Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اتے ہو،" او مردوں کی فرح گوگی آڈٹ تو تمہارا ہونا چاہیے، سب سے پہلے تم حساب دو کہ تم ہمارے دیئے پیسے سے بغیر امریکی گرین کارڈ کو سرنڈر کئے یہاں حکومت میں دھن دھناتے پھرتے رہے ہو، اس کا حساب کون دے گا" Nusrat Javeed Dr. Shahbaz GiLL

16,007 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو #گولی_کیوں_چلائی جب قوم انقلاب کی طرف گامزن ہوتی ہے تو اُس کے ادیب، شعرا اور موسیقار، بُلند افکار سے ایک سحر نو کا جادو بڑی خوبصورتی سے ہوا میں بکھیرتے ہیں جسکی خوشبو ہر دل میں اتر جاتی ہے۔ میں نے عمران خان کی تحریک میں یہ دیکھا کہ سب سے پہلے موسیقاروں نے گیت گائے، ادیبوں نے لکھنا شروع کیا، اور معروف مزاح نگاروں کی تخالیق سامنے آئی ہیں۔ فنون لطیفہ میں ایک نئی سیاسی جہد کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ انور مقصود صاحب اپنے طنز اور مزاح سے پاکستان کے ظالمانہ غمگین ماحول میں تبسم بکھیرتے رہے ہیں، ان پر بھی جبر کیا گیا۔ اگر بس چلتا تو معین اختر کو قبر میں نوٹس دے دیا جاتا۔ انقلابی شاعر احمد فرحاد پر بھی ظلم و ستم ہوا، اور اب ابھرتے ہوئے شاعر افکار علوی سے بھی زباں بندی کے افیڈیوٹ پر دستخط لے لیئے گئے ہیں۔ مگرم اِس نوجوان کیا کہ دیا جو آگ لگ گئی؟ بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو جو لاپتہ کیے، جیتے ہیں یا مر گئے، کہاں کیئے، جواب دو بہت بڑی قطار ہے، پکار ہے، جواب دو جواب دو ہمارے دیس میں علوم دینے کے اصول کس نے طئے کیئے کہ اِس طرف تو اصلحہ اور اُس طرف کتاب دو، جواب دو حریف دیس کا غلام کون ہے نمک حرام کون ہے ہمار صبر ختم ہے مزید مت سراب دو، جواب دو ہمیں بھی ٹھن گئی تو پھر، ہماری چیخ دھاڑ بن گئی تو پھر سو بہتری اِس ہی میں ہے کہ تشنہ لب کو آب دو، جواب دو لہو لہو تو ہو چکے ہو، سرخ رو تو ہو مرو، سو لڑ پڑو حریف کو بھلے جو تم بصورتِ حباب دو، جواب دو (افکار علوی) 👇پوری نظم سنیں اور پھر زباں بندی کا حلف نامہ ملاختہ ہو۔ شرم و حیا سے عاری، حکومتِ جاری۔

Dr. Arif Alvi

183,768 просмотров • 1 год назад

ایرانی سیکورٹی چیف علی ریجانی کے بھائی کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کا احوال۔ صحافی: آپ کی اپنے بھائی سے آخری گفتگو کیا تھی؟ بھائی:ہم اخری ٹایم جب ملے آپس میں مذاق کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ میری عمر میں تم سے بڑا ہوں،، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے 'تعلقات کا استعمال کر کے مجھ سے پہلے شہید ہو جاؤ۔ تم ایک مدت تک 'اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ' کے سربراہ رہے، کئی بار پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے، اب دو بار صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے لو اور اس کے بعد اگر چاہو تو جا سکتے ہو۔ لیکن اس نے واقعی اپنے 'تعلقات' کا استعمال کیا اور مجھ سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گیا "وہ دوسروں کی طرح کسی زیر زمین بنکر میں جا سکتے تھے، لیکن نہیں، وہ میدانِ جنگ کے آدمی تھے۔ وہ کبھی بنکروں میں چھپنے والے نہیں تھے۔ حکومت کا کوئی بھی عہدیدار بنکر میں نہیں ہے؛ یہ وہ نااہل غنڈے ہیں جو ہم پر حملہ کر رہے ہیں، وہی بنکروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔"

Naseem Abbas

50,707 просмотров • 6 месяцев назад