Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج لاہور ہائیکورٹ میں علیہا نورالامین مینگل بنام نورالامین مینگل کیس میں ہائپر آٹسٹک بچوں اور بچیوں کا نان و نفقہ مقرر کرنے کی رٹ درخواست پر حتمی بحث ہوگئی ہے، مسٹر جسٹس عابد حسین چٹھہ صاحب نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔۔ امید ہے...

46,346 görüntüleme • 2 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

چھبیس نومبر کو خان صاحب کے سپورٹرز، پی ٹی آئی ورکرز اور نہتے عوام پر گولی چلی۔ لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی۔ اس قتل عام کے خلاف قانونی راستہ اپناتے ہوئے عمران خان صاحب کے مشورے اور ہدایات کے مطابق سیشن جج کے سامنے درخواست دائر کی، جس میں لطیف کھوسہ صاحب وکیل تھے۔ اس کی کل 14 سماعتیں ہوئیں اور تین مرتبہ جج تبدیل ہوئے۔ 17 جولائی کو افضل مجوکہ صاحب کے سامنے کیس پیش ہوا تو میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ لطیف کھوسہ صاحب سپریم کورٹ میں پیشی کی وجہ سے General Adjournment ہے، اس لیے کیس ان کی واپسی تک موخر کیا جائے۔ جج صاحب نے 22 جولائی کی تاریخ دی۔ آج چیف جسٹس کے دورے کی وجہ سے باقی کیسز کی سماعت نہیں ہوئی، لیکن ہمارے کیس کو ہمیں سنے بغیر خارج کر دیا گیا۔ یہ انصاف کا قتل ہے۔ کوئی کرمنل کیس درخواست گزار کو سنے بغیر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ اس کیس کی چودہ سماعتوں میں میں ہر سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہوا، کھوسہ صاحب بھی پیش ہوتے رہے۔ اس درخواست کا خارج ہونا آئین کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بیرسٹر گوہر خان

PTI

86,784 görüntüleme • 13 gün önce

"کیس نمبر 9 میں ایک اور گواہی " آج "کیس نمبر 9 " کے ایک سین میں جس طرح جسٹس منصور علی شاہ کا ذکر کیا گیا اور جس طرح اس پارلیمنٹ کی بدنیتی اور چھبسویں ترمیم کے پیچھے ان کے غلیظ عزائم کا ذکر کیا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے - بہت خوبصورت انداز میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے ریپ کی کیسیز میں وکٹم بلیمنگ سے متعلق فیصلوں کا بتایا گیا اور پھر کہا گیا کہ "جسٹس منصور اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر چھبسویں ترمیم کے ذریے ان کا راستہ نہ روکا جاتا " - یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی ڈرامے میں اس وقت کے سیاسی اور عدالتی حالات کی وہ حقیقت برملا بیان کی گئی ہے جو سٹیٹ میڈیا بھی کہتے ہویے جھجھکتا ہے - شکر ہے کسی نے تو ان ترمیموں پر بات کی ورنہ آج کل تو موضوع بس شاہد بھٹی اور شاہزیب خانزادہ' اور سال پرانا عدت کیس ہے جس کو خود سے زندہ کیا جارہا ہے جبکہ یہ ہے اصل موضوع جس پر ہر وقت بات اور انٹرویو ہونے چاہیے - مزے کی بات ہے کہ یہ جملے بھی شاہزیب خانزادہ نے بحثیت رائیٹر لکھے - اس کی ڈرامے والوں کو اجازت کیسے ملی یہ ایک معمہ ہے پر تاریخ میں ایک اور گواہی ضرور شامل ہوگئی ہے کہ یہ پارلیمنٹ ربڑ سٹیمپ تھی اور ایک قابل اور سینئیر ترین جج کا بدنیتی سے راستہ روکا گیا - کیا منظر ہوگا جب جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین نے اپنی فیملیز کے ساتھ یہ قسط دیکھی ہوگی - تھوڑی سی شرم تو آئ ہوگی - اس پارلیمنٹ کے سپیکر ؛ بلاول بھٹو ' نواز شریف اور شہباز شریف کے خاندانوں نے چینل تو بدلے ہونگے - کسی کینٹ میں یہ قسط دیکھ کر بچوں کے سامنے ندامت تو ہوئی ہوگی - یا شاید ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا کیوں کہ جن میں ندامت ہوتی ہے ان میں بربریت اور فسطایت نہیں ہوتی - -------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

76,480 görüntüleme • 8 ay önce

مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد راولپنڈی کمشنر لیاقت چٹھہ کے انکشافات کو مزید تقویت ملی ہے، جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان 8 فروری کے انتخابات میں سنگین دھاندلی میں براہ راست ملوث تھا۔ یاد دہانی کے لیے: فروری 2024 میں کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے اقرار کیا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ جیتنے والے امیدواروں کے نتائج تبدیل کئے اور راولپنڈی سے قومی اسمبلی کی 13 اور صوبائی اسمبلی کی تمام نشستوں کے نتائج تبدیل کئے یہاں تک کہ وہ امیدوار جو 70,000 ووٹوں سے آگے تھے ان کو ہرا دیا گیا۔ چٹھہ کے مطابق، ان پر اتنا "دباؤ" ڈالا گیا کہ انہوں نے خودکشی کرنے کا بھی سوچا۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان پر انتخابی دھاندلی میں براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا! اس دن سے کمشنر چھٹہ لاپتہ ہیں اور دھاندلی کی درخواست آج بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے! #Article6onECP #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ

PTI

87,201 görüntüleme • 1 yıl önce

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا Sohail Afridi کا یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے قائم زمونگ کور ماڈل انسٹیٹیوٹ کا دورہ! وزیرِ اعلیٰ نے زیرِ کفالت بچوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر ہی فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ وزیراعلی نے بچوں سے تعلیم سے متعلق سوالات کیے اور اچھی کارکردگی پر شاباشی دی. وزیراعلی نے کلاس رومز میں کیمروں کی تنصیب اور درکار اساتذہ کی فوری فراہمی کے احکامات جاری کیے تاکہ تعلیمی ماحول مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بچوں کے لیے ایک مؤثر کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ زمونگ کور کے نجی کالجز میں زیرِ تعلیم بچوں کی فیس حکومت ادا کرے گی۔ زمونگ کور کے اکاؤنٹس سسٹم کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے، جبکہ کالجز اور اسپورٹس اکیڈمیز جانے والے بچوں کے لیے ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، بچوں کو فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کا جائزہ لیا اور زمونگ کور کے گرلز کیمپس کا بھی دورہ کیا۔ گزشتہ دورے کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عملدرآمد کا جائزہ بھی لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال حکومت کی آئینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمونگ کور انسٹیٹیوٹس عمران خان کے احساس وژن کے تحت قائم کیے گئے ہیں اور انہیں اسی اصل روح کے مطابق چلایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زمونگ کور کے تمام معاملات کی وہ بذاتِ خود نگرانی کریں گے۔ #CMKPSohailAfridi

PTI

17,150 görüntüleme • 7 ay önce

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 görüntüleme • 6 ay önce

“ دین میں جبر نہیں “ “مذہب ہر ایک کا زاتی معملہ ہے” القُران جناب جسٹس منصور علی شاہ کی تقریر وقت کی بہت بڑی ضرورت تھی پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کولیکر ۔ اُمید ہے فوج کا ٹی ایل پی جیسی مذہبی شدت پسند تنظیم پر کریک ڈاؤن اور جسٹس صاحب کا یہ پیغام پاکستان کی تقدیر بدل دے ۔ پاکستان میں صرف تین فیصد اقلیتیں بھی محفوظ نہیں ۔ان کے شہری حقوق کا استحصال ان کی عزت اور جان و مال کی پامالی شدت پسند مذہبی تنظیموں اور توہین مذہب کے قانون میں سزائے موت اور عمر قید جیسی انتہائی سزاؤں اور اس کے غلط استعمال کی وجہ سے پاکستان پوری دُنیا میں اپنی ساکھ کھو رہا ہے ۔ یقیناً ریاست کو اس بات کا احساس ہو رہا ہے ۔ان فیصلوں سے حالات میں تبدیلی آئے گی اور قانون نظر ثانی کرے گا توہین مذہب اور سنگین سزاؤں پر اور چھوٹی عمر کے نوجوانوں کو موت کی سزا اور جیلوں میں عمر قید دینے کے بجائے اُنہیں معاشرے کا صحت بند انسان بنے کا موقعہ دےگا جہنیں عبدل رحیم راؤ جیسے شکار کرتے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ پاکستان میں بے انتہا توہین ہو رہی ہے جس کا سلسلہ اس شخص نے 2020 سے شروع کر رکھا ہے “ لیگل کمیشن آن بلاسفیمی “ کے نام پر جس میں اکثریت مسلمان بچوں کی ہے جنہیں توہین میں پھنسایا گیا ۔یہ بھی راؤ کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو سکے کہ مذہبی گھرانوں کے بچوں کی بہت بڑی تعداد توہین میں ملوث ہے جس کی وجہ معاشرے میں لبرل اور سیکیولرز سوچ کا بڑھنا ہے اور اس طرح اپنی دین فروش کا دھندہ جاری رکھ سکے 🙏

Sonia Khan khattak(SK)

12,578 görüntüleme • 2 yıl önce

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Harmeet Singh

184,704 görüntüleme • 5 ay önce

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 görüntüleme • 7 ay önce

سلمان اکرم راجہ کا عمران خان سے ملاقات کرائے بغیر اُنکے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں حتمی دلائل طلب کرنے پر سخت ردعمل عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں اسلام اباد ہائیکورٹ (جسٹس ارباب محمد طاہر) نے میری بطور وکیل عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا، میری ملاقات نہیں کرائی گئی، میں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہو رہی، کوئی وکیل کیسے اپنے موکل سے ہدایات لیے بغیر جواب داخل کر سکتا ہے؟ کل کیس لگا تو جج صاحب نے توہینِ عدالت کو چھوڑ کر کہا کہ عمران خان سے ہدایات نہیں لے سکے پھر بھی کیس میں دلائل دیں، یہ صرف پاکستان نہیں، پوری دنیا کی عدالتی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت یہ کہے کہ ایک شخص ایک مقدمے میں فریق ہے اور جو حکومت کے کنٹرول اور تحویل میں ہے جس سے ملاقات کرانا بالکل حکومت کا جیل انتظامیہ کا اختیار ہے اُس سے ہدایات لیے بغیر ہی کیس چلایا جائے، دس ہزار سال پیچھے چلے جائیں تب بھی ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ ایک شخص جو کال کوٹھڑی میں پڑا ہے اُس کیلئے ایک وکیل مقرر کر کے کہا جائے کہ اس سے ہدایات نہیں لے سکتے لیکن اس کے خلاف مقدمہ میں جواب اور دلائل دو، سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

15,083 görüntüleme • 5 ay önce

پوری قوم پیر کے روز سپریم کورٹ کے باہر پرامن احتجاج میں شرکت کے لئے پہنچیں، صبح نو بجے تمام قافلے پہنچ جائیں تاکہ قومی یکجہتی قائم کی جائے،تین رکنی بینچ اور ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک مجرم کو تحفظ دیا ہے۔ہم نے اپنے اداروں کا تحفظ کرنا ہے اور ججز کے بگاڑ کو سیدھا کرنا ہے۔ ججز پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں۔ججز آج آئین، قانون اور عدالتی روایات کو پامال کر رہے ہیں۔یکطرفہ طور پر ایک مجرم کو تحفظ دیا جارہا ہے، اور اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ مجرم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ وہ آئندہ بھی جرائم کرے اور معیشت کو تباہ کرے۔ایک مجرم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ وہ آئندہ بھی ملک کو اتنا کمزور کرے کہ ملک پارہ پارہ ہو جائے۔ ہم پہلے بھی میدان میں رہے ہیں، آج ایک بار میدان میں آنے کی ضرورت پڑی ہے۔ہم عوام اور کارکنوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ پیر کی صبح شاہراہ دستور پہنچیں ۔انصار الاسلام کے سالار اور رضاکار نظم کو برقرار رکھنے کے لئے پہنچیں۔ وکلاء برادری سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ قانون کو تحفظ دینے کے لئے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ آئین کی بالادستی کی جنگ لڑنی ہے، وکلاء نے ہمیشہ اس مقصد کے لئے قربانیاں دی ہیں۔آج ایک بار پھر ضرورت پڑی ہے کہ وکلاء بھی میدان میں آئیں۔ ہر سیاسی جماعت کے کارکنوں کو اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس احتجاج کو قومی احتجاج بنائیں۔اداروں کی اس طرح کی بے راہ روی، جانبداری اور اپنے اختیارات سے تجاوز پر قوم احتجاج کرتی ہے۔ شاہراہ دستور پر اکٹھے ہوکر مضبوط پیغام دیں گے کہ عدالت اپنے اس رویے سے باز آجائیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

903,281 görüntüleme • 3 yıl önce

میں، بطور ممبر لیگل ٹیم سابق وزیراعظم عمران خان ، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عمران خان صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد آئینی و قانونی درخواستیں دائر کرنی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچا تاکہ عمران خان صاحب کے قانونی دستاویزات ، وکالت نامہ اور پاور آف اٹارنی پر دستخط حاصل کیے جا سکیں، جو کسی بھی پٹیشن کے دائر کرنے کے لیے ناگزیر قانونی تقاضا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی درخواست اپیل برائے سماعت مقرر نہیں کی جاتی۔ مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے ان قانونی دستاویزات پر عمران خان صاحب سے دستخط کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے نہ صرف قانونی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے بلکہ عمران خان صاحب کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف (Access to Justice) کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ تشویش ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کے خلاف ہمیں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بھی ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے سے روکا جا رہا ہے تا کہ نہ کیس کی سماعت ہو گی اور نہ عمران خان صاحب کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سامنے آئے گی۔ یہ طرزِ عمل دانستہ طور پر پٹیشنز کو مؤخر اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں زائد المیعاد (time-barred) قرار دے کر سماعت سے ہی محروم کر دیا جائے۔ کل جیل حکام نے پہلے نام نوٹ کر کے انتظار کروایا اور بعد ازاں وقت گزارنے کے بعد صاف انکار کر دیا، جو بدنیتی پر مبنی تاخیری حربہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کے مقدمات کو میرٹ پر اپیلٹ فورم پر سنا گیا، جیسے کہ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کیس، ان میں عدالتی نا انصافی عیاں ہوئی اور سزائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نئی پٹیشنز دائر ہی نہ ہونے دی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں میڈیکل بنیادوں پر بھی رجوع کرنا تھا، تاہم اس ضمن میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بحیثیت وکیل، میں عمران خان صاحب کے تمام قانونی امور کی کوآرڈینیشن، مینجمنٹ اور فالو اپ کا ذمہ دار ہوں اور لیڈنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ تمام امور غیر معمولی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ قانونی دستاویزات پر دستخط نہ کروانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اپیل یا آئینی درخواست بروقت دائر نہ ہو سکے اور یوں عمران خان صاحب کو انصاف تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا جائے، جو کہ نہ صرف آئین بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے

Khalid Yousaf Chaudry

42,620 görüntüleme • 4 ay önce

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

289,681 görüntüleme • 3 yıl önce