Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

آج بزرگوں کا منتر ہی الٹا پڑ گیا اور بزرگ وڑ گیا 😆👏 خدا تو آپ کو ہرگز نہیں کہتا کہ کلمہ پڑھ کے اپنی زندگی داؤ پر لگا دو جو کہ یہ بابا جی کر رہے ہیں بلکہ خدا آپ کو اسباب کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے...

11,013 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ امریکا افغانستان میں اقتدار اپنی مرضی سے طالبان کو سونپ کر گیا ہے اور مجاہدین امریکا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو تسلیم کر لیں کہ آپ امریکا کو خدا مان چکے ہیں۔ اور یہ آپ کے لیے از حد خوشی کا لمحہ ہوگا کہ افغانستان اور عراق... دونوں جگہوں پر 'آسمان والے رب کے مجاہدین' نے آپ کے امریکی خدا کو ایسی ایسی جگہوں پر ضرب لگائی ہے کہ وہ اب براہِ راست افغانستان و عراق آنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ مجاہدین نے امریکا کو (مائن نصب کر کے) زمین کے اندر سے، (گولے برسا کر) پہاڑوں کے اوپر سے اور (موت کا حصار قائم کر کے) دائیں، بائیں، سامنے اور پیچھے سے ایسے زخم دیے ہیں، جن کی ٹیسیں آج بھی اُس کے پجاریوں کے چھلنی دلوں سے بلند ہو رہی ہیں۔ ۔۔۔۔۔ اور یہ افغانستان و عراقی مجاہدین کے لیے کوئی غرور کی بات نہیں، بلکہ یہ سعادت ہے... جو بلاشبہ آسمان والا رب اپنے اُنہی عاجز بندوں کو عطا فرماتا ہے، وہ جن کو اُن کے اسلام کے ساتھ اخلاص کی وجہ سے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ ... تو اے مجاہدینِ اسلام! آپ اسلام کا فخر ہیں۔ آپ مسلمانوں کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ مسلم امت کی باعزت زندگی کی ضمانت ہیں۔ ...... اے مجاہدینِ اسلام! آپ اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اُن امتیوں کے لیے مسکراہٹ ☺️ کا ذریعہ ہیں، جو آپ سے اپنے دل ❤️ کی اتھاہ گہرائیوں سے محبت کرتے ہیں۔

امارتِ اسلامی اردو

23,074 Aufrufe • vor 1 Jahr

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 Aufrufe • vor 8 Monaten

آپ نے جن افغانوں کو یہ کہہ کر کریڈٹ لیتے رہے کہ ہم نے ان کی اتنے سال مہمان نوازی کی اور پھر جس ذلالت اور انسانیت سے گرے ہوئے انداز میں آپ نے ان کو نکالا اور پھر اب آپ حملہ آور ہوئے اور کس کے کہنے پر حملہ آور ہوئے جس طرح زبیر بھائی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو ایران کے معصوم 136 بچوں کے خون کا قاتل ہے وہ سکول پر بمباری کر رہا تھا اور اس وقت بھی سکول پر بمباری ہو رہی تھی میناب میں جہاں پر کلاس روم میں بچے بیٹھے ہوئے تھے اس ڈونلڈ ٹرمپ کا ساتھی آپ کو افغانستان کی جنگ میں کہہ رہا ہے کہ پاکستان ایز ڈوئنگ اے گریٹ جاب کس کو آپ الو بنا رہے ہیں ہم یہ 25 کروڑ عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ یہی جو آج کابل کے اوپر لوگ بیٹھے ہیں کل آپ کہہ رہے تھے کہ غلامی کی زنجیریں آزاد ہو گئی ہیں پوری قوم کو پتہ ہے آج ایسا کیا ہو گیا کہ آپ بمباریاں کر رہے ہیں سویلینز کو مار رہے ہیں ادھر بھی کیجولٹیز ہو رہی ہیں ہم تو نہیں چاہتے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان امن کی داعی ہے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان ہمیشہ امن کا ایجنڈا لے کر چلتی ہے اور ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ اس مسئلے میں سیریس ہیں تو ہم آپ کو فیسلیٹیٹ کر سکتے ہیں کیوں کہ اس میں سب سے بڑی سٹیک ہولڈر خیبر پختونخواہ کی حکومت ہے وہاں کے قبائلی عوام ہیں آپ نے کس سے پوچھا ہے کیا خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس معاملے میں آن بورڈ لیا گیا ہے یقیناً ہرگز نہیں مجھے پتہ ہے تو کس طرح یہ معاملہ لے کر جا رہے ہیں دوسری بات ایران کے حوالے سے ابھی تک پاکستان کی خارجہ پالیسی اور پاکستان کی ریاستی بیانیہ ایران کے حوالے سے بالکل بھی کلیئر نہیں ہے کہ ہم اس جنگ میں کس طرف کھڑے ہیں خالی بیانوں سے کام نہیں چلتا میں آج یہاں سے کہہ رہا ہوں کہ حکومت جوائنٹ سیشن بلائے جس کا ہم نے مطالبہ کیا ہے اس جوائنٹ سیشن میں قرارداد لے کر آئیں مذمت کریں جو اسماعیل ہنیہ صاحب کو شہید کیا گیا جو رہبرِ معظم تھے جن کا ہمارے دلوں میں ان کے لیے بہت احترام ہے مذمت کریں ان 136 بچوں کی جن کو امریکیوں نے مارا ہے اسرائیلیوں نے صیہونیوں نے مارا ہے 170 سے اوپر ہیں پہلے جب وہ تو 136 رپورٹ ہوئے تھے تو ہم اس میں ساتھ دیں گے آپ تگڑے ہو جائیں۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

24,169 Aufrufe • vor 5 Monaten

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

36,335 Aufrufe • vor 1 Monat

کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔

Asad Qaiser

48,217 Aufrufe • vor 2 Monaten