Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ جلسہ اتوار بازار کے گراؤنڈ میں کرنا پڑا اور بندے پھر بھی پورے نہیں ہوئے۔ فوج کے خلاف بیانیہ بنانے کے چکر میں اپنا سیاسی کباڑا کر لیا ہے۔ DG ISPR کی باتیں سچی اور کھری تھیں، اس کی شدید تکلیف جلسے...

353,758 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان، قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن، سینیٹ میں لیڈر آف دی اپوزیشن تشریف لائے ہیں، میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ہم نے اس اصول پر اتفاق کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ایک جوائنٹ اپوزیشن ہونی چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کے اندر کی بزنس میں ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہو اور ہمارے اقدامات مشترکہ ہوں، باہمی مشاورت کے ساتھ ہوں، تاکہ اپوزیشن ایک مؤثر کردار ادا کر سکے۔ ہمارے سامنے جو ملک کے مسائل ہیں، امن و امان کا مسئلہ ہے اور خاص طور پر دو صوبوں کے اندر جس طرح کی حالت جنگ ہے اور جس کی وجہ سے حکومتی رِٹ چیلنج ہو رہی ہے، شہریوں کی زندگی اجیرن ہے، ہر شخص اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے صرف طفل تسلیاں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب یہ طفل تسلیاں تو ہم گزشتہ بیس سالوں سے سن رہے ہیں۔ کتنے آپریشنز ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف، امن و امان کے قیام کے لیے، حکومتی رِٹ کو مضبوط بنانے کے لیے، لیکن اب تک ہمیں وہ مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ کچھ بھی ہمیں نظر نہیں آ رہا، کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی اور اس وقت بھی یہی گفتگو تھی اور آج بھی یہی گفتگو ہے۔ الفاظ میں کوئی فرق نہیں، طفل تسلیوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن نتیجہ صفر ہے اور کسی قسم کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آ رہی ہے۔ اس سے جو ہماری معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور ملک کے کاروباری طبقے کو چاروں صوبوں میں جو مشکلات درپیش آ رہی ہیں، بالخصوص جو ہمارے قبائلی علاقوں کے تاجر ہیں، وہ جس طرح بری طرح متاثر ہوئے ہیں، اس حوالے سے پاکستان ایک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ ہماری مغربی سرحد بند ہے، تجارت اور کاروبار کے دروازے بند ہیں۔ ہماری مشرقی سرحد بند ہے، کاروبار کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں، تجارت کے کوئی مواقع موجود نہیں ہیں۔ چین ناراض ہے، ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے اور آج اگر ہم ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں تو وہ ہماری درخواست کو مسترد کرتا ہے۔ ایران کے جو حالات ہیں، وہ اس وقت پاکستان کے لیے اچھے یا برے حالات میں کوئی بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس طرح پاکستان کو ان غلط پالیسیوں نے محصور کر کے رکھ دیا ہے اور خطے میں پاکستان ایک غیر محفوظ اور محصور ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کب تک خاموش رہا جائے؟ کب تک ہم مصلحتوں کا شکار رہیں؟ کب تک ہم ملک کے داخلی سیاسی مفادات پر نظر رکھیں اور ملک پر نظر نہ رکھیں؟ بیانیہ جو اس وقت پاکستان کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے، سرکار کی طرف سے وہ غلط بیانیہ ہے۔ وہ لوگوں کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں، غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ اس قسم کے کوئی حالات نہیں ہیں جو وہ ہمیں بتا رہے ہیں۔ تو نہ ہمارا ملک امن و امان، نہ ہمارے ملک کی معیشت اس قابل ہے۔ صوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں، کس طرح کی جا رہی ہیں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کس امید پر اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، کس امید پر یہ باتیں ہو رہی ہیں۔ تو یہ ساری چیزیں وہ ہیں کہ ابھی تک ہم مطمئن نہیں ہیں۔ نہ صوبوں کے لیے کوئی تیاری ہے، نہ صوبوں کے لیے کوئی ماحول موجود ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے اور لگی ہوئی آگ کے اندر آپ کہتے ہیں، آؤ گھر میں اس طرح تقسیم کریں، یہ نہیں ہو سکتا۔ کشمیر میں اس وقت جو صورتِ حال راولاکوٹ پر ہے، تین مہینے ہو رہے ہیں، دھرنا بیٹھا ہوا ہے۔ عوام کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ مثبت بات بھی کریں تو مثبت بات بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آپ بات چیت نہیں کریں گے تو پھر جو شدت پسند عناصر ہیں، ذرا انتہا پسند اور سخت گیر لوگ ہیں، وہ آگے آئیں گے اور پھر حالات اور گھمبیر ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ حالات کیوں ملک کے لیے بنائے جا رہے ہیں؟ لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے ہم اپنا بیانیہ قوم تک پہنچائیں گے، حقائق قوم تک پہنچائیں گے اور ایک طرف ایک قسم کی بات ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں۔ تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔ تو یہ اس وقت ہمارا اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، یہ ساری چیزیں اپنے اپنے پارٹیوں کے سامنے بھی جائیں گی اور ان کو اعتماد میں لیا جائے گا، اور پھر اس کے بعد اگلی ہماری جو میٹنگ آئے گی، اس میں اگلے آئندہ مستقبل کے فیصلے ہوں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,516 görüntüleme • 10 gün önce