بقا کے دعوے صرف باتوں تک محدود رکھیں۔ لیکن مجھے یقین ہے! وہی مخلص، نظریاتی کارکن جو دل سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں — وہ ضرور کھڑے ہوں گے، سچ بولیں گے، اور یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھیلائیں گے۔ #مائنس_عمران_خان_نامنظور #رہائی_تک_مزاحمت #ReleaseImranKhan Aleema Khanum Mian Abbad Farooq Waqar Malik

Ayesha Khan

28,126 views • 1 year ago

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 views • 1 year ago

کل کا دن بہت اہم تھا۔ تمام پاکستانی باشمول اسٹیبلشمنٹ اور تجزیہ کاروں کے یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ عمران خان کے لیے لوگ اپنی جان کی بازی لگا کر اب (نومبر ۲۶ کے بعد) بھی احتجاج کے لیے نکلیں گے یا نہیں۔ جو منظر ہم سب نے کل دیکھے وہ ایک pleasant surprise تھے سب کے لیے۔ یہ معلوم تھا کہ لوگ دل سے عمران خان کے ساتھ ہیں مگر کل پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں اتنا جوش اور جذبہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا اور پاکستانی ہونے پر بہت فخر ہوا۔ لوگ پھر سے جان ہتھیلی پر رکھ کر عمران خان کے لیے نکلے ۔۔۔ فیملیز نکلیں ، بچے نکلے اور شیل تک برداشت کیے! اغواہ، ریڈز اور گرفتاریاں الگ! تمام احتجاج کرنے والوں کو سلام ہے اور دل سے شکریہ! عمران خان اور پاکستان بہت خوش قسمت ہیں، لوگ حقیقی آزادی سے کم پر نہیں مانیں گے! تمام سوشل میڈیا کے لوگوں کو بھی مبارک، آپ سب کے بغیر یہ مومینٹم نہیں بنتا اور لوگ اتنی ہمت شاید نہیں کرتے۔ ایک پوری”پاکستان فیملی“ بن کر ابھرے ہیں سب۔ اس وقت جو عمران خان کے ساتھ نہیں ہے وہ بہت بدنصیب ہے کیونکہ وہ پاکستان بننے کے بعد شاید پہلی genuine movement کو مس کر رہا ہے۔ یہ وقت واپس نہیں آئے گا، اسٹیبلشمنٹ اس وقت ۹۰ فیصد سے زیادہ پاکستانیوں کے خلاف جا کر بہت بڑی بیقوفی کر رہی ہے۔ عوام سے ہی سب کچھ ہے اور وہ اس وقت دل اور جان سے عمران خان کے ساتھ ہیں۔ وہ جیت چکا ہے۔ اعلان آج کر لیں یا کل، کرنا تو پڑے گا! #حق_كى_جيت_ہو_گى #پرامن_ملک_گیر_تحریک

Jibran Ilyas

61,266 views • 1 year ago

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 views • 2 years ago

“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا! تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا! جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا! یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا! قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے! میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں! میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!” - پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان #مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی #حق_كى_جيت_ہو_گى

PTI

22,974 views • 4 months ago

میں جرنیلوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وردی پہن کر اور سونے کے بلے لگا کر اگر اپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پ پاکستان کو خوبصورت وطن بنا سکیں گے،اسٹیبلشمنٹ ،پاکستان کی متکبر بیوروکریسی ، پاکستان کے مفاد پرست طبقے اورسیاست دانوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اب آپ کے بس میں پاکستان کی خوشحالی نہیں ہے اب تم راستے سے ہٹ جاؤ ہم انشاءاللہ پاکستان کو اللہ کے فضل و کرم سے ایک خوشحال اور مستحکم سرزمین بنائیں گے ۔ اپنی ناکامی کو تسلیم کرو تم اداروں کی قوت کو غلط استعمال کر رہے ہو اور تمہارے غلط روش اور غلط حکمرانی کے نتیجے میں آج پاکستان میں قدم قدم پر اضطراب ہے ۔خون بہہ رہا ہے ، حقوق سلب ہو رہے ہیں ،قوموں کے وسائل پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ جمعیت علماء ہر صوبے کے عوام کے حقوق کا علم بلند رکھے ہوئے ہے ۔ہم صوبائی حقوق کے علمبردار ہیں ۔اور ہمارا نعرہ یہی ہے کہ صوبہ سندھ کے وسائل پر ان کے عوام اوران کے بچوں کا حق ہے ۔کسی کے باپ کو بھی ان وسائل پر جبرا قبضے کا حق نہیں ۔اگر سندھ کے وسائل پر جبرا قبضہ کیا گیا تو تحریک بھی اٹھے گی،فضل الرحمان آگے ہوگا اور سندھی عوام ساتھ ہونگے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

103,593 views • 1 year ago

ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔ اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب #MaulanaInParliament

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,663 views • 2 months ago

آپ کے پاس 15 دن ہیں اگر اس میں خان کی رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو ہم اس لائحہ عمل پہ کام شروع کر دیں گے جو ہم نے طے کر لیا ہے۔ 15 کے بعد کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا تمام گراونڈ کے ورکرز جو آج خوشحال گڑھ جرگے میں تشریف لائے ان سب کا تہہ دل سے شکریہ آج کے جرگے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ 26 نومبر 2024 سے لے کر آج تک خان صاحب کی رہائی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی۔ ہم لائحہ عمل مانگتے رہے لیکن کبھی ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا اور کبھی دوسرے - نوبت یہاں تک آ گئی کہ خان صاحب کی آنکھ ضائع ہونا بھی نارملائز کر دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ وہ تمام لوگ جو اس ملک یعنی عمران خان سے پیار کرتے ہیں وہ اپنے طور پہ خود سے نہ صرف لائحہ عمل دیں بلکہ سب کو کھینچ کر اپنے پیچھے لے کر آئیں۔ پارٹی کے فیصلوں میں گراونڈ ورکرز کی رائے کو شامل نہ کرنا پارٹی کے عہدیداران اور ورکرز کے درمیان عدم اعتماد کا باعث بن رہی ہے۔ ہمیں کسی بھی صورت پارٹی کی فیصلہ سازی میں ورکرز کی آواز شامل نہ ہونا قبول نہیں۔ ہم ورکرز نے ہمیشہ عہدیداروں اور نمائندوں کی کال پر۔لبیک کہا لیکن افسوس آج کہ جرگے میں پارٹی عہدیداران کا مکمل بائیکاٹ اور ورکرز کو کال کر کر جرگے میں شرکت سے روکنا ایک شرمناک عمل ہے۔ تاہم ہمیں اب آپ سے کوئی امید نہیں اور اب فیصلے ہم۔اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں، جسے آنا ہو ساتھ اسے خوش آمدید اور جو اس میں روڑے اٹکائے گا وہ ہوشیار رہے کیونکہ اب خان کی جان پہ بات آ چکی ہے اور ایسے میں ہمارے لئے کوئی عہدہ یا عہدیدار کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہمارا خان کی رہائی کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے اور ہم۔صرف اسی پہ فوکس کئے ہوئے ہیں۔ اگلے پندرہ دن ہم دن رات ایک کر کے خود کو عمل کے لئے تیار کریں گے یاد رکھیں ہم۔سب عمران خان کے مقروض ہیں اور ہم کبھی خان صاحب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کی قیمت ہمیں کچھ بھی ادا کرنا پڑے۔ ہم۔جیتیں گے کیونکہ ہم۔حق پر ہیں اور ان شاء اللہ خان صاحب کو اس ظالمانہ قید سے آزادی دلوائیں گے۔ نہ۔کوئی بڑا دعوی کرتے ہیں، نہ کوئی بڑھک، صرف اور صرف عمل کر کے دکھائیں گے۔ تیاری پکڑیں۔ اللہ ہم۔سب کا حامی و ناصر ہو اور ہماری رہنمائی فرمائے

Khurram Zeeshan

55,134 views • 4 months ago

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,642 views • 16 days ago

اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان! افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔ آسیا یک پیکرِ آب و گل است ملتِ افغان در آں پیکر دل است از کشادِ او کشادِ آسیا از فسادِ او فسادِ آسیا علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔ ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔ آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

28,455 views • 12 days ago

البدر سکول کراچی والا واقعہ تو یاد ہوگا ، جس میں اس امیر زادی نے اپنے ماموں (پولیس اہلکار) والدہ ، والد اور دیگر چند بدمعاشوں کے ذریعے سکول ٹیچر کو مارا پیٹا اور بیچاری کا بازو بھی توڑا ۔۔۔ اب جب سوشل میڈیا پر ہم نے آواز اٹھائی اور قانونی کاروائی شروع ہوئی تو امیر زادی اور اس کے گھرانے نے معروف پاکستانی چتیاپہ شروع کر دیا۔ یہ ویڈیو اسی لڑکی (عیشال شاہد) کی ہے جو اس کی فیملی نے دانستہ طور پر وائرل کروائی ہے اور لڑکی سے الٹی سیدھی حرکتیں کروا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ لڑکی کلاس میں کھڑی رہنے کی وجہ سے پاگل ہوگئی ہے۔ مطلب کچھ بھی ؟؟؟ 😂😂😂 چونکہ اب قانونی کاروائی شروع ہو چکی ہے اس لئے اب یہ ڈرامے لئے جا رہے ہیں تاکہ قانونی سزا سے بچ سکیں۔۔۔ البدر سکول کی انتظامیہ خاص کر مفتی حنیف کا رویہ اس معاملے میں قابل شرم ہے، اپنے اساتذہ کا دفاع تک نہیں کیا ، ہجڑہ بن کر ایک نہتی خاتون پر تشدد کروایا اور اب سکول کے سٹاف اور زخمی ٹیچر (سارہ) پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ معاملہ رفع دفع کریں سکول کا نام بدنام ہو رہا ہے وغیرہ وغیرہ میرا اختیار ہوتا تو سب سے پہلے انہی لوگوں کو چھتر لگواتا جنہوں نے وہ بیٹھ کر تماشا دیکھا اور غنڈوں کو مکمل آزادی دی کہ وہ ایک نہتی خاتون پر تشدد کر سکیں، اب جا کر انہیں ادارے کی بدنامی سوجھ رہی ہے۔ فیملی نے تو قانونی کاروائی سے بچنے کیلئے خود ہی بغیر پردے کے لڑکی کی ویڈیو وائرل کروائی ہے میں چہرہ پھر بھی چھپا رہا ہوں ، ویسے آپ بتائیں کس زاویے سے لگ رہا ہے کہ لڑکی پاگل ہوگئی ہے؟ ٹوپی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں ، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی ہر صورت ہونی چاہیے۔ کمیل احمد معاویہ

Komail Ahmad Muaviah

130,150 views • 1 year ago

سب چاہتے تھے کہ عمران خان شفاء ہسپتال آئیں، جہاں آزاد اور غیر جانبدار ڈاکٹرز ان کا معائنہ کریں گے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے حقیقی صورتحال سامنے آ سکے۔ آپ جانتے ہیں کہ موجودہ نظام جھوٹ پر مبنی ہے۔ جب خدا جھوٹوں کی گواہی قبول نہیں کرتا، تو ہم کیسے کر لیں؟ جھوٹ بولنے اور دھوکہ دینے والا انسان فاسق و فاجر ہو جاتا ہے، اور قرآن کے مطابق کسی فاسق کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ یہ لوگ مینڈیٹ لوٹ کر آئے ہیں؛ انہوں نے حق غصب کیا ہے اور ڈاکہ ڈالا ہے، اس لیے ہم ان کی باتوں پر اعتبار نہیں کر سکتے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت اور ان کی تیار کردہ رپورٹس کی حقیقت سب کے سامنے ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال کراچی کا واقعہ ہے جہاں ایک شخص مارا گیا، ڈاکٹر نے رپورٹ غلط لکھی اور اب دوبارہ اس کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے۔ جب پاکستان میں ایسے حالات ہوں، تو پھر عدلیہ اور سپریم کورٹ کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے۔" قائد حزب اختلاف سینیٹ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Siddique Jan

27,485 views • 8 days ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 views • 11 days ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 views • 5 months ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 8 months ago

میں نے ہائی کورٹ سے اجازت لے کر سابق وزیراعظم عمران خان سے آج ملاقات کی۔ عمران خان اپنے افکار اپنے نظریات میں پہلے سے زیادہ اٹل اور اعصابی لحاظ سے مزید مضبوط نظر آئے۔ خدا پر ایمان اور توکل پر ان کے اندر غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ان کی شجاعت ،بہادری اور امید ایسے شخص کی طرح ہیں جس کے دل میں سوائے خدا بزرگ وبرتر کے کسی کا ڈر نہیں۔وہ اپنی اس استقامت کو آزادی کی جدوجہد کا نام دیتے ہیں،ان کی خواہش ہے کہ پارلیمان ،عدلیہ اور تمام دیگر ادارے اپنے آئینی حیثیت اور باوقار مقام رکھتے ہوں۔پارلیمنٹ کے نمائندے عوام کے حقیقی نمائندے ہوں۔ کرپشن، دھونس دھاندلی اور جبر و ظلم کی بنیاد پر وہ اسمبلیوں تک نہ پہنچے ہوں۔ یہ اداروں کی آزادی کی جنگ اقوام عالم میں مادر وطن پاکستان کے باوقار اور خودمختار مقام کے لیے ہے۔عمران خان اس قدر مطمئن ہیں کہ انہیں ڈرانے والے آج خود پریشان ہیں۔عمران خان نے عوام کے لیے پیغام دیا ہے کہ یہ آزادی کی جنگ ہے جس کے لیے سب کو گھروں سے نکلنا ہو گا اور اسے 8 فروری کو ووٹ کی طاقت سے جیتنا ہو گا۔جیل کی زندگی نے انہیں خدا کے زیادہ نزدیک کر دیا ہے۔ انہوں نے مفاہیم کے ساتھ کلام باری تعالیٰ کا مطالعہ شروع کر رکھا ہے۔ہمیں خوشی ہے کہ ہم جس شخص کے ساتھ کھڑے ہیں وہ دلیر ہے اور وطن عزیز کے ساتھ باوفا ہے۔یہ شخص ہمیں ایک مضبوط اور غیرت مند قوم بنانے کے لیے ڈٹا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہمیں قومی،لسانی، صوبائی، مسلکی اور مختلف عصبیتوں کا شکار کر کے ٹکروں میں تقسیم کیا گیا تاکہ ہم قوم نہ بن سکیں ۔ عمران خان کی دیانت داری اور دلیری کے باعث لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت دوڑ رہی ہے۔ساری قوم آزادی و حریت کی جنگ لڑنے والے اس عظیم رہنما کے پیچھے کھڑی ہے۔ملک کو لاقاںونیت، غیر آئینی اقدامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ ہم قانون اور آئین کی بالادستی دیکھنا چاہتے ہیں۔ماضی کے حکمرانوں نے ملک میں لوٹ کھسوٹ کر کے اسےتباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اب انہیں پاکستان کو مزید لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اب پاکستان کے عوام نے اس ملک کے معاملات کو طے کرنا ہے۔استعماری طاقتوں کے طے شدہ فیصلوں پر لبیک کہنا غلامانہ شعار ہے۔ ہماری جدوجہد وطن عزیز کی داخلی خودمختاری کی جدوجہد ہے۔امریکہ و اسرائیل غزہ کے تیس ہزار معصوم بچوں کے قاتل ہیں۔عمران خان کی آوز ان طاغوتی طاقتوں سے آزادی کی آواز ہے اور ہم آزادی کے اس سفر میں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں

Senator Allama Raja Nasir

326,292 views • 2 years ago