Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آج لاہور ہائیکورٹ میں علیہا نورالامین مینگل بنام نورالامین مینگل کیس میں ہائپر آٹسٹک بچوں اور بچیوں کا نان و نفقہ مقرر کرنے کی رٹ درخواست پر حتمی بحث ہوگئی ہے، مسٹر جسٹس عابد حسین چٹھہ صاحب نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔۔ امید ہے...

46,346 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

سپریم کورٹ میں عمران خان صاحب کے قانونی حقوق کی بحالی اور 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے لیے ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے توہینِ عدالت کی دوسری درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ گزشتہ منگل کو بھی عمران خان سے فیملی کی ملاقات نہیں کروائی گئی جبکہ انہیں بچوں سے فون پر بات کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، حالانکہ سپریم کورٹ اپنے 18 اگست کے حکم میں اہلِ خانہ سے ملاقات اور بچوں سے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایات دے چکی ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی گزشتہ روز عمران خان صاحب کی قیدِ تنہائی ختم کرنے، فیملی سے ملاقات کروانے اور بچوں سے بات کروانے کا حکم جاری کیا ہے، جس کی عدالتی حکم کی مصدقہ کاپی آج موصول ہونے کا امکان ہے۔ چنانچہ دونوں عدالتوں کے واضح احکامات پر عملدرآمد اور عمران خان صاحب کے قانونی و آئینی حقوق کی بحالی کے لیے مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ درخواست کو دائری نمبر Diary No. 18350/2026الاٹ کر دیا گیا ہے جبکہ باقاعدہ Criminal Orginal No_______/2026 الاٹ ہونا باقی ہے جس کے بعد سماعت کے لئے مقرر ہو گی۔

Khalid Yousaf Chaudry

10,516 views • 21 days ago

چھبیس نومبر کو خان صاحب کے سپورٹرز، پی ٹی آئی ورکرز اور نہتے عوام پر گولی چلی۔ لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی۔ اس قتل عام کے خلاف قانونی راستہ اپناتے ہوئے عمران خان صاحب کے مشورے اور ہدایات کے مطابق سیشن جج کے سامنے درخواست دائر کی، جس میں لطیف کھوسہ صاحب وکیل تھے۔ اس کی کل 14 سماعتیں ہوئیں اور تین مرتبہ جج تبدیل ہوئے۔ 17 جولائی کو افضل مجوکہ صاحب کے سامنے کیس پیش ہوا تو میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ لطیف کھوسہ صاحب سپریم کورٹ میں پیشی کی وجہ سے General Adjournment ہے، اس لیے کیس ان کی واپسی تک موخر کیا جائے۔ جج صاحب نے 22 جولائی کی تاریخ دی۔ آج چیف جسٹس کے دورے کی وجہ سے باقی کیسز کی سماعت نہیں ہوئی، لیکن ہمارے کیس کو ہمیں سنے بغیر خارج کر دیا گیا۔ یہ انصاف کا قتل ہے۔ کوئی کرمنل کیس درخواست گزار کو سنے بغیر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ اس کیس کی چودہ سماعتوں میں میں ہر سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہوا، کھوسہ صاحب بھی پیش ہوتے رہے۔ اس درخواست کا خارج ہونا آئین کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بیرسٹر گوہر خان

PTI

86,954 views • 2 months ago

میری تمام پاکستانی بہنوں اور بھائیوں سے عاجزانہ درخواست ہے: یہ ہمارے ساہیوال کا واقعہ ہے ایسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں اللہ کا واسطہ ہے اپنے بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کبھی غفلت نہ کریں۔ بچوں کو اسکول، مسجد یا مدرسے بھیج کر یہ سمجھ لینا کہ اب وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں، درست نہیں۔ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، ان سے روزانہ بات کریں اور اگر کوئی بات انہیں پریشان کرے تو اسے سنجیدگی سے سنیں۔ مسجد اور قرآنِ مجید ہمارے لیے انتہائی مقدس ہیں، لیکن افسوس کہ ایک شخص نے اپنے منصب اور اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ایسے واقعات پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ اطلاع کے مطابق امام مسجد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اب ضروری ہے کہ قانون کے مطابق مکمل تحقیقات ہوں اور اگر الزام ثابت ہو تو سخت کارروائی کی جائے، تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور آئندہ کسی کو ایسے اعتماد کا غلط فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ بچوں کی حفاظت صرف اداروں کی نہیں، ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Nazia Chaudhary🇵🇰

649,773 views • 1 month ago

مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد راولپنڈی کمشنر لیاقت چٹھہ کے انکشافات کو مزید تقویت ملی ہے، جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان 8 فروری کے انتخابات میں سنگین دھاندلی میں براہ راست ملوث تھا۔ یاد دہانی کے لیے: فروری 2024 میں کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ جیتنے والے امیدواروں کے نتائج تبدیل کئے اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی 13 اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں کے نتائج تبدیل کئے یہاں تک کہ وہ امیدوار جو 70,000 ووٹوں سے آگے تھے ان کو ہرا دیا گیا۔ چٹھہ کے مطابق، ان پر اتنا "دباؤ" ڈالا گیا کہ انہوں نے خودکشی کرنے کا بھی سوچا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان پر انتخابی دھاندلی میں براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا! اس دن سے کمشنر چھٹہ لاپتہ ہیں اور دھاندلی کی درخواست آج بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے! #Article6onECP #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ

PTI

87,206 views • 2 years ago

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے قائم زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کا دورہ! وزیرِ اعلیٰ نے زیرِ کفالت بچوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلی نے بچوں سے تعلیم سے متعلق سوالات کیے اور اچھی کارکردگی پر شاباشی دی. وزیراعلی نے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کیے تاکہ تعلیمی ماحول مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بچوں کے لیے ایک مؤثر کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیرِ تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ زمونگ کور کے اکاؤنٹس سسٹم کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے، جبکہ کالجز اور اسپورٹس اکیڈمیز جانے والے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کا جائزہ لیا اور زمونگ کور کے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا۔ گزشتہ دورے کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمونگ کور انسٹیٹیوٹس عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم کیے گئے ہیں اور انہیں اسی اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زمونگ کور کے تمام معاملات کی وہ بذاتِ خود نگرانی کریں گے۔ #CMKPSohailAfridi

PTI

17,150 views • 8 months ago

شاید فیصلہ یہ ہوا ہے کہ عمران خان کو فی الحال وہ کوئی مراعات نہیں ملنی چاہئیں جو سپریم کورٹ کے اس معاملہ پر فیصلے میں سپریم احکامات میں جاری ہوئی تھیں مگر اس سے پہلے کہ ان پر عمل پتا خان صاحب کو دوبارہ اڈیالہ جیل کی قید تنہائی میں دھکیل دیا گیا تھا آج عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کا معاملہ شدید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوگیا اور یہ کیس آج اچانک سپریم کورٹ سے نکل کر وفاقی آئینی عدالت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے اور یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت صرف ایک دن بعد، 16 ستمبر کو طے تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں توہینِ عدالت کی درخواست اور حکومت کی نظرثانی اپیل بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ جیل رولز کے تحت قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے تو عمران خان کے لیے نجی اسپتال کا حکم کیوں دیا گیا؟اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں طے شدہ سماعت ہوگی بھی یا نہیں؟آئینی و قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم سے اس اہم عدالتی موڑ کی مکمل تشریح سننے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورا پروگرام دیکھیں۔

Kamran Khan

91,478 views • 7 days ago

سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست کو لگانے کے لیے تمام پارلیمنٹرینز اور وکلا ہم سب جائیں گے۔ اور یہ کیس اسی بینچ کے پاس جائے گا کیونکہ آخری آرڈر کے اندر لکھا ہوا ہے کہ This matter shall be treated as part-heard. تو یہ کیس ابھی التوا ہے،یہ کیس ڈسپوز آف نہیں ہوا، نیا بینچ نہیں بن سکتا. ایران اور امریکہ کے مذاکرات کے درمیان جب ریڈ زون سیل کیا گیا تھا تو اس وقت ویڈیو لنک کے ذریعے تمام سماعتیں کی گئی تھیں،تو عمران خان کی صحت کا معاملہ ہے، چیف جسٹس صاحب اختیار استعمال کرتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کو ارینج کرائیں۔ دو ججز اسلام آباد کے اندر ہیں، ایک جج جسٹس شاہد وحید لاہور ہیں تو وہ لاہور سے ویڈیو لنک کے اوپر سماعت کا حصہ بن جائیں تاکہ کہ انصاف فراہم ہو سکے۔ اور توہین عدالت کی کارروائی کر کے عدالتی حکم کی توہین کرنے والوں کو سزا دی جائے اور عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اندر شفٹ کر کے میڈیکل بورڈ بنا کے ان کا پراپر ٹریٹمنٹ اور ایگزامینیشن کیا جائے اور تمام رپورٹس عدالت اور فیملی کو جمع کروائی جائیں تاکہ ان کا علاج مکمل ہو سکے اور فیملی سمیت پوری قوم کو اطمینان ہو سکے .نعیم حیدر پنجوتھہ .

Naeem Haider Panjutha

50,571 views • 1 month ago

یہ مزدور پیشہ لوگ ہیں ان کے بچوں کو معمولی موسمی بخار نزلہ زکام کیلئے ولیکا اسپتال لایا گیا ۔ وہاں عملے نے ایک ہی سرنج درجنوں بچوں کو لگائی ۔ جس سے ان کو ایچ آئی وی ایڈز ہوگیا ۔ اب بچوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے اور ان کے والدین کا ایچ آئی وی منفی آچکا ہے ۔ اہلِ علاقہ اور والدین کے مطابق ہسپتال میں ڈسپوزایبل سرنجز اور دیگر سامان کی قلت کی وجہ سے ایک ہی سرنج ایک سے زیادہ بچوں پر استعمال کی جا رہی تھی۔ انکوائری میں بھی انفیکشن کنٹرول کے طریقہ کار میں سنگین کوتاہیاں، حفاظتی سامان کی کمی اور سنگل یوز اشیاء کے غلط استعمال کے شواہد ملے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسکریننگ کے بعد تقریباً 120 افراد (زیادہ تر بچے) ایچ آئی وی مثبت پائے گئے۔ کچھ رپورٹس میں اموات کی تعداد 6 سے 9 تک بتائی گئی۔حکومت نے آرٹ (اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی) سینٹر قائم کیے، وسیع اسکریننگ کی، 37 ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کی اور متاثرہ بچوں کے علاج و بحالی کے لیے فنڈ مختص کیا۔ تاہم متاثرہ خاندانوں کو صرف طبی مسائل نہیں بلکہ سماجی بدنامی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کئی بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا اور کرایہ دار والدین کو گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ لوگ بیماری کے خوف سے ان سے دور بھاگنے لگے۔ مئی 2026 میں ایک وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں آزادانہ انکوائری، مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ بچوں کے لیے تاحیات علاج و معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ 11 اگست 2026 کو سماعت کے دوران متاثرہ والدین نے عدالت میں شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ججز چیمبر میں چلے گئے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ یہ واقعہ پاکستان میں طبی غفلت اور انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کی ایک اور مثال بن گیا ہے، جہاں غریب خاندانوں کے بچے علاج کے نام پر خطرناک بیماری کا شکار ہو گئے۔

Tanveer Awan

67,092 views • 1 month ago

علماء حضرات کی کم علمی کی بنیاد پر اشتعال انگیزی اور امن و امان کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی اس سے بہترین مثال نہیں ہو سکتی۔ یہ کم علمی کی بنیاد پر دنیا کو تنقید کا موقع دیتے ہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے انتہائی ایماندار، قابل، دلیر اور خوش اسلوب جج مسٹر جسٹس مرزا وقاص رئوف صاحب کیخلاف چند علماء کی طرف سے کمی علمی کی بنیاد اشتعال انگیز مہم کے اصل حقائق یہ ہیں 👇👇👇 ۔۔۔۔۔۔۔ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کیس رٹ پٹیشن نمبر 167/2024، سید آصف حسین شاہ بنام فیڈریشن آف پاکستان و دیگر یہ واضح ہے کہ کیس کی بحث کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے ایک کیس بعنوان محترمہ بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام قریشی (PLD 1959 WP 566) کا حوالہ دیا گیا۔ قطع نظر اس کے کہ یہ فیصلہ قادیانی کو کافر قرار دینے کی آئینی ترمیم دینے سے پہلا کا ہے لیکن چونکہ بطور حوالہ یہ کیس آج کے نئے کیس میں پیش کیا گیا تھا اس لئے جسٹس وقاص رئوف مرزا صاحب پر قانونی طور پر اسکو زیر بحث لانا لازمی تھا، اس لئے معزز جج صاحب نے حالیہ فیصلہ کے صفحہ نمبر 9 سے صفحہ نمبر 32 تک اس فیصلے کو محض نقل کیا ہے تاکہ تمام فرقوں اور اقلیتوں میں خلع کے Concept کی وضاحت ہو۔ حالیہ فیصلہ کے صفحہ نمبر 16 پر جس پیراگراف نمبر 14 کا حوالہ دیا گیا ہے وہ 1959 کے فیصلہ کا پیراگراف نمبر 14 ہے جو کے اس فیصلہ میں نقل کیا گیا ہے۔ جس پیراگراف کا سکرین شارٹ لگا کر جج صاحب کیخلاف مہم چلائی جا رہی ہے، وہ پیراگراف اور حوالہ 65 برس پرانا کیس ہے جسے صرف نقل کیا گیا ہے یعنی Reproduce کیا گیا ہے صرف اور صرف خلع کے concept کو سمجھانے کیلئے۔۔ 65 سال پرانے فیصلے کو قطعی طور آج کا فیصلہ قرار نہیں دیا گیا۔۔۔ حالیہ فیصلہ کا پیراگراف نمبر 14 صفحہ نمبر 32 پر ہے۔ مزید براں 1959 کا مذکورہ فیصلہ احمدیوں (قادیانیوں) کو غیر مسلم قرار دیئے جانے سے پہلے کا ہے، اس لئے مذکورہ فیصلہ کو فاضل جج صاحب کے ساتھ جوڑنا یا ادارہ جاتی نظریہ کے طور پر پیش کیا جانا درست نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر ہونے والے پراپیگنڈا کی مکمل طور پر نفی کرتا ہے۔ علماء حضرات کو چاہیئے کہ وہ عدالتی فیصلوں پر کسی طرح کی رائے زنی کرنے سے پہلے کم از کم اپنے اپنے مسالک کے وکلاء حضرات سے مشاورت لازمی کیا کریں تاکہ انکی جگ ہنسائی نہ ہو اور کسی کو بھی علما پر تنقید کرنے کا موقع نہ ملے۔ قادیانی کافر تھے، کافر ہیں اور کافر ہی رہیں گے۔ جب تک ہم مسلمان زندہ ہیں تب تک کوئی انکے لئے گنجائش نہیں نکال سکتا چاہے کوئی جج ہی کیوں نہ ہو لیکن کم علمی کی بنیاد پر اشتعال انگیزی پھیلانا قابل مذمت ہے۔ وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو بھی چاہئے کہ وہ ججز کیخلاف ایسی اشتعال انگیز ویڈیوز اور مواد پر ازخود کارروائی کیا کریں Federal Investigation Agency - FIA

Mian Dawood

32,757 views • 2 years ago

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Harmeet Singh

184,823 views • 6 months ago