Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

آج تاریخ کا بدترین اور جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن تھا۔ کراچی کا مینیڈیٹ چوری کیا گیا، ہم اس جعلی اور قبضہ مینڈیٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ الیکٹورل کالج کے 10 فیصد ممبران موجود نہیں تھے۔ کوئی بتا نہیں رہا تھا کہ کس نے انھیں قبضہ میں لے...

17,934 просмотров • 3 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 9

Фото профиля Zainub Jalal
Zainub Jalal3 лет назад

جماعت اسلامی نے ہمیشہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کی ہے جس مسلے کےحل کی طرف پیشقدمی کی رب العزت نے انکی مدد فرمائ ان شااللہ کراچی کے ساتھ پورے سندہ کو غاصبوں سے نجات کا سہرا بھی جماعت اسلامی کو ہی سجے گا

Фото профиля Moحsiن miنhaل
Moحsiن miنhaل3 лет назад

ملک گیر دھرنے کی کال دینی چاہیے پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے دونوں جماعتوں کو مل کے دھرنے کی کال دینی چاہیے #HafizNaeem #HafizNaeem4MayorKarachi #MayorKarachiBilawalKa #MayorKarachiPPPKa #MayorKarachi #سلیکٹڈمیئر_جعلی_مینڈیٹ_نامنظور

Фото профиля M Rahim
M Rahim3 лет назад

Hafiz naeem is using right wording why not @jip kindly use mustarad kerthey hain instead of muzamamat and muzahmat karen gay indtead of ihtijaj karen gay

Фото профиля zubair khan
zubair khan3 лет назад

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان میں بھی جماعت پت حسینہ واجد مسلط کرے

Фото профиля Ahtesham Ghumman
Ahtesham Ghumman3 лет назад

کہتے ہیں جمہوریت جس جمہوریت کی بات کرتے اسی کو اگر ملک چلنے دیا جاۓ پھر بھی کچھ تبدیلی ممکن ہے لیکن جمہوریت تو ہے ہی نہیں بدمعاشی ہے۔

Фото профиля MizajPursi مزاج پُرسی
MizajPursi مزاج پُرسی3 лет назад

جو اراکین میئر کے الیکشن میں شامل نہیں ہوئے ، ان کی لسٹ پبلش ہونی چاہئیے ، ایسے اراکین کا عوام آئندہ بائیکاٹ کرے اور انہیں انتخابات کیلئے نااہل قرار دیا جانا چاہئیے۔

Фото профиля aziz ansari
aziz ansari3 лет назад

اس غیر مقامی چندہ خور قبضہ مافےا تعصب پرست کو شہر کے میئر ہونے کوئی اخلاقی حق نہیں بنتا۔۔ قبضہ مافیا کا یہ البدری اور الشمسی غنڈہ صرف المنصورہ اور ادآرہ نورحق کا پیٹ بھرنے کے لیئے آیا تھا۔ جسے کراچی کی شہریوں مے ناکام بنا دیا۔۔ آور ذلت آسکا مقدر بنی۔۔

Фото профиля Rida
Rida3 лет назад

#سلیکٹڈمیئر_جعلی_جمہوریت_نامنظور

Фото профиля سمیع خان
سمیع خان3 лет назад

نو مئی کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ اتحاد کرکے منافقین کا ٹولہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ ٹیڑھی ٹوپی والے منافق اعظم کو چاہئیے کہ جماعت کے نام سے اسلامی ہٹادے، پھر کھل کر منافقت کرے۔

Похожие видео

7 ستمبر 1974 تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا،پتہ نہیں پاکستان کے کچھ دانشوروں کو قادیانیوں کے حقوق یاد آجاتے ہیں، ہم سے زیادہ انسانی حقوق کوئی نہیں جانتا ہم انسان حقوق کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر صوفی محمد شریعت کی بات کرتا ہے اور آئین کا انکار کرتا ہے عدلیہ کا انکار کرتا ہے اور اس کے باوجود اس کو غدار قرار دیا جاتا ہے تو پھر قادیانی اگر آئین کا انکار کرتے ہیں عدالتوں کا انکار کرتے ہیں فیصلوں کا انکار کرتے ہیں تو انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے نہیں سوچا جائے گا ملک اور آئین سے وفاداری کے ترازو میں تولا جائے گا اور کسی طریقے سے بھی ان کو ایسی مراعات دینے کا حق نہیں دیا جائے گا کہ جس سے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر سکیں 7 ستمبر 2024 کو اس تاریخ ساز فیصلے کو 50 سال پورے ہورہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام نے اس موقع پرمینار پاکستان لاہور پر یوم الفتح کے نام سے گولڈن جوبلی منانے کا اعلان کیا ہے، جس میں پوری قوم اور تمام مذہبی تنظیموں کو متحد کر کے ایک تاریخ ساز اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

17,378 просмотров • 2 лет назад

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔

Sammi Deen Baloch

54,869 просмотров • 6 месяцев назад

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,935 просмотров • 1 месяц назад

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,212 просмотров • 1 месяц назад

ہندوستان کے اتنے بڑے دفاعی سسٹم کو چار گھنٹوں میں تباہ کردیا گیا لیکن ملک میں موجود مسلح گروہوں کو پچھلے چالیس سال سے ختم نہیں کیا جاسکا،اس وقت پورا ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے،پاکستان میں اگر کہیں کوئی رٹ ہے تو وہ مسلح لوگوں کی ہے تو پھر ہماری مسلح قوتیں کیا کر رہی ہے؟ اگر ان سے بات کی جائے تو کہتے ہیں ہم قربانیاں دے رہے ہیں آپ ہماری قربانیوں کو نہیں مانتے، جب آپ واقعی قربانی دیں گے تو ہم ایسے تسلیم کریں گے جیسے انڈیا کے مقابلے میں آپ نے چار گھنٹے قربانی دی اور ہم نے اس کو تسلیم کر لیا۔ اگر آپ عوام کے ووٹ چوری کرکے اقلیت کو اکثریت اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کریں گے اور عوام کو اس بات کا ادراک ہے کہ یہ الیکشن ہماری رائے کی مطابق نہیں، تو پھر جیسے فوج کو مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے تو عوام کو بھی اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل ہے،ہمیں عوام کے ساتھ اسلام آباد آنے پر مجبور نا کیا جائے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

43,276 просмотров • 1 год назад

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 просмотров • 1 год назад

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بلاشبہ تاریخی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دن منفی معنوں میں تاریخ کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کچھ دن فخر اور کامیابی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کر کے قوم کو افسوس ہوتا ہے۔ “آج کا دن بھی ان ہی دکھ اور تکلیف والے دنوں میں شمار ہوگا۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں صرف پچیس ترامیم ہوئیں، لیکن پاکستان میں محض تیرہ مہینے کے دوران دوسری آئینی ترمیم پیش کی جا رہی ہے۔ “چھبیسویں ترمیم طویل سیاسی گفت و شنید، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد منظور کی گئی تھی۔ اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام سب شریک تھے۔ مگر آج ہم صرف تیرہ مہینے بعد اسی ترمیم کو ریورس کرنے جا رہے ہیں، جو افسوسناک اور تشویشناک ہے۔” انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم جمہوری ڈائیلاگ کا نتیجہ تھی، مگر ستائیسویں ترمیم اکثریت کے زور پر لائی جا رہی ہے۔ “یہ طرزِ عمل سیاسی شرافت کے منافی ہے۔ جب ہم نے چھ ہفتوں کی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے سے ترمیم منظور کی، تو یقین تھا کہ یہ پائیدار پیش رفت ہے۔ لیکن آج ایک گھنٹے کی کارروائی میں وہ تمام محنت اور اعتماد ختم کر دیا گیا۔” انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اب اس سیاسی دھوکے کے بعد اپنے لائحہ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔ “ہم پر جو وعدہ خلافی کی گئی ہے، اس کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا ہم اب بھی چھبیسویں ترمیم کو اون کر سکتے ہیں یا نہیں۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئین کو شخصیات کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج دستور کو شخصیات کے تابع کیا جا رہا ہے۔ “یہ دن تاریخ میں ہمیشہ منفی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ آج جمہوری اقدار، آئینی شرافت اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔” آخر میں انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل کے بعد 1973ء کے آئین کا جو کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل تھا، وہ بھی اب برقرار نہیں رہا۔ “آج کا یہ دن سیاسی و آئینی لحاظ سے قوم کے لیے دکھ بھرا دن ہے۔”

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,588 просмотров • 9 месяцев назад

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 просмотров • 7 месяцев назад