Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج دنیا میں جو معرکہ برپا ہے، وہ صرف زمینوں کا، وسائل کا یا سیاست کا معرکہ نہیں، بلکہ یہ حق و باطل کے دو نظاموں کا ٹکراؤ ہے۔ مغرب اور استعماری طاقتیں اُس نظام سے خوفزدہ ہیں جو ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے، جو مظلوم کی حمایت...

41,517 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

8 Yorum

raja naveed profil fotoğrafı
raja naveed1 yıl önce

ان شاء اللہ اللہ پاک اپنا کرم فرمائے گا اور ایران کامیاب ہو گا ان شاء اللہ

Digital Youth 🍉 profil fotoğrafı
Digital Youth 🍉1 yıl önce

ساری امت کو یہودیوں کے خلاف ایک ہونا ہوگا۔

Mudasar Baig profil fotoğrafı
Mudasar Baig1 yıl önce

Tribute to iran 🇮🇷 Brothers and Sisters

Mangol profil fotoğrafı
Mangol1 yıl önce

راجہ صاحب ایران پر اسرائیل امریکہ حملے کے خلاف سب جماعتیں ملکر احتجاج کی ملک گیر کال دیں اور حکومت کو مجبور کریں کہ کھل کر جنگ روکنے کیلئے اسرائیل امریکہ و ہنود کو دلیری سے دھمکی لگائیں۔ ٹیپو سلطان شہید کے قول کو یاد رکھیں گیدڑ کی 100 سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے

🌹راجہ AQG🌹 profil fotoğrafı
🌹راجہ AQG🌹1 yıl önce

کھٹمل کی بونگیاں

عوام ریاست ہے🇵🇰 profil fotoğrafı
عوام ریاست ہے🇵🇰1 yıl önce

حق بات۔

kasha f And profil fotoğrafı
kasha f And1 yıl önce

ماشااللہ

Rubina Afzal profil fotoğrafı
Rubina Afzal1 yıl önce

اللہ پاک اس امت مسلمہ کو متحد کر دیں

Benzer Videolar

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس پاک فوج پر الزام لگایا ہے جو پاسبانِ حرم ہے،جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی عزت و غیرت کی محافظ ہے۔یہ وہ فوج ہے جس نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا،اور ان کو دھول چٹا دی، اور دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔یہ وہ فوج ہے جس کے سینوں میں کلمہ طیبہ کی حرارت ہے، جو پانچ وقت اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتی ہے،اور جس کا مقصد اسلام کی سربلندی اور وطنِ عزیز کا دفاع ہے۔مساجد کی حفاظت کے لیے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔سوات، لوئر دیر، بونیر، باجوڑ، مہمند، اورکزئی، وزیرستان، خیبر اور کرم میں جو امن قائم ہے،وہ کسی سیاسی نعرے کا ثمر نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل ہوا ہے۔یہ وہی بہادر بیٹے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں اپنی جانیں قربان کر کے پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا۔ایسی مجاہد فوج پر الزام لگانا نہ صرف قوم کی توہین بلکہ شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

47,667 görüntüleme • 10 ay önce

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,636 görüntüleme • 3 yıl önce

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,359 görüntüleme • 2 ay önce

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 görüntüleme • 3 ay önce

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 görüntüleme • 2 yıl önce

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,437 görüntüleme • 5 ay önce

آج ایک بار پھر سرزمین فلسطین پر صہیونی قوتوں نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، پانچ ہزار کے قریب چھوٹے بچے، ہماری مائیں اور بہنیں شہید ہوئی ہیں، ملبوں کے نیچے اب بھی دبی ہوئی ہیں، وہی ملبے ہی ان کی قبرستان بنے ہوئے ہیں، یہ بزدل کا کام ہوا کرتا ہے جو چھوٹے بچوں ،عورتوں، پرامن شہریوں پر بمباری کرتا ہے۔ جرات ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے،لوگ بڑے بڑے فلسفوں میں جاڑ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جدلیات لڑا رہے ہیں، ہم تو صاف بات کرتے ہیں، المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نہ خود اس کے اوپر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کے ظلم کے لیے اس کو سپرد کرتا ہے۔ اہل فلسطین ہمارے بھائی ہیں اور آج پوری امت مسلمہ پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، جانی مالی قربانی ہو ،اخلاقی ،سیاسی حمایت ہو اور آج خدا خدا کر کے اسلامی تنظیم کانفرنس کا سربراہی اجلاس بھی ہو رہا ہے، میں آپ کی اجازت سے انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آج امت مسلمہ اکٹھی ہے خیال رکھو کمزور موقف مت دکھانا! اگر امریکہ اور مغربی دنیا اپنے بحری بیڑے لا کر صہیونی قوتوں کی حمایت کر سکتا ہے، ان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کے لیے آسکتا ہے تو پھر مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں صرف رونے کے لیے ہے اور میدان میں نکلنے کے لیے نہیں ہیں۔ اگر افغانستان کے محاذ پر ہمارے بھائیوں پر تکلیف آئی ہم شانہ بشانہ کھڑے رہے، آج اگر فلسطین کے مسلمانوں پر ایک مشکل گھڑی آئی ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں ۔ جمعیت علماء اسلام نے پشاور ، کوئٹہ ،کراچی میں جلسہ کیا۔آج آپ کے اس اجتماع سے بھی جو تائید مل رہی ہے، میں اسے معمولی تائید نہیں سمجھتا۔ مسلمان امت کیا چاہتی ہے؟ اسلامی قیادت نے مسلمانوں کے جذبات کو دیکھنا ہے۔ خود امریکہ میں وہاں کے عوام نے اس ظلم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں، برطانیہ،فرانس میں مظاہرے ہوئے ہیں اور اپنی حکومتوں پہ تنقید کی ہے جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ دنیا کے عوام کی رائے کے مطابق نہیں ہو رہا۔ ہم اسلامی تنظیم کانفرنس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ جرات مندانہ موقف لے اور براہ راست اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کریں۔ میں نے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔ وطن عزیز اور اس پر بسنے والے پاکستانیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے میں فلسطین کے حماس قیادت کو ملنے ے گیا اور میں نے ان کی قیادت کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے بھی بڑے وضاحت کے ساتھ کہا کہ پوری دنیا میں ہماری سب سے بڑی امید پاکستان ہے، کہ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو جرات مندانہ موقف دیا ہے ہم دل و جان سے اس کی قدر کرتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے بچوں کے اوپر بمباری کا سلسلہ بند کر دیا جائے، یہ جنگ کا حصہ نہیں ہوا کرتے، یہ اسلام ، شریعت اسلامیہ کا اخلاق ہے کہ جنگ میں بچوں کا قتل ،عورتوں ،بوڑھوں پہ ہاتھ اٹھانا جرم ہے، یہاں تک کہ ان کی کلیساؤں میں اور عبادت خانوں میں بیٹھے ہوئے عبادت میں مصروف راہبوں کو بھی مت چھیڑنا، ان کے مال مویشی کو بھی نہیں چھیڑنا، ان کے باغات کو تباہ نہیں کرنا، ان کے فصلوں کو تباہ نہیں کرنا، یہ جنگ کے وہ عظیم الشان اصول ہیں جو دین اسلام نے دئے ہیں۔ جس طرح صہیونی قوم کہتی ہے کہ ہمارے لیے بچوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، عورتوں کو بھی قتل کرنا جائز ہے، انسانیت کا قتل، میں سوچتا ہوں کہاں ہے وہ انسانی حقوق کی تنظیمیں، آج اگر ہم یہاں پر جلسے میں ایک سخت لفظ کہہ دے پوری دنیا کی مغربی دنیا ان کے این جی اوز ان کے انسانی حقوق کی تنظیمیں وہ ہمارے پیچھے پڑ جاتی ہے یہ بڑے شدت پسند ہیں۔آتنگ واد ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

78,014 görüntüleme • 2 yıl önce

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,029 görüntüleme • 5 ay önce

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 görüntüleme • 1 yıl önce

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 görüntüleme • 5 ay önce

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,329 görüntüleme • 12 gün önce