Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

While PTI lovers write that I am a great #journalist and PMLN lovers write that I am a crappy journalist, this is what #India media and journalists say about #Pakistan. What has this lady in Firstpost said that is wrong or false? This is a point of reckoning for...

109,822 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 9

Фото профиля javedfida
javedfida2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost Sir I am from kp n I wish BB had not accepted Gen Yaqoob as her FM. He was imposed by Oakley n that turned out to be a disaster.

Фото профиля Jalil Afridi
Jalil Afridi2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost Sir, Whoever you are; you are pretty knowledge

Фото профиля Javeria Tareen
Javeria Tareen2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost You've expressed your sincere love and gratitude so beautifully! Truly proud of you, Sir. Alhamdulillah, we are blessed to have individuals like you, who consider honesty as the greatest gift and blessing.

Фото профиля 𝔼𝕒𝕣𝕝𝕪 𝔹𝕚𝕣𝕕 🇵🇰
𝔼𝕒𝕣𝕝𝕪 𝔹𝕚𝕣𝕕 🇵🇰2 лет назад

Malaysia is flooding with Pakistani Beggars they even don't leave you alone when you are sitting in Pakistani restaurant in KL... i was shocked to see groups of beggars begging from people who were sitting in one of the Pakistani restaurant.. some women i saw were sitting at road side asking for money while their small kids were sleeping on the floor.. it was obviously not a pleasant sight & embarrassing too for me.When your PM #ShehbazSharif has a kashkol #BeggarBowl in his hands begging for loans from other rich countries then how can you blame Pakistani International beggars!

Фото профиля Inam Tofan
Inam Tofan2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost اس بندے کے سٹیٹمینٹ انٹرنیشنل کورٹ میں پاکستان کے دشمنوں نے دیکھاۓ تھے ثبوتوں کیلئے ہم بھی یہی کہتے ہیں اگر یہ دو خاندان پاکستان کیساتھ مخلص ہوتے تو آج ہم اس حال میں نہ ہوتے خان سے اچھا اور محب وطن لے اتے تو ہم قبول کر لیتے!!!

Фото профиля Farrah Raja
Farrah Raja2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost What a shame, #India and Nigeria have most beggars in their countries. India would be highest in sending their people abroad, yet it audacity to attack Pakistan.

Фото профиля EngrViews
EngrViews2 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost Salam to you sir. Here some people run the show purely based on gunpoint, even some sane N group elders said on TV we didn't win elections but then we are forced to sit there on govt seats. The nation actually has gone to a new low, where collective thinking is non-existent. Fear

Фото профиля TweetPK648
TweetPK6482 лет назад

@PTI @pmln_org @firstpost Moral collapse of the society 😭

Фото профиля Rarely Tolerable.
Rarely Tolerable.1 год назад

Reporter: Who does the history books credit for this Mr. President, you or Trump? Biden: Is that a joke? ... ... ... Thank you.

Похожие видео

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

147,095 просмотров • 6 месяцев назад

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

24,788 просмотров • 2 месяцев назад

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,747 просмотров • 7 месяцев назад

ہم پولیٹیکل لوگ ہیں، ڈائیلاگ پر یقین رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، چاہے وہ ادارے ہوں یا سیاسی لوگ، سب کو بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ مجھے کوئی شرم نہیں کہ میں اپنے اداروں کے ساتھ بیٹھوں اور انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کروں کہ اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط ادارے مضبوط پاکستان کی علامت ہیں، لیکن مضبوط اداروں کے پیچھے عوام کا اعتماد بھی ہونا چاہیے۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق بھی مضبوط ہو۔ عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے عوام میں اداروں کے حوالے سے ناراضی پیدا ہو رہی ہے، اور ہمیں اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے بات کرنی چاہیے۔ 80 فیصد عوام عمران خان صاحب کے ساتھ جڑے ہیں اور عمران خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اداروں سے ناراض ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو اون کرتے ہیں، یہ میرے ملک کے ادارے ہیں، تو مجھے تو خوشی ہے کہ یہ ادارے مضبوط ہوں اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہو۔ اس سے پہلے بھی ہم ملے ہیں۔ جب بھی میاں صاحب نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی، ہم نے بالکل ویلکم کیا، لیکن دوسرے دن ہمارے وارنٹ نکل جاتے تھے اور ہمیں مزید ایف آئی آرز میں ڈال دیا جاتا تھا۔ حکومت صرف باتوں سے نہیں، اپنے عمل سے ثابت کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ ہمارے پاس ووٹ کا مینڈیٹ عمران خان کا ہے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان صاحب کے مشورے کے بغیر ہم کوئی بات کریں۔ جب ووٹ اُن کا ہے، پہچان اُن کی وجہ سے ہے، مجھے ووٹ اُن کا ملا ہے اور مجھے اُن کی وجہ سے پیار ملتا ہے، تو میں کس طرح یہ بات کر سکتا ہوں؟ حکومت کو ہمارا اختیار دیکھنا ہے تو ہماری ملاقات عمران خان سے کروا دیں، انہیں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے پاس بات کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔ بالکل، ہم پولیٹیکل لوگ ہیں۔ ہم خان سے بات کر سکتے ہیں، انہیں موجودہ زمینی حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں اور گائیڈ کر سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی میں جو جمہوری کلچر ہے، یہ اُن لوگوں سے پوچھیں جو پی ٹی آئی چھوڑ چکے ہیں۔ یہ جو غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ خان صاحب بات نہیں سنتے، خان صاحب سنتے ہیں۔ آپ مسلم لیگ میں کسی سے پوچھ لیں، کیا کسی میں ہمت ہے کہ میاں صاحب کے سامنے اُن سے اختلاف کرے؟ میٹنگ میں میری اور خان صاحب کی لڑائی بھی ہوتی تھی۔ ہم انہیں کہتے تھے کہ آپ غلط ہیں، اس طرح نہیں، اس طرح ہونا چاہیے۔ یہ والا کلچر آپ کو کسی اور پارٹی میں نہیں ملتا۔ میں محسن نقوی صاحب کو وزیراعظمِ پاکستان سے بھی زیادہ مضبوط سمجھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس حکومت میں اگر کسی بندے سے بات ہو سکتی ہے اور جو اپنی بات منوا سکتا ہے، تو وہ نقوی صاحب ہیں۔

Junaid Akbar

18,399 просмотров • 17 дней назад

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,075 просмотров • 2 месяцев назад

اس وقت ملک کے اندر جو سیاسی صورتحال ہے اور جس طرح ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے، ہر طرف رویوں میں شدت ہے، حکمرانوں کا حزبِ اختلاف کے خلاف اور ان کے جمہوری حقوق کے حوالے سے جو رویہ ہے، یہ سب ہمارے مدنظر ہیں۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن کے رہنماؤں کے حکومت سے مذاکرات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ سیاسی لوگ، جمہوری لوگ، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اگرچہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، لیکن اصولی طور پر ہم مذاکرات کے عمل سے اختلاف بھی نہیں کرتے۔ جہاں تک میں نے معلومات حاصل کی ہیں یا انہوں نے جو کچھ رہنمائی کی ہے، اس حوالے سے حکومتی رویہ ایسا ہے کہ انہوں نے آئندہ کے لیے کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ لیکن ہم بہرحال سیاسی لوگ ہیں۔ اگر حالات اس طرح بنتے ہیں کہ کچھ سنی جائے، کچھ مانی جائے، کچھ آپ مان جائیں اور کچھ ہم مان جائیں، تو اس جذبے کے ساتھ جب ہم بیٹھیں گے اور بات چیت ہوگی تو یہ ایک سیاسی لب و لہجے میں ہونی چاہیے۔ اس کے اندر کسی پسِ پردہ قوت مداخلت نہیں ہونے چاہئیں۔ سیاسی لوگ اپنی گفتگو، اپنے الفاظ اور اپنے لب و لہجے کو سمجھتے ہیں اور وہ کسی مقام پر اتفاقِ رائے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ایک تجویز جو میرے سامنے میرے اکابرین اور میرے دوستوں نے رکھی ہے، وہ یہ ہے کہ کیوں نہ ایک آل پارٹیز کانفرنس اس حوالے سے ہو جائے؟ میں نے کہا کہ آپ بھی اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کر لیں اور ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کر لیتے ہیں، تاکہ ایک مشترکہ منشور کے تحت ہم پھر آل پارٹیز کانفرنس کر سکیں اور ایک مشترکہ ایجنڈا قوم کے سامنے رکھ سکیں۔ جس طرح ایک جوائنٹ اپوزیشن کے قیام کے وقت ہم نے کچھ ترجیحات طے کی تھیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ہے، ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے، ملک کی معیشت کا مسئلہ ہے، خطے کی صورتحال کا مسئلہ ہے، کشمیر کے اندر لوگوں کی بے چینی کا مسئلہ ہے اور جتنے سیاسی قیدی اس وقت جیلوں میں ہیں، ان کی رہائی کا مسئلہ ہے۔ اس طرح چار، پانچ نکات ہم نے جوائنٹ اپوزیشن کی تشکیل کے وقت بھی متعین کیے تھے۔ مزید جب آل پارٹیز کانفرنس ہوگی تو تمام پارٹیوں کی مشاورت کے ساتھ ایک ایسا لائحۂ عمل، ایک مشترکہ حکمتِ عملی اور ایک ایسا ایجنڈا مرتب کرنا ہوگا جس کے اندر ملکی سیاست میں ایک میانہ روی اور اعتدال پیدا ہو۔ ہم سب پاکستانی ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف میں ہی پاکستان کا وفادار ہوں اور میرے علاوہ سب غدار ہیں یا ان کی وفاداری مشکوک ہے۔ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، ہم ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ اگر ہم اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ ذہن کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کریں گے تو ایک میانہ رو اور اعتدال کی سیاست پاکستان کے اندر تشکیل دی جا سکے گی اور ملکی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے گا۔ جہاں تک لانگ مارچ اور احتجاج کا تعلق ہے، دیکھیں، ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور یہ ایک جمہوری حق ہے۔ آج اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آنا چاہتی ہے یا اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اصولی طور پر، میرے خیال میں، اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پارٹیوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اپنے اظہارِ رائے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ہم نے بھی ایسے حالات میں یہاں مارچ کیے ہیں، لیکن جب پارٹیاں ایک دفعہ کمٹڈ ہوتی ہیں اور طے کرتی ہیں کہ ہم پُرامن رہیں گے تو پھر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کے احتجاج کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے نہیں روکنا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو، چھ اکتوبر

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,949 просмотров • 3 дней назад

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,326 просмотров • 2 месяцев назад

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,203 просмотров • 18 дней назад

اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان، قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن، سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ہم نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جوائنٹ اپوزیشن ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر کی بزنس میں ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہو اور ہمارے اقدامات مشترکہ ہوں، باہمی مشاورت کے ساتھ ہوں، تاکہ اپوزیشن ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ہمارے سامنے جو ملک کے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر جس طرح کی حالت جنگ ہے اور جس کی وجہ سے حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے صرف طفل تسلیاں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب یہ طفل تسلیاں تو ہم گزشتہ بیس سالوں سے سن رہے ہیں۔ کتنے آپریشنز ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لیے، حکومتی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے، لیکن اب تک ہمیں وہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کچھ بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا، کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی اور اس وقت بھی یہی گفتگو تھی اور آج بھی یہی گفتگو ہے۔ الفاظ میں کوئی فرق نہیں، طفل تسلیوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے اور کسی قسم کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔ اس سے جو ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ملک کے کاروباری طبقے کو چاروں صوبوں میں جو مشکلات درپیش آ رہی ہیں، بالخصوص جو ہمارے قبائلی علاقوں کے تاجر ہیں، وہ جس طرح بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت اور کاروبار کے دروازے بند ہیں۔ ہماری مشرقی سرحد بند ہے، کاروبار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، تجارت کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔ چین ناراض ہے، ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے اور آج اگر ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں تو وہ ہماری درخواست کو مسترد کرتا ہے۔ ایران کے جو حالات ہیں، وہ اس وقت پاکستان کے لیے اچھے یا برے حالات میں کوئی بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو ان غلط پالیسیوں نے محصور کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں پاکستان ایک غیر محفوظ اور محصور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کب تک خاموش رہا جائے؟ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں؟ کب تک ہم ملک کے داخلی سیاسی مفادات پر نظر رکھیں اور ملک پر نظر نہ رکھیں؟ بیانیہ جو اس وقت پاکستان کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، سرکار کی طرف سے وہ غلط بیانیہ ہے۔ وہ لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں، غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس قسم کے کوئی حالات نہیں ہیں جو وہ ہمیں بتا رہے ہیں۔ تو نہ ہمارا ملک امن و امان، نہ ہمارے ملک کی معیشت اس قابل ہے۔ صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس طرح کی جا رہی ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس امید پر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، کس امید پر یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ ابھی تک ہم مطمئن نہیں ہیں۔ نہ صوبوں کے لیے کوئی تیاری ہے، نہ صوبوں کے لیے کوئی ماحول موجود ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے اور لگی ہوئی آگ کے اندر آپ کہتے ہیں، آؤ گھر میں اس طرح تقسیم کریں، یہ نہیں ہو سکتا۔ کشمیر میں اس وقت جو صورتِ حال راولاکوٹ پر ہے، تین مہینے ہو رہے ہیں، دھرنا بیٹھا ہوا ہے۔ عوام کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ مثبت بات بھی کریں تو مثبت بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ بات چیت نہیں کریں گے تو پھر جو شدت پسند عناصر ہیں، ذرا انتہا پسند اور سخت گیر لوگ ہیں، وہ آگے آئیں گے اور پھر حالات اور گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ حالات کیوں ملک کے لیے بنائے جا رہے ہیں؟ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ہم اپنا بیانیہ قوم تک پہنچائیں گے، حقائق قوم تک پہنچائیں گے اور ایک طرف ایک قسم کی بات ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں۔ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔ تو یہ اس وقت ہمارا اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، یہ ساری چیزیں اپنے اپنے پارٹیوں کے سامنے بھی جائیں گی اور ان کو اعتماد میں لیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اگلی ہماری جو میٹنگ آئے گی، اس میں اگلے آئندہ مستقبل کے فیصلے ہوں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,648 просмотров • 1 месяц назад

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,843 просмотров • 2 месяцев назад

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

281,323 просмотров • 3 месяцев назад

مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔ کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔ جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟ ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا: کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔ وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟ آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔ ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔ آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔ حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔ اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟ اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

34,909 просмотров • 5 месяцев назад

ان دنوں عاطف اسلم کی مسجد میں دی جانے والی اذان کی وڈیو بہت وائرل ہے۔ جس کے نیچے موجود بے شمار کمنٹس نے مجھے یہ پوسٹ لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ ویسے تو میں یہ بات بہت عرصے سے کہنا چاہ رہی تھی لیکن آج سمجھ لیں کہ وہ موقع ہاتھ لگ ہی گیا۔ بہت عرصہ پہلے، یوں کہہ لیں کہ میرے جاہلیت کے زمانے میں، میں بھی میوزک اور ڈرامہ انڈسڑی میں کام کرنے والوں کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھتی تھی۔ خاص طور پر ان کے منہ سے نماز وغیرہ کا ذکر سننا بڑا عجیب لگتا اور میں بھی باقی کے لوگوں کی طرح انہیں جج کرتی تھی کہ اس انڈسٹری میں کام کرنے والے تو بہت گناہگار ہیں۔ اب اس پوسٹ میں، میں اس انڈسٹری کو جسٹیفائی نہیں کرنے لگی اور نہ ہی اس بات کو کہ اس انڈسٹری میں کام کرنا گناہ ہے یا نہیں۔ میں بات کرنے لگی ہوں ان لوگوں کی۔ بات یہ ہے کہ ہم ہر اس شخص کو گناہگار سمجھتے ہیں، جن کے گناہ سے ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ وضاحت دیتی ہوں۔ ایک شخص ہے وہ بہت جھوٹا انسان ہے۔ وعدہ خلافی کرتا ہے۔ سود لیتا ہے۔ رشوت بھی لیتا ہے اور دیتا بھی ہے لیکن شراب نہیں پیتا۔ دوسرا شخص یہ سارے گناہ نہیں کرتا لیکن شراب پیتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پہلا شخص اپنے سارے گناہوں کے ساتھ کمفرٹیبل ہے، وہ انہیں برا نہیں سمجھتا۔ اس لیے اسے لگتا ہے کہ جو شرابی ہے، وہ تو بہت بڑا گناہگار ہے۔ اب دوسرا شخص پہلے والے کو گناہگار سمجھے گا کہ وہ تو سود کا کاروبار کرتا ہے۔ رشوت کا بھی لین دین ہے تو یہ تو بڑے گناہ کررہا ہے۔ ہم دوسروں کو ان گناہوں پر جج کرتے ہیں جن کے ساتھ ہم کمفرٹیبل نہیں ہوتے۔ ہم جھوٹ بہت آسانی سے بول لیتے ہیں لیکن اگر کوئی ہمارے سامنے چغلی کرلے تو ہم اسے اس کے گناہ پر پکڑ لیں گے۔ جھوٹ بولنے والے کو کبھی جھوٹ گناہ نہیں لگتا۔ چغلی کرنے والے کو کبھی چغلی گناہ نہیں لگتی۔ اس طرح ہم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی نماز اور قرآن کو بھی اسی بات پر جج کرتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ ہم سے زیادہ صدقہ دینے والے ہوں۔ ہم سے زیادہ عبادت کرنے والے ہوں۔ ڈرامہ دیکھنا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا ڈرامے میں کام کرنا۔ تو پھر ہم ڈرامہ دیکھتے وقت کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا نماز سے کیا لینا دینا؟ یا یہ کہ اتنے ڈرامے دیکھنے کے بعد، اتنے جھوٹ بولنے کے بعد، اتنی چغلیاں کرنے کے بعد، اتنے گانے سننے کے بعد اب ہم نماز کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ جیسے ہمیں لگتا تھا کہ عبایا میں موجود لڑکی یا داڑھی والا لڑکا بڑے نیک ہوں گے جبکہ جینز شرٹ پہننے والی لڑکی یا شیو والا لڑکا دین سے بہت دور ہو گا۔ لیکن میں نے حقیقت ان کے برعکس دیکھی ہے۔ ہم گناہ ثواب کا معاملہ کسی کے ظاہر کو دیکھ کر نہیں پرکھ سکتے۔ یہ لوگ سارا دن اسی سنگر کے گانے سنیں گے اور پھر جب اسے کوئی نیکی کرتے دیکھیں گے تو اس پر فتویٰ لگا دیں گے۔ کتنے منافق اور دوغلے لوگ ہیں۔ سارا دن ریلز دیکھنے والے ریلز بنانے والوں کو گناہگار بول رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ جسے نیکی کا موقع ملے وہ بڑا خوش قسمت ہے۔ کیونکہ اس دور میں نیکیاں کرنا بہت مشکل ہے۔ اللہ کے گھر میں اذان دینا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ نیکی وہی شخص کرتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ چنتے ہیں۔ تو آج کے بعد اگر کسی کا گناہ آپ کو بہت بڑا لگ رہا ہے تو یاد رکھنا کہ آپ کے گناہ بھی کسی دوسرے کی نظر میں بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ گناہ ثواب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہی رہنے دیں۔ اپنی عدالت نہ لگائیں بلکہ اگلی عدالت کی فکر کریں جس میں آپ کے بھی گناہ برابر تولے جائیں گے۔ کسی کو چھوٹ نہیں ملے گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو بخش دیں گے تو اللہ تعالی ان لوگوں کو بھی بخش دیں گے۔ کیونکہ وہ صرف آپ کا رب نہیں ہے۔ #atifaslam #atifaslamofficial

Eshaal زہـــرہ

12,698 просмотров • 6 месяцев назад

بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا شاندار تجزیہ، علی آمین گنڈا کمینے اور انکے بھائی کی بڑی گیم ایکسپوز کردی، کھل کر سب بتادیا اور ساتھ ہی سہیل آفریدی کو اہم ترین باتیں بھی سمجھا دیں 🔥🔥 سہیل آفریدی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے علی امین گنڈاپور بننا ہے؟ میں آج یہ acknowledge کرتا ہوں، علی امین خان تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میں نے تمہاری حمایت میں خان صاحب سے بھی بات کی تھی، تمہارے بارے میں جب background چیک مانگا گیا تھا کہ تمہاری ملاقاتیں ہوئی تھیں، فیصل نصیر جیل میں تم سے ملنے آیا تھا، فیصل واوڈا کو ساتھ لے کے آیا تھا اور تم نے خان صاحب کو جو ہے وہ دھوکہ دینے سے انکار کر دیا تھا، تو وہ بات مجھے بھی پتہ تھی اور خان صاحب کو بھی بتائی گئی تھی۔ اس وجہ سے تم سالے کو جو ہے وہ وزیر اعلیٰ لگایا تھا، اس لیے نہیں لگایا تھا کہ تم اربوں روپے کما لو اور تم principle کے اوپر جو ہے سودا کر لو اور تم دو ہزار چوبیس میں جس طرح بھاگے تھے، نو اضلاع cross کر کے تم بھاگ گئے اور اس کے بعد تمہارا بھائی آ کے یہاں پہ ڈرامے کرتا ہے اور کہتا ہے ہماری بڑی قربانیاں تو تم نے قربانیاں cash کی ہیں نا؟ تم نے قربانیاں دیں، جی ایم آئی سے تمہارے بھائی کا جو ہم جانتے نہیں ہیں کیپٹن نعمان امین کا کیا باتیں کرتے ہو تم لوگ؟ سالوں اگر واقعی تم نے قربانیاں دی تھیں تو اس کو cash نہ لیا ہوتا۔ تو سہیل آفریدی کے پاس ابھی choice ہے کہ وہ کیا علی امین گنڈاپور sweet boy two بنے گا یا وہ کھڑا ہو جائے گا۔ دیکھئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک دن نہیں ایک دن آپ کا آگے جاتا ہے، اس کو روکا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا issue بن جاتا ہے، international میڈیا اس کو pick ضرور کرے گا اگر یہ sustained احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا۔ اگر یہ convert ہو جائے گا آگے دھرنے کی طرف، پورا nationwide protest کے اندر اگر یہ convert ہو جاتا ہے تو international میڈیا اس کو اٹھا لیتا ہے اور تمام game اس وقت چل رہی ہے کہ امریکہ کا میڈیا اس معاملے کو نہ اٹھائے۔ اور دوسری طرف ظاہری بات ہے یمن والا معاملہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ total game ساری وہاں پہ یہ ہے کہ عمران خان ان کو نظر نہ آ جائے جو missing peace ہے اس ساری game کے اندر، کہ عمران خان ایک ایسا peace ہے جو کہ تمام parties کو سامنے لا کے بٹھا سکتا ہے، محمد بن سلمان اس کو اپنا بھائی کہتا ہے، اس کے علاوہ ایران والے جو ہیں وہ علی خامنہ ای جو ہیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ close تھے اور خان صاحب کے ساتھ بہت زیادہ close نہ تھی لیکن عزت کا رشتہ تھا دونوں کا آپس میں، عزت کا تعلق تھا اور ان کا بیٹا جو ہے ظاہری بات ہے وہ عمران خان سے ملے گا، بات کرے گا، اس کو عاصم منیر کو تو تنخواہ دیتے ہیں، عباس عراقچی سے ملا دیتے ہیں زیادہ سے زیادہ وہ ان کے اپنے صدر سے ملا دیتے ہیں، اصل power تو جو ہے وہ ان کے بیٹے کے پاس ہے تو وہ ملے گا عمران خان سے ملے گا اور کسی سے نہیں ملے گا۔ یہ بات اگر کہیں پہ ٹرمپ کے کان میں سمجھ آگئی، کہیں پڑ گئی تو آپ سوچیں کہ پھر اس کو یہ نہیں ہے کہ پاکستان میرے orders دیتا ہے نہیں دیتا، ان کو پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پاکستان کو انہوں نے اس قابل کر دیا کہ پاکستان اپنی ٹانگوں کے اوپر کھڑے ہونے میں اس کو ages لگ سکتی ہیں اگر democracy آ جائے تو ان کے پاس تو ان سے نہیں چلے گا کام، یہ چھوٹے صوبے بنا کے صرف جو معاملات چلانا چاہتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے صوبوں کے بعد بھی حالات صرف مزید خراب ہوں گے، ethnic violence مزید بڑھے گا پاکستان میں اور دہشت گردی کے مزید واقعات ہوں گے، پاکستان کی economy مزید کمزور ہو گی۔ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اس فوج کا قبضہ ہے تبدیلی آ ہی نہیں سکتی، آ سکتی ہے انقلاب سے آ سکتی ہے، نظریاتی انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے، زمینی انقلاب آتا تب ہی ہے جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں اور یہ جس طرف جا رہے ہیں لوگوں کو بھوکا ہی کریں گے اور کوئی ان کے پاس جو ہے دوسرا option نہیں ہے، اسی لیے علیمہ آپا کی گرفتاری کی گئی ہے اور اب آپ سمجھیے کہ ستائیس ستمبر کتنا important ہے اور یہ کیوں ڈرے ہوئے بیٹھے ہیں ستائیس ستمبر سے، please try to understand this.

‏زہـــرہ لیــاقت

46,430 просмотров • 19 дней назад

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------

Dr Waqas Nawaz

18,703 просмотров • 1 месяц назад

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,675 просмотров • 2 месяцев назад

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 просмотров • 11 месяцев назад

عمران خان سیکٹر E-7 اسلام آباد میں میرے پڑوسی تھے جب میں 2008 میں پی ٹی آئی کا کارکن بنا۔ میری عمر پندرہ سال تھی۔ میں وہاں پر اپنی گھر کے قریب کالج کے بعد کرکٹ کھیلتا تھا جب عمران خان نے ہمیں بُلا کر بتایا کہ مجھے آپ جیسے نوجوان لوگوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سارا نظام کرپٹ ہے اور ہمارے حکمران امریکہ سے پیسے لے کر غلامی کرتے ہیں جس کے بعد مجھے انہی کے وارڈ کا جنرل سکریٹری اور پھر صدر منتخب کیا گیا۔ ہم لوگ تقریباً ہر جمعہ کو عدلیہ کی آزادی (چیف جسٹس افتخار چوھدری بحالی تحریک)، ڈرون حملوں اور مہنگائی کے خلاف پریس کلب اور آبپارہ چوک میں احتجاج کیا کرتے تھے۔ رشتہ دار، دوست یہاں تک کہ سکول کے ٹیچر بھی مزاک بناتے تھے کہ عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتا لیکن عمران خان کے حکم پر اپنی محنت اور کوشش جاری رکھی۔ اس وقت جب پولیس پکڑتی تھی تو تھانے لے جا کر دو تین چھِتر مار کر چھوڑ دیتی تھی۔ پارٹی میں کبھی بھی عہدہ یا ذاتی مفاد لینے کی سیاست نہیں کی بلکہ ہمیشہ ایک ورکر ہونے کی حیثیت سے گراؤنڈ پر کام کیا۔ کبھی بھی میڈیا پراجیکشن نہیں کی اور نا ہی تصاویر اور وڈیوز کا شوق رکھا۔ میں اپنی حکومت میں بھی ہمیشہ فوج کے سیاسی مداخلت پر تنقید کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں اور آیئندہ آنے والے وقت میں بھی کرتا رہوں گا کیونکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب تک خفیہ اداروں کی سیاسی مداخلت اور انجنیئرنگ ختم نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں قسم کھائی ہے کہ اگر نظریہ عمران خان کے لئے مجھے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بہانہ پڑے گا تو میں ایک بار بھی نہیں سوچوں گا۔ میں اپنی یہ تصویر شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وقت نے مجبور کیا کہ بتایا جائے کہ ٹوئٹر پر بیٹھ کر تنقید کرنا تو بہت آسان ہوتا ہے لیکن اپنے لیڈر کے نظرئے کو تشدد کے بعد بھی قائم و دائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ہمیشہ سے پی ٹی آئی کا اثاثہ رہا ہے لیکن ہم بات یہ کر رہے ہیں کہ جب تک سینئر قیادت عوام کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے لیے باہر نہیں نکالی گی یہ لوگ عمران خان کو رہا نہیں کریں گے۔ کیا کوئی سینئر لیڈر بتا سکتا ہے کہ آٹھ ماہ بعد بھی آج عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کا آغاز کیوں نا کیا جاسکا ؟ ایسی کیا رکاوٹ ہے آج بھی سینئر قیادت احتجاج اور جلسے کرنے سے خوف زدہ ہے جبکہ عمران خان ہر میٹنگ میں سینئر قیادت کو کہہ چکے ہیں کہ پورے پاکستان میں احتجاج کئے جایئں۔ سوشل میڈیا کو چاہئے کہ اپنی سینئر قیادت سے سب سوال پوچھے اور ان پر دباؤ ڈالیں کہ عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک چلایئں۔ میری کسی بھی ٹویٹ یا لفظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معزرت خواہ ہوں۔

Wajahat Sami

145,379 просмотров • 2 лет назад

میں فضول کہانیاں نہیں بناتا۔ بہت سوچ سمجھ کہ یہ بات کرنے لگا ہوں۔ ثبوت دوں گا۔ میرے پاس کوئی اندر کے ذرائع نہیں ہیں۔ اللّٰہ نے دماغ دیا ہے اور محنت کرنے کا جذبہ۔ ہر سائیڈ سے سوچا ہے، پھر بات کرنے کی ہمت کی ہے۔ اگر آپ سمجھنا چاہتے ہیں کہ چاراکتوبر سے لے کے آج تک دراصل ہوا کیا ہے، اور عمران خان کی جنگ بچانے کا واحد طریقہ کیا ہے، تو میری ریکوسٹ ہے غور سے سنیں۔ عمران خان کی جان خطرے میں ہے۔ آئینی ترمیم کی وجہ سے پاکستان اور پی ٹی آئی بھی خطرے میں ہے۔ ان دونوں باتوں کا بنیادی طور پے ذمہ دار ہے علی امین گنڈاپور، جس نے ڈیل کی، اور بیرسٹر گوہر، جن نے کے پی ہائوس اسلام آباد میں ڈیل سنی، اور مانی۔ پھر علی امین پشاور بھاگے۔ 🔶علی امین گنڈاپور بدنیت نہیں ہے، لیکن ڈرپوک ہے، اور اپنے آپ کو عمران خان سے زیادہ ہوشیار سمجھتا ہے۔ اس لیے ڈیل کی۔ 🔶کہانی سنانے سے پہلے میں آپ کو اس سب کا حل بتا دوں: ڈی چوک پہنچیں کل۔ اگر یہ ترمیم پاس ہوگئی تو عمران خان کی آزادی اور پاکستان کی آزادی بہت دور ہوجائیں گے۔ علی امین کی طرف نہ دیکھیں۔ 🔶صدام ترین، طیبہ، حیدر آپ کے لیے اپنی جان دائو پے لگانے کے لیے تیار ہیں۔ پہلا قدم وہ کہہ رہیں ہیں کہ لیں گے، اور ہفتے پہلے لے کے دکھایا ہے۔ مار کھا کے دکھائی ہے۔ پھر آپ کیوں کسی اور لیڈر کے انتظار میں ہیں؟ جب ینگ لیڈر تیار ہیں، تو کیوں بوڑھوں کا انتظار کررہے ہیں؟ 🔴اب کہانی سنیں: گنڈاپور نے اسلام آباد کے پی ہائوس میں ڈیل کی کہ میں احتجاج ختم کرتا ہوں، آپ ترمیم کینسل کریں۔اسٹیبلشمنٹ ڈی چوک میں ناکام ہوکے اور پشاور کے راستے میں ناکام ہوکے تھک چکی تھی اور ڈیل کے لیے تیار تھی۔ 🔶گنڈاپور بھی مزید لڑنا نہیں چاہتا تھا، اور اسے لگا کہ ڈبل فائدہ لیتے ہیں۔ مار بھی نہ کھانی پڑے اور ترمیم بھی کینسل ہوجائے۔ زبردست پلان۔ اس پلان میں صرف ایک مسئلہ تھا۔ 🔶عمران خان نے تو کہا تھا احتجاج کسی صورت نہیں روکنا؟ عمران ٰخان تو بول پڑے گا؟ پھر علی امین لوگوں کو کیسے روکے گا؟ لوگ علی امین کی بات نہیں مانیں گے اور ڈی چوک میں دھرنے پے بیٹھ جائیں گے؟ اسٹیبلشمنٹ کو علی امین کیسے سیٹسفائی کرے گا اس پوائنٹ پے؟ 🔴اسٹیبلشمنٹ نےحل تجویز کیا۔ کہا ہم عمران خان کو بولنے سے روک دیتے ہیں۔ گنڈاپور نے کہا ٹھیک ہے، میں آواز نہیں اٹھائوں گا۔ دس دن خاموشی ہوجائے۔ پھر میں خود مل کے منالوں گا خان صاحب کو۔ 🔶خان صاحب کو جب پتہ چلے گا کہ میں نے ترمیم کینسل کروادی، تو احتجاج رکنے کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ یہی بات اس نے بیرسٹر گوہر کو کےپی ہائوس میں بتائی۔ بیرسٹر گوہر نے یہ پلان مانا، اسی لیے اب صرف انھیں اجازت ہے عمران خان سے ملنے کی۔ کیونکہ اگر عمران خان ڈانٹتے ہیں احتجاج روکنے پے، تو بیرسٹر گوہر باہر آکے یہ بات شاید نہ بتائیں۔ 🔶میں ان کے دل کا حال نہیں جانتا۔ شاید عمران خان کی ڈانٹ سے انھیں اپنی غلطی سمجھ آجائے اور وہ باہر آکے بتادیں۔ 🔴اگر میری یہ خطرناک کہانی سچ نہیں ہے، تو کیا وجہ ہے کہ علی امین کے پی ہائوس سے بھاگ کے ڈی چوک نہیں گیا؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ 🔶فرض کریں کہ آئی جی اسلام آباد نے اسے اغواء کر بھی لیا تھا۔ تب بھی کہانی تو وہ یہی سنارہا ہے نا کہ میں بھاگ گیا؟ تو جب ہزاروں لوگ ڈی چوک میں تھے، تو وہاں کیوں نہیں گئے؟ پشاور کیوں بھاگے؟ 🔶کیونکہ وہ ڈیل کرچکا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈی چوک میں پی ٹی آئی کی جیت کی تصویریں کسی صورت نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ علی امین نے ترمیم کینسل کرنے کے بدلے ڈی چوک کی قربانی دی۔ اس عوامی قربانی کا اسے کوئی حق نہیں بنتا تھا۔ 🔴اگر یہ سچ نہیں ہے تو کیا وجہ ہے کہ علی امین بغیر تیاری کے پندرہ اکتوبر کو اسلام آباد جانےکی دھمکی دے رہا تھا؟ کیا آپ نے علی امین کو کام کرتے نہیں دیکھا؟ میں نے کشمیر میں قریب سے دیکھا ہے۔ 🔶یہ بندہ اپنا ہوم ورک پورا کرتا ہے۔ کیا پشاور میں نکلنے سے پہلے ہمیشہ بل ڈوزر تیار نہیں کرتا؟ لوگوں کو جمع نہیں کرتا؟ تو کیا وجہ ہے کہ پندرہ اکتوبر کو ایسے ہی نکلنے کے لیے تیار ہوگیا؟ 🔶کیونکہ اسے پتہ تھا نہیں نکلنا پڑے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی کہ لوگ بہت عمران خان کی صحت کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ظاہر ہے عمران خان کو بولنے تو نہیں دے سکتے، اس لیے کسی انجانے ڈاکٹر کو بھیج کے صحت کی گارنٹی دیں۔ 🔴میں یہ نہیں کہہ رہا کہ علی امین کو عمران خان کی صحت کی فکر نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ہے۔ اس نے خود بھی بڑی قربانیاں دی ہیں اس اسٹرگل کے لیے۔ ٹارچر ہوا تھا بال کٹوادیے تھے۔ یاد ہے؟ 🔶لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ڈر کے مارے اس حقیقت کو دیکھنا نہیں چاہتا یا واقعی بیوقوف ہے اور اس لیے اسٹیبلشمنٹ کی بات مان رہا ہے۔ 🔶گنڈاپور کو جو بات سمجھ نہیں آرہی، وہ یہ ہے کہ یہ جھوٹے ہیں مکار ہیں۔ اپنے ڈاکٹر بھیج کے جھوٹی رپورٹ جاری کروانے سے کون روک سکتا ہے انھیں؟ اسی لیے عمران خان نے ان سے ڈیل کرنے سے منع کیا تھا اور کہا تھا احتجاج نہیں روکنا۔ کیونکہ یہ عہد کی پاسداری نہیں کرتے 🔶مسئلہ یہ ہے کہ بیرسٹر گوہر یا علی امین یا کسی اور اندرونی سرکل کے علاوہ والا بندہ عمران خان سے مل گیا تو سچ باہر آسکتا ہے۔ کہ اندر عمران خان کیا سوچ رہا ہے احتجاج رکنے کے بارے میں۔ علی امین کی احتجاج روکنے والی حرکت کے بارے میں 🔶میں پھر بتادوں۔ میں علی امین کو بدنیت نہیں سمجھتا۔ لیکن ڈرپوک ہونا، بیوقوف ہونا، یہ بڑی خامیاں ہیں۔ اور ان کی بنیاد پے ڈیل کرلینا جبکہ عمران خان نے سختی سے منع کیا تھا، یہ سراسر حکم کی نافرمانی ہے اور سیدھا سیدھا اٹیک ہے عمران خان کی لیڈرشپ اور نظریے پے۔ اس کی کوئی معافیٰ نہیں۔ 🔶بیرسٹر گوہر نے بھی چالاکی کرنے کی کوشش کی ہے۔ سیاست میں نئے ہیں، سمجھتے ہیں بڑا تیر مارا ہے۔ انھیں نہیں پتہ آگ سے کھیلے ہیں۔ اگر ڈیل کے مکمل اثرات نظر آنے کی قابلیت نہ ہو، تو زیادہ چالاک بننے کی کوشش کریں گے، تو زیادہ شاطر دشمن فائدہ اٹھائے گا۔ چالاکی نہ آتی ہو تو بہتر ہے بندہ سیدھا اور سچا (اور مشکل) راستہ اپنائے 🔴بات نوٹ کریں: علی امین کوئی زیادہ شور نہیں مچا رہا کہ عمران خان کو بولنے سے کیوں روکا ہے؟ صحت کے لیے بولا ہے، مگر عمران خان پے پہلی بار پابندی لگی ہے بولنے کی، اور علی امین چپ ہے۔ کیوں؟ 🔶میں آپ سے ایک ریکوسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ میں امریکہ میں ہوں۔ ابھی پاکستان نہیں آسکتا۔ لیکن اپنا دل، دماغ اور پاکستان میں فیملی کی سیفٹی اس جنگ پے پورے اخلاص کے ساتھ لگا رہا ہوں۔ ہاتھ جوڑ کے ریکوسٹ کرہا ہوں۔ پلیز کل نکلیں۔ عمران خان کے لیے کل نکلیں۔ اس بندے نے اپنا سب کچھ لگا دیا ہے۔ ہمیں دوسرا نہیں ملے گا 🔴ینگ لیڈر ہیں سڑکوں پے۔ کیوں بوڑھوں کا انتظار کرنا ہے؟ اللّٰہ صرف تجھ سے ڈرتے ہیں۔ اور کسی سے نہیں Enkidu Reborn Shams Khattak Kashif Baloch Haider Saeed Arslan Baloch Pakistan Walli Ahmad Hassan Bobak Falak Javaid Khan Kamran Khan Sadam K Tareen PTI @Ahmeds4ys Sabee Kazmi Amir Khan Chamkani ISF @clynergy @Aladeen441 Siasat.pk agha sarwar

Bilal Ansar Khan

121,498 просмотров • 2 лет назад