正在加载视频...

视频加载失败

اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں! جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں...

14,076 次观看 • 9 天前 •via X (Twitter)

9 条评论

Farhan Saroya 的头像
Farhan Saroya9 天前

ملک میں مولانا صاحب کے پاۓ کا ایک بھی سیاستدان موجود نہیں ہے ۔ دوسرے سیاستدانوں کو مولانا فضل الرحمان صاحب سے حکمت، دانش اور انداز بیاں سیکھنا چاہیے ۔

Abubakar 的头像
Abubakar8 天前

Vote for JUI next time everyone. They strongly deserve to be in power at least for once.

Atta Ur Rehman 的头像
Atta Ur Rehman9 天前

💝

Vixy Chaudhary 的头像
Vixy Chaudhary7 天前

❤️

Dr-Yaar 的头像
Dr-Yaar8 天前

He is not coming slow

Ahteram Shah JUI 的头像
Ahteram Shah JUI8 天前

❤️

Irfan Khan 的头像
Irfan Khan8 天前

#Chairman jamaith ulma Islam mulana fazal ul Rehman Saab zindabad

XaPhAr KhAn 的头像
XaPhAr KhAn9 天前

یہ سب آپ کے افگانڈو ووٹرز کو واپس افغانستان بھیجنے کی تکلیف ہے ؟

Ch MaXud Ahmad DeOka 的头像
Ch MaXud Ahmad DeOka9 天前

اللہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے

相关视频

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,509 次观看 • 22 天前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前

ایسا نہیں ہے کہ آپ جو کہیں اور جس طرح کی ترجیحات طے کریں اور ہم «آمناوسلمنا» نہیں، ایسا نہیں ہے۔ خطے میں ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ ان سارے معاملات پر یہ ایک جماعت ہے جو اپنی رائے رکھتی ہے، لیکن اگر وہ آپ کی رائے کے خلاف ہے تو پھر غدار ہی ٹھہرے؟ ذرا شرم کرو، اس طرح نہیں ہوتا۔ اور میں ان کو بھی دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھر کی کواڑ سے اپنا منہ باہر کر کے ہماری طرف بولتے ہیں، نہ کرو ایسا، میں نصیحت کرتا ہوں آپ کو، اس طرح نہ کیا کرو، سنجیدہ لو ہر معاملے کو۔ امن و امان ملک کا تباہ ہے، اس پر ہمیں بات نہیں کرنی؟ اور جو کچھ آپ کر رہے ہیں بیس پچیس سالوں سے اور روز روز ان پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان مشکل میں پڑ رہا ہے، زخم گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، اس پر بھی ہم بات نہ کریں؟ آپ حضرات کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ ملک جس معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے، پورے خطے میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یہی تو ہم رو رہے ہیں کہ بھئی، اگر آپ پبلک میں نہیں بتا سکتے، کوئی ایسی ریاست کی مجبوری ہے کہ آپ پبلک میں نہیں کہہ سکتے، تو ہم کب کہتے ہیں۔ہم نے تو آپ کو دو تین دفعہ کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلاؤ، اتنا تو بتا دو کہ ہو کیا رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ آپ نے ہندوستان کا مقابلہ کیا، اگر انڈیا سے لڑائی ہوئی، جمعیت علماء نے سب سے پہلے پاکستان کا ساتھ دیا، فوج کا ساتھ دیا، اور جب آپ کو اللہ نے کامیابی دی، ہم اس پر خوش بھی ہیں اور ہمیں فخر بھی ہے، پاکستان کی فتح ہے۔ لیکن جنگ تو چار گھنٹے کی ہے، یا ادھر یا اُدھر، یا آر یا پار، لیکن قوموں کی مستقل زندگی میں، جہاں ارتقاء کا سفر آگے بڑھتا ہے، اس وقت ہندوستان پوری دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے، آپ بتائیں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہر بات میں ہندوستان اور پاکستان، اور ہندوستان سے مقابلہ، لیکن وہ دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس تو زرمبادلہ کے ذخائر آٹھ سے دس ارب ڈالر ہوں گے، وہ بھی کسی کے ادھار دیے ہوئے پیسے بینک میں رکھے ہوئے ہیں، استعمال نہیں کر سکتے۔ یہاں بھی دیکھو نا، امن و امان کے حوالے سے بھی دیکھو نا، بلوچستان کی کیا صورتِ حال ہے؟ خیبر پختونخوا کی کیا صورتِ حال ہے؟ آپ کے سندھ کی کیا صورتِ حال ہے؟ نہیں؛ امن بھی نہیں دینا، معاش بھی نہیں دینا، اور حکومت کا حق بھی ہمارا ہی ہوگا! آپ کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، آپ دھاندلی سے آئے ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,359 次观看 • 14 天前

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

281,140 次观看 • 2 个月前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 27 天前

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,889 次观看 • 21 天前

مجھے احساس ہے اس بات کا کہ وہ بھی میرا خون ہے۔ چند ہفتے پہلے وانا میں آپ کے پورے قلعے کو اڑا دیا گیا، جس میں ہمارے فوجی جوان شہید ہوئے۔ کل بنوں میں ہونے والے ایک حملے نے پورے پولیس اسٹیشن کو اڑا دیا۔ جتنے بھی وہاں سپاہی تھے، وہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اور آج تمام شہر اور علاقے کے تھانوں کی پولیس اپنے اپنے تھانوں کو چھوڑ کر پولیس لائن میں آ کر جمع ہو گئی ہے۔ جو مقامات ہمارے تحفظ کے لیے تھے، آج ان کو خود تحفظ حاصل نہیں۔ کس کے پاس جائیں؟ ہم روایتی لوگ ہیں۔ اگر میں غم کے اندھیروں میں کھڑا ہوں، اگر میں خون کے جھیل میں کھڑا ہوں، اور ہر طرف میرا خون بہہ رہا ہو، تو ایسے ماحول میں کم از کم میں جشن نہیں منا سکتا۔ بڑا دل ہے، ہر طرف خون بکھرا ہوا ہے، زندگیاں غیر محفوظ ہیں، اور ساتھ ساتھ جشن بھی منایا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ہم نے یہاں بڑے بڑے واقعات دیکھے ہیں۔ مولانا ادریس کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ میں روز مرہ کی بات کر رہا ہوں۔ پورے سال کے تعلیمی دور میں وہ ہر روز اٹھائیس سو طلبہ کو پڑھا رہا ہوتا ہے۔ بیک وقت ایک مدرسے میں تیرہ سو اور دوسرے مدرسے میں پندرہ سو طلبہ پڑھتے ہیں۔ یہ ہمارے اثاثے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں شہادت کے لباس میں دفن کیا گیا۔ تو مجھے فیض کا یہ شعر یاد آیا: کہ اپنے سر پر کفن کو ذرا ٹیڑھا رکھو تاکہ دشمن کو یہ گمان نہ ہو کہ میں غرورِ عشق کی بانکپن کھو چکا ہوں۔ وہ زندہ ہے، تمام شہداء زندہ ہیں۔ میرے اداروں کے نوجوان اگر جا رہے ہیں تو وہ اپنا خون اپنی مٹی کے حوالے کر رہے ہیں، اپنی جان مٹی کے حوالے کر رہے ہیں۔ تو ہماری پالیسیاں کہاں ہیں؟ امن و امان نہ ہو تو کاروبار کہاں ہوگا؟ آج میرے علاقوں میں، جناب اسپیکر، توجہ سے سن لیجیے، کوئی حکومتی رٹ موجود نہیں۔ دیہاتوں میں، مسجدوں کے اندر مسلح لوگ، بیٹھکوں میں مسلح لوگ۔ عام آدمی اپنے بچے کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ کاروبار ختم ہو چکے ہیں۔ لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں، لیکن قوم کو نہیں بتایا جا رہا کہ ہمارے ملک میں کیا صورتحال ہے۔ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھتا ہوں، ٹانک میرا علاقہ ہے، لکی مروت میرا علاقہ ہے، بنوں میرا علاقہ ہے۔ میں ان علاقوں سے ووٹ لیتا رہا ہوں، ان علاقوں نے بار بار مجھے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ یہ میرے آنکھوں کے سامنے کے علاقے ہیں۔ ہمارا کوئی سپاہی محفوظ نہیں، کوئی شہری محفوظ نہیں۔ ایک ہی گاؤں میں چھٹی پر آیا ہوا نوجوان صبح لے جایا گیا، صحرا میں اس کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ اسی گاؤں سے ظہر کے بعد دوسرے شخص کو لے جایا گیا اور مغرب سے پہلے اس کی لاش آ گئی۔ اس طرح ہماری جانیں آسان ہو گئی ہیں، اس طرح ہمارا خون سستا ہو گیا ہے۔ آپ پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھائیں، لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں میرا خون کتنا سستا ہو چکا ہے۔ کبھی احساس ہے ہمیں اس بات کا؟ جب میں نہ ملک کے لیے، نہ امن و امان کے لیے، نہ شہری کی حفاظت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، نہ معیشت کے لیے کوئی پالیسی بنا سکتا ہوں، تو پھر حکومت تو نہ رہی۔ حکومت کے تو دو ہی کام ہوتے ہیں: لوگوں کی معیشت کو بہتر کرنا اور لوگوں کی جان و مال اور انسانی حقوق کا تحفظ کرنا۔ نہ ہم لوگوں کو معیشت دے رہے ہیں اور نہ جان و مال کا تحفظ دے رہے ہیں۔ اس بات کا بھی نوٹس لیا جائے کہ جب بجٹ پاس ہوتا ہے اور کسی بھی اسکیم کے ٹینڈر آتے ہیں تو ٹھیکیدار کو سائٹ پر جانے سے پہلے پورے ٹینڈر کے پیسے کا دس فیصد دینا پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ یہ ہمارا دل گردہ ہے کہ ہم پھر بھی ان علاقوں میں جاتے ہیں، ان گاؤں میں جاتے ہیں اور وہاں کس ماحول میں ہوتے ہیں؟ اب تو لوگوں نے علاقوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ ہمارے نوٹیبل لوگ بھی اب غمی خوشی اسلام آباد تک محدود ہو گئے ہیں۔ اور اگر کوئی عام آدمی گاڑی میں جا رہا ہو یا درس حدیث دے رہا ہو تو اسے شہید کر دیا جاتا ہے، جیسے مرغی کو بھی اتنی آسانی سے ذبح نہیں کیا جاتا۔ اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قومی اسمبلی میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

34,880 次观看 • 4 个月前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 次观看 • 3 个月前

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

43,248 次观看 • 1 个月前

ہم مانتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم آزاد ہوئے، اناسی سال گزر گئے، انگریز چلا گیا، لیکن ذرا تاریخ کو تو پڑھو۔ اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک اس آزادی کے لیے قربانیاں دینا، کہیں بالاکوٹ میں شہداء کا خون بہہ رہا ہے، کہیں شاملی کے میدان میں علماء کا خون بہہ رہا ہے، دہلی اور گردونواح میں ہزاروں مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ اس آزادی کی خاطر یہ میرے اکابر کی تاریخ ہے، تمہاری تاریخ نہیں ہے۔ پھانسیوں کا اگر چُوما ہے اس آزادی کے لیے، میرے اکابر، اور میرے بزرگوں نے چُوما ہے۔ اور ایک انگریز خود کہتا ہے کہ جب ہم نے ان مجاہدین کو توپوں کے سامنے کھڑا کرکے اڑانے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں لوگوں میں ایک ایک سے ہم نے پوچھا، تنہائی میں،، اتنا کہہ دو کہ میرا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں، آپ کی جان بچ جائے گی۔ ہزاروں کے لوگ اڑ گئے، لیکن کوئی بندہ ہمیں نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں۔ کس بات پر تم میرے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو؟ پاکستان اگر بنا ہے تو میرے اکابر کی قربانیوں کے نتیجے میں بنا ہے۔ آپ اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے، آپ اس کی بے توقیری نہیں کر سکتے، اور اپنا منہ کلی کرکے میرے اکابر کا نام لینا۔ شراب سے بدبودار تمہارا منہ میرے اکابر کے خلاف زبان کھولتا ہے۔ شرم نہیں آتی تم لوگوں کو؟ مذاق سمجھ رکھا ہے۔ یاد رکھو، یہ جو ہم بیٹھے ہیں، یہ ان اکابر و اسلاف کے وارث ہیں۔ یہ ان مشن کے وارث ہیں جنہوں نے اگر انگریز کے سامنے سر نہیں جھکایا تو انگریز کے پالشیوں کے سامنے بھی ہم سب جھکنے کے لیے تیار ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

22,332 次观看 • 1 个月前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

31,992 次观看 • 6 天前

میں یہ سوچتا ہوں کہ محسن نقوی نے کس capacity میں یہ باتیں کی ہیں، وہ کابینہ کے رکن ہیں، اگر ناکام ہو چکا ہے تو پھر یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ مستعفی ہو جائےیا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آجائے، نوکری بھی اسی تنخواہ پر کرنی ہے اور باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں ، '''چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا بڑا ہے مجھ کو اکثر ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے''' یہاں پر پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے آج بھی ہے کل بھی تھا وہ ملک کا آئین ہے آئین کے مطابق ملک کو چلاو، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، قانون سازی شروع ہو جائے گی، عوام میں خوداعتمادی بھی آجائے گی، اصل میں ہماری مرضی کی حکومت ہونی چاہئے، ہم پر جبرا حکومت مسلط نہ کی جائے لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں جیسے واقعی عوام کی حکومت ہے جبکہ یہ بھی انہی کی حکومت ہوتی ہیں اور پیچھے لگام ان کے پاس ہوتی ہے، مولانا فضل الرحمن کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

Siddique Jan SMT

15,684 次观看 • 1 个月前

پاکستان بننے کے بعد، پاکستان کے اندر تین قسم کے لوگوں نے پاکستان کی تخلیق اور پاکستان کے وجود کی تین طرح کی تعبیر کی ہے۔ ایک طبقے نے کہا کہ پاکستان اس لیے بنا ہے کہ یہاں قرآن و سنت کا نظام ہوگا۔ نہ اب انگریز ہے، نہ اب ہندو ہے، مسلم اکثریتی ملک ہے اور یہاں اب شریعت ہوگی۔ایک تصور یہ تھا۔ کچھ لوگ تھے جنہوں نے اس تصور سے پاکستان کی آزادی کی تعبیر کی کہ ہماری معیشت آزاد ہوگی، ہم کسی کے غلام نہیں ہوں گے۔ اور ایک طبقہ وہ تھا جس نے پاکستان کے وجود کو اس بات سے تعبیر کیا کہ ایک جمہوری ملک ہوگا اور جمہوری ماحول میں ہم سانس لیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ اب اسلامی نظام کا قیام، شریعت کے مطابق زندگی، معاشی خوشحالی یا جمہوری نظام۔۔۔ان تینوں حوالوں سے ذرا آپ پاکستان کا آج،مطالعہ کر لیں۔ یہاں شریعت کتنی ہے؟ قرآن و سنت کتنا ہے؟ معیشت کتنی خوشحال ہے؟ ہماری جمہوریت کا کیا حشر کر دیا ہے؟ کون سا مقصد ہے جو پاکستان کے کسی ایک شہری کا مکمل ہوا ہو؟قرآن و سنت کے طلبگار، وہ بھی محرومیت کا اظہار کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ بھی محرومیت کا شکار ہیں۔ اور جمہوریت کی بات کرنے والے، وہ بھی مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب اس ملک کے وجود کی اگر نفی ہوئی ہے تو تمہارے رویوں نے کی ہے۔ سیاسیات تو ایک بڑا وسیع میدان ہے، بڑا توسع ہے اس میدان میں۔۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! اب قرآن و سنت کی باتیں چھوڑو۔ اب قرآن و سنت کی بات کرنے والے اور مذہب کی بات کرنے والے کی ملک کی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں۔ ہم نے اگر ملک کی سیاست میں گنجائش پیدا کی ہے تو اس میں تمہارا کیا کردار ہے؟ یہ مقام بھی ہمارے ان نوجوانوں اور کارکنوں نے اپنی قربانیوں سے حاصل کیا ہے۔ اور مت سوچے کوئی کہ وہ ہمارے لیے دنیا تنگ کر دیں گے، ہمارے لیے گنجائش تنگ کر دیں گے۔ میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے لیے گنجائش تنگ کر رہے ہو۔ ہم نظریاتی لوگ ہیں اور اپنے نظریات کے لیے ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ دو سو سالہ تاریخ ہماری پشت پر ہے، تمہاری پشت پر کیا ہے؟ انگریز کی غلامی، خوشامد، ان کے گھوڑوں کے خرخرے، اور اس کے بدلے میں جاگیریں حاصل کرنا اور بڑے بڑے جاگیردار بن جانا یہ تمہاری تاریخ ہے۔ اور قربانیاں دینا ہماری تاریخ ہے، تم کس چیز میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟ تو جنابِ رسول اللہ ﷺ کے دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترنا، یہ ہمارا مشن ہے۔ یہ مدرسے، یہ مولویوں کے مشین نہیں ہیں، یہ بذاتِ خود ایک مشن ہے۔ اور مولوی کا کام کیا ہے؟ یا امت کی امامت کرنا، یا لوگوں کے جنازے پڑھانا۔ ہمیں قوم کی امامت کرنے کا طریقہ بھی آتا ہے اور تمہارے جنازے پڑھنے کا طریقہ بھی آتا ہے۔ تو ملک کے مقاصد کو ذرا سمجھنا ہے۔ آزادی کے جشن منائیں، لیکن جشن کی آڑ میں ملک کے بنیادی مقاصد سے آنکھیں چرانا، آنکھیں بند کرنا۔۔۔یہ نہیں ہوگا، ان شاء اللہ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,722 次观看 • 1 个月前

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,913 次观看 • 11 个月前

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,843 次观看 • 1 个月前

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 次观看 • 2 个月前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 次观看 • 5 个月前