Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آج انڈین میڈیا سارا دن میرے اور وجاہت کاظمی کے نام کا ڈھنڈورا پیٹتا رہا ہے۔ پاکستان مخالف کوئ بھی ہو اس کے خلاف نہ ہم گولی سے ڈرتے ہیں نہ گالی سے اور ہم نے یہ ثابت کیا ہے ہم دہلی کے اندر جاکر مجمع عام میں کھڑے...

10,345 views • 14 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

ہم اس ملک میں جنگوں کے متحمل نہیں ہیں۔ ذرا سوچو، خدا کے لیے — حکمران ہو تو ذرا سوچو۔ سن 1950ء سے لے کر امریکی قرضے لے-لے کر تم نے آج تک صرف ان کے قرضوں پر اپنی زندگی گزاری۔ آج تمہارا حشر کیا ہے؟ ہندوستان معاشی لحاظ سے ترقی کر رہا ہے، چین ترقی کر رہا ہے، بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، افغانستان کی حالت ہم سے بہتر ہے، ایران ترقی کر رہا ہے — اور اس پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جو ڈوب رہا ہے۔ کس پالیسی کی وجہ سے ڈوب رہا ہے؟ تمہاری غلامانہ پالیسیوں کی وجہ سے۔ تمہارے اندر خودداری نہیں ہے، تم فکری طور پر غلام ہو۔ تمہیں صرف اپنے قوم کے بچوں کو قتل کرنا آتا ہے، تمہارے اندر پاکستان کو ترقی دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ آج چین کا اعتماد اٹھ رہا ہے، خطے میں پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔ ہندوستان ہمارا دشمن ہے اور افغانستان سے بھی لڑائی، ایران سے بھی لڑائی — کہاں گئی ہماری خارجہ پالیسی؟ پرامن خارجہ پالیسی کہاں گئی؟ پاکستان کے بقا و استقلال کی پالیسی کہاں گئی؟ پروپیگنڈوں سے کچھ نہیں ہوگا۔ پروپیگنڈی کی زبان روک دو، جنگ کی زبان روک دو۔ میں افغانستان سے بھی کہنا چاہتا ہوں اور پاکستان سے بھی کہہ رہا ہوں: افغانستان-پاکستان کی لڑائی نہ پاکستان کے مفاد میں ہے نہ افغانستان کے۔ ایک طرف ہم بھارت سے لڑیں، دوسری سرحد پر افغانستان سے لڑیں — ہم نے پاکستان کو کہاں کھڑا کر دیا ہے؟ جب ہم جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں تو صرف جنگ بندی کے لیے نہیں، زبان بندی کے لیے بھی کہہ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف بولنا روکو، غلط پروپیگنڈے روکو۔ ایک کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں بے گناہ ہوں”۔ ایک کہتا ہے “میں صرف دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”، دوسرا بھی کہتا ہے “میں دفاعی جنگ لڑ رہا ہوں”۔ ان چیزوں سے مقام نہیں بنتا۔ جمعیت علماءِ اسلام نے پہلے بھی کردار ادا کیا ہے اور اس سفارتی کردار میں ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وہ کام جو تمہاری پوری وزارتِ خارجہ نے حاصل نہیں کیا، ایک سیاسی جماعت نے حاصل کیا۔ جب تم نے الیکشن میں دھاندلی کی اور جمعیت علماءِ اسلام اپوزیشن میں بیٹھی تو بنی بنائی باتیں تمہارے ہاتھوں بگڑ گئیں۔ تمہارے اندر معاملات کو آگے بڑھانے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں۔ ہم آج بھی دونوں ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کردار کے لیے سازگار ماحول درکار ہوگا۔ دنیا چاہتی ہے، امریکہ چاہتا ہے، مغرب چاہتا ہے کہ افغانستان میں اسلام کیوں آیا، امارتِ اسلامیہ کیوں قائم ہوئی — ان کے پیٹ میں درد ہے۔ ہم نے بہت پراکسی جنگیں لڑی ہیں۔ جب کمیونسٹ آئے تو ہم نے مجاہدین کا ساتھ دیا؛ جب مجاہدین آپس میں لڑے تو ہم نے دوسرے مخالف کا ساتھ دیا؛ طالبان آئے تو ہم نے طالبان کا ساتھ دیا؛ طالبان کے خلاف ہم نے کرزئی کا ساتھ دیا۔ ہم نے اڈے دیے، امریکہ کو اڈے دیے — اُن کے طیارے ہمارے فضائوں سے گزرے اور افغانستان پر بمباری کرتے رہے۔ آج کہتے ہیں افغانستان پر قابض حکومت ہے، قابض حکومت — کیوں؟ کہتے ہیں جنگ کر کے آئے ہیں، عوام کے منتخب نہیں ہیں۔ تو میں نے کہا: ملا عمر بھی تو جنگ کر کے آیا تھا، وہ بھی عوام کے انتخاب سے نہیں آیا تھا۔ آپ نے انہیں سرکاری طور پر تسلیم کیا یا نہیں؟ آپ نے وہاں سفارتخانہ دیا اور یہاں بھی انہوں نے سفارتخانہ قائم کیا۔ آپ نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو سفارتی معیار پر قائم رکھا — آج کیا ہو گیا ہے؟ اپنی قبلہ سیدھا کرو، دوسروں کے قبلوں پر بحث نہ کیا کرو، اپنا قبلہ ٹھیک کرو۔ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان کو ایک پرامن ریاست دیکھنا چاہتے ہیں — پرامن ہوگا تو پھر پاکستان معاشی ترقی کر سکے گا۔ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو۔ ملک میں اگر مسلح گروہ پھر رہے ہیں تو پاکستان کے اندر بھی مسلح گروہ موجود ہیں، اور آپ جاتے ہو افغانستان میں بمباری کرنے کے لیے — نئی نئی باتیں بنانا اور معصوم بن کر جنگ کا جواز فراہم کرنا اب وہ وقت گزر چکا ہے۔ چالیس، پینتالیس سال سے لوگ آپ کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں: آپ ہمیشہ مظلوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ معصوم ہوتے ہیں، آپ ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں — اس کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہو رہے؟ آپ پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرو، بیٹھ کر دوبارہ سوچو۔ میں اپنے حکمرانوں سے بھی کہنا چاہتا ہوں: دوسروں کا گلہ نہ کیا کرو، ذرا اپنے گھر کی صفائی بھی کر لو۔ کہیں تم اپنے اندر گھس بیٹھے ہوئے مسائل کو نہیں دیکھ رہے تو بس حالات ایسے ہی پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ امکان افغانستان میں بھی ہے، اور یہاں بھی۔ وہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو افغانستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور یہاں بھی کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دو ممالک امن میں نہیں رہے تو یورپ اور امریکہ میں بھی ایسے ہاں ہیں جو چاہتے ہیں کہ جنگ پھر سے شروع ہو۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

23,884 views • 9 months ago

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,367 views • 4 months ago

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 views • 1 year ago

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 views • 2 months ago

میں اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی،سیاست دانوں،حکمرانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ جب 1977 میں پورے ملک میں الیکشن میں دھاندلی کی گئی، اس دھاندلی کے خلاف پورے ملک میں تحریک اٹھی، اس تحریک کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ چوری سے نتیجے برآمد کرنا، الیکشن میں دھاندلیاں کرنا اس کے خلاف سب سے پہلے بڑی تحریک کی قیادت میرے قائد نے کی تھی، مفکر اسلام نے کی تھی، ہماری گٹھی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہم پاکستان میں چوری کا الیکشن تسلیم نہیں کریں گے۔ چوری ہوئی ہے 2018 میں بھی ہوئی، ہم نے کہا ہم تسلیم نہیں کرتے، 2024 میں ہوئی، پارلیمنٹ میں ہوئی، اس صوبے کی الیکشن میں چوری ہوئی، ہم نے نہ صوبے کی چوری کو تسلیم کیا نہ ہم نے وفاق کی چوری کو تسلیم کیا، لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ پاکستان کے عوام کو اس کے ووٹ کا حق واپس نہ دلا دے۔ یہ وہ سیاست ہے جس کے نام سے کانفرنس منعقد ہو رہی ہے وہی اس نظریے اور اس اصول کے رہبر تھے۔ اگر ہم واقعی ان کے پیروکار ہیں تو پھر ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہم نے اصول کی سیاست کرنی ہے، جمہوریت کی سیاست کرنی ہے، اخلاق کی سیاست کرنی ہے، شائستگی کی سیاست کرنی ہے۔ ہم اختلاف کرتے ہیں، ہم اختلاف کریں گے، لیکن ہماری سیاست گالیوں کی سیاست نہیں، بدتمیزی کی سیاست نہیں ہے، بد اخلاقی کی سیاست نہیں ہے، فحاشی اور عریانی کی سیاست نہیں ہے، اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔ ان شاءاللہ جو راستہ ہمیں اپنے راہبر نے دکھایا ہے، ہم اس راستے پر استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور ان شاءاللہ آج اس ڈیرہ کا شہر جو آج گزرگاہ ہے اگر اللہ نے چاہا اسی راستے سے اسلام آباد پہنچیں گے اور اسلام آباد ہماری منزل گاہ ہوگی۔قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,927 views • 9 months ago